مرکزی مواد پر جائیں
ماہنامہ ترجمان القرآن کی طرف واپس

ماہنامہ ترجمان القرآن، جولائی 2026

ماہنامہ شمارہ

مجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (جولائی 2026) کا شمارہ ہے، جس میں آزاد کشمیر کی سیاسی و انتظامی صورتحال اور اس پر جماعت اسلامی پاکستان کے موقف پر تفصیلی مضمون شامل ہے۔

شمارے میں حضرت خدیجہؓ کی سیرت کے منفرد پہلو، پاکستان میں دستور سازی کا تاریخی پس منظر، اور تیونس کی تحریک النہضہ کی صورتحال پر مضامین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ صحابہ کرامؓ کے قرآن سے تعلق اور اخلاقی تعلیمات پر ایک منتخب سلسلہ بھی شامل ہے، اور آخر میں مولانا مودودیؒ کے دور پر ایک مختصر تحریر بھی درج ہے۔

یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

پاکستان ریلویز

پاکستان ریلویز کو مالی سال ۲۵-۲۰۲۴ء کے دوران۶۱ ؍ارب روپے سے زائد کا خالص نقصان برداشت کرنا پڑا، جو گذشتہ مالی سال کے مقابلے میں۹ ؍ارب روپے یا۱۹ء۱۱ فی صد زیادہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق مالی سال ۲۵-۲۰۲۴ءمیں پاکستان ریلویز کو ۶۰ ارب روپے کا آپریٹنگ خسارہ ہوا،جب کہ آپریٹنگ نقصان کی شرح۶۵ فی صد تک پہنچ گئی۔گذشتہ پانچ مالی برسوں کے اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ مالی بحران مسلسل شدت اختیار کر رہا ہے۔ مالی سال۲۵-۲۰۲۴ء میں مجموعی آمدنی ۹۲ء۷؍ارب روپے رہی،جب کہ کل آپریٹنگ اخراجات تقریباً ۱۵۳؍ارب روپے تک پہنچ گئے۔ آڈٹ کے دوران پاکستان ریلویز اور اس کی ذیلی کمپنیوں کے خلاف مجموعی طور پر ۳۴ء۴۲ ؍ارب روپے کی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی۔ اس پس منظر میں ریلوے کی طویل المدتی منافع بخش ہونے کی صلاحیت شدید متاثر نظر آتی ہے۔

یہ تو محض چند مثالیں ہیں، اگرچہ ان کی مزید تفصیلات دیکھی جائیں تو ہوش ربا صورت سامنے آتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کے مالیاتی نظام کو بہتر بنانے کے لیے ڈیجی ٹلائزیشن ناگزیر ہے۔ ان بدعنوانیوں اوربدانتظامیوں کا ایک بڑا سبب کاغذی نظام کے تحت لین دین ہے۔ اگر سرکاری خدمات کو مکمل طور پر ڈیجی ٹلائز کیا جائے تو بدعنوانی اورسُست روی کو نمایاں طور پر کم کیا جاسکتاہے۔ سرکاری دفاتر میں فائلیں ضائع کردی جاتی ہیں۔ بدعنوانی اور رشوت ستانی کو فروغ دینے کے لیے شہریوں اور صارفین کو باربار چکّر لگانے پر مجبور کیا جاتاہے۔ بغیر رسیدکے لین دین کیا جاتاہے، جس میں رشوت ستانی کا بڑا پھاٹک کھلا رہتاہے۔ اس لیے سرکاری مالی خدمات کو آئن لائن منتقل کیا جائے، وصولیوں میں بہتری لائی جائے۔ مالی لین دین میں فراڈ کی روک تھام کی جائے۔