ریاستِ جموں و کشمیر کے الحاق کے تنازع پر پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ ہوئی، جو اقوامِ متحدہ کی ثالثی میں یکم جنوری 1949ء کو جنگ بندی پر ختم ہوئی؛ تنازع آج تک حل طلب ہے۔
ریاست جموں و کشمیر کی آبادی کی اکثریت مسلمان تھی مگر حکمران مہاراجہ ہری سنگھ ہندو تھے۔ تقسیم کے وقت مہاراجہ نے فیصلہ نہ کیا اور دونوں ملکوں کے ساتھ 'معاہدۂ قائمہ' (standstill agreement) کی تجویز دی۔ پاکستان نے اسے قبول کیا، جبکہ بھارت نے اس پر مشروط رد عمل دیا۔ جموں میں مسلمانوں کے خلاف مظالم اور پونچھ میں بغاوت کے حالات پیدا ہوئے۔
اکتوبر 1947ء میں قبائلی لشکر (پختون مجاہدین) کشمیر میں داخل ہوئے، جس پر مہاراجہ نے بھارت سے مدد مانگی اور 26 اکتوبر کو الحاقِ بھارت کے معاہدے پر دستخط کیے، جسے بھارت نے قبول کر کے فوجیں فضائی راستے سے سری نگر بھیج دیں۔ پاکستان نے اس الحاق کو تسلیم نہ کیا۔ 1948ء میں پاکستانی فوج بھی باقاعدہ لڑائی میں شامل ہوئی۔
بھارت معاملہ اقوامِ متحدہ لے گیا، جس نے استصوابِ رائے کی قراردادیں منظور کیں۔ یکم جنوری 1949ء کو جنگ بندی ہوئی، اور ریاست کا تقریباً دو تہائی حصہ بھارت کے پاس اور ایک تہائی (آزاد کشمیر و گلگت بلتستان) پاکستان کے زیرِ انتظام رہا۔ یہ تنازع آج تک حل طلب ہے اور اس پر 1965ء اور 1999ء میں مزید جنگیں ہوئیں۔