ماہنامہ ترجمان القرآن، جولائی 2026
ماہنامہ شمارہمجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (جولائی 2026) کا شمارہ ہے، جس میں آزاد کشمیر کی سیاسی و انتظامی صورتحال اور اس پر جماعت اسلامی پاکستان کے موقف پر تفصیلی مضمون شامل ہے۔
شمارے میں حضرت خدیجہؓ کی سیرت کے منفرد پہلو، پاکستان میں دستور سازی کا تاریخی پس منظر، اور تیونس کی تحریک النہضہ کی صورتحال پر مضامین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ صحابہ کرامؓ کے قرآن سے تعلق اور اخلاقی تعلیمات پر ایک منتخب سلسلہ بھی شامل ہے، اور آخر میں مولانا مودودیؒ کے دور پر ایک مختصر تحریر بھی درج ہے۔
یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
دستور سازی کا پس منظر اور مشکلات
پاکستان کی دستورسازی کی صورتِ حال بہت پیچیدہ بن گئی تھی۔ انڈیا نے برطانیہ کے پارلیمانی نظام کو بطورِ وراثت اپنا لیا، کچھ اپنے ملک کے حالات کے لحاظ سے، اور کچھ اپنے نظریات تھوڑے بہت اِدھر اُدھر کرکے جیسے گائوکشی کے تحفظ وغیرہ کو رکھ کر دستور بنالیا۔
اس پورے پس منظر میں ہمارا معاملہ بہت مختلف تھا۔ اس لیے کہ ہم ایک ایسا نظام حکومت لانا چاہتے تھے جس کی اس وقت اور آج کے دور میں صفحۂ ہستی پہ کوئی نظیر موجود نہیں تھی۔ پہلے یقینا وہ نقش قائم ہوا تھا، لیکن آج حالات بہت مختلف تھے۔ مسئلہ یہ درپیش تھا کہ آج کے دور میں اس کو کیسے منطبق کیا جائے؟ موجودہ حالات میں اس موضوع پر بہت زیادہ لٹریچر اور ایسا کوئی بنا بنایا نقشہ بھی موجود نہیں تھا۔ رفتہ رفتہ اس مسئلے پر بحث شروع ہوئی۔ بہرحال اس سب کے باوجود اکتوبر ۱۹۴۸ء میں یعنی، پاکستان بننے کے سوا برس بعد یہ صورتِ حال پیدا ہو گئی کہ ہم اپنے دستور کا بنیادی پتھر رکھ سکیں اور ایک ’قرارداد مقاصد‘ میں ان اصولوں کو واضح کردیں، جن پر دستور بننا اور نظم مملکت کو چلنا چاہیے۔
قیامِ پاکستان کے کچھ ہی عرصے بعد سب سے پہلے جو بڑا سانحہ پیش آیا وہ یہ تھا کہ پاکستان کی سب سے عظیم شخصیت اور پاکستان کے بانی قائد اعظم کا انتقال ہوگیا۔ یہ اتنا بڑا سانحہ تھا کہ اس وقت لوگوں کا خیال تھا کہ اب پاکستان کو سنبھالنا مشکل ہوگا، لیکن بہرحال اللہ کو منظور تھا کہ ملک سنبھل جائے اور لیاقت علی خاں نے اسے سنبھالنے کے لیے پوری جدوجہد کی اور پوری قوم ان کے ساتھ تھی۔
غالباً نومبر ۱۹۴۸ء ہی میں ’قرارداد مقاصد‘ تیار ہو گئی تھی، لیکن یہ طے ہوا کہ اسے دستور ساز اسمبلی کے اگلے اجلاس میں پیش کیا جائے۔ اگلا اجلاس مؤخر ہوتے ہوتے مارچ۱۹۴۹ء تک آگیا، اور اس میں یہ قرارداد پیش کی گئی اور منظور ہوئی۔ اب اس کی بنیاد پر دستور بننا تھا۔ پھر اس موضوع پر مختلف لوگوں نے لکھنا شروع کیا اور اپنی حد تک وہ سمجھتے رہے کہ جو ہم لکھ رہے ہیں وہ گویا حرفِ آخر اور بالکل طے شدہ بات ہے۔ اس طرح متضاد باتیں سامنے آتی رہیں، جو زیادہ تر کتابی علم پر مبنی تھیں۔ ان میں قیاس آرائی کی یلغار اور خیالات کی جولانی تھی، لیکن عملاً بنیادی سوال یہ اُٹھایا جارہا تھا کہ دستور کو آج ان حالات میں کیسے نافذ کیا جائے؟
دوسری دشواری یہ تھی کہ ایک ایسا دستور ہونا چاہیے، جو ایک طرف قدیم طرزِ فکر کے علما کو مطمئن کر سکے اور وہ سمجھیں کہ یہ اسلامی دستور ہے، اور دوسری جانب ان ذہنوں کو بھی مطمئن کرسکے جو بہرحال اسلام کے ساتھ اپنی حمیت اور وابستگی کا اظہار کرتے، لیکن ان کا ذہن مغربی تعلیم کی وجہ سے بہت بدل چکا ہے۔ گویا ایسا دستور بننا چاہیے جو علما اور جدید ذہن کے لوگوں کو مطمئن کرسکے۔ یہ بات نہیں ہے کہ ان دونوں مکاتب فکر میں سارے ہی غیرمخلص لوگ تھے۔ بیش تر لوگ مخلص ہی تھے اور تھوڑے بہت لوگ مخلص نہیں تھے۔ لیکن ان دونوں میں یہ کمی تھی کہ وہ ایک نظم مملکت چلانے کا کوئی خاص تجربہ نہیں رکھتے تھے۔ اس لیے کہ ایک عرصے سے یہ کام ہوا ہی نہیں تھا۔ علما کے درسیات میں بھی یہ چیزیں نہیں تھیں اور درسیات میں ہوتی بھی کیوں؟ اس لیے کہ جب اس مسئلے سے واسطہ ہی نہیں پڑ رہا تھا، کہیں اسلامی حکومت ہی نہیں تھی، تو نظمِ حکومت پر کتابیں اور اس پر بحثیں ایک غیرمتعلق چیز تھی۔ جن چیزوں سے روز مرہ کام پڑتا تھا، انھی کے علما ہمارے ہاں تیار ہوتے تھے۔ دوسرے فریق کا قصہ یہ تھا کہ اس میں جذباتی سطح پر تعلق ضرور تھا ، لیکن اسلام سے کوئی گہری واقفیت نہیں تھی، اور اصلی ماخذ تک ان کی رسائی نہیں تھی۔ پھر بہت کچھ مستشرقین سے انھوں نے سیکھا تھا، یا پھر اپنے ذاتی مطالعے سے سمجھا تھا۔
ان دو متضاد ذہنوں کو بیک وقت مطمئن کر کے ہی آگے بڑھا جاسکتا تھا۔ ان دونوں میں ایک بھی اگر غیر مطمئن رہتا تو پاکستان کے قیام اور اس کی بقا کے لیے بڑی خطرناک صورت پیدا ہوجاتی۔ اس کش مکش سے ہمیں گزرنا پڑا۔ پھر ایک دشواری یہ پیدا ہوگئی کہ یہاں پر وہ یک جہتی ورثے میں نہ ملی جو ہندوؤں میں موجود تھی۔ بلاشبہ قائد اعظم کی قیادت میں مسلمانوں میں وحدتِ عمل قائم ہوئی تھی، جو اس منزل کو پانے کے بعد برقرار نہ رہ سکی۔ پھر کچھ لوگوں کی نظریں متروکہ مالِ غنیمت جمع کرنے کی طرف پھسل گئیں۔ کچھ لوگوں کی توجہ اپنے مقامی، صوبائی اور دوسرے طبقاتی مفادات کی طرف ہوگئی۔ اس وجہ سے پیچیدگیاں ایک سیلاب کی صورت اُمڈ آئیں۔
عام طور پہ تو یہی سمجھا جاتا ہے کہ ’جولوگ برسرِاقتدار تھے، وہ اسلام کے نفاذ کے لیے تیار نہیں تھے، اس وجہ سے دستور سازی میں دیر ہوتی رہی‘، مگر صحیح صورت حال یہ نہیں ہے۔ جتنی مرتبہ تاخیر ہوئی اور معاملہ مؤخر اور ملتوی کیا گیا، اس کی بنیاد صوبوں کے درمیان اختیارات کی تقسیم اور مرکز اور صوبوں کے تعلقات کا قصّہ تھا۔ یہ پہلو پوری طرح منظر عام پر نہیں آیا، لیکن اندرونی سطح پر جو بحران بھی پیدا ہوتا، اس کا بنیادی سبب یہی ہوتا تھا۔ اس مسئلے کے حل کے لیے کبھی یہ فارمولا آیا اور کبھی وہ فارمولا آیا۔ یہاں تک کہ ہوتے ہوتے بہرحال ۱۹۵۴ء میں ایک دستور بن گیا، مگر اس وقت چونکہ ہم نے برطانوی پارلیمانی نظام اپنا لیا تھا اور شخصیتوں کے باہم تصادم کے ساتھ ساتھ دو نظاموں کا تصادم بھی ہو گیا اور وہ بنابنایا دستور اٹھا کے پھینک دیا گیا۔ اس وقت یہ بھی کش مکش موجود تھی کہ فلاں صوبے کو کیا مل رہا ہے اور فلاں صوبے کو کیا نہیں مل رہا؟ چنانچہ ۱۹۵۴ء کا دستور اٹھا کر پھینک دیا گیا اور اسمبلی بھی ختم کر دی گئی۔
اس سے پہلے بانیانِ پاکستان میں جو ممتاز شخصیتیں تھیں، ان میں سے لیاقت علی خاں کو ۱۹۵۱ء میں شہید کردیا گیا۔ علما میں مولانا شبیر احمد عثمانی رحمۃ اللہ علیہ جن کا قراردادِ مقاصد منظور کرانے میں بڑا نمایاں حصہ رہا، ان کا بھی ۱۹۴۹ء میں انتقال ہو چکا تھا۔ اب قومی قیادت میں کوئی اتنی بڑی شخصیت باقی نہ تھی اور دوسری جانب افرا تفری بڑھتی چلی جارہی تھی۔
۱۹۵۶ء میں ایک دوسرا دستور آیا۔ اگر آپ غور کریں تو وہ اس لیے بن سکا کہ کسی نہ کسی طرح صوبائی مسئلہ اس میں ایک خاص انداز سے حل کیا گیا۔ اگرچہ سب لوگ اس پر بھی مطمئن نہیں تھے، لیکن بہرحال کچھ حکومت کی کوشش اور کچھ حکومت کے اثرات اور کچھ جبر اور کچھ ترغیب و ترہیب سے وہ دستور بن گیا۔ اب اس عرصے میں چوٹی کے سیاست دان اور سیاست دانوں سے میری مراد ان لوگوں سے ہے، جو قیام پاکستان کی جدوجہد میں نمایاں حیثیت رکھتے تھے، وہ میدان سے ہٹ چکے تھے۔ لیکن اگر اثرانداز ہونے کی صلاحیت رکھنے والے کچھ لوگ موجود تھے تو وہ ثانوی درجے کے لوگ تھے۔ اس طرح خلفشار بڑھتا گیا اور طالع آزما اور اقتدار کے بھوکے لوگ سازشیں کرنے لگے۔ اس طرح وہ پورا دور چلتا رہا ہے۔یہ دستور سازی کے عمل کا تاریخی پس منظر ہے۔
اگر پاکستان کی بقا اور اس کے استحکام اور اسلام کے فروغ کے نقطۂ نظر سے سوچا جائے تو دستور کا نفاذ اور اس پر عمل درآمد کوئی ایسی دشواربات نہیں تھی اور نہیں ہے۔ تاہم، بیرونی خطرات تو اپنی جگہ تھے، اندرونی خدشات بھی اس عرصے میں بڑھ چکے تھے۔ مگر یہ معاملہ پہلے دور کی حد تک ختم نہیں ہوا، آج تک برقرار ہے۔اس لیے کہ باہر کی طاقتوں نے ہمارے قومی وجود میں کافی ریشہ دوانیاں کرلی ہیں اور اپنے آدمی پیدا کرلیے ہیں۔ لیکن اس سب کے باوجود کوئی مسئلہ ایسا لاینحل نہیں ہے، بشرطیکہ اخلاص ہو۔ یعنی ایک طرف اخلاص ہو اور دوسری طرف کچھ کر گزرنے کی پوری قوت بھی ہو۔ اب ایک آدمی مارشل لا میں برسرِاقتدار آتا ہے، لیکن یہ ضروری نہیں ہے کہ ساری طاقت اسی کے پاس ہو۔اس کے اعوان و انصار کیا مشورہ دیتے ہیں اور کیا نہیں دیتے؟ اس چیز کا علم باہر نہیں ہوتا مگر مشورہ دینے والے وہ لوگ اگر ملّی، دینی، قومی سوچ رکھ کر مشورہ دیں تو اصحابِ اختیار انھیں ماننے کے لیے تیار ہوسکتے ہیں، لیکن افسوس کہ اہل حل و عقد دیانت دارانہ اور بروقت مشورہ دینے سے اجتناب کرکے انتہا درجے کا ظلم کرتے ہیں۔