مرکزی مواد پر جائیں
ماہنامہ ترجمان القرآن کی طرف واپس

ماہنامہ ترجمان القرآن، جولائی 2026

ماہنامہ شمارہ

مجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (جولائی 2026) کا شمارہ ہے، جس میں آزاد کشمیر کی سیاسی و انتظامی صورتحال اور اس پر جماعت اسلامی پاکستان کے موقف پر تفصیلی مضمون شامل ہے۔

شمارے میں حضرت خدیجہؓ کی سیرت کے منفرد پہلو، پاکستان میں دستور سازی کا تاریخی پس منظر، اور تیونس کی تحریک النہضہ کی صورتحال پر مضامین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ صحابہ کرامؓ کے قرآن سے تعلق اور اخلاقی تعلیمات پر ایک منتخب سلسلہ بھی شامل ہے، اور آخر میں مولانا مودودیؒ کے دور پر ایک مختصر تحریر بھی درج ہے۔

یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

استحکامِ پاکستان کے خلاف سازشیں

قیامِ پاکستان ایک معاہدے کے ذریعے عمل میں آیا۔ اس معاہدے میں مسلمانوں کے علاوہ دو اور فریق [ہندو اور انگریز]بھی تھے، لیکن ان کی نیتیں صاف نہیں تھیں، یعنی جو بات طے ہورہی تھی اس پر ان دونوں کا دل رضامند نہیں تھا اور وہ چیز ان کی زبانوں پر بھی آگئی۔ اس لیے ان کے عمل سے ظاہر ہوتا رہا اور ان کی یہ کوشش بھی رہی کہ پاکستان کو بنتے ہی ختم کر دیا جائے۔ پھر ان کے بڑے ذمہ دار لوگوں نے کہا کہ یہ بن تو گیا ہے، لیکن اس کو صفحۂ ہستی سے مٹاکے دوبارہ ہندوستان کو ایک کر لیں گے۔ گویا پاکستان کو دل سے قبول نہیں کیا گیا۔

اس طرح جن کے ہاتھ سے پاکستان نے اقتدار لیا تھا، ان کی ریشہ دوانیاں اور مختلف سطحوں پر سازشیں بھی جاری رہیں۔ ان کی پوری کوشش تھی کہ اتنی بڑی ایک مسلم مملکت بن رہی ہے، اسے ابتداء ہی میں جتنا زیادہ سے زیادہ کمزور کیا جا سکے، جتنا بے دست و پا کیا جا سکے، وہ کردیا جائے۔ پاکستان اس حالت میں وجود میں آیا کہ شروع ہی سے پڑوس کی مملکت اس کو مٹانے کی تگ و دو میں مصروف ہوگئی۔ دوسری بدقسمتی یہ بھی ہوئی کہ ایک پڑوسی مسلم ملک نے بھی پہلے روز سے اسے کھلے دل سے تسلیم نہ کیا، بلکہ بین الاقوامی ادارے میں اس کے خلاف تقریریں بھی کیں اور جب موقع ملا نقصان پہنچایا۔ ان حالات میں پاکستان قائم ہوا۔ پھر بے سر وسامانی کا جو عالم تھا، آج اگر اس کو کوئی لفظوں میں بیان کرنا چاہے تو حقیقت یہ ہے کہ اسے ٹھیک ٹھیک بیان کر نہیں سکتا۔

بعض اوقات لوگ انڈیا سے مقابلہ کرتے ہیں کہ ’’وہاں تو اتنے تھوڑے عرصے میں دستور بن گیا‘‘۔حالانکہ انڈیا میں زمینی حقیقت یہ تھی کہ کچھ لوگ انگریز وائسرائے لاج کے دفتر سے نکلے اور انڈیا کی دستورساز اسمبلی میں جاکر بیٹھ گئے۔ انھوں نے دستور بنالیا اور ان کی حکومت بن کر کام کرنے لگی، مگر پاکستان میں یہ صورتِ حال نہیں تھی۔ یہاں تو نہ قلم دوات تھا، نہ کاغذ، سیاہی اور پنسل، نہ لوگوں کو تنخواہ دینے کے لیے پیسے، نہ ٹھیرنے کی مناسب جگہ۔ بہرحال، سچی بات یہ ہے کہ اگر پاکستان سنبھل گیا تو قائد اعظم مرحوم کا عزم اور ان پر مسلمانوں کو جو اعتماد تھا، اور اللہ کے فضل کی بنا پر ہی یہ ممکن ہوسکا۔ پھر خود مسلمانوں کے اندر جو ولولہ پیدا ہوا تھا کہ ہر تکلیف اٹھا کے اور ہرقیمت پر پاکستان کو بچانا ہے، اس جذبے نے ملک کو سنبھالنے میں مدد دی۔ لہٰذا، پہلا کام پاکستان کے سامنے یہ نہیں تھا کہ دستور بنا دیا جاتا، بلکہ پہلا کام یہ تھا کہ کسی طرح زندہ رہنے کی سبیل پیدا ہو، اور دوسری طرف سے کوشش ہو رہی تھی کہ یہ بنتے ہی ختم ہو جائے۔ لوگوں کو پیسے دے دے کر یہاں سے بھگایا گیا کہ یہاں کی معاشی زندگی کے انتظام کا گلا ہی گھونٹ دیا جائے، وغیرہ وغیرہ۔ خیر، اللہ تعالیٰ نے اس کو برقرار رکھنا تھا، اس لیے اس کی بقا کا سامان ہوتا گیا اور ان مختلف دشواریوں پر رفتہ رفتہ قابو پایا جاتا رہا۔

ان حالات میں ملکی نظم و نسق کو چلانے کے لیے بہرحال کسی نہ کسی قانونی ڈھانچے کی ضرورت تھی کہ کوئی دستوری ڈھانچا ہو جس پر نظم مملکت چل سکے۔ اس طرح وہی قانون [۱۹۳۵ء کا ایکٹ] جو پہلے سے چل رہا تھا، اسی میں تھوڑی بہت ترمیم کر کے آگے بڑھے۔ ان وجوہ کی بناپر اوّلین ترجیح اور اوّلیت اس مسئلے کو نہیں دی جا سکی تھی۔

ایک چیز اور قابلِ غور یہ ہے کہ پہلے اعلان کے مطابق جون ۱۹۴۸ء میں پاکستان کو وجود میں آنا چاہیے تھا، لیکن ایک فریق نے یہ سازش کی کہ ۱۰ مہینے پہلے یہ قدم اُٹھا لیا جائے اور آزادی دے کر کامن ویلتھ میں شریک ہوجائیں۔ یہ پیش کش ہندوؤں کی طرف سے کی گئی، اور انگریزوں نے اسے منظور کر لیا اور یہ اعلان کر دیا کہ جون ۱۹۴۸ء کے بجائے اگست ۱۹۴۷ء میں حکومت مسلمانوں کے حوالے کر دی جائے گی اور باقی ہندستان کانگریس کے حوالے۔

اب ظاہر ہے کہ اُس وقت مسلمانوں کے لیے یہ صورت تو ممکن نہ تھی کہ وہ کہتے، کہ نہیں آپ ابھی اور ٹھیریئے۔ خاص طور پر اُس وقت، جب کہ ان کے بارے میں ویسے ہی ہر طرف سے ہندو اخبارات یہ پروپیگنڈ ا کررہے تھے کہ یہ نہیں چاہتے کہ انگریز یہاں سے جائیں، لہٰذا یہ بات کہنے کا موقع نہیں تھا۔ اب مملکت کی تعمیر و استحکام کے لیے جو تھوڑی بہت تیاری کا وقت مل سکتا تھا،اسے انھوں نے روکنا تھا کہ مسلمان کسی قسم کی تیاری کر نہ سکیں۔ دوسری جانب ہندو انڈیا کے پاس تربیت یافتہ لوگ اور ہردرجے میں بنا ہوا ڈھانچا اور چلتا ہوا نظامِ ریاست و مملکت موجود تھا اور وسائل بھی خاصّے زیادہ تھے۔ چنانچہ وہاں دستور سازی پہلے سے ہو رہی تھی، دستوری خاکے بن چکے تھے اور بڑے اچھے اچھے دماغ ایک مربوط ریاست میں موجود تھے۔