ماہنامہ ترجمان القرآن، جولائی 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (جولائی 2026) کا شمارہ ہے، جس میں آزاد کشمیر کی سیاسی و انتظامی صورتحال اور اس پر جماعت اسلامی پاکستان کے موقف پر تفصیلی مضمون شامل ہے۔
شمارے میں حضرت خدیجہؓ کی سیرت کے منفرد پہلو، پاکستان میں دستور سازی کا تاریخی پس منظر، اور تیونس کی تحریک النہضہ کی صورتحال پر مضامین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ صحابہ کرامؓ کے قرآن سے تعلق اور اخلاقی تعلیمات پر ایک منتخب سلسلہ بھی شامل ہے، اور آخر میں مولانا مودودیؒ کے دور پر ایک مختصر تحریر بھی درج ہے۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
خاندانی پس منظر
حضرت خدیجہؓ کا نسبی تعلق قبیلہ قریش ہی سے ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلق بھی اسی قبیلہ سے ہے۔ آپؐ قریش کی شاخ بنوہاشم سے ہیں اور حضرت خدیجہؓ کا تعلق بنواسد سے ہے۔ البتہ دونوں کا سلسلۂ نسب رسولؐ اللہ کے اجداد میں قُصی پر جا کر مل جاتا ہے۔(حکیم محمد ادریس فاروقی، سیرت خدیجۃ الکبریٰؓ، لاہور، ۲۰۱۵ء، ص ۲۷)
حضرت خدیجہؓ کے خاندان بنواسد کے پاس شہرمکہ کی بعض انتظامی ذمہ داریاں بھی تھیں۔ شہرمکہ کے مسکینوں اور بے کسوں کی مدد بنواسد کی ذمہ داری تھی۔ حضرت خدیجہؓ کے والد خویلد نے یہ ذمہ داری بحسن و خوبی نباہی۔ کامیاب تجارت کی وجہ سے خویلد بن اسد کے گھر میں دولت کی خوب فراوانی تھی۔ ساتھ ہی اس خاندان میں وہ تمام خوبیاں بھی تھیں جو مکہ مکرمہ کے شرفاء اور سرداروں میں ہوتی تھیں، مثلاً سخاوت، مہمان نوازی، صداقت و امانت داری وغیرہ۔ خاندان بنواسد کے لوگ رذائل سے دُور رہتے تھے اور بعض ان بُرائیوں سے بھی بچے ہوئے تھے جو عام طور پر دورِجاہلیت کے قبائل میں پائی جاتی تھیں، جیسے لڑکیوں کی پیدائش کو منحوس سمجھنا، بُت پرستی اور توہم پرستی میں مبتلا ہونا۔
حضرت خدیجہؓ کے گھرانہ میں بچیوں کو نہ نجس سمجھا جاتا تھا نہ انھیں منحوس تصور کیا جاتا تھا۔ بنواسد کے خاندان میں بچیوں کی پرورش شفقت و محبت کے ساتھ کی جاتی تھی۔ ان کی تربیت کا پوری طرح خیال رکھا جاتا تھا۔ حضرت خدیجۃ الکبریٰؓ کی تربیت بھی اسی ماحول میں ہوئی۔ اچھی تربیت کی وجہ سے انھیں دورِ جاہلیت میں بھی ’طاہرہ‘ کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا۔ عقائد کے بارے میں ان کا ذہن و دماغ بُت پرستی کوقبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ انھوں نے بتوں کے آگے کبھی سر نہیں جھکایا۔ ان کے خاندان کے کچھ لوگ بُت پرستی سے متنفر ہوکر مسیحیت کی طرف مائل تھے، اس لیے کہ عیسائیت ہی اس زمانہ میں آسمانی مذہب کے طور پر مقبول تھا۔ حضرت خدیجہؓ کے چچا نوفل بن اسد بُت پرستی چھوڑ کر مسیحیت قبول کرچکے تھے، مگر عیسائی مذہب اختیار کرنے کے باوجود وہ عقیدۂ تثلیت کے قائل نہیں تھے۔