مرکزی مواد پر جائیں
ماہنامہ ترجمان القرآن کی طرف واپس

ماہنامہ ترجمان القرآن، جولائی 2026

ماہنامہ شمارہ

مجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (جولائی 2026) کا شمارہ ہے، جس میں آزاد کشمیر کی سیاسی و انتظامی صورتحال اور اس پر جماعت اسلامی پاکستان کے موقف پر تفصیلی مضمون شامل ہے۔

شمارے میں حضرت خدیجہؓ کی سیرت کے منفرد پہلو، پاکستان میں دستور سازی کا تاریخی پس منظر، اور تیونس کی تحریک النہضہ کی صورتحال پر مضامین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ صحابہ کرامؓ کے قرآن سے تعلق اور اخلاقی تعلیمات پر ایک منتخب سلسلہ بھی شامل ہے، اور آخر میں مولانا مودودیؒ کے دور پر ایک مختصر تحریر بھی درج ہے۔

یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

پاکستان میں دستور سازی کا پس منظر

قیامِ پاکستان ہی کے زمانے سے کسی نہ کسی عنوان اور کسی نہ کسی حیثیت میں ، مَیں دستورسازی سے منسلک رہا ہوں۔ اس لیے احباب کا تقاضا ہوتا ہے کہ اس کے بارے میں کچھ مشاہدات بتائوں کہ پاکستان کی دستور سازی میں غیرمعمولی تاخیر کیوں ہوئی؟

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا قیام جن اغراض کے تحت عمل میں آیا تھا، ان میں ایک غرض یہ بھی تھی کہ یہاں اسلام کے مطابق نظامِ حکومت قائم کیا جائے۔ پاکستان کی تحریک ایک بہت طویل تحریک کے آخری باب کی حیثیت رکھتی ہے۔ وہ طویل تحریک اس طرح شروع ہوئی کہ انیسویں صدی میں یہاں مسلمانوں کا سیاسی زوال جب اپنی انتہا کو پہنچ گیا، تو لوگوں نے محسوس کرنا شروع کیا کہ اب ہمارا مستقبل کیا ہے اور زوال کے مسئلے کو ہم کس طرح درست راستے پر ڈال سکتے ہیں اوراپنی شوکتِ رفتہ کی بازیابی کے لیے کچھ کرسکتے ہیں یا نہیں؟ اس سلسلے میں مفکرین،علما، ادبا، شعرا سبھی اپنے اپنے طور پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے رہے۔ یوں مختلف جہتوں میں یہ جدوجہد شروع ہوئی، جو آخرکار قائداعظمؒ کی قیادت میں ۱۴؍اگست ۱۹۴۷ء کو پاکستان کے قیام پر منتج ہوئی۔

اس تحریک کے دوران یہ مقصد بھی سامنے آتا رہا کہ اگر ایک مملکت مسلمانوں کو ملے گی تو وہاں مسلمان اپنے دین، اپنے ایمان، اپنی اقدار اور اپنی تہذیب و ثقافت کے مطابق نظمِ حکومت قائم کریں گے اور یہ ان کا دینی حیثیت سے فریضہ بھی ہوگا۔ اسی کے ساتھ ساتھ جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں، ان کے لیے بھی قوت ثابت ہوں گے، اور اتحاد عالم اسلامی کے لیے بھی ایک مؤثر طاقت بن سکیں گے۔ بہرحال تحریک پاکستان کے یہ مختلف مقاصد تھے۔