ماہنامہ ترجمان القرآن، جولائی 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (جولائی 2026) کا شمارہ ہے، جس میں آزاد کشمیر کی سیاسی و انتظامی صورتحال اور اس پر جماعت اسلامی پاکستان کے موقف پر تفصیلی مضمون شامل ہے۔
شمارے میں حضرت خدیجہؓ کی سیرت کے منفرد پہلو، پاکستان میں دستور سازی کا تاریخی پس منظر، اور تیونس کی تحریک النہضہ کی صورتحال پر مضامین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ صحابہ کرامؓ کے قرآن سے تعلق اور اخلاقی تعلیمات پر ایک منتخب سلسلہ بھی شامل ہے، اور آخر میں مولانا مودودیؒ کے دور پر ایک مختصر تحریر بھی درج ہے۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
پانی اور بجلی کے منصوبوں کی صورتِ حال
رپورٹ کے مطابق داسو ہائیڈرو پاور، دیامر بھاشا ڈیم اور نیلم جہلم ہائیڈرو پاور منصوبے طویل المدتی منصوبہ بندی کی ناکامیوں کے باعث قومی خزانے پر تقریباً۳۹ کھرب روپے کا بوجھ بنیں گے۔ توانائی کے یہ اہم منصوبے صرف مالی سال ۲۵-۲۰۲۴ء کے دوران ہی براہِ راست نقصانات، آمدنی میں کمی اور۳۵۸؍ارب کے خسارے کا سبب بنے چلے آ رہے ہیں۔ داسو منصوبے میں لاگت ۲۵۷ فی صد بڑھ گئی۔ جو تخمینہ۴۸۶؍ارب روپے تھا یہ بڑھ کر ۷۳۷,۱؍ارب ہو گیا ہے۔ دیامربھاشاڈیم کے منصوبے نے بھی بری طرح جکڑ لیا ہے جس کا بجٹ۴۷۹؍ارب تھا، لیکن اب بجلی بنانے کے لیے۱۴۲۴؍ارب مزید چاہئیں۔ توانائی کے یہ اہم منصوبے اس ایک مالی سال ۲۵-۲۰۲۴ء کے دوران ہی براہِ راست نقصانات، آمدنی میں کمی اور غیر منظور شدہ بجٹ اضافوں کی مد میں۳۵۸؍ارب روپے سے زائد کے مالی خسارے کا سبب بنے ہیں، جب کہ اس سے پہلے کا خسارہ الگ سے موجود ہے۔
بڑھتی لاگت کے ساتھ ساتھ نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ بھی بھاری آپریشنل نقصانات کا شکار ہے۔ رپورٹ کے مطابق منصوبے کو سالانہ ۲۹؍ ارب روپے کا خالص نقصان ہو رہا ہے، جب کہ پلانٹ کی بندش کے باعث کاروباری تعطل کا نقصان ۹۹؍ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔ مزید برآں، ٹیرف کی منظوری نہ ملنے کے باعث۳۴۶ء ۷۷ ؍ارب روپے کی آمدنی کا خسارہ بھی سامنے آیا ہے، جس سے نیلم جہلم منصوبہ شدید مالی بحران کا شکار ہے۔ اس وقت اس کے موجودہ واجبات، موجودہ اثاثوں سے ۸۹۴ء۳۰۷ ؍ارب روپے زیادہ ہیں۔داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کو عمل درآمد میں شدید ناکامیوں کا سامنا ہے۔
آڈٹ کے مطابق منصوبے کی عملی پیش رفت صرف ۲۶ء۰۸ فی صد ہے، حالانکہ اصل مالی مختص رقم کا ۸۳ء۸۴ فی صد استعمال کیا جا چکا ہے۔ اس کے نتیجے میں منصوبے کی تکمیل کی مدت۲۰۱۹ءسے بڑھ کر نومبر۲۰۲۸ء تک جا پہنچی ہے۔ جون۲۰۲۵ء تک پہلے مرحلے پر ۴۱۲ء۲۸۹ ؍ارب روپے خرچ کیے جا چکے ہیں، جب کہ ترقیاتی بجٹ کی مجموعی مختص رقم ۶۹۵ء۰۶۶ ؍ارب روپے تھی۔ عملی سطح پر منصوبہ۱۱سال گزرنے کے باوجود مطلوبہ تمام زمین حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔