ماؤنٹ بیٹن نے ہندوستان کی تقسیم کا منصوبہ پیش کیا؛ پنجاب و بنگال کی تقسیم کا فیصلہ صوبائی اسمبلیوں پر چھوڑا گیا، سرحد اور سلہٹ میں ریفرنڈم کی تجویز ہوئی اور اقتدار کی منتقلی کی تاریخ 15 اگست مقرر ہوئی۔
لارڈ ماؤنٹ بیٹن مارچ 1947ء میں ہندوستان آئے اور کانگریس، مسلم لیگ اور دیگر رہنماؤں سے مسلسل بات چیت کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ کیبنٹ مشن کے فارمولے کا احیا ممکن نہیں، اور تقسیم ناگزیر ہے۔ ان کی تجویز پر اپریل میں 'پلان بالکن' بنایا گیا، مگر نہرو کے اعتراض پر اسے ترک کر دیا گیا؛ اس کی جگہ نیا منصوبہ تیار کیا گیا۔
3 جون 1947ء کو ماؤنٹ بیٹن نے منصوبہ ریڈیو پر نشر کیا، جسے 'تین جون کا منصوبہ' کہا جاتا ہے۔ اس کے مطابق پنجاب اور بنگال کی صوبائی اسمبلیاں دو حصوں (مسلم اکثریتی اور غیر مسلم اکثریتی اضلاع) کے طور پر اجلاس کر کے فیصلہ کریں گی کہ صوبے کی تقسیم ہو یا نہیں؛ سندھ اور بلوچستان اپنے فیصلے خود کریں گے؛ سرحدی صوبے (این ڈبلیو ایف پی) اور آسام کے سلہٹ ضلع میں ریفرنڈم ہو گا؛ اور ایک باؤنڈری کمیشن سرحدوں کا تعین کرے گا۔ شاہی ریاستوں کو، جغرافیائی حالات اور آبادی کی بنیاد پر، کسی ایک ملک میں شامل ہونے کا اختیار ہو گا۔
ابتدا میں اقتدار کی منتقلی کی تاریخ جون 1948ء طے تھی، مگر فسادات کے پیشِ نظر اسے 15 اگست 1947ء تک پہنچا دیا گیا۔ کانگریس اور مسلم لیگ نے اس منصوبے کو قبول کر لیا، اور اسے پاکستان کے قیام کی فیصلہ کن دستاویز مانا جاتا ہے۔