مرکزی مواد پر جائیں
ماہنامہ ترجمان القرآن کی طرف واپس

ماہنامہ ترجمان القرآن، جولائی 2026

ماہنامہ شمارہ

مجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (جولائی 2026) کا شمارہ ہے، جس میں آزاد کشمیر کی سیاسی و انتظامی صورتحال اور اس پر جماعت اسلامی پاکستان کے موقف پر تفصیلی مضمون شامل ہے۔

شمارے میں حضرت خدیجہؓ کی سیرت کے منفرد پہلو، پاکستان میں دستور سازی کا تاریخی پس منظر، اور تیونس کی تحریک النہضہ کی صورتحال پر مضامین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ صحابہ کرامؓ کے قرآن سے تعلق اور اخلاقی تعلیمات پر ایک منتخب سلسلہ بھی شامل ہے، اور آخر میں مولانا مودودیؒ کے دور پر ایک مختصر تحریر بھی درج ہے۔

یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

انفاق فی سبیل اللہ

مال ہر انسان کو محبوب اور مرغوب ہے، اِنَّهٗ لِحُبِّ الْخَیْرِ لَشَدِیْدٌ (العادیات ۱۰۰:۸) یہ انسان کو سہولتیں مہیا کرنے کا بھی ذریعہ ہے اور سماجی حیثیت (status) کے اظہار کا بھی۔ صحابہ بھی انسان تھے۔ انھیں بھی ان چیزوں کی ضرورت تھی لیکن جب قرآن کا حکم آیا تو انھوں نے خرچ کرنے سے دریغ نہ کیا:

<<لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ۝۰ۥۭ (اٰل عمرٰن۳:۹۲)>> تم نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ تم اپنی وہ چیزیں (راہِ خدا میں) خرچ نہ کرو جنھیں تم محبوب رکھتے ہو۔

حضرت ابوطلحہ انصاریؓ مال دار صحابی تھے۔ مسجد نبویؐ کے سامنے بیرحا نام کا ان کا ایک باغ تھا جس کا خوش ذائقہ پانی نوش کرنے کے لیے حضوؐر بھی تشریف لے جایا کرتے تھے۔ جب مذکورہ آیت نازل ہوئی تو حضرت ابوطلحہؓ نے بارگاہِ رسالت میں عرض کیا: یارسولؐ اللہ! میرا سب سے زیادہ پیارا مال یہ باغ ہے۔ میں آپؐ کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اسے راہِ خدا میں وقف کردیا۔ اللہ مجھے نیکی عطا فرمائے۔(بخاری و مسلم، کتاب الزکوٰۃ، مسنداحمد)

حضرت عمرفاروقؓ نے خدمت نبوی میں عرض کیا کہ مجھے اپنے تمام مال میں سب سے زیادہ محبوب و مرغوب چیز خیبر کی زمین کا قطعہ ہے، میں اسے راہِ خدا میں دینا چاہتا ہوں، فرمائیے کیا کروں؟

آپ نے فرمایا: ’’اسے وقف کردو‘‘۔(بخاری، مسلم، کتاب الوصایا)

حضرت عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ میں نے اس آیت کی تلاوت کرکے سوچا تو مجھے سب سےزیادہ پیاری چیز ایک لونڈی لگی۔ چنانچہ میں نے اس لونڈی کو راہ خدا میں آزاد کر دیا۔ اب تک بھی میرے دل میں اس کی ایسی محبت ہے کہ اگر کسی چیز کو اللہ کے نام پر دے کر واپس لے لینا جائز ہوتا تو میں کم از کم اس سے نکاح کرلیتا۔(مسند بزاز بحوالہ تفسیر ابن کثیر)

ارشاد باری تعالیٰ ہے: <<مَنْ ذَا الَّذِيْ يُقْرِضُ اللہَ قَرْضًا حَسَـنًا (الحدید۵۷: ۱۱)>> کون ہے جو اللہ کو قرض دے، بہترین قرض۔

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضرت ابوالدحداح انصاریؓ نے عرض کیا: یارسول اللہ! کیا اللہ ہم سے قرض چاہتا ہے؟ حضورؐ نے جواب دیا: ہاں۔ ابودحداحؓ نے یہ سن کر عرض کیا: ذرا اپنا ہاتھ میری طرف کیجیے۔‘‘ آپؐ نے اپنا ہاتھ ان کی طرف بڑھایا تو انھوں نے آپؐ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھاما اور کہا: میں نے اپنا باغ اپنے رب کو قرض دے دیا۔‘‘ حدیث کے راوی حضرت عبداللہؓ بن مسعود فرماتے ہیں کہ اس باغ میں کھجور کے چھ سو درخت تھے۔ اس میں ان کا گھر بھی تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات کرکے وہ سیدھے باغ میں پہنچے اور گھر کے دروازے پر کھڑے کھڑے بیوی کو پکار کر کہا: ’’اے دحدح کی ماں! بچے کو لے کر باہر نکل آئو۔ یہ باغ میں نے اللہ کو قرض دے دیا ہے۔‘‘ یہ سن کر اس اللہ کی بندی نے بڑی خوش دلی سے کہا:’’اے دحدح کے باپ! تم نے بڑے نفع کا سودا کیا ہے۔‘‘ یہ کہتے ہوئے انھوں نے اپنے بچے اور سامان کو لیا اور باغ سے باہر نکل آئیں۔(ابن ابی حاتم، تفسیر ابن کثیر)