مرکزی مواد پر جائیں
ماہنامہ ترجمان القرآن کی طرف واپس

ماہنامہ ترجمان القرآن، جولائی 2026

ماہنامہ شمارہ

مجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (جولائی 2026) کا شمارہ ہے، جس میں آزاد کشمیر کی سیاسی و انتظامی صورتحال اور اس پر جماعت اسلامی پاکستان کے موقف پر تفصیلی مضمون شامل ہے۔

شمارے میں حضرت خدیجہؓ کی سیرت کے منفرد پہلو، پاکستان میں دستور سازی کا تاریخی پس منظر، اور تیونس کی تحریک النہضہ کی صورتحال پر مضامین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ صحابہ کرامؓ کے قرآن سے تعلق اور اخلاقی تعلیمات پر ایک منتخب سلسلہ بھی شامل ہے، اور آخر میں مولانا مودودیؒ کے دور پر ایک مختصر تحریر بھی درج ہے۔

یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

مالی بے ضابطگیوں کی چند مثالیں

قائداعظم محمد علی جناحؒ نے قیام پاکستان سے تین روز قبل ۱۱؍اگست۱۹۴۷ء کو پہلی دستور ساز اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے جس چیز پر سب سے زیادہ زور دیا تھا، وہ مالی خیانت، معاشی بدنظمی، اقرباپروری اور علاقہ پرستی تھی۔ افسوس کہ ہمارے اہل سیاست و دانش نے اس سارے سبق کو بھلا کر مذکورہ تقریر کا صرف ایک جملہ یاد کر لیا اور یہ سبق دیا کہ قائداعظم نے اس اجلاس میں بس ایک ہی بات فرمائی تھی۔ اس طرح باقی تمام ہدایات کو نظر انداز کرنے کے لیے اس رویے یا پردے کے پیچھے مالی بدنظمی اور بے ضابطگی بہت سے اصحابِ اختیار نے اپنا حق سمجھ لیا۔

پاکستان کے آڈیٹر جنرل کی آڈٹ رپورٹ بہ سلسلہ سال ۲۰۲۵ء-۲۰۲۶ء سے چند حوالہ جات کا اگر ایک مختصر جائزہ لیں، تو قومی اخبارات کی رپورٹوں کے مطابق معلوم ہوتا ہے کہ وفاقی وزارتوں، ڈویژنوں اور خودمختار اداروں میں اربوں روپے کی مالی بے ضابطگی، کمزور نگرانی، عدم وصولی یا غیر مجاز اخراجات دیکھنے میں آئے ہیں۔

پائے دار ترقیاتی اہداف کے حصول کے پروگرام (SAP)، جسے ارکانِ پارلیمنٹ کی ترقیاتی اسکیمیں کہا جاتا ہے، کے تحت وفاقی اور صوبائی ترقیاتی منصوبوں کے لیےمختص۷۵؍ ارب روپے کے استعمال پر رپورٹ نے بڑا سنجیدہ سوال اٹھایا ہے۔ آڈٹ کے مطابق، کابینہ ڈویژن، منصوبوں پر عمل درآمد کرنے والے اداروں سے لازمی ماہانہ پیش رفت رپورٹیں اور تکمیل کے سرٹیفکیٹ حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ اسکیم کے لحاظ سے اور علاقے کے لحاظ سے اعداد و شمار کی عدم دستیابی کے باعث اس بات کی تصدیق نہ کی جاسکی کہ فنڈز کی تقسیم اور استعمال متوازن علاقائی ترقی کے مقصد کے مطابق تھا یا نہیں۔ متعدد آڈٹ اعتراضات اٹھانے اور یاد دہانیوں کے باوجود کابینہ ڈویژن نے کوئی جواب نہیں دیا۔ آڈیٹروں نے سفارش کی ہے کہ ارکان پارلیمنٹ کو دی جانے والی ترقیاتی اسکیموں کے فنڈز کی تقسیم اور استعمال کی نگرانی کے لیے ایک شفاف مرکزی ڈیجیٹل مانیٹرنگ نظام قائم کیا جائے۔

رپورٹ میں اقتصادی امور ڈویژن کے خلاف بڑے مالی اعتراضات سامنے آ رہے ہیں۔ جن کے مطابق، ۳۰؍ جون۲۰۲۵ء تک بیرونی قرضوں کے اصل زر اور ایکسچینج رِسک واجبات کی مد میں۱ء۹۲۷؍ کھرب روپے مختلف ریاستی اداروں سے وصول نہ کیے جا سکے، اور اس پر ظلم یہ کہ انتظامیہ نے آڈٹ اعتراضات کا کوئی جواب نہیں دیا۔