مرکزی مواد پر جائیں
سلطنتیں و ریاستیں · برصغیر

عوامی جمہوریہ بنگلہ دیش

1971ء (1391ھ) – تاحال55 برس (اب تک)

آغاز1971ء (1391ھ)
اختتامتاحال قائم
مدت55 برس (اب تک)
خطہبرصغیر
بانیشیخ مجیب الرحمٰن
دارالحکومتڈھاکہ

1971ء میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی سے قائم ہونے والی ریاست (اعلانِ آزادی 26 مارچ؛ جنگ کا اختتام 16 دسمبر 1971ء)۔ آبادی کے لحاظ سے دنیا کے بڑے مسلم اکثریتی ممالک میں شامل ہے۔

تاریخی تسلسل

  1. خلافتِ راشدہ 632ء–661ء
  2. بنو امیہ 662ء–750ء
  3. بنو عباس 748ء–1258ء
  4. سلطنتِ سامانیہ 819ء–999ء
  5. سلطنتِ غزنویہ 978ء–1186ء
  6. سلطنتِ غوریہ 880ء–1215ء
  7. سلطنتِ غلاماں 1207ء–1290ء
  8. خاندانِ خلجی 1291ء–1320ء
  9. خاندانِ تغلق 1321ء–1414ء
  10. خاندانِ سادات 1415ء–1451ء
  11. خاندانِ لودھی 1452ء–1526ء
  12. مغلیہ سلطنت 1527ء–1857ء
  13. برطانوی راج (ہندوستان) 1858ء–1947ء
  14. اسلامی جمہوریہ پاکستان 1947ء–تاحال
  15. عوامی جمہوریہ بنگلہ دیش

عروج کے اسباب

1952ء کی زبان کی تحریک، مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان سیاسی و معاشی عدم توازن، اور 1970ء کے انتخابات کے بعد اقتدار کی منتقلی کا بحران 1971ء کی خانہ جنگی اور بھارتی فوجی مداخلت پر منتج ہوا۔

حکمران (7)

  1. شیخ مجیب الرحمٰن

    1971ء – 1975ء

    عوامی لیگ کے رہنما اور ریاست کے بانی؛ 1975ء میں فوجی بغاوت میں قتل ہوئے۔

  2. ضیاء الرحمٰن (صدر)

    1977ء – 1981ء

    کثیر جماعتی سیاست بحال کی اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی بنائی؛ 1981ء میں قتل ہوئے۔

  3. حسین محمد ارشاد (صدر)

    1983ء – 1990ء

    فوجی حکمران؛ 1990ء کی عوامی تحریک کے بعد مستعفی ہوئے۔

  4. خالدہ ضیا (وزیرِ اعظم)

    1991ء – 2006ء

    ملک کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم (1991ء–1996ء، 2001ء–2006ء)۔

  5. شیخ حسینہ (وزیرِ اعظم)

    1996ء – 2024ء

    طویل ترین مدت کی وزیرِ اعظم (1996ء–2001ء، 2009ء–2024ء)؛ اگست 2024ء کی طلبہ تحریک کے بعد ملک چھوڑ گئیں۔

  6. محمد یونس (عبوری حکومت کے سربراہ)

    2024ء – 2026ء

    نوبیل انعام یافتہ ماہرِ معاشیات؛ اگست 2024ء سے فروری 2026ء کے انتخابات تک عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر رہے۔

  7. طارق رحمان (وزیرِ اعظم)

    2026ء

    بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے سربراہ؛ فروری 2026ء کے انتخابات کے بعد وزیرِ اعظم (تاحال)۔

متعلقہ واقعات

ماخذ و وضاحت

خالدہ ضیا اور شیخ حسینہ کے ادوار باری باری رہے؛ یہاں ہر ایک کا آغاز و اختتام ایک ہی اندراج میں دیا گیا ہے۔