ماہنامہ ترجمان القرآن، جولائی 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (جولائی 2026) کا شمارہ ہے، جس میں آزاد کشمیر کی سیاسی و انتظامی صورتحال اور اس پر جماعت اسلامی پاکستان کے موقف پر تفصیلی مضمون شامل ہے۔
شمارے میں حضرت خدیجہؓ کی سیرت کے منفرد پہلو، پاکستان میں دستور سازی کا تاریخی پس منظر، اور تیونس کی تحریک النہضہ کی صورتحال پر مضامین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ صحابہ کرامؓ کے قرآن سے تعلق اور اخلاقی تعلیمات پر ایک منتخب سلسلہ بھی شامل ہے، اور آخر میں مولانا مودودیؒ کے دور پر ایک مختصر تحریر بھی درج ہے۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
لذّتِ تلاوت
قرآن کتابِ الٰہی کے سننے سے اہلِ ایمان کے بدن کےرونگٹے کھڑے ہونے، دلوں کے نرم پڑنے اور یادالٰہی کی طرف متوجہ ہونے کی خبر دیتا ہے: <<تَقْشَعِرُّ مِنْہُ جُلُوْدُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّہُمْ۰ۚ ثُمَّ تَلِيْنُ جُلُوْدُہُمْ وَقُلُوْبُہُمْ اِلٰى ذِكْرِ اللہِ۰ۭ (الزمر ۳۹: ۲۳)>> ’’اُسے سن کر اُن لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں جو اپنے ربّ سے ڈرنے والے ہیں، اور پھر اُن کے جسم اور ان کے دل نرم ہوکر اللہ کے ذکر کی طرف راغب ہوجاتے ہیں‘‘۔
ایک غزوہ سے واپسی پر حضورؐ نے ایک گھاٹی میں رات کو پڑائو کیا۔ حضرت عمار بن یاسرؓ اور عبادؓ بن بِشر انصاری گھاٹی کے سرے پر پہرے دار مقرر ہوئے۔ رات کے پہلے حصے کے لیے عبادؓ بن بِشر کا جاگنا طے ہوا اور عمار بن یاسرؓ سو گئے۔ عبادؓ بن بِشر کھڑے ہو کرنفل پڑھنے لگے۔ اس دوران ایک تیر عبادؓ بن بِشرکی پسلی میں آ کر لگا۔ انھوں نے اسے کھینچ کر نکال دیا اور نماز جاری رکھی۔ کچھ دیر بعد ایک اور تیر ان کے پہلو میں آ کر لگا لیکن انھوںنے نماز توڑے بغیر تیرنکال دیا۔ اب تیسرا تیر آکر لگا، انھوں نے نماز مکمل کی تو ان کا کافی خون بہہ چکا تھا۔ انھوں نے اپنے ساتھی عمار بن یاسرؓ کو جگا کر اپنی صورت حال بتائی۔
عمار بن یاسرؓ نے انھیں خون آلود دیکھ کر کہا:’’سبحان اللہ! آپ نے مجھے اسی وقت کیوں نہ بتایا جب آپ کو پہلا تیر لگا تھا؟ حضرت عبادؓ بن بِشرنے کہا:میں اس وقت نماز میں سورۂ کہف کی تلاوت کر رہا تھا۔ میں نے گوارا نہ کیا کہ میں اسے درمیان میں چھوڑ دوں۔ اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ بکثرت خون بہنے سے میری موت واقع ہو سکتی ہے اور تمھیں جگا کر مورچہ سنبھالنے کا فرض ادا نہ کیا تو میں ایک بڑی خیانت کا مرتکب ہوں گا، تو میں کبھی سورۂ کہف کی تلاوت نہ چھوڑتا، خواہ میری جان ہی چلی جاتی۔(سیرۃ ابن ہشام، ص ۷۴۹، ابن قیم، زاد المعاد، ۲/۱۱۲ )
قرآن سے تعلق کی لذت نے صحابۂ رسولؐ کو ہر دکھ اور تکلیف سے بے نیاز کر دیا تھا۔
براءؓ بن عازب سے روایت ہے کہ حضرت اُسیدؓ بن حضیر سورۂ کہف کی تلاوت کر رہے تھے اور ان کا گھوڑا قریب ہی دو مضبوط رسیوں سے بندھا ہوا تھا۔ اچانک ان پر بادل چھا گئے۔ آہستہ آہستہ وہ بادل قریب ہونے لگے اور گھوڑا اُچھل کود کرنے لگا۔ اُسَیدؓ بن حضیر دیکھنے کے لیے باہر نکلے لیکن انھیں کچھ نظر نہ آیا۔ جب صبح ہوئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپؐ نے فرمایا: <<إقراء فلان فانّها السَّكِینَةُ نزلَتْ للقُرْآنِ>>، ’’اے فلاں! قرآن پڑھو۔ بے شک یہ وہ سیکنت تھی جو قرآن کی قرأت کے وقت نازل ہوتی ہے‘‘۔(بخاری، کتاب المناقب)