ماہنامہ ترجمان القرآن، جولائی 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (جولائی 2026) کا شمارہ ہے، جس میں آزاد کشمیر کی سیاسی و انتظامی صورتحال اور اس پر جماعت اسلامی پاکستان کے موقف پر تفصیلی مضمون شامل ہے۔
شمارے میں حضرت خدیجہؓ کی سیرت کے منفرد پہلو، پاکستان میں دستور سازی کا تاریخی پس منظر، اور تیونس کی تحریک النہضہ کی صورتحال پر مضامین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ صحابہ کرامؓ کے قرآن سے تعلق اور اخلاقی تعلیمات پر ایک منتخب سلسلہ بھی شامل ہے، اور آخر میں مولانا مودودیؒ کے دور پر ایک مختصر تحریر بھی درج ہے۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
خواتین کی تعلیم و تربیت کی درس گاہ
درس گاہ ’دارِ خدیجۃ الکبریٰ‘ میں اچھی خاصی تعداد میں لوگ تعلیم و تعلّم میں مصروف تھے۔ ان میں اپنے بچوں کے علاوہ زیرکفالت موالی، خدام، یتیم بچّے وغیرہ شامل ہیں۔ رسولؐ اللہ کی آیا اُمِ ایمن جنھیں رسولؐ اللہ نے آزاد کر دیا، بعد میں رسولؐ اللہ نے ان کا نکاح زیدبن حارثہ سے کیا۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں ایک بیٹا دیا جس کا نام اسامہ بن زید تھا۔ رسول اللہ کی تربیت ہی کی وجہ سے زید اس قابل ہوئے تھے کہ انھیں رومیوں کے خلاف جنگ ِموتہ میں ایک لشکر کا امیر مقرر کیا گیا۔ اسی جنگ میں انھوں نے شہادت پائی۔ اُمِ ایمن نے اپنے دونوں بیٹوں ایمن اور اسامہ کو غزوئہ حُنین میں شرکت کے لیے تیار کیا۔ دونوں بہت جواں مردی اور بہادری سے لڑے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کرتے ہوئے ان کا بڑا بیٹا ایمن دادِ شجاعت دیتا ہوا شہید ہوا۔(بخاری، الجامع الصحیح، کتاب المغازی، باب غزوئہ موتہ من ارض الشام، رقم: ۴۲۶۱، ۴۲۶۳، اُمِ ایمن کے بارے میں دیکھیے: ابن الاثیر، اسدالغابۃ، ۵:۴۲۴، ابن حجر، الاصابۃ، ۸:۱۶۹)
اُمِ ایمن نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلانِ نبوت کے بعد جلد ہی اسلام قبول کرلیا تھا مگر ان کے شوہر عبیدبن زید نے اسلام قبول نہیں کیا۔ ان کے اسلام سے انکار کے بعد اُمِ ایمن اور عبید میں جدائی ہوگئی۔ رسولؐ اللہ نے ان کا نکاح زید بن حارثہ سے کر دیا۔ اس طرح اُمِ ایمن کو رسولؐ اللہ اور حضرت خدیجہؓ سے سیکھنے اور دین کو سمجھنے کا خوب موقع ملا۔ خود زید بن حارثہؓ کا شمار جلیل القدر صحابہ کرامؓ میں ہوتا ہے۔
حضرت خدیجہؓ کے گھر بعض دیگر خواتین کی بھی آمدورفت رہتی تھی۔ وہ کچھ وقت رسول ؐاللہ کے گھر میں گزارتیں۔ دورانِ قیام انھیں بہت کچھ سیکھنے اور سمجھنے کو ملتا۔ ان خواتین میں حضرت حلیمہ سعدیہؓ بھی تھیں جو آپؐ کی رضاعی والدہ تھیں اور اکثر آیا کرتی تھیں۔ رسولؐ اللہ بہت عزّت و احترام کے ساتھ انھیں خوش آمدید کہتے۔ حضرت خدیجہؓ انھیں تحفے تحائف پیش کرتیں۔ اسی تعظیم و تکریم کے ساتھ انھیں بہت کچھ دین و اخلاق کے بارے میں جاننے اور سیکھنے کا موقع ملتا۔ اسی طرح رسولؐ اللہ کی رضاعی والدہ حضرت ثویبہؓ بھی آیا کرتی تھیں۔انھوں نے بھی بچپن میں نبی کریم ؐکو دودھ پلایا تھا۔ یہ بھی رسولؐ اللہ اور حضرت خدیجہؓ کے پاس کچھ وقت گزارتیں۔ رسولؐ اللہ کی آزاد کردہ باندی حضرت سلمہؓ بھی بہت شوق و محبت کے جذبے کے ساتھ تشریف لاتیں۔ رسولؐ اللہ نے ان کی شادی اپنے آزاد کردہ غلام ابورافع سے کردی تھی۔ سلمہ ایک تجربہ کار دایہ تھیں۔ انھوں نے حضرت خدیجہؓ کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کے موقع پر بطور دایہ فرائض انجام دیئے۔ (محمد یٰسین مظہر صدیقی، نبی اکرمؐ اور خواتین: ایک سماجی مطالعہ، نشریات، ۲۰۱۱ء، ص۱۲۳)