دستور ساز اسمبلی نے لیاقت علی خان کی پیش کردہ قرارداد منظور کی جس میں حاکمیتِ اعلیٰ اللہ تعالیٰ کی تسلیم کی گئی اور آئین کے اسلامی جمہوری اصول متعین ہوئے؛ مولانا شبیر احمد عثمانیؒ نے اس کی تائید میں نمایاں کردار ادا کیا۔
پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کے سامنے سب سے بڑا سوال یہ تھا کہ آئین کی بنیاد کن اصولوں پر رکھی جائے۔ ملک کے قیام کے مقاصد میں اسلامی نظریہ نمایاں تھا، جبکہ آبادی کا ایک حصہ غیر مسلم اقلیتوں پر بھی مشتمل تھا۔ اس مسئلے کے حل کے لیے وزیرِ اعظم لیاقت علی خان نے 7 مارچ 1949ء کو قرارداد پیش کی، جسے طویل بحث کے بعد 12 مارچ کو منظور کیا گیا۔
قرارداد میں اعلان کیا گیا کہ پوری کائنات پر حاکمیتِ اعلیٰ اللہ تعالیٰ کی ہے اور جو اختیار وہ عوام کی معرفت مقررہ حدود میں استعمال کرنے کے لیے عطا کرتا ہے وہ ایک مقدس امانت ہے؛ ریاست اپنی طاقت اور اختیارات عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے استعمال کرے گی؛ جمہوریت، آزادی، مساوات، برداشت اور سماجی انصاف کے اصول، جیسا کہ اسلام نے بیان کیے، مکمل طور پر ملحوظ رہیں گے؛ مسلمانوں کو اپنی زندگی انفرادی و اجتماعی طور پر قرآن و سنت کے مطابق گزارنے کے قابل بنایا جائے گا؛ اور اقلیتوں کو اپنے مذہب پر عمل کرنے اور اپنی ثقافت کو ترقی دینے کی آزادی ہو گی۔
مولانا شبیر احمد عثمانیؒ نے اس کی تیاری اور حمایت میں نمایاں کردار ادا کیا۔ غیر مسلم ارکان نے اس پر اعتراضات اٹھائے۔ یہ قرارداد پاکستان کے تمام آئینوں (1956ء، 1962ء، 1973ء) کا دیباچہ بنی، اور 1985ء میں اسے آئین کا مؤثر حصہ بنا دیا گیا۔ اس کی تشریح اور اطلاق پر آج بھی بحث جاری ہے۔