مرکزی مواد پر جائیں
ماہنامہ ترجمان القرآن کی طرف واپس

ماہنامہ ترجمان القرآن، جولائی 2026

ماہنامہ شمارہ

مجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (جولائی 2026) کا شمارہ ہے، جس میں آزاد کشمیر کی سیاسی و انتظامی صورتحال اور اس پر جماعت اسلامی پاکستان کے موقف پر تفصیلی مضمون شامل ہے۔

شمارے میں حضرت خدیجہؓ کی سیرت کے منفرد پہلو، پاکستان میں دستور سازی کا تاریخی پس منظر، اور تیونس کی تحریک النہضہ کی صورتحال پر مضامین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ صحابہ کرامؓ کے قرآن سے تعلق اور اخلاقی تعلیمات پر ایک منتخب سلسلہ بھی شامل ہے، اور آخر میں مولانا مودودیؒ کے دور پر ایک مختصر تحریر بھی درج ہے۔

یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

حکومت آزاد کشمیر کا مطلوبہ کردار

آزاد جموں و کشمیر جماعت اسلامی کا موقف یہ ہے کہ انڈیا کی جانب سے اگست۲۰۱۹ء میں جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد آزاد جموں و کشمیر کی حکومت اور اسمبلی کو پوری ریاست جموں و کشمیر کی نمائندہ حکومت اور اسمبلی قرار دیا جائے اور اس مقصد کے لیے حکومتِ پاکستان اور دیگر متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے ذریعے ضروری آئینی اور انتظامی اقدامات کیے جائیں۔

اسی طرح آزاد جموں و کشمیر جماعت اسلامی نے پاکستان میں

مقیم مہاجرین کی نشستوں کے تعین کو ووٹرز کی تعداد سے منسلک کرنے،

جموں اور وادی کی تخصیص ختم کرنے، ترقیاتی فنڈز اور تقرریوں و تبادلوں کے اختیارات کے خاتمے،

حریت کانفرنس، متحدہ جہاد کونسل اور مہاجرین ۱۹۸۹ء کی نمائندگی،

کابینہ کے حجم میں کمی، میرٹ پر تقرریوں، عدالتی اصلاحات،

نظامِ زکوٰۃ و عشر کی بہتری اور شفافیت، پن بجلی کے وسائل سے عمومی استفادے،

خوراک اور لائیو اسٹاک میں خود کفالت، صحت اور تعلیم کی معیاری سہولیات،

بلدیاتی اداروں کے استحکام، آمدورفت کے انفراسٹرکچر کی ترقی،

میرپور انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور ڈرائی پورٹ کے قیام،

منگلا ڈیم کے متاثرین کے مسائل کے حل،

عوامی نمائندوں کی مراعات کے خاتمے،

کشمیر پراپرٹی کے تحفظ جیسے اہم نکات بھی اپنے چارٹر آف ڈیمانڈ میں پیش کر کے عوام کے دُکھ درد اور جائز مطالبات کو زبان دی ہے۔ ان مسائل میں سے متعدد کا تعلق براہِ راست عام آدمی کی روزمرہ زندگی سے ہے۔ جب کہ بجلی، صحت، انصاف، روزگار، انفراسٹرکچر، مقامی حکومتوں اور گڈ گورننس کے حوالے سے پیش کی گئی یہ تجاویز سنجیدہ غور و فکر اور وسیع سیاسی اتفاقِ رائے کا تقاضا کرتی ہیں، تاکہ منفی پراپیگنڈے، جذباتیت اور اشتعال انگیزی پر مبنی سیاست سے بچا جا سکے۔