ماہنامہ ترجمان القرآن، جولائی 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (جولائی 2026) کا شمارہ ہے، جس میں آزاد کشمیر کی سیاسی و انتظامی صورتحال اور اس پر جماعت اسلامی پاکستان کے موقف پر تفصیلی مضمون شامل ہے۔
شمارے میں حضرت خدیجہؓ کی سیرت کے منفرد پہلو، پاکستان میں دستور سازی کا تاریخی پس منظر، اور تیونس کی تحریک النہضہ کی صورتحال پر مضامین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ صحابہ کرامؓ کے قرآن سے تعلق اور اخلاقی تعلیمات پر ایک منتخب سلسلہ بھی شامل ہے، اور آخر میں مولانا مودودیؒ کے دور پر ایک مختصر تحریر بھی درج ہے۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
تیونس: النہضہ تحریک اور عمر قید کی سزائیں
جون ۲۰۲۶ء کو تیونس کی ایک عدالت نے النہضہ تحریک کے رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی راشد الغنوشی (۸۴سال) اور دیگر کئی رہنماؤں کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ تیونس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی وکالۃ تونس افریقیا للانباء کے مطابق، تیونس کی ابتدائی عدالت کے دہشت گردی کے مقدمات کا فیصلہ کرنے والے فوجداری بنچ نے ملزمان کو: ’’دہشت گرد گروہ تشکیل دینے اور جان بوجھ کر کسی بھی عنوان سے جمہوریہ کی سرزمین کے اندر دہشت گرد جرائم سے متعلق دہشت گرد گروہ میں شامل ہونے، دہشت گرد گروہ اور دہشت گرد جرائم سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے صلاحیتوں اور مہارتوں کو وقف کرنے، اور انسداد دہشت گردی قانون میں مذکور دیگر دہشت گرد جرائم‘‘ میں مجرم قرار دیا ۔
حکومتی پشت پناہی کی بنیاد پر درج کرائے گئے مقدمے ’خفیہ نیٹ ورک‘ میں انسداد دہشت گردی عدالت کے بنچ کے مطابق اس مقدمے میں سیاست دانوں، سیکیورٹی اہلکاروں اور رہنماؤں کے نام شامل ہیں۔ اس فائل میں ۳۵ ملزمان نامزد ہیں، جن میں سے کچھ اس مقدمے کی وجہ سے زیر حراست ہیں، کچھ دوسرے مقدمات میں گرفتار ہیں، ۱۱ ضمانت پر رہا ہیں، اور بقیہ مفرور ہیں۔ ان فیصلوں میں شامل نمایاں ترین نام درج ذیل ہیں:
راشد الغنوشی: نہضہ تحریک کے سربراہ، جنھیں ۳۰ سال کی اضافی قید کے ساتھ عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے، اور وہ دیگر مقدمات میں بھی زیرِ حراست ہیں۔
علی العریض: سابق وزیر داخلہ اور سابق وزیر اعظم، جنھیں ۴۲ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے، اور وہ دہشت گردی کی نوعیت کے دیگر مقدمات میں بھی حراست میں ہیں۔
فتحی البلدی: سابق سیکیورٹی کمانڈر اور متوازی سیکیورٹی نظام کے مرکزی ملزم، جنھیں ۵۰سال کی اضافی قید کے ساتھ عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
کمال البدوی: ریٹائرڈ فوجی اور ’برآ کۃ الساحل‘ گروپ کے سابق رکن، جنھیں عمر قید اور ۳۲ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ دفاعی کمیٹی نے ان کے کال ریکارڈ کا تعلق محمد البراہمی کے قتل کی رات مصطفیٰ خذر کے ساتھ جوڑا ہے۔
عبد العزیز الدغسنی: راشد الغنوشی کے داماد اور بن عروس میں نہضہ کے دفتر کے سابق سربراہ، جنھیں عمر قید اور ۳۷ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ انھیں اس سے قبل ’بلیک روم‘ کیس میں بھی آٹھ سال قید کی سزا ہو چکی ہے۔
قیس بکار، بلحسن النقاش، علی الفرشیشی اور متعدد سابقہ سکیورٹی حکام: انھیں دہشت گردی کے الزامات اور خفیہ نیٹ ورک کو سیکیورٹی، سرحدوں اور غیر ملکیوں کے مفادات سے جوڑنے کے جرم میں ۳۴ سے ۴۸ سال تک قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔
تین مفرور افراد، جنھیں بیرون ملک فرار ہونے کی حالت میں عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے، ان میں درج ذیل افراد شامل ہیں:
مصطفیٰ خذر:اسے ’بلیک روم‘ (الغرفة السوداء) اور ’خفیہ نیٹ ورک‘ کے مقدمات کا مرکزی ملزم ٹھیرایا گیا ہے۔ اسے اس بار عمر قید کے ساتھ مزید ۹۶ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ دفاعی کمیٹی اسے ’خفیہ نیٹ ورک کا پہلا فیلڈ انچارج‘ قرار دیتی ہے جو سیاسی قتل و غارت گری سے متعلق دستاویزات اور شواہد چھپانے میں ملوث تھا۔
رضا البارونی: یہ النہضہ تحریک کا سابق انتظامی اور مالیاتی ڈائریکٹر ہے، جسے عمر قید اور ۷۶ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
کمال العیفی: اسے اس متوازی نیٹ ورک کے اہم ترین رہنماؤں میں شمار کیا گیا ہے۔ اس کو بھی عمر قید اور ۷۶ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
عدالت نے تمام ملزمان کو پانچ سال تک انتظامی نگرانی میں رکھنے کا بھی حکم دیا۔
یہ مقدمہ ۲۰۲۲ء کے اوائل میں اس وقت سامنے آیا جب پبلک پراسیکیوشن اور سیاستدان شکری بلعید اور محمد براہمی کے فروری اور جولائی ۲۰۱۳ء میں قتل کے بعد ان کے وکلا نے مقدمہ درج کرایا۔وکلا نے اس وقت النہضہ کے نام نہاد ’خفیہ ڈیوائس‘ پر ان کے قتل میں ملوث ہونے، ’جاسوسی کرنے اور ریاستی اداروں میں دراندازی‘ کا الزام لگایا تھا۔
۱۹ جون ۲۰۲۶ءکو ’ریاست کی داخلی سلامتی کے خلاف سازش‘ کے اس مقدمے میں نئے فیصلے سامنے آئے ہیں۔ تیونس کی اپیل کورٹ کے انسداد دہشت گردی کے مقدمات دیکھنے والے فوجداری ڈویژن کے خصوصی بینچ نے باجہ میں تحریک النہضہ کے علاقائی سیکرٹری جنرل کے حق میں ابتدائی عدالت کا فیصلہ برقرار رکھا، تاہم سزا میں تخفیف کرتے ہوئے ۱۰ سال قید کو کم کر کے چار سال کر دیا۔
عدالت نے النہضہ تحریک کے رہنما عبدالفتاح الطاغوتی کو بھی ۱۰ سال قید بامشقت کی سزا سنائی جس پر فوری عمل درآمد ہوگا۔ اس کے ساتھ تین دیگر ملزمان کے حق میں دعویٰ نہ سننے کا فیصلہ کیا، جب کہ ایک خاتون ملزمہ کو دو سال قید کی سزا دی گئی۔
اسی تناظر میں، عدالت نے تین دیگر ملزمان کو بھی ۱۰ سال قید کی سزا سنائی، جن میں باجہ میں النہضہ تحریک کے علاقائی دفتر کے ارکان شامل ہیں۔
یاد رہے کہ تیونس کی ابتدائی عدالت کے انسداد دہشت گردی مقدمات کے فوجداری ڈویژن نے پہلے باجہ میں تحریک النہضہ کے علاقائی سیکرٹری کو ۱۰سال قید، جربہ کے ایک مقیم ڈاکٹر کو ۱۲سال قید، اور دیگر ملزمان کو ۱۰ سال قید کی سزائیں سنائی تھیں۔
اس سے قبل ۱۵؍ اپریل کو، تیونس کی ایک عدالت نے الغنوشی اور تحریک النہضہ کے تین دیگر رہنماؤں کو میڈیا میں المسامرۃ الرمضانیۃ کے نام سے مشہور مقدمے میں ۲۰ سال قید کی سزا سنائی تھی۔ اس کے علاوہ ان کے خلاف دیگر مقدمات میں بھی قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔
النہضہ تحریک کے سربراہ راشد الغنوشی کو عمر قید کی سزا ان کے خلاف جاری ہونے والا تیسرا ’عمر قید‘ کا فیصلہ ہے۔ان کے خلاف پہلی عمر قید کی سزا کا فیصلہ 'صدر بورقیبہ کے دور میں ستمبر ۱۹۸۷ء میں سنایا گیا۔ غنوشی اس وقت 'اسلامی رجحان تحریک(حرکۃ الاتجاہ الاسلامی) کے سربراہ تھے۔ تاہم، اللہ تعالیٰ کی قدرت کہ یہ عمر قید صرف ۱۵ ماہ ہی چلی کیونکہ صدر بورقیبہ کے خلاف ان کے وزیر اعظم زین العابدین بن علی نے سفید انقلاب (بغیر خون خرابے کے ) برپا کر دیا۔ چنانچہ بورقیبہ جیل میں ہی رہے ، جب کہ راشد الغنوشی اور ان کے ساتھ کئی دیگر افراد کو رہا کر دیا گیا۔
راشد الغنوشی کے خلاف عمرقید کا دوسرا فیصلہ ۱۹۹۲ء میں صدر زین العابدین بن علی کے دور میں سنایا گیا۔ اگرچہ یہ فیصلہ بظاہر تیونس کی ایک فوجی عدالت نے جاری کیا تھا، لیکن اس کا اصل محرک اور منبع خود صدر بن علی تھا، اور الزامات پہلے سے تیار شدہ تھے، یعنی ’ریاست کی سلامتی کے خلاف سازش‘ اور’تیونس میں حکومت کا تختہ الٹنے کی تیاری‘۔
لیکن اللہ کی عدالت سے اس وقت یہ فیصلہ ہوا کہ صدر بن علی کا انجام ان کی حکومت کے خاتمے کی صورت میں نکلا جو یہ سمجھ رہے تھے کہ وہ فرعونِ وقت ہیں۔ اور جب اللہ کا فیصلہ آ جائے تو اس کے فیصلے کو روکنے والا کوئی نہیں ہوتا، لہٰذا اس کا انجام تمام صدور، حکمرانوں اور فیصلہ سازوں کے لیے عبرت کا ایک نشان بن گیا۔ چنانچہ عرب اور یورپی فضائی حدود نے ان کے طیارے کو قبول کرنے سے انکار کر دیا، اور کسی بھی ملک نے ان کا استقبال نہیں کیا۔ تاریخ میں یہ بات محفوظ ہوگئی کہ انھیں بقیہ زندگی تیونس کی پاک سرزمین میں داخل نہیں ہونے دیا گیا، یہاں تک کہ وہ انسانی تاریخ کی بدترین موت مرے، اور انھیں تیونس میں دفن تک نہیں کیا گیا۔ دوسری طرف راشد الغنوشی، جن کو صدر بن علی کے حکم سے ’عمر قید‘ کی سزا سنائی گئی تھی، وہ تیونسی عوام کے شاندار استقبال میں تیونس واپس آئے اور اس سفر کا اختتام اس وقت ہوا جب وہ تیونس کی پارلیمنٹ کے اسپیکر بنے۔
راشد الغنوشی کے خلاف ’عمر قید‘ کی تیسری سزا ۲ جون ۲۰۲۶ء کو سنائی گئی ہے، جو آمرمطلق صدر قیس سعید کے جاری دور میں سامنے آئی ہے۔ یوں راشد الغنوشی کو سنائی گئی مجموعی سزائیں ۱۰۸سال بنتی ہیں، جو کہ تیونس کے طاغوت’قیس سعید اور ان کے گماشتوں‘ کی ہوسِ اقتدار کا ظالمانہ و مستبدانہ اظہار ہے۔