بانیِ پاکستان محمد علی جناح کراچی میں وفات پا گئے؛ ان کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح آخر تک ان کے ہمراہ رہیں۔
قیامِ پاکستان کے بعد جناح نے شدید مشقت کی، جبکہ ان کی صحت پہلے ہی خراب تھی۔ انہیں ٹی بی اور پھیپھڑوں کا مرض تھا جسے انہوں نے چند قریبی رفقا کے سوا سب سے پوشیدہ رکھا تھا۔ 1948ء کی گرمیوں میں طبیعت بگڑنے پر انہیں کوئٹہ کے ٹھنڈے مقام زیارت میں آرام کے لیے بھیجا گیا۔
ستمبر 1948ء میں حالت زیادہ خراب ہونے پر انہیں کراچی لایا گیا۔ 11 ستمبر 1948ء کو ماڑی پور ایئر پورٹ سے شہر جاتے ہوئے ان کی ایمبولینس کا ایندھن ختم ہو گیا اور تقریباً ایک گھنٹے کی تاخیر ہوئی۔ اسی رات آپ کراچی میں وفات پا گئے، اور ان کی ہمشیرہ فاطمہ جناح آخر دم تک ان کے ساتھ رہیں۔
ان کی وفات سے پاکستان ایک بڑے رہنما سے محروم ہو گیا۔ ان کی تدفین اگلے روز کراچی میں ہوئی، جہاں اب مزارِ قائد واقع ہے۔ ان کی وفات کے بعد ملک میں سیاسی عدم استحکام کا دور شروع ہوا جو کئی برس تک جاری رہا۔