کشمیر کے تنازع پر ستمبر 1965ء میں دونوں ممالک کے درمیان سترہ روزہ جنگ ہوئی، جو جنوری 1966ء میں معاہدۂ تاشقند پر ختم ہوئی۔
1965ء کی جنگ کا پس منظر کشمیر کا تنازع تھا۔ اپریل 1965ء میں رن آف کچھ کے متنازع علاقے میں سرحدی جھڑپیں ہوئیں جو برطانوی ثالثی کے ذریعے حل کی گئیں۔ اگست 1965ء میں پاکستان نے 'آپریشن جبرالٹر' کے تحت مقبوضہ کشمیر میں مقامی بغاوت کو ابھارنے کے لیے تربیت یافتہ رضاکار داخل کیے، مگر یہ منصوبہ کامیاب نہ ہو سکا۔
یکم ستمبر 1965ء کو پاکستان نے چھمب و جوڑیاں کے علاقے میں 'آپریشن گرینڈ سلیم' شروع کیا۔ اس کے جواب میں 6 ستمبر کو بھارتی فوج نے بین الاقوامی سرحد پار کر کے لاہور اور سیالکوٹ کے محاذوں پر حملہ کیا۔ لاہور کے قریب برکی اور واہگہ کے علاقوں میں شدید لڑائی ہوئی، اور سیالکوٹ کے قریب چونڈہ میں دوسری جنگِ عظیم کے بعد ٹینکوں کی سب سے بڑی لڑائیوں میں سے ایک ہوئی۔ فضائی اور بحری کارروائیاں بھی ہوئیں، اور پاکستان میں 6 ستمبر کو 'یومِ دفاع' منایا جاتا ہے۔
23 ستمبر کو اقوامِ متحدہ کی کوشش سے جنگ بندی ہوئی۔ جنوری 1966ء میں سوویت وزیرِ اعظم کوسیجن کی ثالثی میں تاشقند معاہدہ ہوا، جس میں دونوں ملک اپنی افواج جنگ سے پہلے کی پوزیشن پر واپس لے گئے۔ ہر فریق نے اپنی فتح کے دعوے کیے۔ اس معاہدے پر پاکستان میں ناراضی پیدا ہوئی، اور وزیرِ خارجہ ذوالفقار علی بھٹو نے ایوب خان سے اختلاف کیا۔