مرکزی مواد پر جائیں
ماہنامہ ترجمان القرآن کی طرف واپس

ماہنامہ ترجمان القرآن، جولائی 2026

ماہنامہ شمارہ

مجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (جولائی 2026) کا شمارہ ہے، جس میں آزاد کشمیر کی سیاسی و انتظامی صورتحال اور اس پر جماعت اسلامی پاکستان کے موقف پر تفصیلی مضمون شامل ہے۔

شمارے میں حضرت خدیجہؓ کی سیرت کے منفرد پہلو، پاکستان میں دستور سازی کا تاریخی پس منظر، اور تیونس کی تحریک النہضہ کی صورتحال پر مضامین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ صحابہ کرامؓ کے قرآن سے تعلق اور اخلاقی تعلیمات پر ایک منتخب سلسلہ بھی شامل ہے، اور آخر میں مولانا مودودیؒ کے دور پر ایک مختصر تحریر بھی درج ہے۔

یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

قسم سے رجوع

کسی بھلائی کے نہ کرنے کی قسم کھانا ایک اظہار ہوتا ہے کہ جس شخص کے ساتھ وہ بھلائی نہیں کی جائے گی، اس سے آدمی کو حد درجہ نفرت ہے یا اس سے قسم کھانے والے کی سخت دلآزاری ہوئی ہے۔ صحابہ نے بھی ایسی قسمیں کھائیں۔ لیکن اگر قرآن میں اس کے برعکس حکم آگیا تو ان کی کیفیت کیا ہوتی تھی؟

اُم المومنین حضرت عائشہؓ پر جب منافقین نے تہمت لگائی تو ان کے پراپیگنڈے کے زیر اثر حضرت ابوبکرؓ کی خالہ زاد بہن کے بیٹے مسطحؓ بن اثاثہ بھی الزام لگانے والوں میں شامل ہو گئے۔ حالانکہ حضرت ابوبکرؓ مسطحؓ اور ان کی والدہ کی مالی کفالت کرتے تھے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جب اللہ نے (سورۃ النور میں) میری برأت نازل فرما دی تو حضرت ابوبکرؓ نے قسم کھائی کہ آئندہ وہ مِسطحؓ بن اثاثہ کی مدد نہیں کریں گے کیونکہ انھوں نے نہ رشتہ داری کا لحاظ کیا اور نہ ان احسانات کی لاج رکھی جو ساری عمر ابوبکر ان پر اور ان کے خاندان پر کرتے رہے تھے۔ اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی: وَلَا يَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ..... <<اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ يَّغْفِرَ اللہُ لَكُمْ۝۰ۭ (النور۲۴: ۲۲)>> ’’تم میں سے جو لوگ مال دار اور صاحب استطاعت ہیں، وہ اس بات کی قسم نہ کھابیٹھیں کہ اپنے رشتہ دار مسکین اور مہاجر فی سبیل اللہ لوگوں کی مدد نہ کریں گے۔ انھیں معاف کردو اور درگزر کرو۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تمھیں معاف کردے‘‘۔ یہ الفاظ سنتے ہی ابوبکرؓ نے کہا: <<بَلٰی اَنَا نُحِبُّ اَن تَغْفِرَلَنَا یَا رَبَّنَا>>، کیوں نہیں! واللہ ہم ضرور چاہتے ہیں کہ اے ہمارے رب تو ہماری خطائیں معاف فرما دے۔

چنانچہ آپؓ نے مسطحؓ بن اثاثہ کی مدد بحال کر دی اور ان پر پہلے سے بھی زیادہ احسان کرنے لگے۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ کی یہ روایت ہے کہ حضرت ابوبکرؓ کے علاوہ یہ قسم بعض دیگر صحابہ نے بھی کھائی تھی کہ جن جن لوگوں نے اس بہتان میں حصہ لیا ہے، ان کی وہ مدد نہ کریں گے۔ اس آیت کے نزول کے بعد ان سب نے اپنی قسم سے رجوع کر لیا۔(تفسیر ابن کثیر، ۳/ ۵۹۹، تفہیم القرآن ۳/ ۳۷۲)

حضرت حسن بصریؒ روایت کرتے ہیں کہ حضرت معقلؓ بن یسار نے بیان کیا کہ:میں نے اپنی بہن کی شادی ایک شخص سے کرائی جس کے بعد اس نے اسے طلاق دے دی۔ یہاں تک کہ جب عدت ختم ہو گئی تو وہ پیغامِ نکاح لے کر پھر آگیا۔ میں نے اسے کہا: میں نے تو تیری شادی کرائی تھی اور اپنی بہن کو تیرے لیے بستر بنا دیا تھا، تیری عزت کی تھی لیکن تم نے اسے طلاق دے دی۔ اب تم اسے نکاح کا پیغام دینے آئے ہو۔ اللہ کی قسم! اب میری بہن تمھاری زوجیت میں کبھی نہیں آئے گی۔ البتہ وہ اپنی محبت میں سچا تھا۔ اس شخص میں کوئی عیب بھی نہیں تھا۔ میری بہن بھی لوٹنا چاہتی تھی ( معقل ہی رکاوٹ تھے)۔ اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی:

<<وَاِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاۗءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَہُنَّ فَلَا تَعْضُلُوْھُنَّ اَنْ يَّنْكِحْنَ اَزْوَاجَہُنَّ اِذَا تَرَاضَوْا بَيْنَہُمْ بِالْمَعْرُوْفِ۝۰ۭ (البقرہ۲: ۲۳۲)>>جب تم عورتوں کو طلاق دے دو، پھر وہ اپنی عدت پوری کر لیں تو پھر انھیں اپنی پسند کے شوہروں سے نکاح کرنے سے نہ روکو، جب کہ معروف طریقے سے وہ باہمی نکاح پر راضی ہوں۔

معقلؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: یارسول اللہ میں اللہ کے حکم پر ضرور عمل کروں گا۔ چنانچہ انھوں نے نئے نکاح کے ساتھ اپنی بہن کی شادی اسی آدمی سے کر دی۔(صحیح بخاری)