مشرقی پاکستان کے سیاسی بحران کے بعد بھارت سے جنگ ہوئی اور 16 دسمبر 1971ء کو ڈھاکہ میں ہتھیار ڈالنے پر بنگلہ دیش کا قیام عمل میں آیا۔
1970ء کے پہلے عام انتخابات میں مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب الرحمن کی عوامی لیگ نے تقریباً تمام نشستیں جیت کر پورے ملک میں اکثریت حاصل کی، جبکہ مغربی پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو کی پیپلز پارٹی سب سے بڑی جماعت بنی۔ اقتدار کی منتقلی پر مذاکرات ناکام رہے۔ مارچ 1971ء میں فوجی آپریشن شروع ہوا، جس کے بعد مشرقی پاکستان میں ہولناک خونریزی، مہاجرین کی بھارت ہجرت، اور مکتی باہنی کی گوریلا جنگ شروع ہو گئی۔ ان واقعات کی ہلاکتوں کے اعداد و شمار پر شدید اختلاف ہے۔
نومبر–دسمبر 1971ء میں بھارتی فوج نے مشرقی پاکستان میں مکتی باہنی کی مدد سے بڑی پیش قدمی کی، اور 3 دسمبر کو مغربی محاذ پر بھی جنگ کھل گئی۔ 16 دسمبر 1971ء کو ڈھاکہ میں پاکستانی فوج کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل اے اے کے نیازی نے بھارتی افواج کے سامنے ہتھیار ڈال دیے، جس میں تقریباً 90 ہزار فوجی اور شہری جنگی قیدی بنے۔
مشرقی پاکستان بنگلہ دیش کے نام سے آزاد ملک بن گیا۔ اس سانحے کے اسباب (اقتصادی ناانصافی، سیاسی رسہ کشی، فوجی مداخلت اور بین الاقوامی عوامل) کی تحقیقات حمود الرحمن کمیشن نے کیں، اور اس واقعے سے مساوی شراکت، جمہوری روایات اور قومی مکالمے کی اہمیت کا سبق لیا جاتا ہے۔