مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

الجہاد فی الاسلام

اشاعت: 1930ء

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب "الجہاد فی الاسلام" ایک ایسی علمی و تحقیقی تصنیف ہے جس نے اسلامی جہاد کے تصور کو اس کے اصل، اخلاقی، قانونی اور تمدنی پہلوؤں کے ساتھ پیش کر کے دنیا کے سامنے ایک واضح تصویر رکھ دی۔ کتاب کی تدوین کا بنیادی محرک 1926ء کے واقعات تھے، جب سوامی شردھانند کے قتل کے بعد ہندوستان میں اسلام کے خلاف ایک منظم بہتان بازی کا آغاز ہوا اور اسلام کو ایک "خونخوار مذہب" قرار دینے کی کوشش کی گئی۔

کتاب سات ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلے چار ابواب اسلامی جہاد کے اصولی تصور کو واضح کرتے ہیں: باب اول اسلامی جہاد کی حقیقت، انسانی جان کے احترام، اور قتل بالحق اور قتل بغیرِ حق کے فرق پر بحث کرتا ہے؛ باب دوم مدافعانہ جنگ اور باب سوم مصلحانہ جنگ (امر بالمعروف و نہی عن المنکر، فتنہ و فساد کا استیصال اور جزیہ کی حقیقت) کو موضوع بناتے ہیں؛ جبکہ باب چہارم اس دعوے کا تفصیلی جائزہ لیتا ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا، اور لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ کی روشنی میں اسے رد کرتا ہے۔

باب پنجم کتاب کا سب سے طویل اور تقابلی حصہ ہے: پہلے زمانۂ جاہلیت میں عرب، روم اور ایران کے وحشیانہ طریقِ جنگ (غنیمت، تفاخر، انتقام، غیر مقاتلین پر تعدی، اسیروں سے بدسلوکی) کی تفصیل دی گئی ہے، پھر دکھایا گیا ہے کہ اسلام نے مقصدِ جنگ اور طریقِ جنگ دونوں کی کس طرح تطہیر کی—لوٹ مار، مثلہ، قتلِ اسیر و سفیر اور بدعہدی کی ممانعت کے ذریعے—اور بنو نضیر، بنو قریظہ، کعب بن اشرف، یہودِ خیبر اور اہلِ نجران جیسے مخصوص واقعات کو بطور مستثنیات الگ سے جانچا گیا ہے۔ باب ششم دنیا کے چار بڑے مذاہب—ہندومت (وید، گیتا، منوسمرتی)، یہودیت، بدھ مت اور مسیحیت—کی جنگ سے متعلق تعلیمات کا تقابلی مطالعہ پیش کرتا ہے، اور آخری باب ہفتم پہلی جنگِ عظیم کے اسباب، جدید بین الاقوامی قانونِ جنگ کی تاریخ اور اس کی عملی کمزوریوں کا تنقیدی جائزہ لے کر غیر مقاتلین، اسیرانِ جنگ اور غیر جانبدار ممالک کے حقوق و فرائض پر اسلامی و مغربی قانون کا موازنہ کرتا ہے۔

مطالعاتی رہنما / Study Guide

محقق کا خلاصہ

"الجہاد فی الاسلام" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی پہلی بڑی تصنیف ہے، جو انہوں نے 1927ء میں، محض چوبیس برس کی عمر میں، تحریر کی۔ یہ کتاب پہلے اخبار "الجمعیت" میں قسط وار شائع ہوئی، بعد ازاں مستقل کتابی صورت میں چھپی۔ یہ مولانا کے بعد کے دور کے مربوط سیاسی نظریے (دیکھیے "اسلامی ریاست") سے تقریباً دو دہائیاں پہلے کی تصنیف ہے اور اس کا اسلوب بھی مختلف ہے: یہ ایک مخصوص تنازعے کے براہِ راست جواب میں لکھی گئی — 1920ء کی دہائی کے نوآبادیاتی ہندوستان میں آریہ سماج اور ہندو احیائی صحافت (خصوصاً تحریکِ شدھی) کے اس الزام کے جواب میں کہ اسلام بذاتِ خود ایک پرتشدد مذہب ہے جو "تلوار کے زور پر پھیلا"۔ مولانا کے اس جواب نے بعد میں جہاد کے موضوع پر بننے والی بیشتر اسلامی معذرت خواہانہ تحریروں کا خاکہ فراہم کیا۔

کتاب کے سات ابواب ایک ہی مسلسل دلیل کی تعمیر کرتے ہیں: (۱) سب سے پہلے یہ واضح کیا گیا ہے کہ اسلامی قانون میں جہاد دراصل کیا ہے — ایک مذہبی/نظریاتی مقصد کے لیے منظم، ریاستی اجازت یافتہ مسلح جدوجہد، نہ کہ بے دریغ تشدد؛ (۲) جہاد بطور مدافعانہ جنگ زیرِ بحث آیا ہے؛ (۳) جہاد بطور مصلحانہ جنگ زیرِ بحث آیا ہے — کمزوروں پر ظلم و جبر کے خلاف اقدام؛ (۴) کتاب کے مرکزی مباحثاتی نکتے سے براہِ راست نمٹا گیا ہے — یہ الزام کہ اسلام "تلوار کے زور پر پھیلا" — یہ دلیل دی گئی ہے کہ ایشیا اور افریقہ میں اسلام کا آبادیاتی پھیلاؤ محض فتوحات سے نہیں سمجھایا جا سکتا؛ (۵) اسلام کے اپنے قوانینِ جنگ و صلح بیان کیے گئے ہیں؛ (۶) دیگر مذاہب میں جنگ کے تصور کا جائزہ لیا گیا ہے تاکہ یہ ثابت کیا جائے کہ اسلام کے احکام موازنتاً زیادہ متوازن ہیں؛ اور (۷) اس کا موازنہ "جدید تہذیب میں جنگ" سے کیا گیا ہے تاکہ یہ ثابت کیا جائے کہ جدید مغرب کا اپنا ریکارڈ اس کے اخلاقی برتری کے دعوے کو کمزور کرتا ہے۔

اہمیت اور تنقیدی مطالعہ۔ بطور مولانا مودودی کی پہلی تصنیف، یہ کتاب اپنی دلیل کے ساتھ ساتھ تاریخی حیثیت سے بھی اہم ہے۔ مولانا مودودی پر تحقیق کرنے والے محققین (نصر، ایڈمز) اسے ایک بنیادی مگر عبوری تصنیف قرار دیتے ہیں — اس کے تقابلی مذاہب سے متعلق دلائل اس دور کی ہندوستانی صحافت میں رائج بین المذاہب مناظرانہ ادب سے تعلق رکھتے ہیں۔ جہاد کو ایک منظم، ریاستی اجازت یافتہ جنگ قرار دینے کا اس کا بنیادی قانونی موقف مولانا کے بعد کے موقف سے ہم آہنگ رہا، اور اکثر جدید مباحث میں کلاسیکی فقہی تصورِ جہاد کو بیسویں صدی کی عسکریت پسند تنظیموں کے تصورِ جہاد سے ممیز کرنے کے لیے حوالہ دیا جاتا ہے۔

مطالعاتی حلقہ کے سوالات

  1. جہاد بطور منظم جنگ: مولانا مودودی اصرار کرتے ہیں کہ جہاد ریاستی اجازت یافتہ اور منظم ہونا چاہیے، نہ کہ کسی فرد کا اقدام۔ یہ آج کے غیر ریاستی عسکریت پسند گروہوں کے "جہاد" کے استعمال سے کس طرح مختلف ہے؟
  2. "تلوار کے زور پر پھیلاؤ" کی دلیل: مولانا مودودی دلیل دیتے ہیں کہ ایسے علاقوں میں اسلام کا پھیلاؤ جو کبھی فتح نہیں ہوئے، "تلوار" کے نظریے کی تردید کرتا ہے۔ کیا یہ کافی جواب ہے؟ اور کون سی دیگر وجوہات بھی اہم ہو سکتی ہیں؟
  3. مدافعانہ بمقابلہ مصلحانہ جنگ: کتاب "مدافعانہ" جہاد کو "مصلحانہ" جہاد سے ممیز کرتی ہے۔ آپ ان کے درمیان لکیر کہاں کھینچیں گے، اور کیا یہ فرق حقیقی تاریخی واقعات میں قائم رہتا ہے؟
  4. تقابلی مذاہب کی دلیل: کتاب اسلام کے قوانینِ جنگ کا موازنہ دیگر مذاہب سے کرتی ہے۔ اس تقابلی-معذرت خواہانہ طریقہ کار کے کیا خطرات ہیں؟
  5. جدید تہذیب پر تنقید: مولانا مودودی پہلی جنگ عظیم اور نوآبادیاتی تسخیر کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ کیا "تمہارا فریق زیادہ برا ہے" کی دلیل ایک مضبوط دفاع ہے؟
  6. تاریخی تناظر: یہ کتاب 1927ء میں ایک مخصوص فرقہ وارانہ تنازعے کے جواب میں لکھی گئی۔ اس تناظر کو آج اس کے دلائل پڑھنے میں کتنا اثرانداز ہونا چاہیے؟
  7. تسلسل اور تبدیلی: اس کتاب کا موازنہ "اسلامی ریاست" سے کریں۔ مولانا کی فکر میں کیا تبدیل ہوا، اور کیا چیز قائم رہی؟
  8. جسٹ وار تھیوری سے موازنہ: کتاب کا جائز جنگ کا فریم ورک مغربی سیکولر "جسٹ وار تھیوری" سے کس طرح موازنہ رکھتا ہے؟

اسلامی فتوحات کی اصل وجہ

آئندہ مباحث کی طرف قدم بڑھانے سے پہلے یہاں ایک اور مسئلہ کو صاف کر دینا ضروری ہے۔ اس کتاب میں بار بار بیان کیا گیا ہے اور آئندہ بھی اس حقیقت کا جگہ جگہ ذکر آئے گا کہ اسلامی شریعت میں ملک گیری کی غرض سے تلوار اٹھانا قطعاً حرام ہے۔ اس پر یہ سوال اٹھتا ہے کہ جب یہ فعل حرام ہے تو آخر صحابہ کرام اور خلفائے راشدینؓ کے ان حملوں کی کیا توجیہہ کی جائے گی جو انھوں نے عراق، شام، ایران، آرمینیہ، مصر اور شمالی افریقہ وغیرہ ممالک پر کیے؟ یہ اعتراض مخالفین اسلام نے بڑی شد و مد کے ساتھ پیش کیا ہے، اور مسلمان مورخین و مصنفین نے اس کے نہایت مفصل جوابات بھی دیے ہیں۔ لیکن اس پر کسی نے غور نہیں کیا کہ اس معاملہ میں اسلام اور غیر مسلموں کے نقطہ نظر میں شدید اختلاف ہے۔ اسی لیے جن لوگوں نے غیر مسلموں کے نقطۂ نظر کی رعایت کر کے جواب دیا ہے انھوں نے اسلام کی غلط ترجمانی کی ہے، اور جنھوں نے اس سے بالکل بے پروا ہو کر جواب دیا ہے وہ مزید شکوک پیدا کر بیٹھے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ اسلام حکومت کے معاملہ میں ”قومی“ اور ”اجنبی“ کی کوئی تمیز نہیں کرتا بلکہ ”عدل“ اور ”ظلم“ کو وجہ امتیاز قرار دیتا ہے۔ اگر ایک ملک کی حکومت خود اس کے اپنے باشندوں کے ہاتھ میں ہو لیکن اس کے حکمران بدکار، ظالم، نفس پرست اور ناخدا ترس ہوں تو اسلام کی نگاہ میں وہ اسی قدر نفرت کے قابل ہیں جس قدر ایک اجنبی حکومت کے ایسے ہی بد کردار عمال ہو سکتے ہیں۔ اس کے بخلاف اگر ایک عجمی عرب پر حکومت کرتا ہے اور تمام امور میں انصاف، امانت، دیانت اور خدا ترسی کے ساتھ کام کرتا ہے، مظلوموں کی داد رسی کرتا ہے، حق والوں کے حق دلواتا ہے، نخوت اور تکبر کا اظہار نہیں کرتا، نفس پروری وغرض پرستی سے احتراز کرتا ہے اور رعیت کی اصلاح حال کے سوا کسی ذاتی غرض کے لیے اپنی قوتوں کو استعمال نہیں کرتا، تو اسلام کے نزدیک عرب کے لیے وہ عجمی اس عربی حکمران سے بہتر ہے جو ان صفات سے عاری ہو۔ یہ خیال کہ ظالم عرب عربوں کے لیے کیسے عادل عجمی سے بہتر ہے، اور ترک خواہ کتنا ہی نیک اور صالح ہو مگر صرف اس لیے کہ وہ ترک ہے عراقی اسے قبول نہیں کر سکتے، ایک ایسا خیال ہے جسے اسلام اصلاً غلط اور کلیۃً باطل سمجھتا ہے۔ اس معاملہ کو وہ ”قومیت“ اور ”وطنیت“ کی نظر سے نہیں بلکہ خالص ”انسانیت“ کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ اس کا عقیدہ یہ ہے کہ ”صالح“ انسان بہر حال ”غیر صالح“ کے مقابلہ میں قابل ترجیح ہے، اور انسانی خوبیوں میں اپنے اور پرائے، وطنی اور اجنبی، ہندی وعراقی، زنگی و فرنگی، کالے اور گورے کی تمیز کو دخل دینا اندھا تعصب ہے۔

اسلام کے اس عقیدہ کے مطابق حکومت کی اچھائی کا معیار نہ اس کا قومی اور خود اختیاری ہونا ہے اور نہ اس کی برائی کا معیار اجنبی یا غیر خود اختیاری ہونا۔ اصل سوال صرف یہ ہے کہ حکومت کا نظام عادلانہ اور حق پرستانہ ہے یا نہیں؟ اگر پہلی صورت ہے تو اسلام اس کو مٹانے کی کوشش تو درکنار، ایسے ارادہ کو بھی گناہ اور ظلم عظیم سمجھتا ہے۔ لیکن دوسری صورت میں وہ ایک ظالمانہ نظام حکومت کو مٹا کر ایک سچا عادلانہ نظام حکومت قائم کرنا اولین فرض قرار دیتا ہے۔ قومی اور اجنبی کے سوال سے اس نے نفیاً یا اثباتاً کوئی تعرض نہیں کیا ہے، جس کے معنی یہ ہیں کہ اس کے نزدیک حکومت کے اچھے یا بُرے ہونے کے سوال پر اس کے قومی ہونے یا نہ ہونے کا کوئی اثر نہیں ہے۔ یہ دوسری بات ہے کہ غیر قومی حکومت عموماً ظالم و جابر ہوتی ہے، کیوں کہ ایک قوم دوسری قوم پر حکومت قائم ہی اس لیے کرتی ہے کہ اسے غلام بنا کر اپنی مصلحت کے لیے استعمال کرے اور اس کے برعکس قومی حکومت میں اصلاح پذیری کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے۔ لیکن باوجود اس کے یہ ضروری نہیں ہے کہ قومی حکومت بہرحال بہتر ہو اور غیر قومی حکومت کسی حال میں عادل نہ ہو۔ ہو سکتا ہے کہ ایک قوم پر خود اس کے اپنے سرکش افراد شیطان کی طرح مسلط ہو جائیں اور اسے اپنی شخصی اغراض کا غلام بنا کر تباہ و برباد کر دیں۔ اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ ایک قوم کو غیر قوم کے نیک نفس اور بے غرض مصلحین ظلم و استبداد کے پنجہ سے رہائی دلائیں اور اس کے لیے مادی و اخلاقی ترقی کی راہیں کھول دیں۔ پس حکومت کی خوبی کا اصلی معیار اس کا عادل و صالح ہونا ہے اور اس کی برائی کا اصلی معیار غیر عادل اور غیر صالح ہونا۔

اس سے یہ مطلب نکالنا صحیح نہیں ہے کہ اسلام قومی حکومت کا دشمن ہے، وہ ہر قوم کے اس حق کو تسلیم کرتا ہے کہ وہ اپنے احوال کی اصلاح خود کرے، مگر جب کسی قوم کے افعال بگڑ جائیں، اس کی اخلاقی حالت خراب ہو جائے اور وہ اپنے شریر و مفسد لوگوں کی پیروی و اطاعت اختیار کر کے ذلت و مسکنت کی پستیوں میں گر جائے، تو اسلام کے نزدیک اس قوم کو حکومت خود اختیاری کا حق باقی نہیں رہتا اور دوسرے لوگوں کو جو اس کے مقابلہ میں اصلح ہوں اس پر حکومت کرنے کا حق حاصل ہو جاتا ہے۔ قرآن حکیم میں نافرمان اور بدکار قوموں کو جگہ جگہ یہ دھمکی دی گئی ہے کہ:

<<وَإِن تَتَوَلَّوْا۟ يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُونُوٓا۟ أَمْثَـٰلَكُم>> (محمد : ۳۸)

”اگر تم حق سے منہ پھیرو گے تو اللہ تمہارے بدلے دوسری قوم کو کھڑا کرے گا اور وہ لوگ تم جیسے نہیں ہوں گے۔“

<<اِلَّا تَنْفِرُوْا يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِيْمًا ۙ وَّ يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ وَ لَا تَضُرُّوْهُ شَيْـًٔا ؕ>> (التوبہ: ۳۹)

”اگر تم راہِ الٰہی میں جہاد کے لیے نہ نکلو گے تو اللہ تمھیں درد ناک مصائب میں مبتلا کرے گا اور تمھارے بدلے دوسری قوم کو کھڑا کر دے گا اور تم اس کا کچھ نہ بگاڑ سکو گے۔“

<<اِنْ يَّشَأْ يُذْهِبْكُمْ اَيُّهَا النَّاسُ وَيَأْتِ بِاٰخَرِيْنَ ؕ>> (النساء: ۱۳۳)

”لوگو! اگر خدا چاہے تو تمھیں ہٹا دے اور دوسرے لوگوں کو تمھاری جگہ لے آئے۔“

اس معنی کی آیات قرآن میں بکثرت آئی ہیں اور ان سب کا منشا یہ ہے کہ حکومت اور بادشاہی کا حق صلاحیت کے ساتھ مشروط ہے، جو قوم صلاحیت کھو دیتی ہے وہ اس حق کو بھی کھو دیتی ہے، اور جو صلاحیت اپنے اندر پیدا کر لیتی ہے وہ اس حق کو بھی حاصل کر لیتی ہے۔ اس صلاحیت کو محض قوت و طاقت کا ہم معنی نہ سمجھو ۔ یہ جو ہر خاص اُن لوگوں کے لیے مخصوص ہے جو ایک خدا کی بندگی کرتے ہیں، برے اعمال سے روکتے ہیں، اچھے اعمال کا حکم دیتے ہیں، ہر عمل خیر کے انجام دینے پر مستعد رہتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ ایک دن انھیں اپنے اعمال کا پورا پورا حساب دینا پڑے گا، <<يُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَيَأْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُسَارِعُوْنَ فِى الْخَيْرٰتِ ؕ وَاُولٰٓئِكَ مِنَ الصّٰلِحِيْنَ>> (آل عمران: ۱۱۴)

یہ صالح لوگ کسی ایک قوم یا ایک ملک کی جائداد نہیں ہیں بلکہ تمام نوعِ بشری اور کائناتِ انسانی کی مشترک جائداد ہیں۔ آدم کی ساری اولاد کو ان کی صلاحیت سے فائدہ اٹھانے کا حق ہے۔ اور اگر وہ اپنی خدمات کو بلا ضرورت کسی محدود جماعت یا رقبہ کے لیے مخصوص کر دیں تو یقیناً یہ انسانیت پر اُن کا ظلم ہوگا۔ اسلام نے ان کے لیے رنگ یا نسل یا جغرافیائی تقسیم کے قبیل سے کوئی حد مقرر نہیں کی ہے، بلکہ بلا قید تمام روئے زمین کے لیے ان کی قابلیتوں کے فوائد کو عام کر دیا ہے۔ چنانچہ قرآن مجید میں بتصریح ارشاد ہوتا ہے:

<<وَ لَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُوْرِ مِنْ بَعْدِ الذِّكْرِ اَنَّ الْاَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصّٰلِحُوْنَ>> (انبیاء: ۱۰۵)

”ہم نے زبور میں نصیحت کے بعد لکھ دیا کہ ”زمین“ کے وارث میرے صالح بندے ہوں گے۔“

یہ حکومت وسلطنت کے متعلق اسلامی تعلیم کی اصلی روح ہے۔ اس کو سمجھ لینے کے بعد صحابہ کرامؓ نے ان فاتحانہ اقدامات کی علت بآسانی سمجھ میں آ سکتی ہے جن سے انھوں نے قیصر وکسریٰ کی بادشاہی کے تخت الٹ دیے اور باطل کی فرمانروائی کے سارے طلسم کو درہم برہم کر دیا۔ انھوں نے اپنے ملک کی اصلاح سے فارغ ہو کر جب باہر کی دنیا پر نظر دوڑائی تو دیکھا کہ تمام ہمسایہ ممالک پر ظالم بادشاہ اور جابر امراء مسلط ہیں۔ قوت والوں نے کمزوروں کو غلام بنا لیا ہے۔ دولت والوں نے غریبوں کو خرید رکھا ہے۔ انسان، انسان کا خدا بن گیا ہے۔ عدل، انصاف، قانون کوئی چیز نہیں ہے۔ بادشاہوں اور حاکموں کی چشم و ابرو کے اشارے پر لوگوں کے حقوق پامال ہوتے ہیں، عزتیں لٹتی ہیں، گھر برباد ہوتے ہیں اور قوموں کی قسمتوں کے فیصلے ہو جاتے ہیں۔ غریب محنتی لوگ اپنا خون پانی ایک کر کے جو دولت کماتے ہیں وہ طرح طرح کی زیادتیوں سے لوٹی جاتی ہے اور امراء کی عیش پسندیوں میں اڑا دی جاتی ہے۔ حاکم لوگ خود پرلے درجے کے سیاہ کار، بدعمل اور ہوس پرست ہیں، اس لیے رعیت بھی ہر قسم کی مصیبتوں میں مبتلا ہے۔ شراب، زنا اور جوئے کی عام اجازت ہے۔ رشوت اور خیانت کا بازار گرم ہے۔ نفس کی شرارتوں نے اخلاق و انسانیت کی تمام قیود کو توڑ دیا ہے۔ بہیمی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے انسان کسی قید سے آشنا نہیں رہا اور اس کے اخلاق کی دناءت اس حد کو پہنچ گئی ہے کہ اگر تمدن کی اوپری شان وشوکت کے پردے اٹھا کر اسے دیکھا جائے تو حیوانوں کو بھی اس کی حیوانیت پر شرم آنے لگے۔[ایران، روم اور مصر وغیرہ ممالک اس وقت سیاسی، اخلاقی اور مذہبی حیثیت سے جس پستی کی حالت میں تھے اس کے ذکر سے تاریخ کی کتابیں بھری پڑی ہیں۔ حرام کاری میں باپ بیٹی اور بھائی بہن تک کی تمیز نہ تھی۔ مذہبی پیشوا تک بدترین اخلاقی جرائم کا ارتکاب کرتے تھے۔ ایران میں مزدکی مذہب نے سوسائٹی کے سارے نظام کو درہم برہم کر دیا تھا۔ روم میں امراء اور قیاصرہ کی نفس پرستیوں نے اخلاقی تنزل انتہا کو پہنچا دیا تھا۔ مصر و افریقہ کو رومیوں کی غلامی نے بدترین خصال کا مجموعہ بنا دیا تھا۔ خود عرب سے متصل شام و عراق میں ان دونوں سلطنتوں کے اثرات نے مفاسد اخلاقی کا ایک طوفان برپا کر رکھا تھا۔ ان حالات کی تفصیل کے لیے میں اسلامی تاریخوں کے بجائے سرجان میلکم اور ایڈورڈ گبن وغیرہ یورپین محققین کی تصانیف پڑھنے کا مشورہ دیتا ہوں۔ لیکی کی ”ہسٹری آف یورپین مارلس“ خصوصیت کے ساتھ اس عہد کے رومیوں کی اخلاقی حالت ظاہر کرتی ہے۔]

انسانی برادری کو اس ذلیل حالت میں مبتلا دیکھ کر صالحین کی وہ سرفروش جماعت اصلاح کے لیے کمر بستہ ہو گئی۔ پہلے اس نے وعظ و تذکیر سے کام لیا اور کسریٰ، عجم، قیصر روم اور مقوقس مصر کو دعوت دی کہ اسلام کے قانون عدل و حق پرستی کو اختیار کریں۔ جب انھوں نے اس دعوت کو رد کر دیا تو پھر مطالبہ کیا کہ حکومت و فرماں روائی کی مسند کو ان لوگوں کے لیے خالی کر دیں جو اس کے اہل ہیں۔ مگر جب اس مطالبہ کو بھی رد کر دیا گیا اور اس کے جواب میں تلوار پیش کی گئی تو مٹھی بھر انسانوں کی اس بے سر و سامان جماعت نے اٹھ کر بیک وقت دو عظیم الشان سلطنتوں کے تختے الٹ دیے اور سرحد ہندوستان سے لے کر شمالی افریقہ تک جو لوگ ان کے ظلم سے پامال ہو رہے تھے ان سب کو یک لخت آزاد کر دیا۔

تمھیں اختیار ہے کہ ان کے اس فعل کو جہانگیری سے تعبیر کرو یا زیادتی اور تعدی قرار دو۔ مگر تاریخ کے اس بیان کو تم نہیں جھٹلا سکتے کہ ان کی حکومت نے ان قوموں کو اس پستی سے نکالا جس میں وہ گری ہوئی تھیں، انھیں مادی، اخلاقی اور روحانی ترقی کی معراج پر پہنچایا، اور جو ملک تہذیب و تمدن کے لیے بالکل بنجر ہو گئے تھے ان میں نئے سرے سے نمو اور روئیدگی کی وہ قوتیں پیدا کیں کہ آج تک عالم انسانی میں ان کے گلزار کی مہک باقی ہے۔ قوم پرستی کا مذہب تو شاید یہی فیصلہ کرے کہ ایران و روم چاہے مٹ جاتے مگر عرب کو ان پر حملہ کرنے کا حق نہیں تھا، لیکن صداقت کا مذہب یہ کہتا ہے کہ انھوں نے اس طرح انسانیت کی سب سے بڑی خدمت انجام دی، اور درحقیقت یہ دنیا کی بد قسمتی تھی کہ اس کا ایک بڑا حصہ اس جماعت کی خدمت سے محروم رہ گیا جس سے زیادہ ”صالح“ جماعت سورج کی آنکھ نے زمین کے چہرے پر کبھی نہیں دیکھی۔