مرکزی مواد پر جائیں
ٹائم لائن · تاریخِ پاکستان (1947ء – تاحال)

تقسیم کی ہجرت اور فسادات

اگست–نومبر 1947ء

ٹائم لائن پر دیکھیں ←
عیسوی تاریخاگست–نومبر 1947ء
دورتاریخِ پاکستان

تقسیم کے بعد لاکھوں مسلمان، ہندو اور سکھ خاندان نئی سرحدوں کے آر پار ہجرت پر مجبور ہوئے؛ اس دوران بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا اور تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت وقوع پذیر ہوئی۔

تقسیم کے اعلان کے بعد پنجاب، دہلی، بنگال، بہار اور دیگر علاقوں میں فرقہ وارانہ فسادات تیزی سے پھیل گئے۔ جو لوگ نئی سرحدوں کے غلط طرف رہ گئے تھے، انہوں نے بڑے پیمانے پر جانیں بچانے کے لیے ہجرت کی۔ مسلمانوں کے بھارت سے پاکستان اور ہندوؤں اور سکھوں کے پاکستان سے بھارت کی طرف قافلے چلے، جن میں سے بعض کئی میل لمبے تھے۔

اندازوں کے مطابق ڈیڑھ کروڑ کے قریب لوگ بے گھر ہوئے، جو انسانی تاریخ کی سب سے بڑی ہجرتوں میں شمار ہوتی ہے۔ ہلاکتوں کے اندازے دو لاکھ سے دس لاکھ (اور بعض میں اس سے بھی زیادہ) کے درمیان ہیں۔ ریلوں کے قافلوں پر حملے ہوئے، ہزاروں عورتیں اغوا ہوئیں، اور مذہبی مقامات کی بے حرمتی ہوئی۔ ان مظالم کی ذمہ داری مختلف فریقوں پر عائد کی جاتی ہے۔

پاکستان میں آنے والے مہاجرین کی آبادکاری نئی ریاست کا سب سے بڑا مسئلہ تھی، جسے مقامی لوگوں کی طرف سے ایثار اور 'انصار' اور 'مہاجرین' کے مدینہ کے نمونے پر بھائی چارے سے سنبھالا گیا۔ یہ واقعہ آج بھی تقسیمِ ہند کی سب سے تکلیف دہ یاد کے طور پر باقی ہے۔

تاریخِ پاکستان

متعلقہ سلطنتیں و ریاستیں