ماہنامہ ترجمان القرآن، جولائی 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (جولائی 2026) کا شمارہ ہے، جس میں آزاد کشمیر کی سیاسی و انتظامی صورتحال اور اس پر جماعت اسلامی پاکستان کے موقف پر تفصیلی مضمون شامل ہے۔
شمارے میں حضرت خدیجہؓ کی سیرت کے منفرد پہلو، پاکستان میں دستور سازی کا تاریخی پس منظر، اور تیونس کی تحریک النہضہ کی صورتحال پر مضامین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ صحابہ کرامؓ کے قرآن سے تعلق اور اخلاقی تعلیمات پر ایک منتخب سلسلہ بھی شامل ہے، اور آخر میں مولانا مودودیؒ کے دور پر ایک مختصر تحریر بھی درج ہے۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
شعبۂ تعلیم سے متعلق
اگرچہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن، وزارت سائنس اور ٹکنالوجی اور تعلیم ڈویژن کے بارے میں مجموعی طور پر اعتراضات پر مشتمل پیراگراف درج کیے گئے ہیں، لیکن یہاں پر قائداعظم یونی ورسٹی کے حوالے سے نشان دہی کی جارہی ہے کہ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (CDA) کی جانب سے قائداعظم یونی ورسٹی کو الاٹ کی گئی۱۷۰۹؍ ایکڑ اراضی میں سے۲۹۸؍ ایکڑ پر گذشتہ تقریباً ۵۰ برس سے نجی قابضین کا غیر قانونی قبضہ پوری قوت سے برقرار ہے۔ یونی ورسٹی انتظامیہ کو بار بار ہدایت کی گئی کہ وہ اس اراضی کو واگزار کرانے کے لیےمؤثر اقدامات کرے۔ کچھ پیش قدمی نہیں ہوئی۔ پھر یونی ورسٹی نے منہا کردہ انکم ٹیکس کی مد میں۱۷۷ ملین روپے بھی سرکاری خزانے میں جمع نہیں کرائے۔اس کے علاوہ ۳۵۶ ملین روپے کے اسکالرشپ فنڈز خرچ کرنے کے بجائے اس رقم سے سرمایہ کاری کی گئی۔ اس پر یونی ورسٹی کا موقف ہے کہ ’’یہ فنڈز عطیہ دہندگان کی شرائط کے مطابق استعمال کیے جا رہے ہیں‘‘۔ اسی طرح قائداعظم یونی ورسٹی کے مختلف مراکز کی جانب سے بغیر منظور شدہ پالیسی کے ۲۸۱ ملین روپے کی سرمایہ کاری سے متعلق اعتراض پر یونی ورسٹی نے کوئی جواب فراہم نہیں کیا___ اس کے علاوہ، لاہور کے سینٹر آف ایکسی لینس اِن مالیکیولر بائیولوجی نے مالی سال کے اختتام پر غیراستعمال شدہ فنڈز حکومت کو واپس کرنے کے بجائے ۵۰۰ ملین روپے کی سرمایہ کاری کر دی، جس کی کوئی وضاحت پیش نہیں کی گئی۔