مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

الجہاد فی الاسلام

اشاعت: 1930ء

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب "الجہاد فی الاسلام" ایک ایسی علمی و تحقیقی تصنیف ہے جس نے اسلامی جہاد کے تصور کو اس کے اصل، اخلاقی، قانونی اور تمدنی پہلوؤں کے ساتھ پیش کر کے دنیا کے سامنے ایک واضح تصویر رکھ دی۔ کتاب کی تدوین کا بنیادی محرک 1926ء کے واقعات تھے، جب سوامی شردھانند کے قتل کے بعد ہندوستان میں اسلام کے خلاف ایک منظم بہتان بازی کا آغاز ہوا اور اسلام کو ایک "خونخوار مذہب" قرار دینے کی کوشش کی گئی۔

کتاب سات ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلے چار ابواب اسلامی جہاد کے اصولی تصور کو واضح کرتے ہیں: باب اول اسلامی جہاد کی حقیقت، انسانی جان کے احترام، اور قتل بالحق اور قتل بغیرِ حق کے فرق پر بحث کرتا ہے؛ باب دوم مدافعانہ جنگ اور باب سوم مصلحانہ جنگ (امر بالمعروف و نہی عن المنکر، فتنہ و فساد کا استیصال اور جزیہ کی حقیقت) کو موضوع بناتے ہیں؛ جبکہ باب چہارم اس دعوے کا تفصیلی جائزہ لیتا ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا، اور لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ کی روشنی میں اسے رد کرتا ہے۔

باب پنجم کتاب کا سب سے طویل اور تقابلی حصہ ہے: پہلے زمانۂ جاہلیت میں عرب، روم اور ایران کے وحشیانہ طریقِ جنگ (غنیمت، تفاخر، انتقام، غیر مقاتلین پر تعدی، اسیروں سے بدسلوکی) کی تفصیل دی گئی ہے، پھر دکھایا گیا ہے کہ اسلام نے مقصدِ جنگ اور طریقِ جنگ دونوں کی کس طرح تطہیر کی—لوٹ مار، مثلہ، قتلِ اسیر و سفیر اور بدعہدی کی ممانعت کے ذریعے—اور بنو نضیر، بنو قریظہ، کعب بن اشرف، یہودِ خیبر اور اہلِ نجران جیسے مخصوص واقعات کو بطور مستثنیات الگ سے جانچا گیا ہے۔ باب ششم دنیا کے چار بڑے مذاہب—ہندومت (وید، گیتا، منوسمرتی)، یہودیت، بدھ مت اور مسیحیت—کی جنگ سے متعلق تعلیمات کا تقابلی مطالعہ پیش کرتا ہے، اور آخری باب ہفتم پہلی جنگِ عظیم کے اسباب، جدید بین الاقوامی قانونِ جنگ کی تاریخ اور اس کی عملی کمزوریوں کا تنقیدی جائزہ لے کر غیر مقاتلین، اسیرانِ جنگ اور غیر جانبدار ممالک کے حقوق و فرائض پر اسلامی و مغربی قانون کا موازنہ کرتا ہے۔

مطالعاتی رہنما / Study Guide

محقق کا خلاصہ

"الجہاد فی الاسلام" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی پہلی بڑی تصنیف ہے، جو انہوں نے 1927ء میں، محض چوبیس برس کی عمر میں، تحریر کی۔ یہ کتاب پہلے اخبار "الجمعیت" میں قسط وار شائع ہوئی، بعد ازاں مستقل کتابی صورت میں چھپی۔ یہ مولانا کے بعد کے دور کے مربوط سیاسی نظریے (دیکھیے "اسلامی ریاست") سے تقریباً دو دہائیاں پہلے کی تصنیف ہے اور اس کا اسلوب بھی مختلف ہے: یہ ایک مخصوص تنازعے کے براہِ راست جواب میں لکھی گئی — 1920ء کی دہائی کے نوآبادیاتی ہندوستان میں آریہ سماج اور ہندو احیائی صحافت (خصوصاً تحریکِ شدھی) کے اس الزام کے جواب میں کہ اسلام بذاتِ خود ایک پرتشدد مذہب ہے جو "تلوار کے زور پر پھیلا"۔ مولانا کے اس جواب نے بعد میں جہاد کے موضوع پر بننے والی بیشتر اسلامی معذرت خواہانہ تحریروں کا خاکہ فراہم کیا۔

کتاب کے سات ابواب ایک ہی مسلسل دلیل کی تعمیر کرتے ہیں: (۱) سب سے پہلے یہ واضح کیا گیا ہے کہ اسلامی قانون میں جہاد دراصل کیا ہے — ایک مذہبی/نظریاتی مقصد کے لیے منظم، ریاستی اجازت یافتہ مسلح جدوجہد، نہ کہ بے دریغ تشدد؛ (۲) جہاد بطور مدافعانہ جنگ زیرِ بحث آیا ہے؛ (۳) جہاد بطور مصلحانہ جنگ زیرِ بحث آیا ہے — کمزوروں پر ظلم و جبر کے خلاف اقدام؛ (۴) کتاب کے مرکزی مباحثاتی نکتے سے براہِ راست نمٹا گیا ہے — یہ الزام کہ اسلام "تلوار کے زور پر پھیلا" — یہ دلیل دی گئی ہے کہ ایشیا اور افریقہ میں اسلام کا آبادیاتی پھیلاؤ محض فتوحات سے نہیں سمجھایا جا سکتا؛ (۵) اسلام کے اپنے قوانینِ جنگ و صلح بیان کیے گئے ہیں؛ (۶) دیگر مذاہب میں جنگ کے تصور کا جائزہ لیا گیا ہے تاکہ یہ ثابت کیا جائے کہ اسلام کے احکام موازنتاً زیادہ متوازن ہیں؛ اور (۷) اس کا موازنہ "جدید تہذیب میں جنگ" سے کیا گیا ہے تاکہ یہ ثابت کیا جائے کہ جدید مغرب کا اپنا ریکارڈ اس کے اخلاقی برتری کے دعوے کو کمزور کرتا ہے۔

اہمیت اور تنقیدی مطالعہ۔ بطور مولانا مودودی کی پہلی تصنیف، یہ کتاب اپنی دلیل کے ساتھ ساتھ تاریخی حیثیت سے بھی اہم ہے۔ مولانا مودودی پر تحقیق کرنے والے محققین (نصر، ایڈمز) اسے ایک بنیادی مگر عبوری تصنیف قرار دیتے ہیں — اس کے تقابلی مذاہب سے متعلق دلائل اس دور کی ہندوستانی صحافت میں رائج بین المذاہب مناظرانہ ادب سے تعلق رکھتے ہیں۔ جہاد کو ایک منظم، ریاستی اجازت یافتہ جنگ قرار دینے کا اس کا بنیادی قانونی موقف مولانا کے بعد کے موقف سے ہم آہنگ رہا، اور اکثر جدید مباحث میں کلاسیکی فقہی تصورِ جہاد کو بیسویں صدی کی عسکریت پسند تنظیموں کے تصورِ جہاد سے ممیز کرنے کے لیے حوالہ دیا جاتا ہے۔

مطالعاتی حلقہ کے سوالات

  1. جہاد بطور منظم جنگ: مولانا مودودی اصرار کرتے ہیں کہ جہاد ریاستی اجازت یافتہ اور منظم ہونا چاہیے، نہ کہ کسی فرد کا اقدام۔ یہ آج کے غیر ریاستی عسکریت پسند گروہوں کے "جہاد" کے استعمال سے کس طرح مختلف ہے؟
  2. "تلوار کے زور پر پھیلاؤ" کی دلیل: مولانا مودودی دلیل دیتے ہیں کہ ایسے علاقوں میں اسلام کا پھیلاؤ جو کبھی فتح نہیں ہوئے، "تلوار" کے نظریے کی تردید کرتا ہے۔ کیا یہ کافی جواب ہے؟ اور کون سی دیگر وجوہات بھی اہم ہو سکتی ہیں؟
  3. مدافعانہ بمقابلہ مصلحانہ جنگ: کتاب "مدافعانہ" جہاد کو "مصلحانہ" جہاد سے ممیز کرتی ہے۔ آپ ان کے درمیان لکیر کہاں کھینچیں گے، اور کیا یہ فرق حقیقی تاریخی واقعات میں قائم رہتا ہے؟
  4. تقابلی مذاہب کی دلیل: کتاب اسلام کے قوانینِ جنگ کا موازنہ دیگر مذاہب سے کرتی ہے۔ اس تقابلی-معذرت خواہانہ طریقہ کار کے کیا خطرات ہیں؟
  5. جدید تہذیب پر تنقید: مولانا مودودی پہلی جنگ عظیم اور نوآبادیاتی تسخیر کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ کیا "تمہارا فریق زیادہ برا ہے" کی دلیل ایک مضبوط دفاع ہے؟
  6. تاریخی تناظر: یہ کتاب 1927ء میں ایک مخصوص فرقہ وارانہ تنازعے کے جواب میں لکھی گئی۔ اس تناظر کو آج اس کے دلائل پڑھنے میں کتنا اثرانداز ہونا چاہیے؟
  7. تسلسل اور تبدیلی: اس کتاب کا موازنہ "اسلامی ریاست" سے کریں۔ مولانا کی فکر میں کیا تبدیل ہوا، اور کیا چیز قائم رہی؟
  8. جسٹ وار تھیوری سے موازنہ: کتاب کا جائز جنگ کا فریم ورک مغربی سیکولر "جسٹ وار تھیوری" سے کس طرح موازنہ رکھتا ہے؟

خلع سلاح کی جدید تجویزیں

گزشتہ سات سال سے یورپ اور امریکہ میں خلع سلاح، تخفیف قوائے حربیہ اور تحریم جنگ کے مسائل پر پھر مختلف تجویزیں سرگرمی کے ساتھ زیر بحث آ رہی ہیں اور بہت سے خوش گمان لوگ ان کو مغربی اقوام کے حسن نیت کی دلیل سمجھ رہے ہیں، مگر واقعہ یہ ہے کہ اس تمام قیل و قال میں بھی حقیقت کا شائبہ تک نہیں ہے۔ چونکہ مغرب کے عام باشندے لڑتے لڑتے تھک گئے ہیں، اور ان کو اپنی اجتماعی اور خصوصیت کے ساتھ تجارتی و صنعتی زندگی میں سکون کی سخت ضرورت ہے، اس لیے وہ کم از کم دل بہلانے کے لیے ایسی تجویزوں اور خیالی باتوں کو سننا پسند کرتے ہیں جن سے سکون نہیں تو سکون کی موہوم توقع ہی قائم ہو جاتی ہے۔ ورنہ جہاں تک عمل کا تعلق ہے، اس میں ان توقعات کے بر آنے کا کوئی سامان نہیں ہے۔ بلکہ گزشتہ سات آٹھ سال کے اندر مغربی ممالک میں وسائل جنگ کو جو ترقی نصیب ہوئی ہے وہ تو اس سے پہلے کبھی نہیں ہوئی تھی۔ حتیٰ کہ ۱۹۱۴ء میں بھی نہ تھی جب کہ تمام یورپ جنگ کی تیاریوں میں منہمک تھا۔

جنگ عظیم کے بعد ۱۹۲۱ء میں پہلی مرتبہ جمہوریہ امریکہ نے اس مسئلہ کو چھیڑا اور اس کی تحریک سے نومبر ۱۹۲۱ء میں بمقام واشنگٹن ایک بین الملی کانفرنس منعقد ہوئی۔ اس کانفرنس کا مقصد بظاہر جنگی طاقتوں میں تخفیف کرنا تھا۔ مگر دراصل امریکہ، فرانس، جاپان اور اٹلی یہ چاہتے تھے کہ کسی طرح برطانیہ کی عظیم الشان بحری طاقت کو کم کیا جائے، کیوں کہ ان سب ملکوں کی زندگی بحری تجارت پر منحصر ہے، اور جب تک برطانیہ سمندر کی لہروں پر حکمران ہے اس وقت تک کوئی ملک اپنی تجارت کو محفوظ نہیں سمجھ سکتا۔ دوسری طرف برطانیہ کو یہ احساس تھا کہ اس کی زندگی کلیتاً بحری قوت کے تفوق پر منحصر ہے، اس لیے اس کی خواہش تھی کہ کوئی سلطنت اس کی برابری تک پہنچ نہ سکے۔ یہی باطنی کش مکش واشنگٹن کا نفرنس کے مباحثات میں جاری رہی۔ ہر فریق دوسروں پر پابندیاں عائد کرنا چاہتا تھا مگر جب خود اس کا اپنا سوال پیش آتا تو صاف کہہ دیتا تھا کہ ہماری جنگی پالیسی دوسروں کے اثر سے بالکل پاک ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ واشنگٹن کانفرنس اس سے زیادہ کچھ نہ کرسکی کہ اس نے پانچ بڑی سلطنتوں کے درمیان بحری قوت کا تناسب مقرر کر دیا اور اس کے بعد اسی امریکہ نے جو تخفیف اسلحہ کا علمبردار بن کر اٹھا تھا نے مزید نہ کوئی تغیر کرنے اور نہ ہر نیا نام کو جدید ترین آلات جنگ سے آراستہ کرنے کا تہیہ کر لیا۔

اسی واشنگٹن کانفرنس میں تحت البحر کشتیوں کا معاملہ بھی پیش ہوا۔ ان کشتیوں سے اصلی خطرہ انگلستان کو ہے، کیوں کہ اسی کی زندگی سب سے زیادہ بیرونی ممالک کی در آمد پر منحصر ہے اور وہی سب سے زیادہ جنگی و تجارتی جہازوں کا مالک ہے۔ جنگ عظیم میں ان کشتیوں نے اس کی بحری تجارت کو برباد کر کے جس طرح اس پر عرصۂ حیات تنگ کر دیا تھا اس کا سبق برطانیہ کو یاد تھا۔ اس لیے اس نے واشنگٹن کانفرنس میں اپنی ساری قوت اس کوشش میں صرف کر دی کہ تحت البحر کشتیوں کا استعمال ممنوع قرار دیا جائے۔ دوسری طرف فرانس خصوصیت کے ساتھ اس کا مخالف تھا، کیوں کہ اس کی بحری قوت کمزور تھی، اور برطانیہ کے مقابلہ میں اس کے پاس اپنی حفاظت کا سب سے بڑا ذریعہ یہی تحت البحر کشتیاں تھیں۔ اس کے نمائندوں نے صاف طور پر کہہ دیا کہ یہ کشتیاں دراصل حملہ کا ذریعہ نہیں ہیں بلکہ مدافعت کا ذریعہ ہیں اور وہ ممالک انہیں استعمال کرنے پر مجبور ہیں جن کی بحری قوت کمزور ہو۔ آخر اس مسئلہ میں امریکہ نے ایک متوسط راہ نکالی جس پر فریقین متفق ہوگئے، اور وہ یہ تھی کہ حالت جنگ میں غنیم کی تجارت کو برباد کرنے کے لیے تحت البحر کشتیوں کا استعمال ممنوع قرار دیا گیا۔

ایک اور میثاق زہریلی گیسوں کے استعمال کے متعلق بھی طے ہوا۔ اول ۱۸۹۹ء کی ہیگ کانفرنس میں زہریلی اور دم گھوٹنے والی گیسوں کا استعمال ممنوع قرار دیا گیا تھا جس پر برطانیہ نے سخت مخالفت کی تھی۔ پھر ۱۹۰۷ء کی دوسری ہیگ کا نفرنس میں برطانیہ بمشکل اس پر راضی ہو گیا، مگر امریکا آخر وقت تک مخالف رہا۔ جنگ عظیم میں جرمنی اور اس کے حریفوں نے آزادی کے ساتھ ایک دوسرے کے خلاف ان گیسوں کو استعمال کیا اور جو کچھ قانونی بندشیں تھیں وہ سب سلطنتوں کے متفقہ عمل سے ٹوٹ گئیں ۔ اس کے بعد واشنگٹن کا نفرنس میں پھر پچھلی قیود کی تجدید کی گئی، مگر دل سے اب بھی کوئی سلطنت ان کو قبول کرنے پر راضی نہ تھی۔ چنانچہ کانفرنس کے فرانسیسی نمائندے ایم ساراؤ (M. Sarraut) نے اس پر دستخط کرتے وقت یہ نوٹ لکھ دیا کہ:

”زہریلی گیسوں کے استعمال کو روکنے کی کوشش نا ممکن العمل معلوم ہوتی ہے۔“

مسٹر بالفور نے بھی برطانیہ کی طرف سے یہ تصریح کرنی ضروری سمجھی کہ:

"یہ اقرار نامہ قوموں کو اپنی حفاظت کی اس ضرورت سے بے نیاز نہیں کرتا جو ایک شرید دشمن کی جانب سے گیسوں کے استعمال کی صورت میں پیش آتی ہے"۔

اسی بد دلی کا نتیجہ ہے کہ اب تک کسی سلطنت نے اس اقرار نامہ کی باقاعدہ توثیق نہیں کی اور قانونی حیثیت سے وہ اس وقت ایک بے معنی دستاویز ہے۔

واشنگٹن کا نفرنس کے بعد اپریل ۱۹۲۳ء میں مسٹرلائڈ جارج کی تحریک پر جنیوا میں ایک پان یورپین کانفرنس منعقد کی گئی جس کا مقصد یہ بتایا گیا تھا کہ آئندہ دس سال کے لیے دول مغرب ایک دوسرے پر حملہ نہ کرنے کا عہد کر لیں اور تمام قومیں مل کر جنگ زدہ ممالک کی تعمیر جدید کریں۔ لیکن اس کانفرنس میں امریکہ نے شرکت سے انکار کر دیا۔ فرانس نے ابتدائی میں اعلان کر دیا کہ ہم اس کے فیصلوں کو تسلیم کرنے کی ذمہ داری نہیں لیتے۔ ترکی کو سرے سے شرکت کی دعوت ہی نہیں دی گئی۔ روس کو بلایا گیا تو اس لیے کہ اس پر دباؤ ڈال کر ان نقصانات کا تاوان ادا کرنے پر اسے مجبور کیا جائے جو انقلاب کے زمانہ میں روسی حدود کے اندر یورپین سلطنتوں کی املاک کو پہنچا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کانفرنس ناکام ہوئی اور جنگی تیاریوں میں کوئی کمی واقع نہ ہوئی۔

جنیوا کے بعد ہینگ میں ایک دوسری کانفرنس ہوئی مگر اس کا بھی وہی حشر ہوا جو جنیوا کانفرنس کا ہوا تھا۔ پھر ایک بین المللی کانفرنس لندن میں منعقد ہوئی۔ مگر وہاں برطانیہ اور فرانس کے درمیان اتنا سخت اختلاف برپا ہوا کہ موسیو پوانکارے ترش رو ہو کر کانفرنس سے اٹھ گئے اور سیدھے پیرس چل دیے۔ یہاں تک کہ تصویر کھنچوانے کے لیے بھی نہ رکے۔

ستمبر ۱۹۲۵ء میں جمعیت اقوام نے تحدید قوائے حربیہ اور تحریم جنگ کے مسئلہ کو اپنے ہاتھ میں لیا اور اس کی درخواست پر کونسل نے ایک بین المللی مؤتمر خلع سلاح کے انعقاد کا راستہ صاف کرنے کے لیے ایک مجلس تحضیری (Preparatory Committee) مقرر کی تاکہ وہ جملہ امور پر غور کر کے بتائے کہ کس طرح اور کن اصول پر ایسی کانفرنس کو دعوت دی جا سکتی ہے۔ یہ کمیٹی سال بھر تک کوئی کام نہ کر سکی۔ ۳ ستمبر ۱۹۲۶ء کو جمعیت کے اجلاس عام نے کونسل سے سفارش کی کہ وہ کمیٹی کو ۱۹۲۷ء تک اپنا کام ختم کرنے کی تاکید کرے تاکہ آٹھویں اجلاس عام سے پہلے بین المللی کانفرنس کو مدعو کیا جا سکے۔ مگر اس مدت میں بھی کمیٹی نے کام ختم نہیں کیا اور آج تک بس اس کے جلسے ہی ہوئے جا رہے ہیں۔ چونکہ ابھی تک اس تحریک کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا ہے اس لیے کوئی رائے دینا قبل از وقت ہو گا۔ لیکن آثار بتاتے ہیں کہ اس کا بھی وہی حشر ہو گا جو پہلے ایسی کوششوں کا ہو چکا ہے۔ اگر دول مغرب میں حقیقتاً خلع سلاح کی کوئی قلبی خواہش موجود ہوتی تو وہ روس کی ان تجاویز پر لبیک کہتے جو اس نے تخفیف قوائے حربیہ کے متعلق پیش کی تھیں، کیوں کہ اس مقصد کی جانب عملی اقدام صرف انہی تجاویز سے ہو سکتا ہے۔ لیکن دول میں سے کوئی ان کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اور برطانیہ کے نمائندے لارڈ کشنٹن نے تو صاف کہہ دیا ہے کہ:

" کامل خلع سلاح قوموں کو غارت گری ، لوٹ مار اور انقلاب کے خطرے میں مبتلا کر دے گا۔"

اس سے ظاہر اور باطن کا فرق صاف معلوم ہو جاتا ہے۔ زبان سے تو بے شک اس قسم کی باتیں کہی جا رہی ہیں جن سے گمان ہوتا ہے کہ مغربی قومیں جنگ وخون ریزی سے بیزار ہیں، امن و صلح کی قدر شناس ہیں، اور دل سے چاہتی ہیں کہ اپنے ابنائے نوع کی تباہی کا کھیل چھوڑ کر اپنے اپنے قدرتی حدود میں اپنی تعمیر و ترقی کے لیے سرگرم عمل رہیں ، مگر حال یہ ہے کہ ان قوموں کے درمیان شدید عداوتیں پرورش پا رہی ہیں، ان کے دلوں میں آتش فشاں مادے پک رہے ہیں، ان کی فوجیں تعداد اور قوت میں بڑھ رہی ہیں، ان کے آلات جنگ روز بروز ترقی کر رہے ہیں، اور ہر قوم اس کوشش میں لگی ہوئی ہے کہ آئندہ جنگ میں اپنے حریفوں سے زیادہ طاقتور ثابت ہو اور تمام مخالف قوتوں کو مٹا کر اپنی برتری کا سکہ بٹھا دے۔ اس رقابت و مسابقت کو دیکھ کر کون کہہ سکتا ہے کہ وہ دل مغرب میں امن پسندی کا حقیقی میلان موجود ہے اور جنگ جوئی سے وہ فی الواقع توبہ کر چکی ہیں؟ ١٩١٩ء کے میمورنڈم میں جس کا حوالہ اوپر دیا جا چکا ہے، برطانوی وزیر اعظم مسٹرلائڈ جارج نے لکھا تھا:

"جمعیت اقوام کی کامیابی کی اولین شرط یہ ہے کہ سلطنت برطانیہ ، ریاست ہائے متحدہ امریکہ، فرانس اور اٹلی کے درمیان ایک سمجھوتا ہو جائے جس کے مطابق ان سلطنتوں میں جنگی جہازوں کی تعمیر اور فوجوں کی تکثیر و توفیر کی مسابقت بند ہو جائے۔ جب تک جمعیت کی مفاہمت پر دستخط کرنے سے پہلے یہ نہ ہو لگے گا جمعیت محض ایک لغو کہ اور ایک سوا لگ رہے گی۔"

اس قول کے مطابق جمعیت اقوام ایک ”لغوگ" اور ایک ”سواگ" ثابت ہو چکی ہے۔ آج سلطنتوں کے درمیان جنگی طاقت بڑھانے کے لیے اس قدر تیزی کے ساتھ مقابلہ جاری ہے کہ اس سے پہلے کبھی نہ تھا۔ آج مغربی دنیا جنگ و پیکار کے لیے اتنی تیار ہے کہ ۱۹۱۴ء میں بھی نہ تھی۔ آج مغربی تہذیب نے فوجوں کی کثرت، مہلک آلات جنگ کی ترقی، دیو ہیکل جنگی جہازوں کی صنعت تباہ کن ہوائی جہازوں کی ساخت، زہریلی گیسوں اور غارت گر سامان جنگ کی تیاری سے انسانیت کو ہلاک و برباد کرنے کے لیے وہ سامان فراہم کیا ہے جس کی نظیر سے پوری تاریخ عالم خالی ہے۔ ان حقائق کو دیکھ کر کون ہے جو امن پسندی کی بناوٹی باتوں اور صلح کوشی کی نمائشی کا نفرنسوں سے دھوکا کھائے گا ؟