مرکزی مواد پر جائیں
ماہنامہ ترجمان القرآن کی طرف واپس

ماہنامہ ترجمان القرآن، جولائی 2026

ماہنامہ شمارہ

مجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (جولائی 2026) کا شمارہ ہے، جس میں آزاد کشمیر کی سیاسی و انتظامی صورتحال اور اس پر جماعت اسلامی پاکستان کے موقف پر تفصیلی مضمون شامل ہے۔

شمارے میں حضرت خدیجہؓ کی سیرت کے منفرد پہلو، پاکستان میں دستور سازی کا تاریخی پس منظر، اور تیونس کی تحریک النہضہ کی صورتحال پر مضامین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ صحابہ کرامؓ کے قرآن سے تعلق اور اخلاقی تعلیمات پر ایک منتخب سلسلہ بھی شامل ہے، اور آخر میں مولانا مودودیؒ کے دور پر ایک مختصر تحریر بھی درج ہے۔

یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

تکمیلِ دین کا مفہوم

اس آیت میں <<اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ>> کے الفاظ کے ذریعے دین کی تکمیل کا اعلان کیا گیا ہے۔ تکمیل دین کے مفہوم میں درج ذیل پہلو شامل ہیں:

۱- اللہ تعالیٰ نے تمام ضروری احکام اور حلال و حرام کو آخری شکل میں واضح فرمادیا ہے۔ اس حدیث کی شرح میں حافظ ابن حجر عسقلانیؒ فرماتے ہیں کہ اس آیت کے نزول کے بعد حلال و حرام کا کوئی بنیادی حکم نازل نہیں ہوا [فتح الباری (شرح صحیح بخاری)]۔یہ آیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے ۸۱ دن پہلے نازل ہوئی اور نو دن پہلے آخری آیت <<وَاتَّقُوْا يَوْمًا تُرْجَعُوْنَ فِيْہِ اِلَى اللہِ۝۰ۣۤ (البقرہ ۲:۲۸۱)>> ’’اُس دن کی رُسوائی و مصیبت سے بچو، جب کہ تم اللہ کی طرف واپس ہوگے‘‘ نازل ہوئی، جو تقویٰ کا عمومی حکم ہے۔ علامہ بدرا لدین عینی نے لکھا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت عمرؓ سورۃ المائدۃ کی اس آیت کو سن کر رو پڑے تھے کیونکہ وہ سمجھ گئے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن مکمل ہوچکا ہے، اور ’تکمیل‘ کے بعد اب ’جدائی‘ کا وقت قریب ہے (عمدۃ القاری،شرح صحیح بخاری)۔ اس سے صحابہ کرامؓ کے فہم کا اندازہ ہوتا ہے کہ کبار صحابہ اس آیت کے نزول سے یہ سمجھ گئے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کام مکمل ہونے کے بعد ،دنیا سے رخصتی کا وقت قریب ہے۔

۲- یہ دین جامع نظامِ فکر و عمل پر مبنی ہے۔ یہ روحانی اور عملی، انفرادی اور اجتماعی،اصول اور جزئیات،سب پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے، اور ہر لحاظ سے مکمل تہذیب و تمدن کا حامل ہے۔ ’’دین کو مکمل کردینے سے مراد اُس کو ایک مستقل نظام فکر و عمل اور ایک ایسا مکمل نظام تہذیب و تمدن بنادینا ہے جس میں زندگی کے جملہ مسائل کا جواب اصولاً یا تفصیلاً موجود ہو اور ہدایت و رہنمائی حاصل کرنے کے لیے کسی حال میں اس سے باہر جانے کی ضرورت پیش نہ آئے‘‘ (تفہیم القرآن)۔ یہ دین جامع ہونے کے ساتھ ساتھ بہت معقول اور انسانی فطرت کے بالکل مطابق ہے۔ یہ اس لحاظ سے بھی مکمل ہے کہ یہ ایک کل ہے جس کے اجزاء ایک دوسرے سے مربوط اور پیوست ہیں۔ ’’اس کے اخبار و قصص میں پوری سچائی، بیان میں پوری تاثیر، اور قوانین و احکام میں پورا توسط و اعتدال موجود ہے‘‘۔(تفسیر عثمانی)

۳-ایک مفہوم کے مطابق اس دین پر جامعیت کے ساتھ عمل ہی اکمال (تکمیل)ہے۔ اسی طرح علامہ عینیؒ فرماتے ہیں کہ امام بخاریؒ نے اس حدیث کو باب زیادۃ الایمان ونقصانہ کے تحت اس لیے ذکر کیا تاکہ یہ ثابت کریں کہ ایمان میں کمی اور زیادتی ہوتی ہے۔ ان کے مطابق، جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا:آج میں نے تمھارے لیے تمھارا دین مکمل کر دیا، تو اس سے مراد شرائع (احکامات اور واجبات) کی تکمیل ہے۔ اگر کوئی شخص ان مکمل شدہ احکامات میں سے کسی کو چھوڑتا ہے، تو اس کے ایمان کے کمال میں کمی آ جاتی ہے۔ (عمدۃ القاری)

۴- پچھلی شریعتوں کے بعض احکام بعد میں آنے والی شریعتوں سے منسوخ ہوتے رہے، لیکن شریعتِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد پچھلی سب شریعتیں منسوخ ہوگئی ہیں۔ ’’دین حق اور نعمت الٰہی کا انتہائی معیار جو اس عالم میں بنی نوع انسان کو عطا ہونے والا تھا، آج وہ مکمل کردیا گیا۔ گویا حضرت آدم ؑکے زمانہ سے جو دین اور نعمت الٰہیہ کا نزول اور ترویج شروع کی گئی تھی اور ہر زمانہ اور ہر خطہ کے مناسب حال اس نعمت کا ایک حصہ اولادِ آدم کو عطا ہوتا رہا، آج وہ دین اور نعمت مکمل صورت میں خاتم الانبیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کی امت کو عطا کردی گئی‘‘۔(معارف القرآن)

۵- شریعتِ محمدیؐ میں بھی کچھ شروع کے احکام کو ، بعد والے احکام منسوخ کرتے تھے۔ لیکن اس آیت کے بعد شریعتِ محمدی ؐکا کوئی حکم منسوخ نہیں ہوا، اور یہ قیامت تک کے لیے ناقابلِ تبدیلی ہے۔ اس میں اضافوں و ترمیمات کی نہ اجازت ہے ، نہ ضرورت اور نہ ایسے ہونا ممکن ہے۔

۶- یہ مکمل ہے کیونکہ اس میں کسی تبدیلی کی اجازت نہیں۔ اصولِ دین میں کوئی زیادتی یا کمی نہیں کی جا سکتی، البتہ انھی کی توضیح میں اجتہادی فروعی مسائل ہوں گے۔ اس دین میں باطل جدید نظریات کی گنجائش بھی نہیں ہے ، اور بدعات کی قبولیت بھی نہیں ۔

۷- یہ دین اس لحاظ سے بھی مکمل ہے کہ خود اس میں کوئی کم تر چیز نہیں ہے اور اس سے بہتر کوئی چیز موجود نہیں ہے کہ اس سے باہر دیکھنے کی ضرورت ہو۔ علامہ بدر الدین عینی نے اس حدیث کی شرح میں حضرت عمرؓ کے جواب کی حکمت بیان کی ہے اور اس کے لیے امام ابن کثیرؒ نے اس آیت کی جو تفسیر کی ہے ، اس کا حوالہ دیا ہے ۔ وہ یہ کہ ’’یہ امت پر اللہ تعالیٰ کا سب سے بڑا احسان ہے کہ اس نے ان کے لیے ان کا دین مکمل کر دیا، اب انھیں کسی دوسرے دین کی ضرورت نہیں ہے اور نہ اپنے نبی کے سوا کسی دوسرے نبی کی ضرورت ہے‘‘۔(عمدۃ القاری،شرح صحیح بخاری)

۸- اس میں تبدیلی کاامکان اس لیے نہیں ہے کیونکہ اس کو اسی طرح رکھنے کا انتظام کیا گیا ہے۔ دین کی حفاظت اللہ تعالیٰ کررہے ہیں۔ اللہ کی ہدایت قرآن حکیم کا حرف حرف محفوظ کردیا گیا۔ اس کی عملی شکل یعنی سیرت اور حدیث کے ذخیرے کی حفاظت کا بھی شاندار انتظام کیا گیا۔مشیتِ الٰہی سے ، دورِ نبوی ؐمیں انسانی معلومات، وسائل اور تمدن اس مرحلے پر پہنچ چکے تھے کہ ہدایت کے ان سب ذرائع کا بوجھ اٹھاسکتے تھے،اور اس کی حفاظت بھی کرسکتے تھے ۔ اللہ تعالیٰ نے اُمت کو حفاظت کی ذمہ داری دی ہے اور دین کو اس شکل میں بھی محفوظ کردیا ہے کہ نقب زنی مشکل ہے۔ اس کی حفاظت اللہ یوں بھی کرتے ہیں کہ وہ اس دین کا حامل گروہ ہمیشہ اس دنیا میں رکھتے ہیں ، جو اس دین کو اچھی طرح جانتا ہے اور وہ ہر وقت اس کا دفاع کرتا رہتا ہے۔یہ دین اس گروہ میں کمال درجے پر موجود رہتا ہے اور ان کی زندگیوں میں محفوظ رہتا ہے اور وہ گروہ اس امانت کو آگے منتقل کرتا رہتا ہے (بحوالہ فی ظلال القرآن)۔حفاظت کے ان سب ذرائع کے باعث، تحریف کی کوششوں کے باوجود، دین اصل صورت میں اور مکمل موجودہے۔

۹- اس کے شارع اور شارح نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر، نبوت کے سلسلے کو مہر لگادی گئی کہ اس دین کی کوئی نئی تشریع اور تشریح نہیں ہوسکتی۔ آپ ؐکے خاتم النبیین ہونے کو عقیدے کا حصہ بنادیا گیا۔

۱۰-اس دین کی تکمیل یہ بھی ہے کہ یہ بہترین دین صرف کتابوں یا نظریاتی بحث کی شکل میں نہیں رہ گیا،بلکہ اس پر عمل بھی ہوا اور اس کا ایک ایک اصول عملی شکل میں بروئے کار آیا۔

۱۱-اس دین کی تکمیل ایسے بھی ہوئی کہ اس کے شارع کی زندگی میں ہی اس دین کا اظہارہوا، غلبہ و نفاذ ہوا، اور اقامت ہوئی اور ہر گوشے اور شعبے میں اس کا اطلاق کیا گیا۔

۱۲- اس کی تکمیل کا پہلو یہ بھی ہے کہ ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت سے ہزاروں سے متجاوز خدا پرست، جانباز اور سرفروش ہادیوں اور معلموں کی ایسی عظیم الشان جماعت تیار ہوچکی تھی جس کو قرآنی تعلیم کا مجسم نمونہ کہا جاسکتا تھا‘‘۔ (تفسیر عثمانی)

۱۳- یہ اصول، ان پرعمل، ان کی اقامت اور ان کی عملی تفسیریں اس لحاظ سے بھی مکمل تھیں کہ ان کے ساتھ پختہ بنیادیں موجود تھیں۔ ان کے ساتھ وہ دل تھے جو مسخر ہوچکےتھے اور وہ دماغ تھے جو تسلیم کرچکے تھے۔شعائر الٰہیہ کا ادب و احترام قلوب میں راسخ ہوچکا تھا۔ ( تفسیر عثمانی)

۱۴-اس دین کے مکمل ہونے کا مظہر یہ بھی ہے کہ یہ شریعت ہر زمانےمیں قابلِ عمل رہی۔

۱۵- سارے خطوں اور ملکوں کی متنوع قوموں اور گروہوں نے اس پر عمل کیا۔ تقدیرِ ازلی کے مطابق ،ذرائع سفر و مواصلات کی ترقی کے ساتھ جغرافیائی خطوں میں رابطے کا دور آیا۔اور اس کے ساتھ اس دین کے اصول عالم گیریت کے لحاظ سے بھی مکمل تھے۔ حقیقتاً یہ ایسا دین ہے جو یکساں اصولوں پر نسلِ انسانی کو جمع کرنے والا ہے۔

۱۶- اس دین کو پہنچانے والی اورقائم کرنے والی ہستی کو بھی قرب کے اس مرتبہ پر پہنچادیا گیا، جو تمام اگلے پچھلے باکمال انسانوں کے لیے قابلِ رشک ہے۔ (تفسیر مظہری)

۱۷- ’اس میں تمام انبیا و رسل کے زمرہ میں سیّد الانبیا صلی اللہ علیہ وسلم کی سعادت اور امتیازی شان کا تو اظہار ہے ہی لیکن اس کے ساتھ تمام امتوں کے مقابلے میں اُمت مسلمہ کی بھی ایک خاص امتیازی شان کا واضح ثبوت ہے۔(معارف القرآن)