ماہنامہ ترجمان القرآن، جولائی 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (جولائی 2026) کا شمارہ ہے، جس میں آزاد کشمیر کی سیاسی و انتظامی صورتحال اور اس پر جماعت اسلامی پاکستان کے موقف پر تفصیلی مضمون شامل ہے۔
شمارے میں حضرت خدیجہؓ کی سیرت کے منفرد پہلو، پاکستان میں دستور سازی کا تاریخی پس منظر، اور تیونس کی تحریک النہضہ کی صورتحال پر مضامین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ صحابہ کرامؓ کے قرآن سے تعلق اور اخلاقی تعلیمات پر ایک منتخب سلسلہ بھی شامل ہے، اور آخر میں مولانا مودودیؒ کے دور پر ایک مختصر تحریر بھی درج ہے۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
قرآنی رنگ
صحابہ کرامؓ نے قرآن کے رنگ میں اس طرح خود کو رنگ لیا تھا، کہ انھوں نے کوئی عمل کیا تو اس کی تعریف خود اللہ نے مختلف مواقع پر فرمائی۔
بخاری و مسلم کی روایت ہے کہ ایک آدمی اللہ کے رسولؐ کے پاس آیا اور عرض کیا: یارسولؐ اللہ! سخت ضرورت مند ہوں مجھے کچھ کھلوائیے۔ آپؐ نے اپنے گھروں کی طرف آدمی بھیجا لیکن تمام گھروں سے جواب ملا کہ کھانے کی کوئی چیز موجود نہیں۔ اب آپؐ نے صحابہ سے کہا: ہے کوئی جو آج اس مسافر کی مہمان نوازی کرے؟
ایک انصاری نے کہا کہ حضوؐر میں اس کی مہمان نوازی کروں گا۔ وہ مہان کو گھر لے گئے اور بیوی کو کہا کہ یہ اللہ کے رسولؐ کے مہمان ہیں۔ آج ہمیں چاہے کھانے کو کچھ نہ ملے لیکن یہ بھوکے نہ رہیں۔ بیوی نے کہا کہ آج گھر میں صرف اتنا کھانا ہے کہ بچے سیر ہو سکیں۔ انصاری نے کہا کہ بچوں کو تو بہلا پھسلا کر سُلا دو اور ہم دونوں بھی فاقے سے رات گزار لیں گے، اور کھانے کے وقت چراغ بجھا دینا تاکہ مہمان کو پتہ نہ چلے کہ ہم کھا رہے ہیں یا نہیں، تاکہ وہ سیر ہو کر کھا لے۔ چنانچہ کھانا رکھتے ہی بیوی نے چراغ کو درست کرنے کے بہانے اسے بجھا دیا۔ مہمان نے کھانا کھایا اور سارے خاندان نے رات بھوک سے گزاری۔
صبح جب یہ انصاری مہمان کے ساتھ خدمتِ نبویؐ میں حاضر ہوئے تو آپؐ نے فرمایا: اس شخص اور اس کی بیوی کے رات کے عمل سے اللہ خوش ہوا اور ہنس دیا۔‘‘ انھی کے بارے میں سورۂ حشر کی آیت: <<يُؤْثِرُوْنَ عَلٰٓي اَنْفُسِہِمْ وَلَوْ كَانَ بِہِمْ خَصَاصَۃٌ۰ۭۣ (الحشر ۵۹:۹)>> ’’وہ دوسروں کو خود پر ترجیح دیتے ہیں، چاہے خود انھیں کتنی ہی سخت حاجت ہو‘‘، نازل ہوئی۔(بخاری، کتاب التفسیر)
حضرت صہیب رومیؓ مکے سے ہجرت کرنے لگے تو کفارِ مکہ کو اس کی خبر ہوگئی۔ تعاقب کرکے انھوں نے انھیں گھیر لیا اور کہا: اے صہیبؓ! تم مکے میں مفلس آئے تھے، تم نے یہاں دولت کمائی۔ اب تم اس دولت کو یثرب لے جا کر عیش کرو، یہ ہمیں گوارا نہیں۔ صہیب رومیؓ نے تیر کمان سیدھے کرکے دھمکی دی کہ اگر تم مال و دولت چاہو تو وہ تمھیں دے دیتا ہوں بشرطیکہ میرا راستہ چھوڑ دو اور اگر مجھے گرفتار کرنا چاہتے تو یہ ممکن نہیں۔ تم جانتے ہو کہ میں کتنا اچھا تیرانداز ہوں۔ میں تیروں سے تمھارا بڑا جانی نقصان کروں گا۔ تیر ختم ہو گئے تو آخر دم تک تم سے تلوار سے لڑوں گا۔ جانی نقصان کے خوف سے کافروں نے صہیب رومیؓ کی پیش کش قبول کر لی۔ وہ متاعِ ایمان بچانے کی خاطر متاع دنیا کافروں کو سونپ کر خالی ہاتھ مدینے چل دیئے۔
قبا کی بستی میں جب حضورؐ سےملاقات ہوئی تو رسولؐ اللہ نے انھیں مبارکبا دی کہ تم نے بہت ہی نفع بخش سودا کیا ہے اور پھر یہ آیت پڑھی: <<وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّشْرِيْ نَفْسَہُ ابْـتِغَاۗءَ مَرْضَاتِ اللہِ۰ۭ>> لوگوں میں سے کوئی ایسا بھی جو اللہ کی رضا جوئی کے لیے اپنی جان کا بھی سودا کر دیتا ہے‘‘ (البقرہ۲:۲۰۷)۔(مستدرک حاکم، ۳ /۳۹۸ ، ابن ہشام، ص۱۰، طبقات ابن سعد، ۳/ ۱۶۲)