پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کے پہلے اجلاس میں جناح نے اسمبلی کے صدر منتخب ہو کر ریاست کے بنیادی اصولوں پر خطاب کیا؛ اس خطاب کی تعبیر پر آج بھی بحث ہوتی ہے۔
پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کا اجلاس 10 اگست 1947ء کو کراچی میں شروع ہوا۔ 11 اگست کو اسمبلی نے جناح کو متفقہ طور پر اپنا صدر منتخب کیا، اور انہوں نے صدارتی خطاب میں نئی ریاست کی ترجیحات بیان کیں۔ انہوں نے امن و امان، رشوت و بدعنوانی کے خاتمے، چور بازاری کی روک تھام، اقربا پروری کے خاتمے اور مہاجرین کی بحالی کو فوری چیلنج قرار دیا۔
خطاب کے ایک حصے میں انہوں نے کہا کہ ریاست کے شہری آزاد ہوں گے، اپنی عبادت گاہوں میں جانے کے لیے، چاہے وہ مندر ہو یا مسجد یا کوئی اور جگہ؛ اور مذہب، ذات یا عقیدے سے قطع نظر کاروبارِ ریاست کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہو گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ وقت گزرنے کے ساتھ ہندو ہندو نہ رہے گا اور مسلمان مسلمان نہ رہے گا، مذہبی معنوں میں نہیں بلکہ سیاسی معنوں میں، کیونکہ یہ ہر فرد کا ذاتی عقیدہ ہے۔
اس خطاب کی تعبیر پر پاکستان میں آج بھی بحث ہوتی ہے۔ بعض اسے ریاست میں شہریوں کی مساوات اور اقلیتوں کے حقوق کی ضمانت سمجھتے ہیں، جبکہ دوسرے لوگ اسے اس وقت کی مخصوص صورتِ حال کا بیان اور قراردادِ مقاصد (1949ء) اور جناح کے دیگر بیانات کی روشنی میں دیکھنے پر زور دیتے ہیں۔