ماہنامہ ترجمان القرآن، جولائی 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (جولائی 2026) کا شمارہ ہے، جس میں آزاد کشمیر کی سیاسی و انتظامی صورتحال اور اس پر جماعت اسلامی پاکستان کے موقف پر تفصیلی مضمون شامل ہے۔
شمارے میں حضرت خدیجہؓ کی سیرت کے منفرد پہلو، پاکستان میں دستور سازی کا تاریخی پس منظر، اور تیونس کی تحریک النہضہ کی صورتحال پر مضامین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ صحابہ کرامؓ کے قرآن سے تعلق اور اخلاقی تعلیمات پر ایک منتخب سلسلہ بھی شامل ہے، اور آخر میں مولانا مودودیؒ کے دور پر ایک مختصر تحریر بھی درج ہے۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
حواشی
(۱) انبیا علیہم السلام کا منہج تعلیم ناصحانہ ہوتا ہے۔ <<اُبَلِّغُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّيْ وَاَنَا لَكُمْ نَاصِحٌ اَمِيْنٌ۶۸ (اعراف ۷:۶۸)>> ’’میں تم کو اپنے ربّ کے پیغامات پہنچاتا ہوں اور میں تمھارا امانت دار خیرخواہ ہوں‘‘۔ <<اُدْعُ اِلٰى سَبِيْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ (النحل ۱۶:۱۲۵)>> ’’اپنے ربّ کے راستے کی طرف دعوت دو حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ‘‘۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسلوبِ تعلیم ناصحانہ اور حکیمانہ تھا جو بہت مؤثر ثابت ہوا۔ تعلیم بالعمل بھی ابلاغ و دعوت کا بہت اہم اور مفید ذریعہ ہے۔ ناصحانہ اسلوب کے دو پہلو ہوتے ہیں: ایک تبشیری پہلو ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دین کی بنیادی تعلیمات پر عمل کرنے والوں کو فلاح و سعادت کی خوش خبری سناتے ہیں۔ دوسرا تنذیری پہلو ہے کہ رسول ؐاللہ لوگوں کو شاہراہِ زندگی میں درپیش خطرات سے آگاہ کرتے ہیں۔
(۲) <<لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ (احزاب ۳۳:۲۱)>> ’’درحقیقت تم لوگوںکے لیے اللہ کے رسولؐ میں ایک بہترین نمونہ ہے‘‘۔
(۳)حضرت خدیجہؓ بنت خویلد کا سلسلۂ نسب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جدِ امجد قُصی سے ملتا ہے۔
(۴) لقد خشیت علٰی نفسی (مجھے اپنی جان کا خطرہ ہے)۔ یہ واقعہ کتب سیرت، حدیث اور تاریخ میں مذکور ہے۔
(۵) حضرت علیؓ کی عمر اُس وقت دس برس تھی لیکن رسولؐ اللہ اور حضرت خدیجہؓ کی تربیت کا نتیجہ تھا کہ انھوں نے اس اہم مسئلے پر اپنے والد سے مشورہ کرنے کا اظہار بھی کیا اور مسئلے پر غوروفکر بھی کیا، پھر مکمل اطمینان کے بعد اسلام قبول کیا۔
(۶) حضرت زید بن حارثہؓ کو حضرت خدیجہؓ کے بھتیجے حکیم بن حزام نے شام کے علاقہ سے خریدا تھا، اور اپنی پھوپھی حضرت خدیجہؓ کو خدمت کے لیے پیش کردیا۔ حضرت خدیجہؓ نے حضرت زیدبن حارثہؓ کو اپنے شوہر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دیا تاکہ یہ ان کی خدمت کرے (ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، ۲۶۴)۔بعد میں رسولؐ اللہ نے انھیں آزاد کر دیا لیکن انھوں نے رسولؐ اللہ کی خدمت میں رہنا ہی پسند کیا۔ پھر رسولؐ اللہ کی زندگی میں آپؐ کے ساتھ ہی رہے۔حضرت زید بن حارثہؓ اُن افراد میں شامل ہیں جنھیں رسولؐ اللہ نے دُنیا میں جنّت کی بشارت دی۔ دیکھیے: ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، ۲:۴۹۔ مواخواۃ مدینہ میں رسولؐ اللہ نے حضرت زیدؓ کو حضرت حمزہؓ کا بھائی قرار دیا۔