ماہنامہ ترجمان القرآن، جولائی 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (جولائی 2026) کا شمارہ ہے، جس میں آزاد کشمیر کی سیاسی و انتظامی صورتحال اور اس پر جماعت اسلامی پاکستان کے موقف پر تفصیلی مضمون شامل ہے۔
شمارے میں حضرت خدیجہؓ کی سیرت کے منفرد پہلو، پاکستان میں دستور سازی کا تاریخی پس منظر، اور تیونس کی تحریک النہضہ کی صورتحال پر مضامین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ صحابہ کرامؓ کے قرآن سے تعلق اور اخلاقی تعلیمات پر ایک منتخب سلسلہ بھی شامل ہے، اور آخر میں مولانا مودودیؒ کے دور پر ایک مختصر تحریر بھی درج ہے۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
فہم و فراست
حضرت خدیجہؓ کی قوتِ مشاہدہ اور فہم و فراست کی تصدیق اس واقعہ سے ہوتی ہے جو پہلی وحی کے نزول کے موقع پر پیش آیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر غارِ حرا میں پہلی مرتبہ وحی کا نزول ہوا تو کلام اللہ کی عظمت و ہیبت اس قدر زیادہ تھی کہ آپؐ پر لرزہ طاری ہوگیا۔ آپؐ گھر تشریف لائے تو گھبراہٹ اور پریشانی کے آثار نمایاں تھے، جسم پر کپکپی طاری تھی۔ رسولؐ اللہ نے سارا واقعہ حضرت خدیجہؓ کو بتایا اور اس اندیشہ کا اظہار بھی کیا کہ آپؐ کو اپنی جان کا خطرہ ہے۔(۴)
جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے گھرآکر اپنی سخت پریشانی کااظہار کیا اور ہلاکت کا اندیشہ تک ظاہر فرمایا تو یہ سب کچھ سن کر حضرت خدیجہؓ پر کسی قسم کی پریشانی یا گھبراہٹ کے آثار نمایاں نہیں ہوئے، بلکہ وہ بہت پُرسکون اور مطمئن رہیں۔ حالانکہ جب شوہر اور بیوی کے درمیان محبت و اُلفت کا گہرا رشتہ قائم ہو اور شوہر باہر سے آکر کسی سخت پریشانی کا اظہار کرے تو بیوی شوہر کی بہ نسبت زیادہ پریشان ہوجاتی ہے۔ یہاں اس کے برعکس مکمل سکون و اطمینان کی کیفیت طاری ہے۔ جب انھوں نے یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنا تو انھوں نے نہایت سکون کے ساتھ وہ تاریخی الفاظ کہے جو خدیجۃ الکبریٰؓ جیسی عظیم المرتبت خاتون ہی کہہ سکتی تھیں:
<<کَلَّا! وَاللہِ لَا یُخْزِیْکَ اللہُ اَبَدًا اِنَّکَ لَتَصِلُ الرَّحِـمَ ، وَتَحْمِلُ الْکَلَّ وَتَکْسِبُ المَعْدُوْمَ ، وَتَقْرِی الضَّیْفَ وَتُعِیْنُ عَلٰی نَوَائِبِ الْحَقِّ (ابن کثیر، السیرۃ النبویۃ، ۹۱)>> ہرگز نہیں! خدا کی قسم! اللہ تعالیٰ آپؐ کو کبھی رُسوا نہیں کرے گا، اس لیے کہ آپؐ ہرحالت میں صلہ رحمی کرتے ہیں۔ ناداروں کا بوجھ برداشت کرتے ہیں، محروم لوگوں کو خود کما کر کھلاتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق کے معاملہ میں مصائب برداشت کرنے والوں کی مدد کرتے ہیں۔
ان کلمات کی ترکیب اور الفاظ کو غور سے دیکھیے کہ حضرت خدیجہؓ کس قدر اعتماد اور یقین کے ساتھ اپنی مصمم رائے کا اظہار کر رہی ہیں۔ اپنی بات پر زور دینے اور مخاطب کو یقین دلانے کے لیے قسم کھائی ہے۔ پھر پہلے ہی جملہ کے آخر میں ابدا کا لفظ استعمال کیا ہے، یعنی صرف اسی موقع پر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ آپؐ کو آئندہ بھی کبھی رُسوا نہیں کرے گا۔
اگلے جملے میں جس میں آپؐ کی صلہ رحمی کی عادت کا ذکر ہے، اس جملہ کا آغاز بھی اِنَّ اور لام تاکید کے ساتھ ہو رہا ہے، یعنی آپ ہر صورت اور ہرحالت میں یقینی طور پر صلہ رحمی کرتے ہیں۔ رشتہ داروں میں باہمی اُلفت و محبت اور ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی و تعاون کا جذبہ قائم رکھنے کے لیے مخلصانہ صلہ رحمی بہت ضروری ہے۔ صلہ رحمی کا ہرعمل صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہوتاہے، اس لیے باہمی مقابلہ کا انداز نہیں ہوتا۔
حضرت خدیجہؓ کے اس مختصر اور جامع کلام میں حقوق العباد کا تذکرہ ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جس معاشرے میں حقوق العباد کی ادائیگی کا خیال رکھا جاتا ہے وہ معاشرہ ذلّت و رُسوائی کا شکار نہیں ہوتا۔ معاشرہ میں امن و سکون اور ترقی و خوش حالی کا راز اس اصول پر موقوف ہے کہ وہاں پر لوگ حقوق العباد کی ادائیگی اپنا فرض اور عبادت سمجھ کر ادا کرتے ہوں۔(ابن کثیر، السیرۃ النبویۃ، ص ۹۱)
حضرت خدیجہؓ نے انھی عادات و اخلاق کا تذکرہ کیا ہے جنھیں ایک سلیم الفطرت انسان اپنا سکے۔ انھوں نے کسی خارق عادت چیز کا، کسی معجزہ اور کرامت کا ذکر نہیں کیا جو نبوت کا خاصہ ہیں اور عام انسانوں کے بس سے باہر ہیں۔ (علی محمد الصلابی، السیرۃ النبویۃ،ص ۸۹-۹۰)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سارا واقعہ سن کر حضرت خدیجہؓ نے اندازہ کرلیا تھا کہ آپؐ ہی اللہ کے وہ آخری رسولؐ ہیں جن کا تذکرہ قدیم آسمانی کتب میں موجود ہے، اور جن کا ذکر نسطورا راہب نے حضرت خدیجہؓ کے خادم میسرہ سے اس وقت کیا تھا جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تجارتی سفر پر شام گیا تھا۔(ابن کثیر، السیرۃ النبویۃ، ص۴۰-۴۱)
اسی وجہ سے حضرت خدیجہؓ پُرسکون اور مطمئن رہیں۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اطمینان دلانے کے بعد حضرت خدیجہؓ آپؐ کو اپنے چچازاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں اور سارا واقعہ انھیں بتایا۔ ورقہ نے آپؐ کو تسلی دی کہ غار میں آپؐ کے پاس آنے والا وہی فرشتہ ہے جو آپؐ سے پہلے انبیا علیہم السلام تک اللہ تعالیٰ کا پیغا م لے کر آتا رہا ہے۔ (ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، ۱/۲۵۲، ابن کثیر، السیرۃ النبویۃ، ۹۱)
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نبوت کا اعلان فرمایا اور اسلام کی دعوت دی تو حضرت خدیجہؓ نے بغیر کسی تامل اور بلاکسی جھجک کے فوراً اسلام قبول کرلیا اور رسولؐ اللہ کے ساتھ نماز پڑھنا اور عبادت کے احکام سیکھنا بھی شروع کر دیے۔