مرکزی مواد پر جائیں
ماہنامہ ترجمان القرآن کی طرف واپس

ماہنامہ ترجمان القرآن، جولائی 2026

ماہنامہ شمارہ

مجموعہ: ماہنامہ ترجمان القرآن

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ ماہنامہ ترجمان القرآن (جولائی 2026) کا شمارہ ہے، جس میں آزاد کشمیر کی سیاسی و انتظامی صورتحال اور اس پر جماعت اسلامی پاکستان کے موقف پر تفصیلی مضمون شامل ہے۔

شمارے میں حضرت خدیجہؓ کی سیرت کے منفرد پہلو، پاکستان میں دستور سازی کا تاریخی پس منظر، اور تیونس کی تحریک النہضہ کی صورتحال پر مضامین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ صحابہ کرامؓ کے قرآن سے تعلق اور اخلاقی تعلیمات پر ایک منتخب سلسلہ بھی شامل ہے، اور آخر میں مولانا مودودیؒ کے دور پر ایک مختصر تحریر بھی درج ہے۔

یہ متن Tarjuman-ul-Quran Archive سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

دعوتِ دین میں معاونت

دارِ خدیجہ اس طرح ایک مؤثر درس گاہ بن چکا تھا۔ اگرچہ دعوت و تعلیم کا کام ابھی خفیہ ہی تھا اور اسلام قبول کرنے والوں کی تعداد بھی کم ہی تھی لیکن بتدریج بڑھ رہی تھی۔ جو لوگ اسلام قبول کرچکے تھے وہ پورے اخلاص اور یقین محکم کے ساتھ اپنے عقیدہ پر جمع ہوئے تھے۔ مشرکین مکہ کو بہرحال اندازہ ہوگیا تھا کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم نےتوحید کی دعوت شروع کردی ہے اور بُت پرستی کو لغوکہہ کر مکمل طور پر رَد کر دیا ہے۔ اس لیے انھوں نے دعوت کے کام میں رکاوٹیں ڈالنا شروع کر دیں۔ وہ خاص طور پر حضرت خدیجہؓ کے گھر آنے جانے والوں پر نظر رکھتے اور رکاوٹیں پیداکرنے کی کوشش کرتے۔

اس صورتِ حال سے بچنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دارالارقم کا انتخاب کیا، اور وہاں پر خفیہ طریقے سے تعلیم و تربیت کا کام شروع کر دیا۔ رسولؐ اللہ جس زمانے میں دعوتی اُمور دارالارقم میں انجام دے رہے تھے، حضرت خدیجہؓ یہی کام اپنے گھر پر انجام دے رہی تھیں۔ اس لیے کہ وہاں اعزہ و اقارب اور خواتین کی آمدورفت کا سلسلہ جاری تھا۔ یہ تمام زائرین حضرت خدیجہؓ کے علم و عمل سے مستفید ہوتے رہے۔

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ حکم نازل ہوا: <<وَاَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ۝۲۱۴ۙ وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ۝۲۱۵(الشعراء۲۶:۲۱۴-۲۱۵) << ’’آپؐ اپنے قریب ترین رشتہ داروں کو متنبہ کیجیے، اور ایمان لانے والے جو آپ کی اِتباع کریں ان کے ساتھ شفقت و محبت سے پیش آیئے‘‘۔اس حکم کے نازل ہونے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوتِ دین کے لیے مختلف طریقے اپنائے۔ ان میں ایک طریقہ یہ تھا کہ سب رشتہ داروں کو گھر پر دعوت دی جائے، اور گھر میں جمع ہونے والے لوگوں کو دین کے بارے میں بتایا جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہؓ کے مشورہ سے اپنے گھر پر دعوت کا اہتمام فرمایا جس میں تقریباً چالیس رشتہ داروں نے شرکت کی۔ کھانے سے فارغ ہونے کے بعد رسول ؐاللہ نے بہت اچھے انداز میں توحید کا پیغام پہنچایا۔ اس دعوت و تعلیم کے سارے انتظام میں حضرت خدیجہؓ کا بھرپور تعاون حاصل رہا (ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم، ۳:۳۳۹)۔ حقیقت یہ ہے کہ خاتونِ خانہ کے تعاون کے بغیر گھر پر اس دعوت کا اہتمام بہت مشکل تھا۔