پاکستان کی متفقہ آئین 1973ء میں منظور ہوا، جو ملک کے جمہوری و قانونی ڈھانچے کی بنیاد ہے۔
سقوطِ ڈھاکہ کے بعد ذوالفقار علی بھٹو نے 1971ء کے آخر میں اقتدار سنبھالا۔ اپریل 1972ء میں قومی اسمبلی کے اجلاس میں عبوری آئین منظور ہوا، اور ایک آئینی کمیٹی نے، جس میں تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے نمائندے شامل تھے، نیا مستقل آئین تیار کیا۔ حزبِ اختلاف کی جماعتوں (مثلاً مفتی محمود، ولی خان اور دیگر) کے ساتھ اتفاقِ رائے پیدا کر کے 10 اپریل 1973ء کو اسمبلی نے آئین کو متفقہ طور پر منظور کیا۔
یہ آئین 14 اگست 1973ء کو نافذ ہوا۔ اس کے مطابق پاکستان ایک وفاقی پارلیمانی جمہوریہ ہے، جس کا سرکاری مذہب اسلام ہے۔ صدر ریاست کا سربراہ اور وزیرِ اعظم چیف ایگزیکٹو ہو گا؛ دو ایوانی مقننہ (قومی اسمبلی اور سینیٹ)، بنیادی حقوق، آزاد عدلیہ، اور یہ شرط کہ کوئی قانون قرآن و سنت کے منافی نہ ہو گا، اس کی نمایاں خصوصیات ہیں۔ 1974ء میں دوسری آئینی ترمیم کے ذریعے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا۔
یہ آئین مارشل لاؤں کے ادوار میں معطل اور اس میں متعدد ترامیم کے باوجود ملک کی بنیادی آئینی دستاویز کے طور پر برقرار ہے، اور اٹھارہویں ترمیم (2010ء) نے اس میں صوبائی خودمختاری کے حوالے سے بڑی تبدیلیاں کیں۔ اسے پاکستان کا اب تک کا واحد متفقہ اور دیرپا آئین سمجھا جاتا ہے۔