مرکزی مواد پر جائیں
ٹائم لائن · تاریخِ پاکستان (1947ء – تاحال)

پاکستان کے ایٹمی تجربات — یومِ تکبیر

28 مئی 1998ء1419 ہجری

ٹائم لائن پر دیکھیں ←
عیسوی تاریخ28 مئی 1998ء
ہجری تاریخ1419 ہجری
دورتاریخِ پاکستان

بھارت کے مئی 1998ء کے تجربات کے جواب میں پاکستان نے 28 مئی کو چاغی (بلوچستان) میں ایٹمی تجربات کیے اور ایٹمی طاقت رکھنے والا ساتواں ملک بن گیا۔ یہ دن 'یومِ تکبیر' کے طور پر منایا جاتا ہے۔

پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا آغاز 1970ء کی دہائی میں ہوا، خصوصاً 1971ء کے سانحے کے بعد اور مئی 1974ء میں بھارت کے پہلے ایٹمی تجربے ('سمائلنگ بدھا') کے جواب میں۔ ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت میں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (PAEC) کے ذریعے پلوٹونیم کے راستے پر کام ہوا، جبکہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے تحت کہوٹہ میں یورینیم کی افزودگی کا پروگرام ترقی کرتا رہا، جس کا آغاز 1976ء میں انجینئرنگ ریسرچ لیبارٹریز سے ہوا (1981ء میں خان ریسرچ لیبارٹریز)۔

11 اور 13 مئی 1998ء کو بھارت نے پوکھران میں پانچ ایٹمی تجربات کیے۔ اس پر پاکستان کو شدید بین الاقوامی دباؤ کا سامنا رہا، جس میں مالی امداد اور پابندیاں شامل تھیں، مگر وزیرِ اعظم نواز شریف کی حکومت نے جواب دینے کا فیصلہ کیا۔ 28 مئی 1998ء کو بلوچستان کے علاقے چاغی کے پہاڑوں میں پانچ ایٹمی دھماکے کیے گئے اور 30 مئی کو ایک اور تجربہ ہوا۔

پاکستان اس کے ساتھ دنیا کا ساتواں ایٹمی طاقت رکھنے والا ملک اور مسلم دنیا کی پہلی ایٹمی طاقت بن گیا۔ اس دن کو ہر سال 'یومِ تکبیر' کے طور پر منایا جاتا ہے۔ ان دھماکوں کے بعد جنوبی ایشیا میں دفاعی توازن بدل گیا، اور پاکستان کو بین الاقوامی پابندیوں کا سامنا رہا مگر ملک کی دفاعی حکمتِ عملی میں 'کم سے کم بازدارندگی' کا اصول رائج ہو گیا۔

تاریخِ پاکستانایجادات و سائنس

متعلقہ شخصیات

متعلقہ سلطنتیں و ریاستیں