مرکزی مواد پر جائیں
ماہنامہ ترجمان القرآن کی طرف واپس

ماہنامہ ترجمان القرآن، جولائی 2026

ماہنامہ شمارہ

مجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (جولائی 2026) کا شمارہ ہے، جس میں آزاد کشمیر کی سیاسی و انتظامی صورتحال اور اس پر جماعت اسلامی پاکستان کے موقف پر تفصیلی مضمون شامل ہے۔

شمارے میں حضرت خدیجہؓ کی سیرت کے منفرد پہلو، پاکستان میں دستور سازی کا تاریخی پس منظر، اور تیونس کی تحریک النہضہ کی صورتحال پر مضامین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ صحابہ کرامؓ کے قرآن سے تعلق اور اخلاقی تعلیمات پر ایک منتخب سلسلہ بھی شامل ہے، اور آخر میں مولانا مودودیؒ کے دور پر ایک مختصر تحریر بھی درج ہے۔

یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

ترکِ شراب نوشی

لذت پرستی بالخصوص نشہ آوری کی لت سے جان چھڑانا بڑی قوت ارادی سے ہی ممکن ہے۔ شراب نوشی عرب کی گھٹی میں پڑی ہوئی تھی، لیکن اللہ تعالیٰ نے جب سورۂ مائدہ کی آیت ۹۰-۹۱ میں شراب سے اجتناب کا حکم دیا اور اس کی حرمت کی علّت بتاتے ہوئے ان سے سوال کیا: <<فَہَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَہُوْنَ>> (پس کیا اب تم اس سے باز آجائو گے؟)

حضرت عمرؓ نے <<فَہَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَہُوْنَ>> کے الفاظ سنے تو بے اختیار پکار اٹھے: انتھینا انتھینا ’’ہم باز آ گئے، ہم باز آ گئے‘‘۔(مسنداحمد،سنن ابی داؤد، ترمذی)

اس حکم پر کس قدر فوری عمل ہوا، حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ ابوطلحہ انصاریؓ کے گھر پر میں ابوعبیدہؓ بن جراح، ابیؓ بن کعب، سہیلؓ بن بیضاء اور دیگر صحابہ کی ایک جماعت کو شراپ پلا رہا تھا۔ لذتِ شراب سے سب لطف اندوز ہو رہے تھے۔ قریب تھا کہ نشے کا پارا چڑھ جائے۔ اتنے میں کسی صحابی نے آکر خبر دی کہ تمھیں علم نہیں کہ شراب حرام ہو گئی ہے؟ یہ سنتے ہی ابو طلحہؓ نے کہا: انسؓ بس کرو اور جو باقی بچی ہے، اسے بہا دو۔ اللہ کی قسم! اس کے بعد ایک قطرہ بھی ان میں سے کسی کے حلق میں نہیں گیا۔ میں نے دیکھا کہ مدینہ کے گلی کوچوں میں شراب بہہ رہی ہے۔ (مسنداحمد، بخاری و مسلم،کتاب الاشربہ و کتاب التفسیر)

سورۂ حشر کی آیت ۹: <<وَمَنْ يُّوْقَ شُحَّ نَفْسِہٖ فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۝۹ۚ >> (جو بھی اپنے نفس کی حرص سے بچ جائیں تو وہی لوگ کامیاب ہیں) کی تفسیر میں امام ابن کثیرؓ نے ابن جریر کے حوالے سے ایک واقعہ بیان کیا ہے کہ حضرت ابوالہیاج اسدیؒ فرماتے ہیں کہ بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے میں نے دیکھا کہ ایک صاحب صرف یہی دُعا بار بار پڑھ رہے ہیں: <<اَللّٰہُمّ قِنِی شُحّ نَفِسْی>> (اے اللہ! مجھے میرے نفس کی حرص سے بچا لے)۔ آخر مجھ سے نہ رہا گیا۔ میں نے انھیں کہا کہ آپ صرف یہی دعا کیوں مانگ رہے ہیں؟ انھوں نے کہا کہ جب اس سے بچائو ہو گیا تو پھر نہ زنا کاری ہوسکے گی، نہ چوری اور نہ کوئی اور برا کام۔ اب جو میں نے دیکھا تو وہ حضرت عبدالرحمٰنؓ بن عوف تھے۔