ماہنامہ ترجمان القرآن، جولائی 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (جولائی 2026) کا شمارہ ہے، جس میں آزاد کشمیر کی سیاسی و انتظامی صورتحال اور اس پر جماعت اسلامی پاکستان کے موقف پر تفصیلی مضمون شامل ہے۔
شمارے میں حضرت خدیجہؓ کی سیرت کے منفرد پہلو، پاکستان میں دستور سازی کا تاریخی پس منظر، اور تیونس کی تحریک النہضہ کی صورتحال پر مضامین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ صحابہ کرامؓ کے قرآن سے تعلق اور اخلاقی تعلیمات پر ایک منتخب سلسلہ بھی شامل ہے، اور آخر میں مولانا مودودیؒ کے دور پر ایک مختصر تحریر بھی درج ہے۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
جماعت اسلامی پاکستان کا موقف
جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن صاحب نے آزاد کشمیر کے ان واقعات پر واضح الفاظ میں کہا ہے:
یہ بات ہر صاحب ِاختیار کے ذہن میں پیوست رہنی چاہیے کہ عوامی اُمنگوں کو کچلنے اور سیاسی نظام کو جکڑنے کے نتیجے میں ایسی صورتِ حال پیدا ہوجاتی ہے کہ جس سے پورے قومی موقف اور وجود کو خطرات لاحق ہوجاتے ہیں۔اس لیے حکومتی ذمہ داروں کو ایسے کھیل میں قوم کو اُلجھانے سے باز رہنا چاہیے۔
پاکستان، کشمیری بھائیوں کا ہے اور کشمیر، پاکستان سے کوئی الگ اکائی نہیں ہے۔ یہ باہم ایک ہی وجود ہے۔اس لیے انھیں ایک دوسرے پر اعتماد کرکے اور ایک دوسرے کے دُکھ درد کا ساتھی اور ہمدرد بن کر راستہ نکالنا اور منزل کی طرف چلنا ہوگا۔
ہم سب پر لازم ہے کہ کشمیر اور اہل کشمیر کے حقِ خودارادیت کے مسئلے کو مرکزی موضوع بنائیں، اور اُس کے حصول کی طرف پوری توجہ مرکوز رکھیں۔
روزمرہ کے مسائل کا حل باہم مذاکرات اور افہام و تفہیم میں ہے۔ بُرا بھلا کہنے، تعصب پھیلانے اور گولی چلانے میں تباہی کے سوا کچھ نہیں، اور نہ بدامنی پھیلانے اور جواب در جواب تشدد سے کوئی مسئلہ حل ہوتا ہے۔
کشمیر کے نوجوانوں پر یہ امر واضح رہنا چاہیے کہ پورا پاکستان اُن کے لیے کھلا ہے۔ تعلیم، ملازمت، ہنر، تجارت وغیرہ کے لیے ان کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔
مقامی مسائل جن طبقوں نے پیدا کیے ہیں وہ صرف آزاد کشمیر تک محدود نہیں ہیں، بلکہ پورا پاکستان اور پاکستان کے شہری اسی طرح کے مسائل سے دوچار ہیں۔ ان طبقوں کی گرفت کمزور کرنے اور اختیار حاصل کرنے کے لیے ہم سب کو مل کر جدوجہد کرنی چاہیے، بجائے اس کے کہ ایک جگہ کے لوگ دوسرے مقام کے ہم وطنوں ہی کے خلاف نفرت اور دشنام کا راستہ اختیار کریں۔