مرکزی مواد پر جائیں
ماہنامہ ترجمان القرآن کی طرف واپس

ماہنامہ ترجمان القرآن، جولائی 2026

ماہنامہ شمارہ

مجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (جولائی 2026) کا شمارہ ہے، جس میں آزاد کشمیر کی سیاسی و انتظامی صورتحال اور اس پر جماعت اسلامی پاکستان کے موقف پر تفصیلی مضمون شامل ہے۔

شمارے میں حضرت خدیجہؓ کی سیرت کے منفرد پہلو، پاکستان میں دستور سازی کا تاریخی پس منظر، اور تیونس کی تحریک النہضہ کی صورتحال پر مضامین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ صحابہ کرامؓ کے قرآن سے تعلق اور اخلاقی تعلیمات پر ایک منتخب سلسلہ بھی شامل ہے، اور آخر میں مولانا مودودیؒ کے دور پر ایک مختصر تحریر بھی درج ہے۔

یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

حیا و حجاب

اظہارِ حُسن کے لیے بنائو سنگھار کرنا عورت کی عمومی عادت ہے۔ہر دور میں مردوں کی نسبت عورتیں فیشن کی زیادہ دلدادہ رہی ہیں۔ زمانۂ جاہلیت میں عورتیں اپنے سینوں پر کوئی اوڑھنی نہ ڈالتی تھیں۔ گردن، بال، چوٹی اور بالیاں وغیرہ صاف نظر آتی تھیں۔

جب سورۂ نور کی آیت ۳۱: <<وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِہِنَّ عَلٰي جُيُوْبِہِنَّ۝۰۠>> (اور وہ اپنی اوڑھنیوں کے آنچل اپنے سینوں پر ڈالے رہیں) نازل ہوئی تو خواتین نے اس پر کس طرح فوری عمل کیا، وہ حضرت عائشہ کے الفاظ میں سنئیے، فرماتی ہیں:’’اللہ تعالیٰ اوّلین مہاجر عورتوں پر رحم کرے کہ جب اللہ کا فرمان <<وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِہِنَّ عَلٰي جُيُوْبِہِنَّ ۝۰۠>> نازل ہوا تو انھوں نے اپنی بڑی بڑی چادروں کو پھاڑا اور انھیں اوڑھنیاں بنا لیا۔ بعض نے اپنے تہمد کے کنارے کاٹ کر ان سے سر ڈھانپ لیا‘‘۔(بخاری)

انصاری خواتین بھی قرآنی حکم پر من و عن عمل کرنے میں تاخیر کرنے والی نہ تھیں۔ حضرت عائشہؓ ہی فرماتی ہیں:’’بلاشبہ قریش کی عورتوں کے لیے بڑی فضیلت ہے اور اللہ کی قسم! میں نے انصار کی خواتین سے بڑھ کر کوئی عورت اللہ کی کتاب کی تصدیق اور نازل شدہ احکام پر ایمان لانے والی نہیں دیکھی۔ اللہ نے سورۂ نور میں آیت: <<وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِہِنَّ عَلٰي جُيُوْبِہِنَّ ۝۰۠>> نازل فرمائی تو ان کے مرد گھروالوں کی طرف لپکے اور جو حکم نازل ہوا، وہ انھیں سنایا تو ہر عورت اپنے نقش و نگار والی بڑی چادر کی طرف لپکی اور اللہ نے اپنی کتاب میں جو نازل کیا تھا، اس کی تصدیق کرتے اور ایمان لاتے ہوئے اپنے سروں کو اوڑھنیوں سے ڈھانپ لیا۔ جب انھوں نے اگلی صبح رسول اللہ کے پیچھے نماز فجر ادا کی تو دیکھا گیا کہ سب عورتوں نے خود کو ڈھانپا ہوا ہے۔ وہ ایسی لگتی تھیں گویا ان کے سروں پر کوّے بیٹھے ہوئے ہیں۔(تفسیر ابن ابی حاتم، رقم: ۱۴۴۰۶)

سورۂ احزاب کی آیت ۵۹: <<يُدْنِيْنَ عَلَيْہِنَّ مِنْ جَلَابِيْبِہِنَّ۝۰ۭ>> (اپنے اوپر اپنی چادروں کے پلو لٹکا لیا کریں) نازل ہوئی تو خواتین مدینہ نے اس پر کیسے عمل کیا، اس بارے میں اُم المومنین حضرت اُم سلمہؓ فرماتی ہیں کہ اس آیت کے اترنے کے بعد انصاری خواتین جب گھر سے باہر نکلتی تھیں تو اس طرح سکون اور اطمینان سے چلتی تھیں گویا ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہیں۔ سیاہ چادریں اپنے اوپر اُوڑھ لیا کرتی تھیں۔(سنن ابوداؤد، کتاب اللباس، تفسیرابن کثیر)