ماہنامہ ترجمان القرآن، جولائی 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (جولائی 2026) کا شمارہ ہے، جس میں آزاد کشمیر کی سیاسی و انتظامی صورتحال اور اس پر جماعت اسلامی پاکستان کے موقف پر تفصیلی مضمون شامل ہے۔
شمارے میں حضرت خدیجہؓ کی سیرت کے منفرد پہلو، پاکستان میں دستور سازی کا تاریخی پس منظر، اور تیونس کی تحریک النہضہ کی صورتحال پر مضامین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ صحابہ کرامؓ کے قرآن سے تعلق اور اخلاقی تعلیمات پر ایک منتخب سلسلہ بھی شامل ہے، اور آخر میں مولانا مودودیؒ کے دور پر ایک مختصر تحریر بھی درج ہے۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
مثالی اَزدواجی زندگی
مشیت ِالٰہی بھی یہی تھی کہ آیندہ آنے والی نسلوں کے سامنے نکاح کا صحیح مقصد بھی واضح ہوجائے اور اَزدواجی زندگی کا بہترین مثالی نمونہ بھی ہمیشہ کے لیے محفوظ ہوجائے جو رسولؐ اللہ اور حضرت خدیجہؓ کے اَزدواجی تعلق میں نظر آتا ہے۔
حضرت خدیجہؓ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکاح کے بعد نزول وحی تک پندرہ برس تک کا عرصہ گزارا۔ اس دوران اپنے شوہر کی عملی زندگی سے بہت کچھ سیکھا۔ حضرت خدیجہؓ کی قوتِ مشاہدہ بہت زبردست تھی۔ لوگوں کے مزاج و طبیعت اور ان کی نفسیات کو سیکھنے کی بھی عمدہ صلاحیت تھی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت خدیجہؓ کے درمیان اَزدواجی تعلق کا پچیس سالہ عرصہ اُمت مسلمہ کی تاریخ کا بہت ہی سبق آموز زمانہ ہے۔ اس پچیس سالہ دور میں ایک مثال بھی ایسی نہیں ملتی کہ کبھی بھی شوہر و بیوی کے درمیان ناگواری یا ناراضگی کا کوئی واقعہ پیش آیا ہو۔ اس کے برعکس باہمی اُلفت و محبت، ایک دوسرے کا خیال و احترام اور ایک دوسرے کے احساسات و جذبات کا خیال رکھتے ہوئے چوتھائی صدی ایک ساتھ گزاری۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہؓ کے ساتھ اپنی طویل اَزدواجی زندگی کے تجربے سے اُمت کی اصلاح کے لیے دو نتیجے اخذ کیے: ایک یہ کہ اگر گھر کو مکتب و درس گاہ بنا لیا جائے تو بچوں اور گھر میں موجود لوگوں کی بہتر تعلیم و تریت کا انتظام ہوسکتا ہے۔ یہ اسی وقت ممکن ہوسکتا ہے جب شوہر اور بیوی دونوں معلم و مربی بننے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ دوسرا نتیجہ یہ تھا کہ گھر آباد کرنے سے پہلے اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ آپ کا شریک ِحیات ایسا ہو جو خاندان میں بحیثیت معلم و مربی بہتراور مؤثر کردار ادا کرسکے۔ اس طرح شوہر اور بیوی مل کر بہترین اور مہذب خاندان کی تشکیل کرنے کے قابل ہوں گے، اس لیے کہ علم و عمل اور اخلاقِ کریمہ سے آراستہ خاندان ہی اچھے معاشرہ کی تعمیر میں ممدومعاون ہوتے ہیں۔