الجہاد فی الاسلام
اشاعت: 1930ءسید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب "الجہاد فی الاسلام" ایک ایسی علمی و تحقیقی تصنیف ہے جس نے اسلامی جہاد کے تصور کو اس کے اصل، اخلاقی، قانونی اور تمدنی پہلوؤں کے ساتھ پیش کر کے دنیا کے سامنے ایک واضح تصویر رکھ دی۔ کتاب کی تدوین کا بنیادی محرک 1926ء کے واقعات تھے، جب سوامی شردھانند کے قتل کے بعد ہندوستان میں اسلام کے خلاف ایک منظم بہتان بازی کا آغاز ہوا اور اسلام کو ایک "خونخوار مذہب" قرار دینے کی کوشش کی گئی۔
کتاب سات ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلے چار ابواب اسلامی جہاد کے اصولی تصور کو واضح کرتے ہیں: باب اول اسلامی جہاد کی حقیقت، انسانی جان کے احترام، اور قتل بالحق اور قتل بغیرِ حق کے فرق پر بحث کرتا ہے؛ باب دوم مدافعانہ جنگ اور باب سوم مصلحانہ جنگ (امر بالمعروف و نہی عن المنکر، فتنہ و فساد کا استیصال اور جزیہ کی حقیقت) کو موضوع بناتے ہیں؛ جبکہ باب چہارم اس دعوے کا تفصیلی جائزہ لیتا ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا، اور لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ کی روشنی میں اسے رد کرتا ہے۔
باب پنجم کتاب کا سب سے طویل اور تقابلی حصہ ہے: پہلے زمانۂ جاہلیت میں عرب، روم اور ایران کے وحشیانہ طریقِ جنگ (غنیمت، تفاخر، انتقام، غیر مقاتلین پر تعدی، اسیروں سے بدسلوکی) کی تفصیل دی گئی ہے، پھر دکھایا گیا ہے کہ اسلام نے مقصدِ جنگ اور طریقِ جنگ دونوں کی کس طرح تطہیر کی—لوٹ مار، مثلہ، قتلِ اسیر و سفیر اور بدعہدی کی ممانعت کے ذریعے—اور بنو نضیر، بنو قریظہ، کعب بن اشرف، یہودِ خیبر اور اہلِ نجران جیسے مخصوص واقعات کو بطور مستثنیات الگ سے جانچا گیا ہے۔ باب ششم دنیا کے چار بڑے مذاہب—ہندومت (وید، گیتا، منوسمرتی)، یہودیت، بدھ مت اور مسیحیت—کی جنگ سے متعلق تعلیمات کا تقابلی مطالعہ پیش کرتا ہے، اور آخری باب ہفتم پہلی جنگِ عظیم کے اسباب، جدید بین الاقوامی قانونِ جنگ کی تاریخ اور اس کی عملی کمزوریوں کا تنقیدی جائزہ لے کر غیر مقاتلین، اسیرانِ جنگ اور غیر جانبدار ممالک کے حقوق و فرائض پر اسلامی و مغربی قانون کا موازنہ کرتا ہے۔

مطالعاتی رہنما / Study Guide
محقق کا خلاصہ
"الجہاد فی الاسلام" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی پہلی بڑی تصنیف ہے، جو انہوں نے 1927ء میں، محض چوبیس برس کی عمر میں، تحریر کی۔ یہ کتاب پہلے اخبار "الجمعیت" میں قسط وار شائع ہوئی، بعد ازاں مستقل کتابی صورت میں چھپی۔ یہ مولانا کے بعد کے دور کے مربوط سیاسی نظریے (دیکھیے "اسلامی ریاست") سے تقریباً دو دہائیاں پہلے کی تصنیف ہے اور اس کا اسلوب بھی مختلف ہے: یہ ایک مخصوص تنازعے کے براہِ راست جواب میں لکھی گئی — 1920ء کی دہائی کے نوآبادیاتی ہندوستان میں آریہ سماج اور ہندو احیائی صحافت (خصوصاً تحریکِ شدھی) کے اس الزام کے جواب میں کہ اسلام بذاتِ خود ایک پرتشدد مذہب ہے جو "تلوار کے زور پر پھیلا"۔ مولانا کے اس جواب نے بعد میں جہاد کے موضوع پر بننے والی بیشتر اسلامی معذرت خواہانہ تحریروں کا خاکہ فراہم کیا۔
کتاب کے سات ابواب ایک ہی مسلسل دلیل کی تعمیر کرتے ہیں: (۱) سب سے پہلے یہ واضح کیا گیا ہے کہ اسلامی قانون میں جہاد دراصل کیا ہے — ایک مذہبی/نظریاتی مقصد کے لیے منظم، ریاستی اجازت یافتہ مسلح جدوجہد، نہ کہ بے دریغ تشدد؛ (۲) جہاد بطور مدافعانہ جنگ زیرِ بحث آیا ہے؛ (۳) جہاد بطور مصلحانہ جنگ زیرِ بحث آیا ہے — کمزوروں پر ظلم و جبر کے خلاف اقدام؛ (۴) کتاب کے مرکزی مباحثاتی نکتے سے براہِ راست نمٹا گیا ہے — یہ الزام کہ اسلام "تلوار کے زور پر پھیلا" — یہ دلیل دی گئی ہے کہ ایشیا اور افریقہ میں اسلام کا آبادیاتی پھیلاؤ محض فتوحات سے نہیں سمجھایا جا سکتا؛ (۵) اسلام کے اپنے قوانینِ جنگ و صلح بیان کیے گئے ہیں؛ (۶) دیگر مذاہب میں جنگ کے تصور کا جائزہ لیا گیا ہے تاکہ یہ ثابت کیا جائے کہ اسلام کے احکام موازنتاً زیادہ متوازن ہیں؛ اور (۷) اس کا موازنہ "جدید تہذیب میں جنگ" سے کیا گیا ہے تاکہ یہ ثابت کیا جائے کہ جدید مغرب کا اپنا ریکارڈ اس کے اخلاقی برتری کے دعوے کو کمزور کرتا ہے۔
اہمیت اور تنقیدی مطالعہ۔ بطور مولانا مودودی کی پہلی تصنیف، یہ کتاب اپنی دلیل کے ساتھ ساتھ تاریخی حیثیت سے بھی اہم ہے۔ مولانا مودودی پر تحقیق کرنے والے محققین (نصر، ایڈمز) اسے ایک بنیادی مگر عبوری تصنیف قرار دیتے ہیں — اس کے تقابلی مذاہب سے متعلق دلائل اس دور کی ہندوستانی صحافت میں رائج بین المذاہب مناظرانہ ادب سے تعلق رکھتے ہیں۔ جہاد کو ایک منظم، ریاستی اجازت یافتہ جنگ قرار دینے کا اس کا بنیادی قانونی موقف مولانا کے بعد کے موقف سے ہم آہنگ رہا، اور اکثر جدید مباحث میں کلاسیکی فقہی تصورِ جہاد کو بیسویں صدی کی عسکریت پسند تنظیموں کے تصورِ جہاد سے ممیز کرنے کے لیے حوالہ دیا جاتا ہے۔
مطالعاتی حلقہ کے سوالات
- جہاد بطور منظم جنگ: مولانا مودودی اصرار کرتے ہیں کہ جہاد ریاستی اجازت یافتہ اور منظم ہونا چاہیے، نہ کہ کسی فرد کا اقدام۔ یہ آج کے غیر ریاستی عسکریت پسند گروہوں کے "جہاد" کے استعمال سے کس طرح مختلف ہے؟
- "تلوار کے زور پر پھیلاؤ" کی دلیل: مولانا مودودی دلیل دیتے ہیں کہ ایسے علاقوں میں اسلام کا پھیلاؤ جو کبھی فتح نہیں ہوئے، "تلوار" کے نظریے کی تردید کرتا ہے۔ کیا یہ کافی جواب ہے؟ اور کون سی دیگر وجوہات بھی اہم ہو سکتی ہیں؟
- مدافعانہ بمقابلہ مصلحانہ جنگ: کتاب "مدافعانہ" جہاد کو "مصلحانہ" جہاد سے ممیز کرتی ہے۔ آپ ان کے درمیان لکیر کہاں کھینچیں گے، اور کیا یہ فرق حقیقی تاریخی واقعات میں قائم رہتا ہے؟
- تقابلی مذاہب کی دلیل: کتاب اسلام کے قوانینِ جنگ کا موازنہ دیگر مذاہب سے کرتی ہے۔ اس تقابلی-معذرت خواہانہ طریقہ کار کے کیا خطرات ہیں؟
- جدید تہذیب پر تنقید: مولانا مودودی پہلی جنگ عظیم اور نوآبادیاتی تسخیر کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ کیا "تمہارا فریق زیادہ برا ہے" کی دلیل ایک مضبوط دفاع ہے؟
- تاریخی تناظر: یہ کتاب 1927ء میں ایک مخصوص فرقہ وارانہ تنازعے کے جواب میں لکھی گئی۔ اس تناظر کو آج اس کے دلائل پڑھنے میں کتنا اثرانداز ہونا چاہیے؟
- تسلسل اور تبدیلی: اس کتاب کا موازنہ "اسلامی ریاست" سے کریں۔ مولانا کی فکر میں کیا تبدیل ہوا، اور کیا چیز قائم رہی؟
- جسٹ وار تھیوری سے موازنہ: کتاب کا جائز جنگ کا فریم ورک مغربی سیکولر "جسٹ وار تھیوری" سے کس طرح موازنہ رکھتا ہے؟
فریضہہ دفاع
یہی وجہ ہے کہ قرآن حکیم نے سب معاملات میں تحمل و برداشت کی تعلیم دی ہے مگر ایسے کسی حملے کو برداشت کرنے کی تعلیم نہیں دی جو دین اسلام کو مٹانے اور مسلمانوں پر اسلام کے سوا کوئی دوسرا نظام مسلط کرنے کے لیے کیا جائے۔ اس نے سختی کے ساتھ حکم دیا ہے کہ جو کوئی تمھارے انسانی حقوق چھیننے کی کوشش کرے، تم پر ظلم و ستم ڈھائے، تمھاری جائز ملکیتوں سے تم کو بے دخل کرے، تم سے ایمان و ضمیر کی آزادی سلب کرے، تمھیں اپنے دین کے مطابق زندگی بسر کرنے سے روکے، تمھارے اجتماعی نظام کو درہم برہم کرنا چاہے اور اس وجہ سے تمھارے درپے آزار ہو کہ تم اسلام کے پیرو ہو، تو اس کے مقابلے میں ہرگز کمزوری نہ دکھاؤ اور اپنی پوری طاقت اس کے اس ظلم کو دفع کرنے میں صرف کر دو:
<<وَ قَاتِلُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰهِ الَّذِیۡنَ یُقَاتِلُوۡنَکُمۡ وَ لَا تَعۡتَدُوۡا ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الۡمُعۡتَدِیۡنَ ﴿۱۹۰﴾ وَ اقۡتُلُوۡهُمۡ حَیۡثُ ثَقِفۡتُمُوۡهُمۡ وَ اَخۡرِجُوۡهُمۡ مِّنۡ حَیۡثُ اَخۡرَجُوۡکُمۡ وَ الۡفِتۡنَۃُ اَشَدُّ مِنَ الۡقَتۡلِ ۚ وَ لَا تُقٰتِلُوۡهُمۡ عِنۡدَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ حَتّٰی يُقَاتِلُونَكُمْ فِيهِ ۚ فَإِن قَتَلُوكُمْ فَاقْتُلُوهُمْ ۗ كَذَٰلِكَ جَزَاءُ الْكَافِرِينَ ﴿١٩١﴾ فَإِنِ انتَهَوْا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ﴿١٩٢﴾ وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِلَّهِ ۖ فَإِنِ انتَهَوْا فَلَا عُدْوَانَ إِلَّا عَلَى الظَّالِمِينَ ﴿١٩٣﴾ الشَّهْرُ الْحَرَامُ بِالشَّهْرِ الْحَرَامِ وَالْحُرُمَاتُ قِصَاصٌ ۚ فَمَنِ اعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ مَعَ الْمُتَّقِينَ>> (البقرہ: ۱۹۰ تا ۱۹۳)
”جو لوگ تم سے لڑتے ہیں، ان سے خدا کی راہ میں جنگ کرو، مگر لڑنے میں حد سے تجاوز نہ کرو (یعنی ظلم پر نہ اُتر آؤ) کیوں کہ اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ ان ظالموں کو جہاں پاؤ قتل کرو، اور جہاں سے اُنھوں نے تمھیں نکالا ہے وہاں سے انھیں نکال باہر کرو، کیوں کہ یہ فتنہ قتل سے زیادہ بری چیز ہے۔ پھر جب تک وہ تم سے مسجد حرام میں قتال نہ کریں تم بھی اس کے پاس ان سے قتال نہ کرو۔ لیکن اگر وہ تم سے وہاں جنگ کریں تو تم بھی انھیں مارو، اور کافروں کی یہی سزا ہے۔ پھر اگر وہ باز آ جائیں تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ تم ان سے برابر جنگ کیے جاؤ یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین صرف اللہ کے لیے ہو جائے۔ پس اگر وہ (فتنہ برپا کرنے اور دین کے معاملہ میں زیادتی کرنے سے) باز آ جائیں تو جان لو کہ سزا ظالموں کے سوا اور کسی کے لیے نہیں ہے۔ ماہِ حرام کا عوض ماہِ حرام ہے اور تمام آداب اور حرمتوں کے بدلے ہیں۔ [یعنی مہینے اور مقام کی جو حرمتیں قائم کی گئی ہیں ان کا لحاظ اسی صورت میں کیا جائے گا جب کہ دشمن بھی ان کا لحاظ کرے۔] پس جو کوئی تم پر زیادتی کرے اُس پر تم بھی اتنی ہی زیادتی کرو۔ مگر اللہ سے ڈرتے رہو اور جان لو کہ اللہ صرف متقیوں کے ساتھ ہے (جو حد سے تجاوز نہیں کرتے)۔“
یہ حفاظت دین اور مدافعتِ دیارِ اسلام کا حکم ایسا سخت ہے کہ جب کوئی قوت اسلام کو مٹانے اور اسلامی نظام کو فنا کرنے کے لیے حملہ آور ہو تو تمام مسلمانوں پر فرضِ عین ہو جاتا ہے کہ سب کام چھوڑ کر اس کے مقابلہ پر نکل آئیں اور جب تک اسلام اور اسلامی نظام کو اس خطرہ سے محفوظ نہ کر لیں اس وقت تک چین نہ لیں۔ چنانچہ فقہ کی تمام کتابوں میں یہ حکم موجود ہے کہ جب دشمن دار الاسلام پر حملہ کرے تو ہر مسلمان پر فرداً فرداً دفاع کا فرض ایسی قطعیت کے ساتھ عائد ہو جاتا ہے جیسے نماز اور روزہ۔ فقہ کی مشہور کتاب بدائع الصنائع میں لکھا ہے:
<<اما اذا عم النفير بان هجم العدو على بلد فهو فرض عين يفترض على كل واحد ممن احاد المسلمين ممن هو قادر عليه فاذا عم النفير لا يتحقق القيام به الا بالكل فبقى فرضا على الكل عينا بمنزلة الصوم والصلوة فيخرج العبد بغير اذن مولاه والمرأة بغير اذن زوجها لان منافع العبد والمرأة في حق العبادات المفروضة عينا مستثناة عن ملك المولى والزوج شرعا كما في الصوم والصلوة وكذا يباح للولد ان يخرج بغير اذن والديه لان حق الوالدين لا يظهر في فروض الاعيان كالصوم والصلوة>> (جلد 7، ص98)
”مگر جب اعلان عام ہو جائے کہ دشمن نے ایک اسلامی ملک پر حملہ کیا ہے تو پھر جہاد فرض عین ہو جاتا ہے اور ہر مسلمان پر جو جہاد کی قدرت رکھتا ہو فرداً فرداً اس کی فرضیت عائد ہو جاتی ہے ..... نفیر عام [نفیر عام اسلامی فقہ کا اصطلاحی لفظ ہے۔ اس کے معنیٰ ہیں ”عام پکار“، یعنی جب کہ اسلامی حکومت کسی علاقے کے یا تمام ملک کے لوگوں کو مدافعت کے لیے کھڑے ہو جانے کا حکم دے۔] ہونے کے بعد تو ادائے فرض کا حق بغیر اس کے پورا ہوتا ہی نہیں کہ سب کے سب جہاد کرنے کے لیے کھڑے ہو جائیں۔ اس وقت وہ سب مسلمانوں پر اسی طرح فرض عین ہو جاتا ہے جیسے روزہ اور نماز، پس غلام کو بغیر آقا کی اجازت کے اور عورت کو بغیر اپنے شوہر کی اجازت کے نکلنا چاہیے، کیوں کہ اُن عبادات میں جو فرض عین ہیں غلام اور بیوی کی خدمات آقا اور شوہر کی ملک سے مستثنیٰ ہیں، جیسے نماز اور روزہ۔ اسی طرح بیٹے کے لیے مباح ہو جاتا ہے کہ وہ بغیر والدین کی اجازت کے نکل کھڑا ہو، کیوں کہ نماز جیسے فرض اعیان میں والدین کا حق اثر انداز نہیں ہو سکتا۔“
<<بان ھجم العدو علی بلد>> کے الفاظ صاف طور پر بتا رہے ہیں کہ یہ فریضت عینیہ صرف اسی صورت پر موقوف نہیں ہے کہ خاص مذہبی جذبہ سے متاثر ہو کر کوئی قوم اسلام کو مٹا دینے پر آمادہ ہو جائے، بلکہ حکومت اسلامیہ اور دیار اسلام پر ہر غاصبانہ حملہ کے مقابلہ میں مدافعت اسی قطعیت کے ساتھ فرض ہے۔ اسلام میں مسلمانوں کی قومی زندگی کے لیے حریت و استقلال سب سے زیادہ ضروری چیز ہے۔ اپنی آزادی کو کھو دینے کے بعد صرف یہی نہیں کہ مسلمانوں میں انسانیت کی اس اعلیٰ خدمت کو ادا کرنے کی قوت باقی نہیں رہتی جسے ادا کرنے کے لیے وہ پیدا کیے گئے ہیں بلکہ وہ اپنے شرعی نظام کو قائم رکھنے کے قابل بھی نہیں رہتے جس پر ان کی مذہبی زندگی کا دارو مدار ہے۔ اس لیے اسلامی حکومت اور اسلامی قومیت پر حملہ کرنا دراصل عین اسلام پر حملہ کرنا ہے، اور خواہ کسی دشمن کا مقصد اسلام کا مٹانا نہ ہو بلکہ محض مسلمانوں کی سیاسی قوت ہی کو مٹانا ہو تب بھی اس سے جنگ کرنا مسلمانوں کے لیے ویسا ہی فرض ہو گا جیسا اسلام کو مٹانے والے سے جنگ کرنا ہے۔ اسی وجہ سے صرف اس شہر یا اس ملک ہی کے مسلمانوں پر دفاع کا فرض عائد نہیں کیا گیا جس پر حملہ کیا گیا ہو بلکہ اگر وہ اپنی مدافعت سے عاجز ہوں تو روئے زمین کے تمام مسلمانوں پر لازم کر دیا گیا ہے کہ وہ اس ملک یا شہر کے مسلمانوں کو غلبہ اعداء سے بچائیں، جیسا کہ صاحب بدائع کے اس قول سے ظاہر ہوتا ہے کہ <<یفترض على كل واحد من آحاد المسلمين اور لا يتحقق القيام به الا بالكل۔>>
صاحب نہایہ نے ذخیرہ سے اس اجمال کی تفصیل اس طرح نقل کی ہے:
<<ان الجهاد اذا جاء النفير انما يصير فرض عين على من يقرب من العدو فاما من ورائهم ببعد من العدو فهو فرض كفاية عليهم حتى يسعهم تركه اذا لم يحتج اليهم فان احتيج اليهم بان عجز من كان يقرب من العدو عن المقاومة مع العدو ولم يعجزوا عنها لكنهم تكاسلوا ولم يجاهدوا فانه يفترض على من يليهم فرض عين كالصلوة والصوم لا يسعهم تركه ثم وثم الى ان يفترض على جميع اهل الاسلام شرقا وغربا على هذا التدريج نظيره الصلوة على الميت ان كان الذى يبعد من الميت يعلم ان اهل محلته يضيعون حقوقه او يعجزون عنه كان عليه ان يقوم بحقوقه كذاهنا>> (شامی ، ج۳، ص: ۲۴۰)
”واقعہ یہ ہے کہ جب نفیر ہو تو جہاد فرض عین صرف ان لوگوں پر ہوتا ہے جو دشمن سے قریب ہوں۔ رہے وہ لوگ جو دشمن سے دور ہوں تو ان پر فرض کفایہ رہتا ہے۔ یعنی اگر ان کی مدد کی ضرورت نہ ہو تو وہ شرکت جہاد سے باز بھی رہ سکتے ہیں۔ لیکن اگر ان کی مدد کی ضرورت پڑ جائے، خواہ اس وجہ سے کہ جو لوگ دشمن سے قریب تھے وہ مقابلہ سے عاجز ہو گئے یا اس وجہ سے کہ وہ عاجز تو نہ ہوئے مگر انھوں نے سستی کی اور پوری کوشش سے مقابلہ نہ کیا، تو اس صورت میں جہاد آس پاس کے لوگوں پر ویسا ہی فرض عین ہو جاتا ہے جیسے نماز اور روزہ کہ اسے چھوڑنا کسی طرح جائز نہیں ہو سکتا۔ پھر اُن لوگوں پر جو اُن سے قریب ہوں، پھر ان پر جو ان سے قریب ہوں، یہاں تک کہ از شرق تا غرب تمام اہل اسلام پر اسی تدریج کے ساتھ فرض ہوتا چلا جاتا ہے۔ اس کی نظیر نمازِ جنازہ ہے کہ جو شخص میت سے دور ہو اگر اسے معلوم ہو کہ اس کے اہل محلہ اس کے حقوق ادا نہیں کرتے یا ادا کرنے سے عاجز ہیں تو اس کے لیے ضروری ہو جاتا ہے کہ خود اس کے حقوق ادا کرے (یعنی اس کی تجہیز و تکفین کرے) یہی صورت یہاں بھی ہے۔“
اسلام میں دفاع کے اس اہم فرض کی جو حیثیت ہے اس کا اندازہ صرف اسی سے نہیں ہوتا کہ اسے ایک عبادت اور فرضِ عین کا درجہ دیا گیا ہے اور اس کی فضیلت نماز روزہ سے بھی زیادہ بتائی گئی ہے۔ بلکہ سورہ توبہ کی اُن آیات سے جو غزوہ تبوک کے بارہ میں نازل ہوئی ہیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ جب کوئی قوت اسلام اور مسلمانوں کے استقلالِ قومی کو مٹانے کے لیے حملہ آور ہو اور نفیر عام ہو جائے تو اس وقت یہ ایمان کے صدق و کذب کی کسوٹی بن جاتا ہے۔ چنانچہ ان لوگوں کے متعلق جنھوں نے رومیوں کی زبردست طاقت و سلطنت کے مقابلہ پر حفاظتِ اسلام کے لیے جنگ میں جانے سے جی چرایا تھا اور جن کی ایمانی کمزوری کو دیکھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں گھر بیٹھے رہنے کی اجازت دے دی تھی، یہ الفاظ فرمائے گئے ہیں:
<<عَفَا اللَّهُ عَنْكَ ۚ لِمَ أَذِنْتَ لَهُمْ حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَكَ الَّذِيْنَ صَدَقُوْا وَ تَعْلَمَ الْكٰذِبِيْنَ لَا يَسْتَأْذِنُكَ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْيَوْمِ الْاٰخِرِ اَنْ يُّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُsِهِمْ ۭ وَاللّٰهُ عَلِيْمٌۢ بِالْمُتَّقِيْنَ اِنَّمَا يَسْتَأْذِنُكَ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَارْتَابَتْ قُلُوْبُهُمْ فَهُمْ فِيْ رَيْبِهِمْ يَتَرَدَّدُوْنَ >> (التوبہ: ۴۳ تا ۴۵)
”اے محمدؐ! خدا تمھیں معاف کرے، تم نے انھیں کیوں گھر بیٹھے رہنے کی اجازت دے دی؟ (تمھیں چاہیے تھا کہ اجازت نہ دیتے) تاکہ تم پر وہ لوگ بھی ظاہر ہو جاتے جو سچے ہیں اور ان کا حال بھی معلوم ہو جاتا جو جھوٹے ہیں۔ وہ لوگ جو اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور جنھیں یومِ قیامت کے آنے کا یقین ہے تم سے ہرگز یہ رخصت نہ مانگیں گے کہ اپنے مال اور اپنی جان سے جہاد نہ کریں، اللہ ان متقیوں سے خوب واقف ہے۔ یہ رخصت تو تم سے وہی لوگ طلب کریں گے جو نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور نہ یومِ قیامت کے آنے کا یقین۔ ان کے دلوں میں شک پڑ گیا ہے، اس لیے وہ اپنے شک ہی میں ڈگمگا ہورہے ہیں“۔