پاکستان کے پہلے وزیرِ اعظم راولپنڈی کے کمپنی باغ میں ایک جلسے میں قاتلانہ حملے میں شہید ہوئے۔
لیاقت علی خان جناح کے دستِ راست اور پاکستان کے پہلے وزیرِ اعظم تھے۔ وہ اصلاً علی گڑھ اور آکسفورڈ کے تعلیم یافتہ اور مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل رہ چکے تھے۔ ان کے دور میں قراردادِ مقاصد منظور ہوئی، اور کشمیر کے مسئلے اور بھارت سے تعلقات کے بارے میں سخت مؤقف اختیار کیا گیا۔ 1950ء میں انہوں نے امریکہ کا دورہ بھی کیا۔
16 اکتوبر 1951ء کو راولپنڈی کے کمپنی باغ (جسے بعد میں لیاقت باغ کہا گیا) میں ایک جلسۂ عام سے خطاب کے لیے پہنچے۔ خطاب کے آغاز میں سید اکبر نامی شخص نے قریب سے دو گولیاں چلا دیں، جن سے وہ شدید زخمی ہو گئے اور ہسپتال میں دم توڑ گئے۔ قاتل کو موقع پر ہی پولیس افسر نے گولی مار کر ہلاک کر دیا، جس سے قتل کی سازش کی تحقیقات ادھوری رہ گئی۔
اس قتل کے محرکات آج تک واضح نہیں ہو سکے۔ ان کے بعد ملک میں سیاسی استحکام کمزور پڑا، اور وزرائے اعظم کی تبدیلی اور سول و فوجی بیوروکریسی کے بڑھتے اثر کا دور شروع ہوا۔ انہیں 'شہیدِ ملت' کہا جاتا ہے۔