مرکزی مواد پر جائیں
ماہنامہ ترجمان القرآن کی طرف واپس

ماہنامہ ترجمان القرآن، جولائی 2026

ماہنامہ شمارہ

مجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (جولائی 2026) کا شمارہ ہے، جس میں آزاد کشمیر کی سیاسی و انتظامی صورتحال اور اس پر جماعت اسلامی پاکستان کے موقف پر تفصیلی مضمون شامل ہے۔

شمارے میں حضرت خدیجہؓ کی سیرت کے منفرد پہلو، پاکستان میں دستور سازی کا تاریخی پس منظر، اور تیونس کی تحریک النہضہ کی صورتحال پر مضامین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ صحابہ کرامؓ کے قرآن سے تعلق اور اخلاقی تعلیمات پر ایک منتخب سلسلہ بھی شامل ہے، اور آخر میں مولانا مودودیؒ کے دور پر ایک مختصر تحریر بھی درج ہے۔

یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

خدیجۃ الکبریٰؓ کی سیرت کے منفرد پہلو

اللہ تعالیٰ جب دُنیا میں انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کے لیے اپنے بعض برگزیدہ بندوں کو منتخب فرماتا ہے تو انھیں نبوت کے عظیم الشان منصب پر مامور فرماتا ہے اور انھیں بچپن ہی سے غیرمعمولی ذہانت و فراست، غوروفکر اور استدلال و استنباط کی صلاحیت عطا کرتا ہے۔ وہ پیش آمدہ واقعات اور اپنے مشاہدات و تجربات سے نتائج اخذ کرنے کی قابلیت رکھتے ہیں۔ اسی لیے وہ دین کا پیغام محکم دلیل و بُرہان کے ساتھ لوگوں تک پہنچاتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو چالیس برس کی عمر میں منصب ِنبوت پر فائز فرمایا اور قیامت تک آنے والے انسانوں کی رہنمائی اور ہدایت کے لیے کتابِ ہدایت دے کر یہ ذمہ داری عائد فرمائی کہ آپؐ کتاب اللہ کے علوم و احکام کی تعلیم لوگوں کو ناصحانہ (۱) انداز میں دیں، اور قرآن حکیم کی تعلیمات و احکام کو اپنی زندگی میں اپنا کر لوگوں کے سامنے عملی نمونہ بھی پیش کریں۔ (۲) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے تمام فرائض منصبی کو بہت احسن طریقے سے انجام دیا۔

قرآن حکیم کو تو اللہ تعالیٰ نے مصاحف میں، اہل ایمان کے سینوں میں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عملی زندگی کے ساتھ بے شمار صحابہ کرامؓ کی عملی زندگیوں میں محفوظ فرما دیا۔ کتاب اللہ کی حفاظت کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے اُمت مسلمہ کے علما کو بھی توفیق عطا فرمائی۔ انھوں نے بہت محنت اور جانفشانی سے اور مکمل جرح و تعدیل کے بعد پوری احتیاط کے ساتھ ذخیرۂ احادیث کو بھی جمع کر دیا۔ اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور آپؐ کا اسوئہ حسنہ بھی آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ ہوگیا۔ قرآن حکیم اور سنت ِرسولؐ اس اُمت کا سب سے بڑا سرمایہ ہیں۔ جب تک اُمت مسلمہ دین کے ان بنیادی ماخذ کو مضبوطی سے تھامے رہے گی ، اور اپنی عملی زندگی میں ان پر عمل پیرا رہے گی وہ بھٹکنے اور انحرافِ دین سے محفوظ رہے گی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منصب ِنبوت پر فائز ہونے کے بعد دعوتِ دین کا کام شروع کیا، تو جواب میں تین طرح کے لوگ سامنے آئے۔ کچھ تو سلیم الفطرت لوگ تھے جو حق کی طلب اور جستجو رکھتے تھے۔ انھوں نے آپؐ کی دعوت پر لبیک کہا اور پورے جذبے اور لگن کے ساتھ آپؐ کے مشن میں شریک ہوگئے۔ کچھ ایسے لوگ تھے جو تذبذب کا شکار رہے۔ وہ دیکھ رہے تھے کہ آپؐ کی دعوت کے کیا نتائج نمودار ہوئے ہیں ۔ تیسرا گروہ وہ تھا جس نے کھل کر مخالفت کی اور پوری طرح دشمنی پر اُتر آیا۔

منصب ِنبوت پر کسی انسان کا فائز ہونا اور انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کے لیے اس کا مامور ہونا اللہ تعالیٰ کا انسانیت پر بہت بڑا احسان ہے۔ یہ واحد احسان ہے جس کا اظہار اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں کیا ہے:

<<لَقَدْ مَنَّ اللہُ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ بَعَثَ فِيْھِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِھِمْ يَتْلُوْا عَلَيْھِمْ اٰيٰتِہٖ وَيُزَكِّيْھِمْ وَيُعَلِّمُھُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَۃَ۝۰ۚ وَاِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ۝۱۶۴ (اٰل عمرٰن ۳:۱۶۴)>> اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان پر بڑا احسان فرمایا کہ ان ہی میں سے ایک رسول مبعوث کیا جو انھیں اللہ تعالیٰ کی آیات پڑھ کر سناتا ہے، ان کے دلوں کا تزکیہ کرتا ہے اور انھیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے، حالانکہ اس سے پہلے یہی لوگ صریح گمراہیوں میں پڑے ہوئے تھے۔

اس آیت ِمبارکہ سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت دُنیائے انسانیت کے لیے اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے احسان کا اظہار فرمایا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت انسان کے لیے بہت بڑا اعزاز ہے جس کی انسانوں کو قدر کرنا چاہیے۔

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نبوت کے منصب پر فائز ہوئے تو پہلا فریضہ یہ قرار پایا کہ آپؐ لوگوں کو ہرقسم کے شرک اور بُت پرستی سے روکیں اور لوگوں کو خالص اللہ تعالیٰ کی توحید کی تعلیم دیں۔ عبادت کی مستحق صرف ایک ذات ہے۔ انسان صرف اس کے سامنے سجدہ ریز ہوسکتا ہے، یہی عبدیت کا تقاضا ہے۔

سرزمین عرب کے لوگ بڑی تعداد میں نہ صرف بُت پرستی میں مبتلا تھے بلکہ جاہلانہ توہم پرستی اور مشرکانہ رسوم و رواج کا بھی شکار تھے۔ انھوں نے رسول ؐاللہ کی دعوتِ توحید کی شدت کے ساتھ مخالفت شروع کر دی، لیکن رسولؐ اللہ نے ان کی تمام تر مخالفت بلکہ مزاحمت کے باوجود دعوتِ دین کا فریضہ پوری استقامت، تحمل اور صبر کے ساتھ جاری رکھا۔

انبیا علیہم السلام کی دعوت و تعلیم کا انداز ناصحانہ ہوتا ہے۔ وہ علم و حکمت کی بات تہذیب و اخلاق کے دائرے میں رہتے ہوئے دلیل و ثبوت کے ساتھ پیغامِ الٰہی کو انسانوں تک پہنچاتے ہیں۔

رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا حیرت انگیز پہلو یہ ہے کہ آپؐ کے منصب ِرسالت پر فائز ہونے سے پہلے کی زندگی بھی انسانوں کے لیے اسوئہ کامل کی حیثیت رکھتی ہے۔ بچپن کا زمانہ اگر نہ بھی شمار کیا جائے تو بھی آپؐ نوعمری اور جوانی کے زمانہ سے معلم اخلاق کی حیثیت رکھتے ہیں۔ آپؐ کی یہ حیثیت سب کے نزدیک مسلّم رہی ہے۔ آپؐ کے خلق عظیم کو اپنوں نے تسلیم کیا، اغیار نے بھی مانا، دوست و دشمن اور خاندان کے لوگ بھی آپؐ کے اخلاقِ کریمہ کے مداح تھے اور بدترین دشمن بھی آپؐ کے اعلیٰ کردار کو تسلیم کرتے تھے۔ اعلانِ نبوت کے بعد جب قریش مکہ کے سردار کھل کر دشمنی پر اُتر آئے ، یہاں تک کہ آپؐ کو قتل کرنے کے ارادے سے گھر کا گھیرائو کرلیا، لیکن اس وقت بھی انھیں یقین تھا کہ حالات جو بھی ہوں محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کی صداقت و دیانت میں ذرہ برابر کمی نہیں آسکتی۔ اس یقین کے پیش نظر ان کی امانتیں رسولؐ اللہ کے پاس محفوظ تھیں ، اور آپؐ نے بھی قتل کے ارادے سے آنے والوں کی امانتوں کی ادائیگی کا پورا اہتمام کیا ہوا تھا۔ آپؐ کے انھی اخلاقِ حسنہ کی شہادت قرآن مجید نے دی ہے: <<وَاِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيْمٍ۝۴ (القلم ۶۸:۴)>> ’’یقینا آپؐ اخلاق کے بلند ترین مقام پر فائز ہیں‘‘۔

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم جوانی کی عمر میں پہنچے تو آپؐ کو سلسلۂ معاش کی تلاش ہوئی۔ اس زمانہ میں مکہ مکرمہ میں کسب ِمعاش کا اہم اور باعزّت ذریعہ تجار ت تھا۔ قریش مکہ کے اکثر بڑے بڑے سردار پیشۂ تجارت سے وابستہ تھے، نہ صرف مرد بلکہ بعض خواتین بھی تجارت میں شہرت کی حامل تھیں۔ ان خواتین میں حضرت خدیجہؓ بنت خویلد اسدی سب سے زیادہ نمایاں تھیں۔ ان کے والد بھی بڑے تاجر تھے اور ان کے پہلے شوہر بھی تاجر تھے۔ اسی لیے بیوہ ہونے کے بعد انھوں نے تجارت ہی کو ذریعۂ معاش بنایا۔ حضرت خدیجہؓ نے بہت سے تجارت پیشہ لوگوں کو اپنے مالِ تجارت میں نفع کی بنیاد پر شریک کیا ہوا تھا جو ان کا مال لے کر مختلف ممالک میں تجارت کے لیے جایا کرتے تھے۔

حضرت خدیجہؓ اپنی تجارت کو وسعت دینا چاہتی تھیں۔ اس لیے انھیں اعلیٰ اخلاق و کردار کے لوگوں کی تلاش رہتی تھی، خاص طور پر ایسے افراد کی جو صادق و امین ہوں اور عہد کی پاسداری کرتے ہوں، تاکہ ان کے ذریعےاپنا مالِ تجارت مختلف ممالک کو برآمد کرسکیں۔

حضرت محمد ؐبن عبداللہ کو اپنے چچا ابوطالب کے ساتھ تجارتی سفر کرنے اور تجارتی اصول سیکھنے کا موقع مل چکا تھا۔ اس لیے حضرت خدیجہؓ نے انھیں اپنا مالِ تجارت دے کر شام بھیجنے کی تجویز کی جو حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے قبول کرلی۔

تجارتی سفر اور کاروباری معاملات کی وجہ سے حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو بہت سے تاجروں، تجارتی منڈیوں میں کام کرنے والوں اور مختلف علاقوں کے لوگوں سے ملنے اور معاملات کرنے کا موقع ملا۔ اگرچہ یہ تجارتی اور کاروباری رابطے تھے، لیکن ان رابطوں کے ذریعے لوگوں کو یہ موقع ضرور ملا کہ وہ کاروبار اور تجارتی معاملات میں ایسے کردار کا مشاہدہ کریں جو صداقت، امانت داری اور عہد کی پاسداری کا کامل نمونہ ہو۔ اس طرح حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت سے پہلے ہی عام لوگوں اور خاص طور پر تاجروں کے لیے اعلیٰ اخلاق کا نمونہ پیش فرمایا۔