الجہاد فی الاسلام
اشاعت: 1930ءسید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب "الجہاد فی الاسلام" ایک ایسی علمی و تحقیقی تصنیف ہے جس نے اسلامی جہاد کے تصور کو اس کے اصل، اخلاقی، قانونی اور تمدنی پہلوؤں کے ساتھ پیش کر کے دنیا کے سامنے ایک واضح تصویر رکھ دی۔ کتاب کی تدوین کا بنیادی محرک 1926ء کے واقعات تھے، جب سوامی شردھانند کے قتل کے بعد ہندوستان میں اسلام کے خلاف ایک منظم بہتان بازی کا آغاز ہوا اور اسلام کو ایک "خونخوار مذہب" قرار دینے کی کوشش کی گئی۔
کتاب سات ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلے چار ابواب اسلامی جہاد کے اصولی تصور کو واضح کرتے ہیں: باب اول اسلامی جہاد کی حقیقت، انسانی جان کے احترام، اور قتل بالحق اور قتل بغیرِ حق کے فرق پر بحث کرتا ہے؛ باب دوم مدافعانہ جنگ اور باب سوم مصلحانہ جنگ (امر بالمعروف و نہی عن المنکر، فتنہ و فساد کا استیصال اور جزیہ کی حقیقت) کو موضوع بناتے ہیں؛ جبکہ باب چہارم اس دعوے کا تفصیلی جائزہ لیتا ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا، اور لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ کی روشنی میں اسے رد کرتا ہے۔
باب پنجم کتاب کا سب سے طویل اور تقابلی حصہ ہے: پہلے زمانۂ جاہلیت میں عرب، روم اور ایران کے وحشیانہ طریقِ جنگ (غنیمت، تفاخر، انتقام، غیر مقاتلین پر تعدی، اسیروں سے بدسلوکی) کی تفصیل دی گئی ہے، پھر دکھایا گیا ہے کہ اسلام نے مقصدِ جنگ اور طریقِ جنگ دونوں کی کس طرح تطہیر کی—لوٹ مار، مثلہ، قتلِ اسیر و سفیر اور بدعہدی کی ممانعت کے ذریعے—اور بنو نضیر، بنو قریظہ، کعب بن اشرف، یہودِ خیبر اور اہلِ نجران جیسے مخصوص واقعات کو بطور مستثنیات الگ سے جانچا گیا ہے۔ باب ششم دنیا کے چار بڑے مذاہب—ہندومت (وید، گیتا، منوسمرتی)، یہودیت، بدھ مت اور مسیحیت—کی جنگ سے متعلق تعلیمات کا تقابلی مطالعہ پیش کرتا ہے، اور آخری باب ہفتم پہلی جنگِ عظیم کے اسباب، جدید بین الاقوامی قانونِ جنگ کی تاریخ اور اس کی عملی کمزوریوں کا تنقیدی جائزہ لے کر غیر مقاتلین، اسیرانِ جنگ اور غیر جانبدار ممالک کے حقوق و فرائض پر اسلامی و مغربی قانون کا موازنہ کرتا ہے۔

مطالعاتی رہنما / Study Guide
محقق کا خلاصہ
"الجہاد فی الاسلام" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی پہلی بڑی تصنیف ہے، جو انہوں نے 1927ء میں، محض چوبیس برس کی عمر میں، تحریر کی۔ یہ کتاب پہلے اخبار "الجمعیت" میں قسط وار شائع ہوئی، بعد ازاں مستقل کتابی صورت میں چھپی۔ یہ مولانا کے بعد کے دور کے مربوط سیاسی نظریے (دیکھیے "اسلامی ریاست") سے تقریباً دو دہائیاں پہلے کی تصنیف ہے اور اس کا اسلوب بھی مختلف ہے: یہ ایک مخصوص تنازعے کے براہِ راست جواب میں لکھی گئی — 1920ء کی دہائی کے نوآبادیاتی ہندوستان میں آریہ سماج اور ہندو احیائی صحافت (خصوصاً تحریکِ شدھی) کے اس الزام کے جواب میں کہ اسلام بذاتِ خود ایک پرتشدد مذہب ہے جو "تلوار کے زور پر پھیلا"۔ مولانا کے اس جواب نے بعد میں جہاد کے موضوع پر بننے والی بیشتر اسلامی معذرت خواہانہ تحریروں کا خاکہ فراہم کیا۔
کتاب کے سات ابواب ایک ہی مسلسل دلیل کی تعمیر کرتے ہیں: (۱) سب سے پہلے یہ واضح کیا گیا ہے کہ اسلامی قانون میں جہاد دراصل کیا ہے — ایک مذہبی/نظریاتی مقصد کے لیے منظم، ریاستی اجازت یافتہ مسلح جدوجہد، نہ کہ بے دریغ تشدد؛ (۲) جہاد بطور مدافعانہ جنگ زیرِ بحث آیا ہے؛ (۳) جہاد بطور مصلحانہ جنگ زیرِ بحث آیا ہے — کمزوروں پر ظلم و جبر کے خلاف اقدام؛ (۴) کتاب کے مرکزی مباحثاتی نکتے سے براہِ راست نمٹا گیا ہے — یہ الزام کہ اسلام "تلوار کے زور پر پھیلا" — یہ دلیل دی گئی ہے کہ ایشیا اور افریقہ میں اسلام کا آبادیاتی پھیلاؤ محض فتوحات سے نہیں سمجھایا جا سکتا؛ (۵) اسلام کے اپنے قوانینِ جنگ و صلح بیان کیے گئے ہیں؛ (۶) دیگر مذاہب میں جنگ کے تصور کا جائزہ لیا گیا ہے تاکہ یہ ثابت کیا جائے کہ اسلام کے احکام موازنتاً زیادہ متوازن ہیں؛ اور (۷) اس کا موازنہ "جدید تہذیب میں جنگ" سے کیا گیا ہے تاکہ یہ ثابت کیا جائے کہ جدید مغرب کا اپنا ریکارڈ اس کے اخلاقی برتری کے دعوے کو کمزور کرتا ہے۔
اہمیت اور تنقیدی مطالعہ۔ بطور مولانا مودودی کی پہلی تصنیف، یہ کتاب اپنی دلیل کے ساتھ ساتھ تاریخی حیثیت سے بھی اہم ہے۔ مولانا مودودی پر تحقیق کرنے والے محققین (نصر، ایڈمز) اسے ایک بنیادی مگر عبوری تصنیف قرار دیتے ہیں — اس کے تقابلی مذاہب سے متعلق دلائل اس دور کی ہندوستانی صحافت میں رائج بین المذاہب مناظرانہ ادب سے تعلق رکھتے ہیں۔ جہاد کو ایک منظم، ریاستی اجازت یافتہ جنگ قرار دینے کا اس کا بنیادی قانونی موقف مولانا کے بعد کے موقف سے ہم آہنگ رہا، اور اکثر جدید مباحث میں کلاسیکی فقہی تصورِ جہاد کو بیسویں صدی کی عسکریت پسند تنظیموں کے تصورِ جہاد سے ممیز کرنے کے لیے حوالہ دیا جاتا ہے۔
مطالعاتی حلقہ کے سوالات
- جہاد بطور منظم جنگ: مولانا مودودی اصرار کرتے ہیں کہ جہاد ریاستی اجازت یافتہ اور منظم ہونا چاہیے، نہ کہ کسی فرد کا اقدام۔ یہ آج کے غیر ریاستی عسکریت پسند گروہوں کے "جہاد" کے استعمال سے کس طرح مختلف ہے؟
- "تلوار کے زور پر پھیلاؤ" کی دلیل: مولانا مودودی دلیل دیتے ہیں کہ ایسے علاقوں میں اسلام کا پھیلاؤ جو کبھی فتح نہیں ہوئے، "تلوار" کے نظریے کی تردید کرتا ہے۔ کیا یہ کافی جواب ہے؟ اور کون سی دیگر وجوہات بھی اہم ہو سکتی ہیں؟
- مدافعانہ بمقابلہ مصلحانہ جنگ: کتاب "مدافعانہ" جہاد کو "مصلحانہ" جہاد سے ممیز کرتی ہے۔ آپ ان کے درمیان لکیر کہاں کھینچیں گے، اور کیا یہ فرق حقیقی تاریخی واقعات میں قائم رہتا ہے؟
- تقابلی مذاہب کی دلیل: کتاب اسلام کے قوانینِ جنگ کا موازنہ دیگر مذاہب سے کرتی ہے۔ اس تقابلی-معذرت خواہانہ طریقہ کار کے کیا خطرات ہیں؟
- جدید تہذیب پر تنقید: مولانا مودودی پہلی جنگ عظیم اور نوآبادیاتی تسخیر کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ کیا "تمہارا فریق زیادہ برا ہے" کی دلیل ایک مضبوط دفاع ہے؟
- تاریخی تناظر: یہ کتاب 1927ء میں ایک مخصوص فرقہ وارانہ تنازعے کے جواب میں لکھی گئی۔ اس تناظر کو آج اس کے دلائل پڑھنے میں کتنا اثرانداز ہونا چاہیے؟
- تسلسل اور تبدیلی: اس کتاب کا موازنہ "اسلامی ریاست" سے کریں۔ مولانا کی فکر میں کیا تبدیل ہوا، اور کیا چیز قائم رہی؟
- جسٹ وار تھیوری سے موازنہ: کتاب کا جائز جنگ کا فریم ورک مغربی سیکولر "جسٹ وار تھیوری" سے کس طرح موازنہ رکھتا ہے؟
مدافعانہ جنگ کی صورتیں
دفاع کے ان احکام سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے اُن دینی فرائض میں جو ان کی دنیا سے تعلق رکھتے ہیں سب سے بڑا اور سب سے اہم فرض یہ ہے کہ وہ اپنے دین اور اپنے قومی استقلال کی سختی کے ساتھ حفاظت کریں اور اپنے قومی و دینی وجود کو کسی حال میں فتنہ سے مغلوب نہ ہونے دیں۔ اس کے لیے اسلام نے اپنے پیرووں کو جنگ کی محض اجازت ہی نہیں دی، بلکہ تاکید کی ہے، اور تاکید بھی ایسی سخت جس کی کیفیت اوپر بیان کی گئی ہے۔
مگر حملہ کی صرف یہی ایک صورت نہیں ہے کہ ایک سلطنت باقاعدہ اعلان جنگ کر کے دارالاسلام پر حملہ آور ہو اور اس کو فتح کر کے مسلمانوں کو مٹانے، یا غلام بنانے، یا ان کی مذہبی آزادی کو سلب کرنے کی کوشش کرے، بلکہ اس کے علاوہ اور بھی بہت سی صورتیں ہیں جن سے ایک قوم کے امن واطمینان اور اس کی اجتماعی زندگی کو خطرہ میں مبتلا کیا جا سکتا ہے۔ پس اب ہم یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ وہ صورتیں کیا ہیں اور ان کے متعلق قرآن مجید ہم کو کیا حکم دیتا ہے۔ اس مقصد کے لیے ہم ان تمام آیات کو جمع کریں گے جن میں مدافعانہ جنگ کا حکم دیا گیا ہے، اور ان کے حل طلب مسائل کو بھی قرآن سے یا اس کے بعد حدیث سے حل کریں گے تاکہ شخصی آراء کے دخل سے شک و شبہ کی گنجائش ہی نہ رہے۔
۱- ظلم و تعدی کا جواب:
بقول اکابر مفسرین، اسلام میں پہلی آیت جو قتال کے متعلق اتری وہ سورۂ حج کی یہ آیت ہے:
<<اُذِنَ لِلَّذِيْنَ يُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْا ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى نَصْرِهِمْ لَقَدِيْرُۨ الَّذِيْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍّ اِلَّاۤ اَنْ يَّقُوْلُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ؕ>> (الحج:۳۹-۴۰)
”جن لوگوں سے جنگ کی جا رہی ہے انھیں جنگ کی اجازت دے دی گئی کیوں کہ وہ مظلوم ہیں اور اللہ ان کی مدد پر یقیناً قدرت رکھتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے گھروں سے نکالے گئے ہیں صرف اس قصور پر کہ وہ کہتے تھے کہ صرف اللہ ہی ہمارا رب ہے۔“
دوسری آیت جس کو علامہ ابن جریر اور بعض دوسرے مفسرین جنگ کی پہلی آیت قرار دیتے ہیں، سورۂ بقرہ کی یہ آیت ہے:
<<وَ قَاتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ الَّذِيْنَ يُقَاتِلُوْنَكُمْ وَ لَا تَعْتَدُوْا ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ وَاقْتُلُوْهُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوْهُمْ وَ أَخْرِجُوْهُمْ مِّنْ حَيْثُ أَخْرَجُوْكُمْ وَالْفِتْنَةُ أَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ>> (البقره: ۱۹۰-۱۹۱)
”اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں اور حد سے نہ بڑھ جاؤ، کیوں کہ اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا، اور ان کو مارو جہاں پاؤ، اور ان کو نکالو جہاں سے انھوں نے تم کو نکالا ہے، کیوں کہ فتنہ قتل سے زیادہ بری چیز ہے۔“
ان دونوں آیات سے حسب ذیل احکام نکلتے ہیں:
۱۔ جب مسلمانوں سے جنگ کی جائے اور ان پر ظلم و ستم کیا جائے تو ان کے لیے مدافعت میں جنگ کرنا جائز ہے۔
۲۔ جو لوگ مسلمانوں کے گھر بار چھینیں، ان کے حقوق سلب کریں، اور انھیں ان کی ملکیتوں سے بے دخل کریں، ان کے ساتھ مسلمانوں کو جنگ کرنی چاہیے۔
۳۔ جب مسلمانوں پر ان کے مذہبی عقائد کے باعث تشدد کیا جائے اور انھیں محض اس لیے ستایا جائے کہ وہ مسلمان ہیں، تو ان کے لیے اپنی مذہبی آزادی کی خاطر جنگ کرنا جائز ہے۔
۴۔ دشمن غلبہ کر کے جس سر زمین سے مسلمانوں کو نکال دے یا مسلمانوں کے اقتدار کو وہاں سے مٹا دے اسے دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، اور جب کبھی مسلمانوں کو طاقت حاصل ہو تو انھیں ان تمام مقامات سے دشمن کو نکال دینا چاہیے جہاں سے اس نے مسلمانوں کو نکالا ہے۔
۲- راہ حق کی حفاظت:
سورۂ انفال میں بن کافروں کے خلاف جنگ کرنے اور ان کی جرأت کاٹ دینے کا حکم دیا گیا ہے ان کا ایک تصور یہ بتایا گیا ہے:
<<إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ لِيَصُدُّواْ عَن سَبِيلِ اللَّهِ فَسَيُنفِقُونَهَا ثُمَّ تَكُونُ عَلَيْهِمْ حَسْرَةً ثُمَّ يُغْلَبُونَ وَ الَّذِينَ كَفَرُواْ إِلَى جَهَنَّمَ يُحْشَرُونَ>> (انفال: ۳۶)
”جو لوگ کافر ہیں وہ اپنے مال اس لیے صرف کرتے ہیں تا کہ لوگوں کو الله کے راستے سے روکیں، اور وہ اس مقصد کے لیے مال صرف کیے جائیں گے یہاں تک کہ ان کو پچھتانا پڑے گا اور وہ مغلوب کیے جائیں گے۔“
آگے چل کر قریش کی اس فوج کا جو بدر میں مسلمانوں سے لڑنے نکلی تھی اور جس کے مقابلہ میں الله نے حق کو حق اور باطل کو باطل کر کے دکھانے کے لیے خاص اپنی فوج بھیجی تھی، اس طرح ذکر کیا ہے:
<<وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِيَارِهِمْ بَطَرًا وَّرِئَآءَ النَّاسِ وَيَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللهِ ؕ>> (الانفال: ۴۷)
”اور تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جو اپنے گھروں سے تفاخر کے طور پر دنیا کو دکھانے کے لیے لڑنے کو اپنے گھروں سے نکلے اور وہ الله کے راستے سے روک رہے ہیں۔“
سورۃ توبہ میں پھر ان مشرکین کا جرم جن سے قتال کا حکم دیا گیا تھا یہ بتایا ہے:
<<اِشْتَرَوْا بِاٰيٰتِ اللهِ ثَمَنًا قَلِيْلًا فَصَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِهِ ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ >> (التوبه:۹)
”ان لوگوں نے آیات الٰہی کا سودا بڑی ہی کم قیمت پر کیا اور وہ اس کی راہ سے روکنے لگے، یہ بہت برا کام ہے جو وہ کرتے ہیں۔“
آگے چل کر اہل کتاب سے لڑنے کا حکم دیا ہے کہ <<قَاتِلُوا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِاللهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْاٰخِرِ>> اور پھر ان کے جرائم کی تفصیل اس طرح دی ہے:
<<يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّ كَثِيْرًا مِّنَ الْاَحْبَارِ وَالرُّهْبَانِ لَيَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَيَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللهِ ؕ>> (التوبه :۳۴)
”اے ایمان والو! (اہل کتاب کے) بہت سے احبار اور راہب لوگوں کے مال ناجائز طور پر کھاتے ہیں اور الله کی راہ سے روکتے ہیں۔“
سورہ محمد میں زیادہ وضاحت کے ساتھ فرمایا:
<<الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِ اللهِ اَضَلَّ اَعْمَالَهُمْ فَإِذَا لَقِيْتُمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فَضَرْبَ الرِّقَابِ ۖ حَتّٰىٓ اِذَآ اَثْخَنْتُمُوْهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَاِمَّا مَنًّاۢ بَعْدُ وَاِمَّا فِدَاۤءً حَتّٰى تَضَعَ الْحَرْبُ اَوْزَارَهَا>> (محمد ۴: ۱-۳)
”جن لوگوں نے دین حق کو ماننے سے انکار کر دیا اور اللہ کی راہ سے روکنے لگے ان کے اعمال اللہ نے ضائع کر دیے۔ پس جب تمھاری ان منکروں سے مڈ بھیڑ ہو تو گردنیں مارو، یہاں تک کہ ان کی طاقت کو کچل ڈالو، اس کے بعد قید کی گرفت کو مضبوط کرو اور انھیں گرفتار کر لو، پھر تمھیں اختیار ہے کہ خواہ احسان کا معاملہ کرو یا فدیہ لے لو۔ یہ عمل اس وقت تک جاری رکھو جب تک جنگ اپنے ہتھیار نہ ڈال دے اور اس کی ضرورت ہی باقی نہ رہے۔“
ان تمام آیات سے معلوم ہوا کہ <<صَدٌّ عَنْ سَبِيْلِ اللهِ>> یعنی اللہ کی راہ سے روکنا بھی ایک ایسا جرم ہے جس کے خلاف جنگ ضروری ہے۔ اللہ کی راہ سے مراد وہی دین حق ہے جس کو قرآن مجید میں صراط مستقیم بھی کہا گیا ہے۔ اور یہ قرآن کے انداز بیان کی انتہائی خوبی ہے کہ اس نے دین کو راستہ سے تعبیر کیا۔ گویا وہ ایک طریق ہے جو سیدھا منزل تک لے جاتا ہے اور جس پر شیطان و اولیائے شیطان رہزنی کرتے ہیں۔ بعض لوگوں نے سبیل کے معنیٰ یہی معمولی چلنے پھرنے کی سڑک کے لیے ہیں اور <<صَدٌّ عَنْ سَبِيْلِ اللهِ>> کا مطلب رہزنی قرار دیا ہے۔ مگر قرآن مجید میں سَبِيلِ اللهِ اور سَبِيلِ رب کے الفاظ ایسے نہیں ہیں جن کا مفہوم سمجھنے میں ذرا بھی دقت ہو۔ <<ادْعُ اِلٰى سَبِيْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ>> اور <<اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ مَنْ يَّضِلُّ عَنْ سَبِيْلِهٖ ۖ وَهُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِيْنَ>> میں موٹروں اور بائسکلوں کی سڑک مراد نہیں ہو سکتی، بلکہ وہی سڑک مراد ہے جو خدا تک لے جاتی ہے۔ <<وَمَنْ يَّتَبَدَّلِ الْكُفْرَ بِالْاِيْمَانِ فَقَدْ ضَلَّ سَوَاۤءَ السَّبِيْلِ>> میں بھی سیدھی راہ سے مراد وہی ایمان کی راہ ہے اور اس کی ضد کفر کی راہ قرار دی گئی ہے۔ <<وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ يُّقْتَلُ فِيْ سَبِيْلِ اللهِ اَمْوَاتٌ ۗ بَلْ اَحْيَاۤءٌ>> میں بھی ان مارے جانے والوں کو زندہ نہیں کہا گیا ہے جو مٹی اور پتھر کی سڑکوں پر جان دیتے ہیں، بلکہ یہ شرف ان لوگوں کے سوا کسی کے لیے نہیں ہے جو اللہ کے دربار تک لے جانے والی راہ میں جان دیں۔ پس اس امر میں کسی شک کی گنجائش نہیں ہے کہ سبیل اللہ سے روکنا دراصل اسلام سے روکنا ہے۔
اب غور کیجیے کہ اسلام سے روکنے کا کیا مطلب ہے؟ اسلام کو جب راستہ کہا گیا تو ضرور ہے کہ اس کے روکنے کی بھی وہی صورت ہوگی جو ایک رہگذر سے روکنے کی ہوتی ہے۔ کسی راستہ کو روکنے کی قدرتاً تین صورتیں ہوسکتی ہیں۔ ایک یہ کہ جو لوگ دوسرے راستہ پر چل رہے ہوں انھیں اس راستہ پر نہ آنے دیا جائے۔ دوسرے یہ کہ جو اس راستہ پر چل رہے ہوں انھیں اس سے زبردستی ہٹا دیا جائے۔ تیسرے یہ کہ اس پر چلنے والوں کے راستہ میں کانٹے بچھا دیے جائیں، ان کو خوف زدہ کرنے کی کوشش کی جائے اور انہیں اس طرح دق کیا جائے کہ وہ چلنے سے عاجز آجائیں۔ یہی تینوں مفہوم ”صَدٌّ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ “ کے بھی ہیں، یعنی اسلام قبول کرنے سے لوگوں کو روکنا، مسلمانوں کو زبردستی مرتد بنانے کی کوشش کرنا اور مسلمانوں کے لیے اسلام کے مطابق زندگی بسر کرنے کو مشکل بنا دینا۔ قرآن میں ان تینوں مفہومات کی مثالیں موجود ہیں اور جو گروہ اس طرح اسلام کی راہ روکنے کی کوشش کرے اس کو راستہ سے ہٹا دینا اور اس کا زور توڑ دینا مسلمانوں کا اخلاقی حق بھی ہے اور دینی فرض بھی۔
۳- دغابازی اور عہد شکنی کی سزا:
سورہ انفال میں ایک اور جرم، جس کے خلاف جنگ کرنے کا حکم ہے، یہ بتایا گیا ہے:
<<إِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِندَ اللَّهِ الَّذِينَ كَفَرُوا فَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ ٥٥ الَّذِينَ عَاهَدتَّ مِنْهُمْ ثُمَّ يَنقُضُونَ عَهْدَهُمْ فِي كُلِّ مَرَّةٍ وَهُمْ لَا يَتَّقُونَ ٥٦ فَإِمَّا تَثْقَفَنَّهُمْ فِي الْحَرْبِ فَشَرِّدْ بِهِم مَّنْ خَلْفَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُونَ ٥٧ وَإِمَّا تَخَافَنَّ مِن قَوْمٍ خِيَانَةً فَانبِذْ إِلَيْهِمْ عَلَىٰ سَوَاءٍ ۚ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْخَائِنِينَ ٥٨>> (الانفال: ۵۵-۵۸)
”اللہ کے نزدیک زمین پر چلنے والے جانداروں میں بدترین وہ لوگ ہیں جنھوں نے کفر کیا ہے اور ایمان نہیں لاتے، جن سے تو نے معاہدہ کیا تھا مگر وہ بار بار اپنے عہد کو توڑتے ہیں اور بدعہدی سے پرہیز نہیں کرتے۔ پس اگر تو جنگ میں اُن کو پا لے تو انھیں سخت سزا دے کر ان لوگوں کو خوفزدہ و پراگندہ کر دے جو ان کے پیچھے ہیں (یعنی انھیں ایسی سزا دے جو ان کے بعد والوں کے لیے موجب عبرت ہو) شاید کہ وہ کچھ سبق حاصل کریں۔ اور اگر تجھے کسی قوم سے دغا کا خوف ہو تو برابری کو ملحوظ رکھ کر علی الاعلان ان کا عہد ان کی طرف پھینک دے۔ اللہ یقیناً دغا بازوں کو پسند نہیں کرتا۔"
اسی طرح سورہ توبہ میں زیادہ سختی کے ساتھ ان کافروں کے متعلق جنھوں نے مسلمانوں سے بار بار عہد کیے تھے، فرمایا ہے:
<<بَرَاءَةٌ مِّنَ اللَّهِ وَ رَسُولِهِ إِلَى الَّذِينَ عَهَدتُّم مِّنَ الْمُشْرِكِينَ O فَسِيحُوا فِي الْأَرْضِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَ اعْلَمُوا أَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِي اللَّهِ وَ أَنَّ اللَّهَ مُخْزِي الْكَافِرِينَ O>> (التوبہ: ۱-۲)
”اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلان براءت ہے ان مشرکوں کی طرف جن سے تم نے معاہدہ کیا تھا (اور جنھوں نے بار بار اس کی خلاف ورزی کی) پس چار مہینے اور زمین میں چل پھر لو، اس کے بعد خوب سمجھ لو کہ تم اللہ کو عاجز کرنے والے نہیں ہو، اور اللہ کافروں کو ضرور رسوا کرنے والا ہے۔“
اس کے بعد اُن مشرکوں کے متعلق جنھوں نے عہد نہیں توڑا تھا، حکم دیا کہ <<فَأَتِموا إِلَيْهِمْ عَهْدَهُمْ إِلَىٰ مُدَّتِهِمْ>> ان کے معاہدہ کی مدت مقررہ تک پابندی کرو۔ پھر بار بار نقض عہد کرنے والوں کے متعلق فرمایا:
<<فَإِذَا انسَلَخَ الْأَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ حَيْثُ وَجَدتُّمُوهُمْ وَ خُذُوهُمْ وَ احْصُرُوهُمْ وَ اقْعُدُوا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ فَإِن تَابُوا وَ أَقَامُوا الصَّلَوٰةَ وَ ءَاتَوُا الزَّكَوٰةَ فَخَلُّوا سَبِيلَهُمْ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ O>> (التوبہ: ۵)
”جب وہ چار حرمت والے مہینے (جن کی مہلت اوپر دی گئی ہے) گزر جائیں تو ان مشرکوں کو قتل کرو جہاں پاؤ، اور انھیں گرفتار کرو اور انھیں گھیر کر محصور کر لو (تاکہ بلاد مسلمین میں نہ آ سکیں) اور ان کے لیے ہر کمین گاہ میں بیٹھو۔ پھر اگر وہ توبہ کریں، نماز ادا کریں اور زکوٰۃ دیں تو ان کی راہ چھوڑ دو (یعنی پھر ان سے تعرض نہ کرو) کیوں کہ اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔“
آگے چل کر پھر انہی بدعہد اور دغاباز مشرکوں کے متعلق فرمایا:
<<كَيْفَ يَكُونُ لِلْمُشْرِكِينَ عَهْدٌ عِندَ اللَّهِ وَعِندَ رَسُولِهِ إِلَّا الَّذِينَ عَهَدتُّمْ عِندَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ فَمَا اسْتَقَامُوا لَكُمْ فَاسْتَقِيمُوا لَهُمْ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِينَ * كَيْفَ وَإِن يَظْهَرُوا عَلَيْكُمْ لَا يَرْقُبُوا فِيكُمْ إِلًّا وَلَا ذِمَّةً يُرْضُونَكُم بِأَفْوَاهِهِمْ وَتَأْبَىٰ قُلُوبُهُمْ وَأَكْثَرُهُمْ فَسِقُونَ>> (توبہ: ۷-۸)
”ان مشرکوں کے لیے اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک عہد کیسے ہو سکتا ہے، سوائے ان لوگوں کے جن سے تم نے مسجد حرام کے پاس معاہدہ کیا تھا۔ سو وہ جب تک عہد پر قائم ہیں تم بھی قائم رہو، کیوں کہ اللہ پرہیز گاروں کو پسند کرتا ہے۔ مگر ان بدعہدوں سے کیوں کر عہد ہو سکتا ہے جن کی حالت یہ ہے کہ جب تم پر غلبہ و فتح حاصل کر لیں تو نہ تم سے قرابت کا لحاظ رکھیں اور نہ عہد و اقرار کا، وہ تم کو زبان سے خوش کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر دل ان کے انکار کرتے ہیں (یعنی وہ دل میں تمھیں نقصان پہنچانے کی فکر رکھتے ہیں) اور ان میں اکثر بدکار و سرکش ہیں۔“
اس کے بعد پھر انہی بدعہدوں کے متعلق فرمایا:
<<لَا يَرْقُبُونَ فِى مُؤْمِنٍ إِلًّا وَلَا ذِمَّةً وَأُوْلَئِكَ هُمُ الْمُعْتَدُونَ * فَإِن تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلَوةَ وَآتَوُا الزَّكَوةَ فَإِخْوَنُكُمْ فِى الدِّينِ وَنُفَصِّلُ الْآيَتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ * وَإِن نَّكَثُوا أَيْمَنَهُم مِّن بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَطَعَنُوا فِى دِينِكُمْ فَقَتِلُوا أَئِمَّةَ الْكُفْرِ إِنَّهُمْ لَا أَيْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَنتَهُونَ * أَلَا تُقَاتِلُونَ قَوْمًا نَّكَثُوا أَيْمَانَهُمْ وَهَمُّوا بِإِخْرَاجِ الرَّسُولِ وَهُم بَدَءُوكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ أَتَخْشَوْنَهُمْ فَاللَّهُ أَحَقُّ أَن تَخْشَوْهُ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ * قَاتِلُوهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللَّهُ بِأَيْدِيكُمْ وَيُخْزِهِمْ وَ يُنْصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ وَ يَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِيْنَ>> (التوبہ : ۱۰ تا ۱۳)
”وہ کسی مومن کے ساتھ قرابت یا عہد و اقرار کا لحاظ نہیں کرتے، اور وہی ہیں جو زیادتی کرتے ہیں۔ پس اگر وہ توبہ کریں، نماز ادا کریں اور زکوٰۃ دیں تو تمہارے دینی بھائی ہیں، اور یہ آیات ہم کھول کر بیان کرتے ہیں ان لوگوں کے لیے جو کچھ بوجھ رکھتے ہیں۔ لیکن اگر وہ عہد کرنے کے بعد اپنی قسموں کو توڑ دیں اور تمھارے دین پر حملے کریں تو کفر کے لیڈروں کے ساتھ جنگ کرو کیوں کہ (اس کے بعد معلوم ہو گیا کہ) ان کی قسم کا کچھ اعتبار نہیں، شاید کہ وہ اپنی حرکات سے باز آئیں۔ کیا تم ایسے لوگوں سے جنگ نہ کرو گے جنھوں نے اپنی قسموں کو توڑ دیا اور رسول کو نکال دینے پر تل گئے اور انھوں نے ہی اول مرتبہ تم پر پیش دستی کی۔ کیا تم ان سے ڈرتے ہو؟ حالانکہ اللہ اس کا زیادہ حق دار ہے کہ اس سے ڈرو، بشرطیکہ تم ایمان دار ہو۔ ان سے تم ضرور جنگ کرو، اللہ انھیں تمھارے ہاتھوں سے عذاب دے گا اور انھیں رسوا کرے گا اور تم کو ان پر نصرت بخشے گا اور مومنوں کے قلوب کو شفا بخشے گا۔“
ان تمام آیات اور ان کی شانِ نزول پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ:
۱۔ جو لوگ مسلمانوں سے عہد کر کے توڑ دیں ان سے جنگ کرنی چاہیے۔ اس حکم میں وہ کفار بھی آ جاتے ہیں جو مسلمانوں سے اطاعت کا معاہدہ کر کے پھر حکومت اسلامیہ کے خلاف بغاوت کریں۔
۲۔ جن سے معاہدہ تو ہو مگر ان کا رویہ ایسا مخالفانہ و معاندانہ ہو کہ اسلام اور مسلمانوں کو ہر وقت ان سے نقصان پہنچنے کا اندیشہ لگا رہے تو انھیں علی الاعلان فسخ معاہدہ کا نوٹس دے دینا چاہیے اور اس کے بعد ان کی دشمنی کا منہ توڑ جواب دینا چاہیے۔
۳۔ جو لوگ بار بار بد عہدی و دغا بازی کریں اور جن کے عہد و اقرار کا کوئی اعتبار نہ رہے، اور جو مسلمانوں کو نقصان پہنچانے میں اخلاق و انسانیت کے کسی آئین کا لحاظ نہ رکھیں، ان سے دائمی جنگ کا حکم ہے۔ اور صرف اسی صورت میں ان سے صلح ہوسکتی ہے کہ وہ توبہ کریں اور اسلام لے آئیں۔ ورنہ ان کے اثر سے اسلام اور دار الاسلام کو محفوظ رکھنے کے لیے قتل، گرفتاری، محاصرہ اور ایسی ہی دوسری جنگی تدابیر اختیار کرتے رہنا ضروری ہے۔
۴- اندرونی دشمنوں کا استیصال:
ان بیرونی دشمنوں کے علاوہ کچھ اندرونی دشمن بھی ہیں جو ظاہر میں دوست مگر باطن میں اسلام کی جڑ کاٹنے والے ہوتے ہیں۔ یہ لوگ اس جماعت میں داخل ہیں جس کے لیے قرآن حکیم نے منافق کا جامع لفظ استعمال کیا ہے اور ان کے باب میں یہ حکم دیا ہے :
<<يَأَيُّهَا النَّبِيُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَ الْمُنْفِقِيْنَ وَ اغْلُظْ عَلَيْهِمْ وَ مَأْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ وَ بِئْسَ الْمَصِيْرُ>> (توبه: ۷۳)
”اے نبی! منافقوں اور کافروں سے جہاد کرو اور ان پر سختی کرو، ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ بہت ہی بری جائے قرار ہے۔“
<<لَّئِنْ لَّمْ يَنْتَهِ الْمُنْفِقُوْنَ وَ الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَ الْمُرْجِفُوْنَ فِي الْمَدِيْنَةِ لَنُغْرِيَنَّكَ بِهِمْ ثُمَّ لَا يُجَاوِرُوْنَكَ فِيْهَا إِلَّا قَلِيْلًا مَّلْعُوْنِيْنَ أَيْنَمَا ثُقِفُوْا أُخِذُوْا وَ قُتِّلُوْا تَقْتِيْلًا>> (الاحزاب :۶۰-۶۱)
”اگر منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے، اور مدینہ میں بری خبریں اڑانے والے، اپنی معاندانہ حرکات سے باز نہ آئے تو ہم تجھے ان پر مسلط کر دیں گے اور پھر وہ اس شہر میں تیرے ہمسایہ نہ رہ سکیں گے مگر تھوڑے دن۔ اُن پر پھٹکار پڑے گی، جہاں ملیں گے پکڑے جائیں گے اور خوب قتل کیے جائیں گے۔“
<<وَدُّوْا لَوْ تَكْفُرُوْنَ كَمَا كَفَرُوْا فَتَكُوْنُوْنَ سَوَآءً فَلَا تَتَّخِذُوْا مِنْهُمْ أَوْلِيَاءَ حَتّٰى يُهَاجِرُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللهِ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَخُذُوْهُمْ وَ اقْتُلُوْهُمْ حَيْثُ وَجَدْتُّمُوْهُمْ وَ لَا تَتَّخِذُوْا مِنْهُمْ وَلِيًّا وَ لَا نَصِيْرًا>> (النساء: ۸۹)
”یہ لوگ چاہتے ہیں کہ تم بھی اسی طرح کافر ہو جاؤ جس طرح یہ خود کافر ہوئے تاکہ تم اور وہ برابر ہو جائیں۔ پس تم ان میں سے کسی کو اپنا دوست نہ بناؤ جب تک کہ یہ اللہ کی راہ میں اپنے گھروں سے نہ نکلیں ۔ اگر وہ انحراف کریں (اعانت کفر سے باز نہ آئیں) تو انھیں پکڑو اور جہاں پاؤ مارو اور ان میں سے کسی کو اپنا دوست نہ بناؤ۔
<<سَتَجِدُونَ آخَرِينَ يُرِيدُونَ أَن يَأْمَنُوكُمْ وَيَأْمَنُوا قَوْمَهُمْ ۚ كُلَّمَا رُدُّوا إِلَى الْفِتْنَةِ أُرْكِسُوا فِيهَا ۚ فَإِن لَّمْ يَعْتَزِلُوكُمْ وَيُلْقُوا إِلَيْكُمُ السَّلَمَ وَيَكُفُّوا أَيْدِيَهُمْ فَخُذُوهُمْ وَاقْتُلُوهُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوهُمْ ۚ وَأُولَٰئِكُمْ جَعَلْنَا لَكُمْ عَلَيْهِمْ سُلْطَانًا مُّبِينًا>> (النساء:91)
”کچھ دوسرے لوگ ایسے پاؤ گے جو چاہتے ہیں کہ تم سے بھی امن میں رہیں اور اپنی قوم کے کافروں سے بھی (اس لیے جب تمھارے پاس آتے ہیں تو اقرار اسلام کرتے ہیں) اور جب فتنہ کی طرف لوٹائے جاتے ہیں تو اس میں اوندھے گر پڑتے ہیں (یعنی خود بھی فتنہ میں شامل ہو جاتے ہیں۔) پس اگر وہ تم سے کنارہ کش نہ ہوں اور نہ تم سے صلح کی طرح ڈالیں اور نہ تمھارے ساتھ جنگ و دشمنی سے ہاتھ روکیں، تو انھیں پکڑو اور جہاں پاؤ قتل کرو۔ ان لوگوں پر ہم نے تمھیں واضح دلیل دے دی ہے۔“
ان آیات میں منافقین کی اس جماعت کا وہ جرم بھی بیان کر دیا گیا ہے جس کے باعث یہ واجب القتل ہوئے ہیں۔ لیکن مزید وضاحت کے لیے ہم قرآن مجید ہی کی چند اور آیات پیش کرتے ہیں جن سے معلوم ہو سکتا ہے کہ یہ کس قسم کے لوگ ہیں۔ سورہ نساء میں ہے:
<<وَيَقُولُونَ طَاعَةٌ فَإِذَا بَرَزُوا مِنْ عِندِكَ بَيَّتَ طَائِفَةٌ مِّنْهُمْ غَيْرَ الَّذِي تَقُولُ ۖ وَاللَّهُ يَكْتُبُ مَا يُبَيِّتُونَ>> (نساء: ۸۱)
”وہ تجھ سے تو کہتے ہیں کہ ہم مطیع ہیں، مگر جب تیرے پاس سے نکلتے ہیں تو ان میں سے ایک گروہ جو کچھ تو کہتا ہے اس کے خلاف رات کو منصوبے گانٹھتا ہے، اور جو کچھ یہ لوگ راتوں کو منصوبے گانٹھا کرتے ہیں اللہ اُن سے خبردار ہے۔“
سورۃ توبہ میں فرمایا:
<<لَوْ خَرَجُوا فِيكُمْ مَا زَادُوكُمْ إِلَّا خَبَالًا وَلَأَوْضَعُوا خِلَالَكُمْ يَبْغُونَكُمُ الْفِتْنَةَ ۚ وَفِيكُمْ سَمَّاعُونَ لَهُمْ ۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِالظَّالِمِينَ لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَةَ مِنْ قَبْلُ وَقَلَّبُوا لَكَ الْأُمُورَ حَتَّىٰ جَاءَ الْحَقُّ وَظَهَرَ أَمْرُ اللَّهِ وَهُمْ كَارِهُونَ >> (توبه: ۴۷-۴۸)
”اگر وہ تمہارے ساتھ مل کر لڑنے کو نکلتے تو تمہارے اندر فساد کے سوا اور کسی چیز کا اضافہ نہ کرتے، اور تمہارے درمیان جھوٹی خبریں پھیلا کر اور چغل خوریاں کر کے فتنہ برپا کرنے کی کوشش کرتے۔ اور تمہارے درمیان ایسے لوگ بھی ہیں جو ان کی باتیں کان لگا کر سنتے ہیں، اللہ ان ظالموں سے خوب واقف ہے۔ انھوں نے اس سے پہلے بھی (غزوہ احد میں) فتنہ برپا کرنا چاہا تھا اور تیرے خلاف طرح طرح کی چالیں چلی تھیں یہاں تک کہ حق کی نصرت آگئی اور اللہ کا حکم غالب ہوا اگرچہ وہ انھیں بہت ہی ناگوار تھا۔“
<<وَيَحْلِفُونَ بِاللَّهِ إِنَّهُمْ لَمِنْكُمْ وَمَا هُمْ مِنْكُمْ وَلَٰكِنَّهُمْ قَوْمٌ يَفْرَقُونَ لَوْ يَجِدُونَ مَلْجَأً أَوْ مَغَارَاتٍ أَوْ مُدَّخَلًا لَوَلَّوْا إِلَيْهِ وَهُمْ يَجْمَحُونَ >> (التوبۃ: ۵۶-۵۷)
”اور وہ خدا کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ ہم تم ہی میں سے ہیں حالانکہ وہ ہرگز تم میں سے نہیں ہیں، بلکہ دراصل یہ ڈرپوک لوگ ہیں (جو تمھاری طاقت کے خوف سے اظہار دوستی کرتے ہیں)۔ اگر انھیں کوئی جائے پناہ یا غار یا گھس بیٹھنے کا مقام مل جائے تو ضرور اس کی طرف پھر جائیں اور دوڑ کر جائیں۔“
<<الْمُنَافِقُونَ وَالْمُنَافِقَاتُ بَعْضُهُمْ مِنْ بَعْضٍ ۚ يَأْمُرُونَ بِالْمُنْكَرِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمَعْرُوفِ وَيَقْبِضُونَ أَيْدِيَهُمْ ۚ نَسُوا اللَّهَ فَنَسِيَهُمْ ۗ إِنَّ الْمُنَافِقِينَ هُمُ الْفَاسِقُونَ >> (التوبۃ: ۶۷)
”منافق مرد اور منافق عورتیں سب ایک تیلی کے چٹے بٹے ہیں، بری باتوں کا حکم کرتے ہیں، اچھی باتوں سے روکتے ہیں، اور راہ خدا میں خرچ کرنے سے ہاتھ روکتے ہیں، وہ اللہ کو بھول گئے ہیں، اس لیے اللہ بھی ان سے بے پروا ہو گیا ہے، بے شک یہ منافق بڑے ہی بدکار اور نافرمان ہیں۔“
سورۂ احزاب میں فرمایا:
<<وَإِذْ يَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ مَا وَعَدَنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ إِلَّا غُرُورًا وَإِذْ قَالَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ يَا أَهْلَ يَثْرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمْ فَارْجِعُوا وَيَسْتَأْذِنُ فَرِيقٌ مِنْهُمُ النَّبِيَّ يَقُولُونَ إِنَّ بُيُوتَنَا عَوْرَةٌ وَمَا هِيَ بِعَوْرَةٍ إِنْ يُرِيدُونَ إِلَّا فِرَارًا وَلَوْ دُخِلَتْ عَلَيْهِمْ مِنْ أَقْطَارِهَا ثُمَّ سُئِلُوا الْفِتْنَةَ لَآتَوْهَا وَمَا تَلَبَّثُوا بِهَا إِلَّا يَسِيرًا>> (الاحزاب: ۱۲-۱۳)
”اور جب (جنگ احزاب کے موقع پر) منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں شک کی بیماری ہے، کہنے لگے کہ اللہ اور اس کے رسول نے جو وعدہ ہم سے کیا تھا وہ دھوکے اور فریب کے سوا کچھ نہ تھا، اور جب ان میں سے ایک گروہ بولا کہ اے اہل یثرب! اب تمھارے ٹھہرنے کا موقع نہیں ہے، یہاں سے بھاگ نکلو، اور ان میں سے ایک فریق نبی سے اجازت لینے لگا یہ کہہ کر کہ ہمارے گھر کھلے پڑے ہیں حالانکہ وہ کھلے ہوئے (غیر محفوظ) نہ تھے اور ان کا مطلب بھاگ جانے کے سوا کچھ نہ تھا، اگر مدینہ کے اطراف سے دشمن گھس پڑتے اور ان سے درخواست کی جاتی کہ تم بھی (مسلمانوں کو قتل و غارت کرنے کے) فتنہ میں شریک ہوجاؤ تو وہ ضرور شریک ہو جاتے اور اس میں ذرا تامل نہ کرتے۔“
سورہ منافقون میں فرمایا:
<<إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ قَالُوا نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللَّهِ وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّكَ لَرَسُولُهُ وَاللَّهُ يَشْهَدُ إِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَكَاذِبُونَ اتَّخَذُوا أَيْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوا عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ إِنَّهُمْ سَاءَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ>> (منافقون: ۱-۲)
”جب منافق تمھارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ یقیناً خدا کے رسول ہیں۔ ہاں اللہ بھی جانتا ہے کہ تم اس کے رسول ہو، مگر اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافق یقیناً جھوٹے ہیں۔ انھوں نے اپنی قسموں کو (اپنی دشمنی کے لیے) ڈھال بنا رکھا ہے اور یہ اللہ کے راستہ سے روکتے ہیں اور بہت ہی برا کام ہے جو وہ کرتے ہیں۔“
یہ آیات بتاتی ہیں کہ منافقین میں سے ایک گروہ ایسا ہے جس کے ساتھ ظاہر میں بھی مسلمانوں کا سا معاملہ نہیں کیا جا سکتا۔ اس گروہ کی خصوصیت یہ ہے کہ یا تو مسلمان ہونے کا دعوی کرنے کے باوجود علانیہ کفر کی باتیں کرتا ہے، یا زبان سے تو بدستور اسلام کا اقرار کرتا رہتا ہے مگر اس کی حرکات یہ ہوتی ہیں کہ ہر وقت مسلمانوں کے درپے آزار رہتا ہے، طرح طرح سے انھیں نقصان پہنچانے کی تدبیریں کرتا ہے، ان کے دشمنوں سے ساز باز رکھتا ہے، ان کی خفیہ خبریں دشمنوں کو پہنچایا کرتا ہے، ان کا ایمان بگاڑنے اور انھیں گمراہ کرنے کی کوششیں کرتا ہے، ان کی جماعت میں ریشہ دوانیاں کر کے تفرقہ برپا کرتا ہے، ان کے دشمنوں کو اخلاقی و عملی مدد پہنچاتا ہے، اور اسلام پر جب کوئی مصیبت کا وقت آتا ہے تو یہ گروہ اس کی حفاظت کے بجائے اسے مٹانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ گروہ اسلام کے لیے اس کے بیرونی دشمنوں سے زیادہ خطرناک ہے، اس لیے جو لوگ اس غدار گروہ سے تعلق رکھتے ہوں، خواہ وہ ہر وقت کلمہ توحید و رسالت پڑھتے ہوں اور خواہ ظاہری حیثیت سے ان کے اسلام میں کسی شک کی گنجائش نہ ہو، مگر ان کے ساتھ قطعاً کوئی رعایت نہ کرنی چاہیے، اور جب ان سے ان جرائم کا صدور ہو تو جسم اسلام کے ان پھوڑوں پر سختی کے ساتھ اصلاح کا نشتر استعمال کرنا چاہیے۔
۵- حفاظت امن:
دشمنوں کی ایک اور قسم وہ ہے جو دار الاسلام کے اندر رہ کر یا باہر سے آکر اس میں فساد پھیلاتی ہے، ڈاکے ڈالتی ہے اور قتل و غارت کا بازار گرم کرتی ہے اور حکومت اسلامی کے امن و امان میں خلل برپا کرتی ہے، یا تشدد کے ذریعہ سے نظام اسلامی کا تختہ الٹنے کی کوشش کرتی ہے۔ ان کے متعلق قرآن مجید میں یہ حکم دیا گیا ہے:
<<اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِيْنَ يُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ يَسْعَوْنَ فِي الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ إِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِيْنَ يُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ وَيَسْعَوْنَ فِى الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ يُّقَتَّلُوْٓا اَوْ يُصَلَّبُوْٓا اَوْ تُقَطَّعَ اَيْدِيْهِمْ وَاَرْجُلُهُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ يُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِ ۭ ذٰلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِي الدُّنْيَا ۖ وَلَهُمْ فِي الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيْمٌ 33 اِلَّا الَّذِيْنَ تَابُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَقْدِرُوْا عَلَيْهِمْ ۚ فَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ 34>> (المائدہ: ۳۳-۳۴)
”جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور ملک میں (لوٹ مار سے) فساد پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں، ان کی سزا یہ ہے کہ وہ قتل کیے جائیں یا صلیب پر چڑھائے جائیں یا ان کے ہاتھ پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ ڈالے جائیں یا وہ ملک سے نکال دیے جائیں ۔ یہ رسوائی تو ان کے لیے دنیا میں ہے، اور (اس کے علاوہ) آخرت میں بھی ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔ سوائے ان لوگوں کے جو اس سے پہلے کہ تم ان پر قدرت پاؤ (یعنی گرفتار کرو) تو بہ کرلیں، تو جان لو کہ اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔“
اس آیت میں <<يُحَارِبُوْنَ اللهَ وَرَسُوْلَهُ>> کے الفاظ سے جہلاء کو یہ دھوکا ہوا ہے کہ اس سے مراد وہ کفار ہیں جن سے مسلمانوں کی باقاعدہ لڑائی ہو۔ لیکن دراصل خدا اور رسول کے ساتھ محاربہ کرنے سے مراد ’’سعی فساد فی الارض‘‘ ہے جس کا ذکر تشریح کے طور پر اس فقرہ کے بعد ہی کیا گیا ہے۔[ اس موقع پر ’’خدا اور رسول سے جنگ‘‘ کی اصطلاح اسی معنی میں استعمال کی گئی ہے جس معنی میں تعزیرات ہند میں (Waging War against the King) کا فقرہ استعمال ہوتا رہا ہے۔ اسلامی فقہ میں اس سے مراد دو قسم کے جرائم لیے گئے ہیں۔ ایک وہ جن سے مقصود دار الاسلام میں قتل و غارت گری اور ڈاکہ زنی کے ذریعہ سے بد نظمی پیدا کرنا ہو۔ دوسرے وہ جن سے مقصود اسلامی نظام کو بزور مٹا کر کوئی غیر اسلامی نظام قائم کرنا ہو۔] یہ آیت جس موقع پر اتری تھی اس سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس کا حکم فسادیوں اور امن و آئین کے خلاف مسلح بغاوت کرنے والوں کے لیے ہے۔ حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مسلمان ہو کر مدینہ میں رہنے لگے، مگر وہاں کی آب و ہوا انھیں موافق نہ آئی اور وہ بیمار پڑ گئے۔ ایک روایت کے مطابق ان کے رنگ زرد پڑ گئے اور پیٹ بڑھ گئے تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: <<لو خرجتم الى ذود لنا فشربتم من البانها و ابوالها>> اگر تم ہمارے اونٹوں میں جاکر رہو اور ان کے دودھ اور دوا کے طور پر اُن کے پیشاب [حدیث میں اسی طرح مذکور ہوا ہے۔ ممکن ہے یہ مشورہ طبی وجوہ سے دیا گیا ہو اور اس زمانے کی طبی معلومات میں اس مرض کا یہی علاج ہو۔ اسی بنا پر علاج کے لیے بعض حرام چیزوں کا استعمال شرعاً جائز قرار دیا گیا ہے جب کہ ان کا کوئی جائز بدل ممکن یا معلوم نہ ہو۔] پیو تو تمھاری صحت درست ہو جائے۔ چنانچہ وہ مدینہ سے باہر اونٹوں کی چراگاہوں میں پہنچے اور جب آرام ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہوں کو قتل کر کے اونٹوں کو ہانک لے گئے اور اسلام سے پھر گئے۔ ان کی اس حرکت کی جب آپ کو خبر ہوئی تو آپ نے لوگوں کو بھیج کر انھیں پکڑا منگایا، ان کے ہاتھ پاؤں کٹوائے، ان کی آنکھیں نکلوا ئیں اور انھیں دھوپ میں چھوڑ دیا، یہاں تک کہ وہ مر گئے۔ [ابن ماجہ، جلد ثانی، باب ”من حارب وسعى في الارض فسادا“۔] صحیح بخاری میں بھی مختلف طریقوں سے اسی مضمون کی روایتیں درج ہیں، اور امام علیہ الرحمۃ نے ان کو قول اللہ عزوجل <<إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِيْنَ يُحَارِبُوْنَ اللهَ وَ رَسُوْلَهُ>> کے زیر عنوان درج کیا ہے۔ صحیح مسلم میں حضرت انسؓ کے حوالہ سے آنکھیں اندھی کرانے کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ انھوں نے آنحضرت کے چرواہوں کی آنکھیں سلائی پھیر کر چھوڑ دی تھیں، اس لیے آپ نے ان سے آنکھوں کا قصاص لیا۔ ابوداؤد اور نسائی میں ابوالزناد کے واسطہ سے حضرت عبداللہ بن عمرؓ کی یہ روایت نقل کی گئی ہے کہ یہ آیت انہی عرینوں کے باب میں نازل ہوئی تھی، اور حضرت ابوہریرہؓ کا بھی یہی بیان ہے۔ اگرچہ علمائے مجتہدین کی ایک جماعت اس طرف بھی گئی ہے کہ یہ آیت ان عرینہ والوں کے حق میں نہیں اتری، لیکن یہ امر متفق علیہ ہے کہ قرآن مجید میں یہ عبرت ناک سزائیں جو تجویز کی گئی ہیں، یہ انہی لوگوں کے لیے ہیں جو دار الاسلام کے امن میں لوٹ مار اور قتل و غارت سے خلل برپا کریں، اور سزاؤں کے مختلف مدارج نوعیت جرم کے مختلف مدارج سے تعلق رکھتے ہیں جس کی تفصیل فقہائے کرام نے بوضاحت بیان فرمائی ہے۔
۶- مظلوم مسلمانوں کی حمایت:
مدافعانہ جنگ کی ایک اور صورت جس میں مسلمانوں کو تلوار اٹھانے کی اجازت دی گئی ہے یہ ہے کہ مسلمانوں کی کوئی جماعت اپنی کمزوری و بیچارگی کے باعث دشمنوں کے پنجہ میں گرفتار ہو جائے اور اس میں اتنی قوت نہ ہو کہ اپنے آپ کو چھڑا سکے۔ ایسی حالت میں دوسرے مسلمانوں پر، جو آزاد ہوں اور جنگ کی قوت رکھتے ہوں، یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ اپنے ان مظلوم بھائیوں کو اس ظلم سے نجات دلانے کے لیے جنگ کریں۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوا ہے:
<<وَ مَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللهِ وَ الْمُسْتَضْعَفِيْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الْوِلْدَانِ الَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اَخْرِجْنَا مِنْ هٰذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ اَهْلُهَاۚ وَ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ وَلِيًّا ۚ وَّ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ نَصِيْرًا (النساء: ۷۵)>>
”اور تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ اللہ کی راہ میں ان کمزور مردوں، عورتوں اور بچوں کے لیے جنگ نہیں کرتے جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! ہمیں اس بستی سے نکال جہاں کے لوگ بڑے ظالم ہیں اور ہمارے لیے اپنی طرف سے کسی کو حامی اور اپنی طرف سے کسی کو مددگار بنا۔“
دوسری جگہ وضاحت کے ساتھ اس اعانت کی ضرورت بیان کی ہے اور اس طرح اس کی تاکید فرمائی ہے:
<<اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِيْ سَبِيْلِ اللهِ وَ الَّذِيْنَ اٰوَوْا وَ نَصَرُوْٓا اُولٰٓىِٕكَ بَعْضُهُمْ اَوْلِيَآءُ بَعْضٍ ؕ وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ يُهَاجِرُوْا مَا لَكُمْ مِّنْ وَّلَايَتِهِمْ مِّنْ شَيْءٍ حَتّٰى يُهَاجِرُوْا ۚ وَ اِنِ اسْتَنْصَرُوْكُمْ فِي الدِّيْنِ فَعَلَيْكُمُ النَّصْرُ اِلَّا عَلٰى قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَ بَيْنَهُمْ مِّيْثَاقٌ ؕ وَ اللهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ وَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بَعْضُهُمْ اَوْلِيَآءُ بَعْضٍ ؕ اِلَّا تَفْعَلُوْهُ تَكُنْ فِتْنَةٌ فِي الْاَرْضِ وَ فَسَادٌ كَبِيْرٌ (الانفال: ۷۲-۷۳)>>
”جو لوگ ایمان تو لائے ہیں مگر دارالکفر کو چھوڑ کر دار الاسلام میں نہیں آئے ان کی ولایت کا کوئی تعلق تم سے نہیں جب تک کہ وہ ہجرت نہ کریں۔ البتہ اگر وہ دین کے بارے میں تم سے مدد طلب کریں تو تم پر ان کی مدد کرنا لازم ہے، سوائے اس صورت کے جب کہ وہ کسی ایسی قوم کے خلاف مدد مانگیں جس سے تمھارا معاہدہ ہو۔ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے خوب دیکھتا ہے۔ جو لوگ کافر ہیں وہ ایک دوسرے کے ولی و مددگار ہیں، پس اگر تم (مسلمانوں کی مدد) نہ کرو گے تو زمین میں فتنہ اور بڑا فساد ہوگا۔“
اس آیت میں آزاد مسلمانوں اور غلام مسلمانوں کے تعلقات کو نہایت وضاحت کے ساتھ بیان کر دیا گیا ہے۔ پہلے <<مَا لَكُمْ مِّنْ وَّلَايَتِهِمْ مِّنْ شَيْءٍ>> سے یہ بتایا گیا ہے کہ جو مسلمان دارالکفر میں رہنا قبول کریں یا رہنے پر مجبور ہوں ان سے دارالاسلام کے مسلمانوں کے تمدنی اور سیاسی تعلقات نہیں رہ سکتے۔ یعنی نہ وہ باہم شادی بیاہ کے رشتے قائم کر سکتے ہیں نہ انھیں ایک دوسرے کا ورثہ وترکہ مل سکتا ہے، نہ نئے اور غنیمت سے ان کو کوئی حصہ پہنچ سکتا ہے، نہ صدقات کے مصارف میں وہ داخل ہو سکتے ہیں اور نہ اسلامی حکومت میں کوئی منصب ان کو دیا جا سکتا ہے جب تک کہ وہ دار الکفر سے ہجرت کر کے دار الاسلام کی رعایا نہ بن جائیں۔ لیکن ولایت کے یہ تمام تعلقات منقطع کر دینے کے باوجود ایک تعلق یعنی نصرت و مددگاری کا تعلق پھر بھی منقطع نہیں کیا اور <<اِنِ اسْتَنْصَرُوْكُمْ فِي الدِّيْنِ>> سے صاف طور پر بتلا دیا کہ یہ نصرت کا تعلق دین کے ساتھ قائم ہے۔ جب تک کوئی شخص مسلمان ہے، خواہ وہ دنیا کے کسی کونہ میں ہو، اس سے مسلمانوں کا تعلق نصرت و مددگاری کسی حال میں منقطع نہیں ہو سکتا۔ اگر اس کے دین کو کوئی خطرہ ہو یا اس پر ظلم ہو اور وہ دینی رشتہ کا واسطہ دے کر مدد مانگے تو مسلمانوں پر فرض ہے کہ اس کی مدد کو پہنچیں، بشرطیکہ جس کے خلاف مدد مانگی گئی ہو اس سے مسلمانوں کا معاہدہ نہ ہو، کیوں کہ معاہدہ ہونے کی حالت میں مسلمانوں کے لیے عہد کی پابندی اپنے مسلمان بھائی کی مدد سے زیادہ ضروری ہے اور ان کے لیے جائز نہیں ہے کہ معاہدہ کی مدت ختم ہونے سے پہلے اس کی مدد کریں۔ یہ حکم بیان کرنے کے بعد اس نصرت و اعانت کی ضرورت جتائی ہے اور فرمایا ہے کہ دیکھو یہ کفار اسلام کے مٹانے میں ایک دوسرے کی کیسے مدد کرتے ہیں، اور اپنی آپس کی مخالفتوں اور دشمنیوں کے باوجود مسلمانوں کے مقابلہ میں کس طرح ایک ہو جاتے ہیں۔ پس اگر تم بھی دینی رشتہ کو ملحوظ رکھ کر آپس میں ایک دوسرے کے مددگار نہ بنو تو زمین میں کیسا فتنہ اور فساد عظیم برپا ہو؟ فتنہ کا لفظ، جیسا کہ آگے چل کر ہم بہ تشریح بیان کریں گے، قرآنی اصطلاح میں غلبہ کفر اور پیروان دین حق کے مبتلائے مصیبت و ذلت ہونے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ اور اسی طرح فساد بھی ہدایت پر ضلالت کے غالب ہونے اور نیکی و صلاح کار کے مٹ جانے کے معنی میں بولا جاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی کسی جماعت کے مٹائے جانے یا اس کے راہ حق سے بھٹکا دیے جانے کو فتنہ و فساد سے تعبیر کرتا ہے، اور اس فتنے کا مقابلہ کرنا مسلمانوں پر فرض قرار دیتا ہے۔