ماہنامہ ترجمان القرآن، جولائی 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (جولائی 2026) کا شمارہ ہے، جس میں آزاد کشمیر کی سیاسی و انتظامی صورتحال اور اس پر جماعت اسلامی پاکستان کے موقف پر تفصیلی مضمون شامل ہے۔
شمارے میں حضرت خدیجہؓ کی سیرت کے منفرد پہلو، پاکستان میں دستور سازی کا تاریخی پس منظر، اور تیونس کی تحریک النہضہ کی صورتحال پر مضامین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ صحابہ کرامؓ کے قرآن سے تعلق اور اخلاقی تعلیمات پر ایک منتخب سلسلہ بھی شامل ہے، اور آخر میں مولانا مودودیؒ کے دور پر ایک مختصر تحریر بھی درج ہے۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
خوفِ آخرت
حضرت مجاہد تابعی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عباسؓ کے پاس جا کر یہ واقعہ بیان کیا کہ عبداللہ بن عمرؓ نے اس آیت: <<وَاِنْ تُبْدُوْا مَا فِيْٓ اَنْفُسِكُمْ اَوْ تُخْفُوْہُ يُحَاسِبْكُمْ بِہِ اللہُ۰ۭ (البقرۃ۲ : ۲۸۴)>> (تم اپنے دل کی باتیں خواہ ظاہر کر و یا چھپائو، اللہ اس کا حساب تم سے لے لے گا) کی تلاوت کی تو بہت روئے۔ ابن عباسؓ نے فرمایا: اس آیت کے نزول پر یہی حال دیگر صحابہ کا بھی ہوا تھا۔ وہ سخت پریشان ہوئے۔ حضورؐ سے عرض کیا کہ دل کے خیالات پر بھی پکڑے گئے تو بڑی مشکل ہوگی کیونکہ دلوں پر تو اختیار نہیں۔ آپؐ نے فرمایا: <<سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا>> کہو۔ انھوں نے جب یہ کہا تو آیت: <<لَا يُكَلِّفُ اللہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَا۰ۭ (البقرۃ۲ :۲۸۶)>> نازل ہوئی۔ اس آیت نے طے کردیا کہ عمل پر تو پکڑ ہوگی لیکن دل کے خیالات اور نفس کے وسوسوں پر پکڑ نہ ہوگی۔ (صحیح بخاری، کتاب العتق، صحیح مسلم، کتاب الایمان، مسنداحمد، تفسیر ابن کثیر)
عبد الله بن شداد کہتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نماز فجر کی امامت میں یہ آیت پڑھ رہے تھے: <<اِنَّمَآ اَشْكُوْا بَثِّيْ وَحُزْنِيْٓ اِلَى اللہِ (یوسف۲۱: ۸۶)>> ’’میں اپنی پریشانی اور غم کی فریاد اللہ ہی سے کرتا ہوں‘‘۔اس آیت کی تلاوت کے وقت ان کے رونے کی آواز میں سن رہا تھا حالانکہ میں اس وقت سب سے آخری صف میں تھا۔(بخاری، رقم : ۷۱۵، ابن ابی شیبہ ۷ / ۲۲۴)
تمیم داری پوری رات تہجد میں سورئہ جاثیہ کی یہ آیت پڑھتے رہے، یہاں تک کہ صبح ہوگئی: <<اَمْ حَسِبَ الَّذِيْنَ اجْتَرَحُوا السَّيِّاٰتِ…… (الجاثیہ۲۱:۴۵)>> ’’کیا وہ لوگ جنھوں نے برائیوں کا ارتکاب کیا ہے، یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ ہم انھیں اور ایمان لانے والوں کو اور نیک عمل کرنے والوں کو برابر کر دیں گے۔ ان کا جینا اور مرنا سب یکساں ہو جائے گا؟ بہت بُرے حکم ہیں جو یہ لگاتے ہیں‘‘۔(طبرانی بحوالہ ابن کثیر ۵ / ۸۴)
جُبیر بن مطعمؓ کہتے ہیں کہ میں نے نماز مغرب میں حضورؐ سے سورۂ طورسُنی جب حضوؐر آیت ۳۵، اور اس سے اگلی آیات پر پہنچے تو میری حالت یہ ہو گئی کہ: کادَقلبی اَن یَّطِيرَ (قریب تھا کہ میرا دل اڑ جاتا)۔ اس موقع پر ایمان میرے دل میں جا گزیں ہو گیا۔(صحیح بخاری، کتاب التفسیر، حدیث: ۴۰۲۳، ۴۸۵۴)