ماہنامہ ترجمان القرآن، جولائی 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (جولائی 2026) کا شمارہ ہے، جس میں آزاد کشمیر کی سیاسی و انتظامی صورتحال اور اس پر جماعت اسلامی پاکستان کے موقف پر تفصیلی مضمون شامل ہے۔
شمارے میں حضرت خدیجہؓ کی سیرت کے منفرد پہلو، پاکستان میں دستور سازی کا تاریخی پس منظر، اور تیونس کی تحریک النہضہ کی صورتحال پر مضامین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ صحابہ کرامؓ کے قرآن سے تعلق اور اخلاقی تعلیمات پر ایک منتخب سلسلہ بھی شامل ہے، اور آخر میں مولانا مودودیؒ کے دور پر ایک مختصر تحریر بھی درج ہے۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
2024-2030 کا روڈ میپ
۱۰لاکھ نوجوانوں تک تربیت کی توسیع:’بنو قابل انکیوبیشن سنٹرز‘ کا قیام، جہاں نوجوان اپنے اسٹارٹ اپ شروع کر سکیں اور ابتدائی رہنمائی حاصل کر سکیں۔
بین الاقوامی پارٹنرشپ: متحدہ عرب امارات، ملائیشیا اور سعودی عرب کے اداروں کے ساتھ تربیتی معاہدے، تاکہ نوجوان براہ راست بین الاقوامی مارکیٹ سے جڑ سکیں۔
تحقیقی جائزہ اور اعداد و شمار:آزاد تحقیقات کے نتائج کے مطابق پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (PIDE) کی ۲۰۲۳ء کی رپورٹ کے مطابق، بنو قابل کے نوجوانوں میں روزگار کی شرح ۶۷ فی صد ہے، جو قومی اوسط سے ۲۸ فی صد زیادہ ہے۔
تربیت یافتہ نوجوانوں کی ۸۲ فی صد نے خود کو ’ذہنی طور پر مطمئن اور پُرامید‘ قرار دیا۔ تربیت کے ۶ ماہ بعد ۷۴ فی صد نوجوانوں نے باقاعدہ آمدن حاصل کرنا شروع کر دی۔
ہنرمند پاکستان کی منزل:اگر پاکستان کو موجودہ بحران سے نکلنا ہے اور ایک مستحکم مستقبل کی تعمیر کرنی ہے تو:· نوجوانوں کو بوجھ نہیں، سب سے بڑا قومی سرمایہ سمجھنا ہوگا۔· سیاست کو ذاتی مفاد سے نکال کر خدمت، صلاحیت اور نظام سازی سے جوڑنا ہوگا۔· جنریشن Z کی سوچ، صلاحیتوں اور جذبات کو سنجیدگی سے سمجھنا اور انھیں مرکزِ توجہ بنانا ہوگا۔
’بنو قابل‘ محض ایک پروگرام نہیں، یہ ایک ممکنہ قومی ماڈل ہے، جو یہ ثابت کرتا ہے کہ درست رہنمائی، عملی تربیت اور اخلاقی بنیادوں پر پاکستان کا نوجوان دنیا کی کسی بھی قوم کا مقابلہ کرسکتا ہے اور ملک کی تقدیر بدل سکتا ہے۔ یہی حقیقی انقلابِ ہنر کی بنیاد ہے۔
’بنو قابل پروگرام‘ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ تربیت، اعتماد اور موقع کی کمیونی کیشن کسی بھی نعرے سے زیادہ طاقت ور ہوتی ہے۔ یہ محض ایک پروگرام نہیں، بلکہ ایک ثبوت ہے کہ پاکستانی نوجوان کو جب درست سمت مل جائے تو دنیا کو بدل سکتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ پروگرام ایک قومی تحریک بن جائے، جو پورے ملک کے نوجوانوں کو ’بوجھ‘ سے ’سرمایہ‘ میں تبدیل کردے۔
مہارت اور تربیت ساتھ ساتھ:کسی بھی قوم کی ترقی صرف ٹیکنیکل مہارتوں سے ممکن نہیں ہوتی۔ اگر ان مہارتوں کے ساتھ نظریاتی سمت، اخلاقی شعور اور مقصدِ حیات واضح نہ ہو۔ ہنر اگر کردار سے خالی ہو تو وہ فرد کو وقتی فائدہ تو دے سکتا ہے، مگر معاشرے کو عدل، امانت اور خیر نہیں دے سکتا۔ یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جسے اسلامی فکر نے ہمیشہ پیشِ نظر رکھا ہے۔
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ اس حقیقت کو نہایت جامع انداز میں بیان کرتے ہیں: ’’انسان کی اصل قدر اس کی صلاحیت میں نہیں بلکہ اس مقصد میں ہے جس کے لیے وہ اپنی صلاحیت استعمال کرتا ہے‘‘۔( تنقیحات)
’بنو قابل پروگرام‘ کی سب سے نمایاں اور منفرد خصوصیت یہی ہے کہ یہاں نوجوانوں کو صرف ڈیجیٹل مہارت نہیں سکھائی جاتی بلکہ ان کی فکری اور اخلاقی تربیت بھی کی جاتی ہے۔ اس پروگرام کے تحت نوجوانوں میں دیانت داری، وقت کی پابندی،نظم و ضبط،اجتماعی ذمہ داری، بامقصد زندگی اور خدمت ِخلق کا شعورپیدا کرنے کی منظم کوشش کی جاتی ہے۔ تربیتی نشستوں، رہنمائی سیشنز اور اساتذہ کے عملی رویّوں کے ذریعے نوجوان کو یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ اس کا ہنر محض ذاتی کمائی کا ذریعہ نہیں بلکہ قوم اور معاشرے کے لیے ایک امانت ہے۔
یوں بنو ’قابل پروگرام‘ کے تحت اسکل ٹریننگ اور نظریاتی تربیت کے ذریعے ایک متوازن، باوقار اور ذمہ دار نوجوان نسل کی تشکیل پیش نظر ہے، جو نہ صرف عہدِ حاضر کے تقاضوں کو پورا کرسکے بلکہ ملک و ملّت کے لیے سرمایۂ افتخار بن سکے۔