ماہنامہ ترجمان القرآن، جولائی 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (جولائی 2026) کا شمارہ ہے، جس میں آزاد کشمیر کی سیاسی و انتظامی صورتحال اور اس پر جماعت اسلامی پاکستان کے موقف پر تفصیلی مضمون شامل ہے۔
شمارے میں حضرت خدیجہؓ کی سیرت کے منفرد پہلو، پاکستان میں دستور سازی کا تاریخی پس منظر، اور تیونس کی تحریک النہضہ کی صورتحال پر مضامین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ صحابہ کرامؓ کے قرآن سے تعلق اور اخلاقی تعلیمات پر ایک منتخب سلسلہ بھی شامل ہے، اور آخر میں مولانا مودودیؒ کے دور پر ایک مختصر تحریر بھی درج ہے۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
اتمامِ نعمت کا مفہوم
اسی آیت میں <<وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي>> کے الفاظ میں اتمامِ نعمت کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ اتمامِ نعمت کا مطلب ہے نعمت کو تمام یاپورا کرنا۔ جن قرآنی آیات و احادیث میں اتمامِ نعمت کا ذکر آیا ہے،ان پرتفکر سے اس ترکیب’اتمامِ نعمت‘ کے یہ مفہوم نکلتے ہیں:
نعمتوں کا جزئیات کے ساتھ اتمام: انسانی زندگی کے ہر پہلو ، ہر گوشے میں نعمت کا جزئیات کے ساتھ اتمام کے بارے میں فرمایا گیا: <<وَاللہُ جَعَلَ لَكُمْ مِّـمَّاخَلَقَ ظِلٰلًا وَّجَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْجِبَالِ اَكْنَانًا وَّجَعَلَ لَكُمْ سَرَابِيْلَ تَـقِيْكُمُ الْحَـرَّ وَسَرَابِيْلَ تَقِيْكُمْ بَاْسَكُمْ۰ۭ كَذٰلِكَ يُتِمُّ نِعْمَتَہٗ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْلِمُوْنَ۸۱ (النحل۱۶:۸۱)>> ’ ’اس نے اپنی پیدا کی ہوئی بہت سی چیزوں سے تمھارے لیے سائے کا انتظام کیا، پہاڑوں میں تمھارے لیے پناہ گاہیں بنائیں، اور تمھیں ایسی پوشاکیں بخشیں جو تمھیں گرمی سے بچاتی ہیں اور کچھ دوسری پوشاکیں جو آپس کی جنگ میں تمھاری حفاظت کرتی ہیں۔ اس طرح وہ تم پر اپنی نعمتوں کی تکمیل کرتا ہے شاید کہ تم فرماں بردار بنو‘‘۔
یہ اور اس سے پچھلی آیت میں مختلف پناہ گاہوں اور پوشاکوں کا ذکر ہے۔ تغذیہ کےذکر کے بعد ان چیزوں کے اہتمام کو، اتمامِ نعمت کہنے کا مطلب ہے کہ انسانی زندگی کے ہرگوشے میں ہرپہلو سے ، جزئیات کے ساتھ نعمتیں دی گئی ہیں۔
نعمت ہدایت کی تکمیل: ساری نعمتوں کی تکمیل، نعمتِ ہدایت سے ہونا کے بارے میں فرمایا: <<يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا قُمْتُمْ اِلَى الصَّلٰوۃِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْہَكُمْ وَاَيْدِيَكُمْ اِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَاَرْجُلَكُمْ اِلَى الْكَعْبَيْنِ۰ۭ وَاِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّہَّرُوْا۰ۭ وَاِنْ كُنْتُمْ مَّرْضٰٓى اَوْ عَلٰي سَفَرٍ اَوْ جَاۗءَ اَحَدٌ مِّنْكُمْ مِّنَ الْغَاۗىِٕطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَاۗءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَاۗءً فَتَيَمَّمُوْا صَعِيْدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْہِكُمْ وَاَيْدِيْكُمْ مِّنْہُ۰ۭ مَا يُرِيْدُ اللہُ لِيَجْعَلَ عَلَيْكُمْ مِّنْ حَرَجٍ وَّلٰكِنْ يُّرِيْدُ لِيُطَہِّرَكُمْ وَلِيُتِمَّ نِعْمَتَہٗ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ۶ (المائدہ۵:۶)>> ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب تم نماز کے لیے اٹھو تو چاہیے کہ اپنے منہ اور ہاتھ کہنیوں تک دھو لو، سروں پر ہاتھ پھیر لو اور پاؤں ٹخنوں تک دھو لیا کرو۔ اگر جنابت کی حالت میں ہو تو نہا کر پاک ہو جاؤ ۔اگر بیمار ہو یا سفر کی حالت میں ہو یا تم میں سے کوئی شخص رفع حاجت کر کے آئے یا تم نے عورتوں کو ہاتھ لگایا ہو، اور پانی نہ ملے، تو پاک مٹی سے کام لو، بس اُس پر ہاتھ مار کر اپنے منہ اور ہاتھوں پر پھیر لیا کرو ۔اللہ تم پر زندگی کو تنگ نہیں کرنا چاہتا، مگر وہ چاہتا ہے کہ تمھیں پاک کرے اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دے، شاید کہ تم شکر گزار بنو‘‘۔ طہارت جسمانی وروحانی پہلو رکھتی ہے۔ نفس و جسم کی طہارت کی ساری ہدایات، اتمام ِنعمت ہیں۔
نعمت ہدایت کا بھی درجۂ تکمیل: سورۃ المائدۃ کی آیت ۳کا یہی مفہوم نکلتا ہے کہ نعمت ہدایت کی تکمیل کردی گئی ہے۔ ہدایت کے ساتھ ’تمام ہونے‘ کا ذکر قرآن میں اس طرح بھی ہے: <<وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّعَدْلًا۰ۭ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِہٖ۰ۚ وَہُوَالسَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ۱۱۵ (الانعام۶:۱۱۵)>> ’’تمھارے رب کی بات سچائی اور انصاف کے اعتبار سے کامل ہے، کوئی اس کے فرامین کو تبدیل کرنے والا نہیں ہے اور وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے‘‘۔
’ربّ کے کلمات کے تمام ہونے‘ کے ساتھ صدق اورعدل کا ذکر ہے۔وہ ربّ سچا ہے اور اس کے کلمات بھی سچے ہیں۔ وہ رب حکم دینے اور منع کرنے میں عدل والا ہے، اور اس کے کلمات میں بھی عدل ہے اور کوئی تضاد نہیں ہے۔اور صدق اور عدل کلمات کامل ہیں۔
ایک دوسرے مقام پر فرمایا: <<ثُمَّ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ تَمَامًا عَلَى الَّذِي أَحْسَنَ وَتَفْصِيلًا لِّكُلِّ شَيْءٍ وَهُدًى وَرَحْمَةً لَّعَلَّهُم بِلِقَاءِ رَبِّهِمْ يُؤْمِنُونَ (الانعام۶:۱۵۴)>> ’’ پھر ہم نے موسٰی کو کتاب عطا کی تھی جو بھلائی کی روش اختیار کرنے والے انسان پر نعمت کی تکمیل اور ہرضروری چیز کی تفصیل اور سراسر ہدایت اور رحمت تھی (اور اس لیے بنی اسرائیل کو دی گئی تھی کہ) شاید لوگ اپنے رب کی ملاقات پر ایمان لائیں‘‘۔اس آیت میں ’کتاب کے ساتھ تمام‘ کا لفظ ہے، جو کہ پچھلی الہامی کتب کے، اپنے دور کے لحاظ سے مکمل ہدایت ہونے کا بیان ہے۔
قوموں کی امامت و پیشوائی:اتمامِ نعمت میں قوموں کی امامت اور پیشوائی بھی شامل ہے: <<وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْہَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ۰ۭ وَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْھَكُمْ شَطْرَہٗ۰ۙ لِئَلَّا يَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَيْكُمْ حُجَّــۃٌ۰ۤۙ اِلَّا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مِنْہُمْ۰ۤ فَلَا تَخْشَوْھُمْ وَاخْشَوْنِيْ۰ۤ وَلِاُتِمَّ نِعْمَتِىْ عَلَيْكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَہْتَدُوْنَ۱۵۰ (البقرہ۲:۱۵۰)>> ’’اور جہاں سے بھی تمھارا گزر ہو، اپنا رُخ مسجد حرام کی طرف پھیرا کرو، اور جہاں بھی تم ہو، اُسی کی طرف منہ کر کے نما ز پڑھو تاکہ لوگوں کو تمھارے خلاف کوئی حجت نہ ملے، ہاں جو ظالم ہیں، اُن کی زبان کسی حال میں بند نہ ہوگی تو اُن سے تم نہ ڈرو، بلکہ مجھ سے ڈرو اور اس لیے کہ میں تم پر اپنی نعمت پوری کر دوں اور اس توقع پر کہ میرے اس حکم کی پیروی سے تم اسی طرح فلاح کا راستہ پاؤ گے‘‘۔
ہدایت یافتہ ہونے کے بعد، نعمت کا اتمام یہ ہے کہ حق کی دعوت اور شہادت و اقامت کے لیے، اس گروہ کو قوموں کا امام و پیشوا بنایا جائے۔یہاں اتمامِ نعمت کا ذکر ہے اور امتِ مسلمہ کو یہ منصب ملنے کی علامت تحویلِ قبلہ کا حکم دینا ہے۔
دُنیا میں غلبہ و عروج ، ہدایت میں اضافہ اور ثبات: سورئہ فتح میں فتح و نصرت کی خوش خبری سناتے ہوئے فرمایا گیا: <<لِّيَغْفِرَ لَكَ اللہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْۢبِكَ وَمَا تَاَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَہٗ عَلَيْكَ وَيَہْدِيَكَ صِرَاطًا مُّسْتَـقِيْمًا۲ۙ (الفتح۴۸:۲)>> ’’ تاکہ اللہ تمھاری اگلی پچھلی ہر کوتاہی سے درگزر فرمائے اور تم پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دے اور تمھیں سیدھا راستہ دکھائے‘‘۔
سورۃ الفتح کی اس آیت سے پہلے فتح، اور اس کے بعد والی آیت میں اللہ کی نصرت کی خوش خبری سنائی گئی ہے۔ اس سورۃ کے پسِ منظر میں صلح حدیبیہ کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ اتمامِ نعمت میں یہ اُمور شامل ہیں:
مسلم گروہ کی خوف اور مزاحمت سے آزادی، اہلِ باطل پر دباؤ اور ان کا کڑھنا، دوسروں پر رعب اور ان کا متاثر ہوجانا۔
دعوتِ اسلام کا عام ہوجانا اور لوگوں کا جوق در جوق دین میں داخلہ۔(سورۃ النصر)
کفر وفسق کے غلبے سےنجات ، اللہ کا کلمہ بلند ہوجانا اوراہلِ حق کو عزت ملنا، امن اور خوش حالی ہونا۔(سورۃ القریش)
مسلم سیاسی و تمدنی زندگی کی تنظیم۔
ہدایت کے راستے پر چلتے ہوئےاگلی پچھلی لغزشوں سے مغفرت اور ہدایت میں اضافہ، مزاحمت کے خاتمے کی وجہ سے سیدھے راستے پر ثبات میں آسانی۔ کثیر تعداد میں لوگوں کے دین میں داخلے کا اجر۔
قرآنی آیات میں ’اللہ کے کلمات اور نور کے تمام ہونے‘ کا ذکر ہے، جو ان معنوں میں ہے:
<< وَاَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِيْنَ كَانُوْا يُسْتَضْعَفُوْنَ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَمَغَارِبَہَا الَّتِيْ بٰرَكْنَا فِيْہَا۰ۭ وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنٰى عَلٰي بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ۰ۥۙ بِمَا صَبَرُوْا۰ۭ وَدَمَّرْنَا مَا كَانَ يَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَقَوْمُہٗ وَمَا كَانُوْا يَعْرِشُوْنَ۱۳۷ (اعراف ۷:۱۳۷)>> اور اُن کی جگہ ہم نے اُن لوگوں کو جو کمزور بنا کر رکھے گئے تھے، اُس سرزمین کے مشرق و مغرب کاوارث بنا دیا جسے ہم نے برکتوں سے مالامال کیا تھا۔ اس طرح بنی اسرائیل کے حق میں تیرے ربّ کا وعدۂ خیر پورا ہوا (کلمات تمام ہوئے)کیونکہ اُنھوں نے صبر سے کام لیا تھا اور فرعون اور اُ س کی قوم کا وہ سب کچھ برباد کر دیا گیا جو وہ بناتے اور چڑھاتے تھے۔
<<يُرِيْدُوْنَ اَنْ يُّطْفِــــُٔـوْا نُوْرَ اللہِ بِاَفْوَاہِہِمْ وَيَاْبَى اللہُ اِلَّآ اَنْ يُّتِمَّ نُوْرَہٗ وَلَوْ كَرِہَ الْكٰفِرُوْنَ۳۲ (التوبہ ۹:۳۲)>> یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ کی روشنی کو اپنی پھونکوں سے بجھا دیں مگر اللہ اپنی روشنی کو مکمل (اتمام) کیے بغیر ماننے والا نہیں ہے خواہ کافروں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔
<<يُرِيْدُوْنَ لِيُطْفِــــُٔـوْا نُوْرَ اللہِ بِاَفْوَاہِہِمْ وَاللہُ مُتِمُّ نُوْرِہٖ وَلَوْ كَرِہَ الْكٰفِرُوْنَ۸ (الصف۶۱:۸)>> یہ لوگ اپنے منہ کی پھونکوں سے اللہ کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں، اور اللہ کا فیصلہ یہ ہے کہ وہ اپنے نور کو پورا (اتمام) پھیلا کر رہے گا خواہ کافروں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔
علامہ عینیؒ نے اپنی شرح میں اکملت اور اتممت کے درمیان فرق کی وضاحت کی ہے کہ ’اکمال‘ کا تعلق دین کے قواعد و ضوابط کی تکمیل سے ہے،جب کہ ’اتمامِ نعمت‘ سے مراد مسلمانوں کو دشمنوں پر غلبہ دینا اور مکہ کی فتح جیسی نعمتوں کا پورا ہونا ہے۔ امام راغب اصفہانی رحمۃ اللہ علیہ نے اس طرح بیان فرمایا ہے کہ ’’کسی چیز کا ’اکمال‘ اور ’تکمیل‘ اس کو کہتے ہیں کہ اس چیز سے جو غرض اور مقصود تھا وہ پورا ہوگیا۔ اور لفظ ’اتمام‘ کے معنی یہ ہیں کہ اب دوسری چیز کی ضرورت اور حاجت نہیں رہی۔ اسی لئے ’اکمالِ دین‘ کا حاصل یہ ہوا کہ قانون الٰہی اور احکام دین کے اس دنیا میں بھیجنے کا جو مقصد تھا وہ آج پورا کردیا گیا۔ اور ’اتمامِ نعمت‘ کا مطلب یہ ہوا کہ اب مسلمان کسی کے محتاج نہیں۔ ان کو خود حق تعالیٰ جل شانہٗ نے غلبہ، قوت اور اقتدار عطا فرما دیا جس کے ذریعے وہ اس دینِ حق کے احکام کو جاری اور نافذ کرسکیں‘‘۔(معارف القرآن)