مرکزی مواد پر جائیں
ماہنامہ ترجمان القرآن کی طرف واپس

ماہنامہ ترجمان القرآن، جولائی 2026

ماہنامہ شمارہ

مجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (جولائی 2026) کا شمارہ ہے، جس میں آزاد کشمیر کی سیاسی و انتظامی صورتحال اور اس پر جماعت اسلامی پاکستان کے موقف پر تفصیلی مضمون شامل ہے۔

شمارے میں حضرت خدیجہؓ کی سیرت کے منفرد پہلو، پاکستان میں دستور سازی کا تاریخی پس منظر، اور تیونس کی تحریک النہضہ کی صورتحال پر مضامین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ صحابہ کرامؓ کے قرآن سے تعلق اور اخلاقی تعلیمات پر ایک منتخب سلسلہ بھی شامل ہے، اور آخر میں مولانا مودودیؒ کے دور پر ایک مختصر تحریر بھی درج ہے۔

یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

حُریت کانفرنس کا رِدعمل

مقبوضہ جموں و کشمیر کی جماعت اسلامی جو آزاد کشمیر جماعت اسلامی سے بالکل جداگانہ نظام، قیادت اور پروگرام رکھتی ہے، اس کی تقریباً ساری قیادت گذشتہ آٹھ، نو برسوں سے جیلوں میں قیدہے اور اس پر ظالمانہ پابندی عائد ہے۔ تحریکِ آزادیٔ کشمیر میں جماعت اسلامی سے وابستگان نے بہت سی قربانیاں دی ہیں اور آج بھی سخت آزمائش کا سامنا کر رہے ہیں۔ تحریکِ آزادیٔ کشمیر کے لیے لاکھوں کشمیری تہہِ تیغ کیے جا چکے ہیں۔ان کے لیے مسئلۂ کشمیر کی نظریاتی اساس پر کسی قسم کا حملہ قابل قبول نہیں ہوسکتا۔

ممتاز کشمیری راہنما غلام محمد صفی، کنونیر کل جماعتی حریت کانفرنس نے آزادکشمیر کے حالیہ واقعات پر تبصرہ کرتے ہوئے بجاطور پر کہا: ’’ہم جموں وکشمیر میں جس حقِ خود ارادیت کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، وہ جدوجہد صرف مقبوضہ کشمیر کے لیے نہیں ہے بلکہ وہ مقبوضہ کشمیر، آزاد جموں وکشمیر، گلگت، بلتستان اور اس پوری ریاست کے لیے ہے، جس ریاست کا ایک حصہ آزاد جموں وکشمیر بھی ہے۔ اس لیے مقبوضہ جموں وکشمیر میں طویل جدوجہد کرنے اور انڈین فورسز اور حکومت کے ظالمانہ اقدامات کو برداشت کرنے اور بربادی و تباہی کا سامنا کرنے والے لوگ جب یہ دیکھتے اور سنتے ہیں کہ ہم تو ایک بڑے حق حقِ خودارادیت کی بات کرتے ہیں، مگر دوسری طرف بدقسمتی سے ایک مخصوص طبقہ اس پوری ریاست کے صرف ایک حصے میں کچھ حقوق کی بات کرتا ہے تو انھیں یہ بات بہت عجیب لگتی ہے۔ وہ مسئلہ جو سب کا مشترکہ اور سب سے بڑا مسئلہ ہے، اور جس پر برس ہا برس سے ایک جدوجہد جاری ہے، اور جس کی بنیاد پر انڈیا، جموں وکشمیر کے عوام پر ظلم ڈھاتا رہا ہے اور آج بھی ظلم ڈھا رہا ہے، اسے نظرانداز کرکے یہ بات کی جا رہی ہے۔

’’ ہم یہ سمجھتے ہیں آزاد کشمیر کے افراد کے جائز روز مرہ کے مسائل اور حقوق بلاشبہ اپنی جگہ اہم ہیں، مگر یاد رہنا چاہیے کہ حقِ خود ارادیت اپنی جگہ مرکزیت کا حامل مسئلہ ہے۔ لیکن جب اس بڑے مسئلے کو عالمی سطح پر پیش کرنے اور اُٹھانے کی جدوجہد میں دوست اور دشمن کی تمیز ختم ہوجائے تو پھر بات بگڑ جاتی ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے لوگ ہوں یا آزاد کشمیر کے بھائی، ہم سب کی یہی کوشش رہی ہے کہ ہم دُنیا بھر کی ہرپارلیمنٹ، ادارے، تھنک ٹینک، ابلاغ عامہ کے پلیٹ فارم اور دانش وروں کے مراکز میں جاکر انڈیا کے مظالم کو اُجاگر کریں اور کشمیریوں کی مظلومیت کو دنیا کے سامنے بیان کریں۔ مگرآج آزاد کشمیر میں چند لوگوں نے عجلت پسندی اور چند مقامی مسائل کی بنیاد پر پاکستان کو، انڈیا کے ہم پلہ کہنا شروع کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں انڈیا کے بدترین اور انسانیت سوز مظالم، یوں لگتا ہے کہ پس منظر میں چلے گئے ہیں۔

’’اس پس منظر میں ہم حریت کانفرنس کی طرف سے یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے آزاد کشمیر کے بھائیوں کا یہ مسئلہ تشدد اور تصادم اور مبالغہ آمیزی سے حل نہیں ہو سکتا۔ یہ مسئلہ حل ہو گا تو بات چیت کے ذریعے سے ہوگا۔ حکومت آزاد کشمیر، حکومت پاکستان اور ایکشن کمیٹی، کو مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ پُرامن طریقہ اختیار کرنا ہوگا۔ پیش کردہ مطالبات میں سے بہت سے پہلے ہی مان لیے گئے ہیں، اور جو مطالبات قانونی اور آئینی ہیں، ان کو بہرحال آئینی اداروں ہی میں بیٹھ کر حل کرنا ہوگا۔ اس طرح جگ ہنسائی کا کھیل ختم کر کے، حقِ خودارادیت کی جدوجہد پر متحدومتحرک ہونا ہوگا‘‘۔