تصریحات
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
کتاب "تصریحات" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی ایک جامع تحریری و تقریری رہنمائی پر مشتمل ہے جو خاص طور پر نوجوان طلبہ و طالبات کے بنیادی سوالات، شکوک اور عصری مسائل کے تناظر میں مرتب کی گئی ہے۔ اس کتاب کا بنیادی مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ اسلام صرف ایک مذہبی عقیدہ یا روحانی نظام نہیں بلکہ انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں—فردی، سماجی، سیاسی، اقتصادی اور تعلیمی—کا ایک مکمل اور جامع نظامِ حیات ہے۔ مولانا مودودی نے اس کتاب کے ذریعے نہ صرف باطل مگر غالب نظریات—جیسے لادینیت، سرمایہ داری، اشتراکیت، قومیت پرستی، فرقہ واریت اور مغربی تہذیب—کا مقابلہ کیا ہے بلکہ ایک ایسی نسل کی تربیت کا منصوبہ بھی پیش کیا ہے جو علم، ایمان اور عمل کے توازن پر استوار ہو کر اسلامی انقلاب کی قیادت کر سکے۔
کتاب کا آغاز تاریخی اور عالمی تناظر سے ہوتا ہے، جہاں مرتب بیسویں صدی کے سیاسی و فکری حالات—مغربی استعمار کا زوال، امریکی سامراج کا عروج، فسطائیت و اشتراکیت کی عروج و زوال، اور خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد مسلم دنیا کی اندرونی کمزوریوں—کا جائزہ لیتا ہے۔ اس تناظر میں وہ یہ واضح کرتا ہے کہ موجودہ دور میں اسلامیت اور لادینیت کے درمیان جو کشمکش چل رہی ہے، اس کی صحیح سمجھ کے لیے تاریخی ارتقاء اور مختلف ادوار کے رویوں کو ٹھیک ٹھیک سمجھنا ضروری ہے۔
کتاب کا بیشتر حصہ اسلامی جمعیت طلبہ و طالبات کے ساتھ 1950ء سے 1979ء تک، یعنی قریب تین دہائیوں پر محیط، مختلف نشستوں، تربیتی کیمپوں، اجتماعات اور انٹرویوز کی صورت میں ہونے والے سوال و جواب پر مشتمل ہے، جن میں پاکستان، ہندوستان، برطانیہ، امریکہ اور سعودی عرب کی طلبہ تنظیموں کے ساتھ ملاقاتیں شامل ہیں۔ ان نشستوں میں تعلیم، تحریکِ اسلامی کے طریقِ کار، جماعتِ اسلامی سے وابستگی، اور نوجوانوں کو درپیش فکری چیلنجز جیسے موضوعات بار بار زیرِ بحث آتے ہیں۔
کتاب کے وسط میں ایک الگ باب 'ادب میں اخلاقی اقدار' شامل ہے جو شعر، افسانہ، صحافت، خطابت اور ترجمے جیسی اصنافِ ادب کا جائزہ لے کر جائز و ناجائز ادب کے اسلامی معیار کی نشان دہی کرتا ہے۔ چونکہ کتاب کا بیشتر مواد وقتاً فوقتاً مختلف مواقع پر ہونے والی گفتگو پر مبنی ہے، اس لیے اس کا امتیاز کسی واحد مسلسل بحث میں نہیں بلکہ نوجوان نسل کی تربیت کے لیے مولانا کے دیرینہ، تسلسل بھرے تعلقِ خاطر میں مضمر ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
کراچی کے ہفت روزہ ”پیمان“ نے داعی تحریک اسلامی سید ابوالاعلیٰ مودودی کی پُر عزم جدوجہد کے ان مرحلوں کو قلم بند کیا جو قید و بند سے عبارت ہیں۔ انٹرویو نگار امیر حسین ہیں۔ بعد میں یہ انٹرویو ماہ نامہ ”آئین“ لاہور کی خصوصی اشاعت میں بھی شائع ہوا۔---۱۹۷۳ء
----------
ان دنوں میں بطور خاص مولانا مودودی کے انٹرویو کی غرض سے لاہور آیا ہوا تھا۔ یہ میری خوش نصیبی ہے کہ انہوں نے میرے ایک کرم فرما کے کہنے پر اس ملاقات کے لئے وقت مقرر کیا۔ انٹرویو کے پہلے روز وقت مقررہ سے کچھ دیر بعد جب میں مولانا کے کمرے میں داخل ہوا تو میں نے تاخیر سے حاضر ہونے کی معذرت چاہی اور عرض کیا کہ لاہور میں اجنبی ہونے کے باعث دقت ہوئی۔ مولانا نے خندہ پیشانی سے مجھے بیٹھنے کا اشارہ کیا اور کہا کوئی حرج نہیں میں کام ہی میں مصروف تھا۔ آپ کا انتظار اگر چہ رہا لیکن اس وقفے میں تفہیم کی ابتدائی جلدوں پر نظر ثانی کا کام کرتا رہا ..... مولانا کی بے پناہ صلاحیتوں اور لازوال علم کی تصویر یعنی تفہیم القرآن کی وہ تفسیر حال ہی میں پایہ تکمیل کو پہنچی ہے۔
(1)
میں مولانا کے ایام اسارت کی داستان سننا چاہتا تھا۔ لیکن رودادِ زندان سے زیادہ المناک وہ پس منظر ہے جس کی وجہ سے انہیں ہر مرتبہ اس لئے قید ہونا پڑا کہ اسلامی نظام کے نفاذ کے لئے ان کا مطالبہ بہت سی طبیعتوں پر ناگوار گزر رہا تھا۔ (اس ضمن میں مولانا نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے بتایا کہ ”اسلامی نظام کے اس مطالبے کو دبانے کی غرض سے میری کردار کشی کی گئی۔ مجھ پر سیاسی بہتان لگائے گئے اور قید و بند تو کیا سزائے موت سنانے سے بھی گریز نہیں کیا گیا۔ لیکن ان تمام باتوں کے باوجود خدا کے فضل سے کوئی مجھے میرے موقف سے نہیں ہٹا سکا۔ اس سلسلے میں سب سے پہلی کامیابی قرارداد مقاصد کی منظوری تھی۔ اگر ہم اس وقت جدو جہد کر کے وہ باتیں نہ منوا لیتے جن پر قرارداد مشتمل ہے تو مستقل طور پر یہ سوال زیر بحث رہتا کہ پاکستان کو نظریاتی طور پر کیا ہونا چاہئے اور کیا نہیں؟
میں نے مولانا سے ان تجاویز کے بارے میں پوچھا جو اسلامی نظام کے نفاذ کے لئے انہوں نے پیش کی تھیں تو انہوں نے اپنے عقب میں رکھی ہوئی ایک شیلف میں سے وہ تجاویز پڑھ کر سنائیں جو جنوری، فروری ۱۹۴۸ء لاء کالج لاہور کی تقاریر میں انہوں نے پیش کی تھیں۔ اور جو قرارداد مقاصد پاکستان کی پہلی آئین ساز اسمبلی نے ۱۹۴۹ء میں اس وقت منظور کی جب مولانا سٹینفی ایکٹ کے تحت جماعت کے دیگر رہنماؤں کے ساتھ ملتان جیل میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے تھے۔ لیکن مولانا کے مطالبے کی راستی کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہو گا کہ نہ صرف مفہوم و معنی کے اعتبار سے بلکہ اپنے الفاظ اور عبارت کے لحاظ سے بھی قرارداد مقاصد ان کی مہینوں پہلے پیش کی ہوئی تجاویز سے ہم آہنگ ہے۔
مولانا نے بتایا ”قرارداد مقاصد کا متن مجھے ملتان جیل میں حکومت کی طرف سے دکھایا گیا تاکہ یہ معلوم کر لیا جائے کہ میں اس سے مطمئن ہوں یا نہیں۔ لیکن یہ عجیب بات ہے کہ میرے مطالبات کو من و عن تسلیم کر لینے کے باوجود حکومت میری نظر بندی میں برابر چھ چھ ماہ کا اضافہ کرتی رہی۔“
اگر کوئی سننے والا ہوتا تو ایک عام سوجھ بوجھ کا انسان بھی اس دور میں یہ پوچھنے پر مجبور تھا کہ اگر ملک کی تعمیر فی الواقع انہی بنیادوں پر مقصود ہے تو ان لوگوں کو قید میں رکھنے کا کیا جواز ہے جنہوں نے انہی مقاصد کے لئے جدو جہد کی ہے؟ لیکن مولانا کی نظر بندی جو قائد اعظم کی وفات کے ٹھیک تین ہفتے بعد شروع ہوئی تھی قرارداد مقاصد کی منظوری کے باوجود بھی ختم نہ ہوئی۔ منظوری کے باوجود ۱۹۵۰ء تک جاری رہی۔ اتفاق ایسا ہوا کہ انہی دنوں ہائیٹس بازو کے ایک دانشور کا مقدمہ عدالت عالیہ میں پیش ہوا جس پر عدالت نے یہ فیصلہ صادر کیا کہ تین مرتبہ سے زائد نظر بندی کے حکم میں توسیع ممکن نہیں ہے۔ اس طرح اس قانون کے باطل قرار دیے جانے پر مولانا تیس ماہ بعد ۱۹۵۰ء میں رہا ہوئے۔
میں نے مولانا کی خدمت میں عرض کیا کہ کیا حکومت نے عدالت کے اس فیصلے کے بعد آپ کو کسی نئے مقدمے میں پھانس کر مزید کچھ عرصے کے لئے قید میں رکھنے کی سعی نہیں کی؟
(مولانا مسکرا دیے اور فرمایا) ”نہیں ایسا نہیں ہوا، اس لئے کہ حکومت کی فہم و بصیرت اس وقت تک اتنی ترقی نہ کرسکی تھی کہ ہر مکتوب کے لئے کئی کئی مقدمے تیار رکھے۔ بلکہ ارباب اقتدار نے پولیس کو پے در پے مقدمات تیار کرنے کی غرض سے مناسب تربیت بھی اس وقت تک نہ دی تھی۔" [۱۹۴۳ء میں پیپلز پارٹی کا وہ دور حکومت یاد رہے گا، جب اکثر سیاسی قیدیوں کو باری باری کئی جھوٹے مقدموں میں الجھا کر جیل خانے سے نکلنے کی مہلت ہی نہ دی جاتی تھی۔]
مولانا مودودی سے میں نے پوچھا کہ اسلامی نظام کے نفاذ کے لئے جب آپ کی تجاویز قرارداد مقاصد کی صورت میں منظور ہو چکی تھیں تو پھر اب تک پاکستان میں یہ نظام نافذ کیوں نہیں ہو سکا؟
(مولانا نے فرمایا) ”یہی بات میں نے ۱۹۵۰ء میں جیل سے رہا ہو کر کہی تھی کہ نہ اس کی منظوری سے پہلے اسے عمل میں لانے کا کوئی جذبہ تھا اور نہ اس کی منظوری کے بعد یہاں کردہ مقاصد کے حصول کی طرف کوئی قدم اٹھایا گیا۔ گویا اس قرارداد کی مثال اس بارش کی سی ہے کہ جس کے آنے سے پہلے نہ کوئی گھٹا اٹھی اور نہ جس کے برسنے کے بعد کوئی روئیدگی ہوئی۔“ [سید مودودی کی تقریر ۲۳ جولائی ۱۹۵۰ء باغ بیرون دہلی دروازہ، لاہور۔]
میں نے عرض کیا ”آپ نے فرمایا ہے کہ آپ کی پہلی گرفتاری قائداعظم کی وفات کے بعد عمل میں آئی۔ اس سے یہ تو ظاہر ہے کہ بابائے ملت کی زندگی میں اسلامی نظام کا مطالبہ کرنے والوں کو کوئی جیل میں نہیں ڈال سکتا تھا۔ تو پھر یہ کیا بات ہے کہ آپ نے جس کردار کشی کی طرف اشارہ کیا ہے وہ بہت پہلے شروع ہو چکی تھی، اور یہاں تک کہا گیا کہ آپ نے جہادِ کشمیر حرام ہونے کا فتویٰ دیا ہے؟“
(مولانا نے فرمایا) ”میں نے اس قسم کا کوئی فتویٰ نہیں۔ اس کا افسانہ اس طرح تیار کیا گیا کہ اس وقت کی حکومت آزاد کشمیر کا پبلسٹی سیکرٹری، ایک دن پشاور میں میرے پاس آیا اور اس نے مجھ سے تخلیہ میں کچھ بات کرنے کی اجازت چاہی۔ میں نے اسے تنہائی فراہم کی تو اس نے مجھ سے سوال کیا کہ آپ آخر جہادِ کشمیر میں حصہ کیوں نہیں لے رہے؟ میں نے اس سے کہا کہ میں اس کی وجہ دانستہ بیان کرنا نہیں چاہتا، لیکن جب اس نے اصرار کیا تو میں نے کہا کہ اگر مجھے جہادِ کشمیر میں حصہ نہ لینے کی وجہ بیان کرنی ہوتی تو میں یہ کام خود کرتا۔ اس کے لئے مجھے آپ کی مدد لینے کی کیا ضرورت تھی کہ میں آپ سے بیان کروں اور آپ اسے ساری دنیا کے سامنے بیان کریں۔ وہ بولا میں یہ بات محض اپنے اطمینان کے لئے پوچھ رہا ہوں۔ میرا مقصد اس معاملے کی ترویج و اشاعت نہیں ہے ...... میں نے کہا اگر آپ واقعی یہ بات صرف اپنے اطمینان کے لئے پوچھ رہے ہیں تو سُنیے ...... جہادِ کشمیر کے سلسلے میں میرے نزدیک یہ کوئی معقول بات نہیں ہے کہ وہاں لڑائی بھی ہو اور نہ بھی ہو۔ یعنی ایک طرف ہماری حکومت تمام دنیا کے سامنے اعلان کرے کہ ہم لڑ نہیں رہے بلکہ لڑنے والوں کو روک رہے ہیں، اور دوسری طرف وہ لڑے بھی۔ تو اس سے نہ صرف ہماری اخلاقی پوزیشن خراب ہوگی بلکہ ہم لڑ بھی نہیں سکیں گے۔ حکومت کا یہ موقف خود پاکستانی وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ میں بیان کیا تھا جو آج بھی ریکارڈ پر موجود ہے۔ بہر صورت گفتگو ختم ہوئی تو اس سے اگلے روز اخبارات میں یہ خبر شائع کرا دی گئی کہ مودودی نے یہ فتویٰ دیا ہے کہ کشمیر میں جہاد حرام ہے اور جو اس میں جان دے گا وہ حرام موت مارا جائے گا۔ میں نے اس خبر کی تردید بھیجی تو وہ کسی اخبار نے شائع نہیں کی۔ دوسرے دن یہ ”خبر“ پاکر ہندوستانی ریڈیو نے میرے اس ”نقوی“ کو اچھالنا شروع کر دیا۔ اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے میں نے ریڈیو پاکستان سے درخواست کی کہ وہ مجھے اس کی تردید کرنے کا موقع دے لیکن اس نے اس سلسلے میں میری مدد کرنے سے انکار کر دیا۔“
(مولانا نے بتایا) کہ یہی شخص جس نے اپنی نوکری کے لئے میرے بارے میں اتنا بڑا جھوٹ بول کر یہ ہنگامہ کھڑا کیا تھا۔ ابھی چند روز ہوئے میرے پاس جماعت کے اسی مرکز میں آیا اور میرا ہاتھ پکڑ کر کافی دیر بھری محفل میں زار و قطار روتا رہا۔ کہنے لگا کہ مولانا مجھے معاف کر دیجئے مجھ سے سخت غلطی ہوئی میں نادم ہوں، پیٹ کی خاطر میں نے یہ شرمناک افترا پردازی کی اور میری اس غلط بیانی سے آپ کو اس قدر صعوبتیں اٹھانی پڑیں۔
(مولانا نے فرمایا) مجھے اس وقت کی حکومت اور اس کے طور طریقوں کو دیکھ کر یقین ہو گیا کہ پاکستان کو اسلامی ریاست بنانے سے روکنا پاکستان کے کارفرماؤں کے نزدیک اتنا اہم ہے کہ اگر اس کے بدلے کشمیر جیسے اہم Cause کو بھی نقصان پہنچے تو وہ اس میں بھی کوئی حرج نہیں سمجھتے۔
(سلسلۂ کلام جاری رکھتے ہوئے مولانا نے کہا کہ) جہاں تک آپ کی دوسری بات کا تعلق ہے میں یہ سمجھتا ہوں کہ قیام پاکستان کے بعد ملک کا نظام قائد اعظم نہیں چلا رہے تھے بلکہ حصول پاکستان کے عظیم مقصد کو پا لینے کے بعد وہ اسی طرح تھک گئے تھے جس طرح بھارت کی آزادی کے بعد وہاں کے لیڈر گاندھی جی تھک گئے تھے۔ بلکہ زیادہ صحیح یہ ہے کہ دونوں ملکوں کی جدوجہد آزادی میں کامیابی کے بعد یہ دونوں بانی Exhaust ہو چکے تھے۔ قائد اعظم ملک کے سربراہ تھے مگر زمام کار ان کے ماتحتوں کے ہاتھ میں تھی، جو مطلوبہ جذبے اور فراست دونوں سے یکسر محروم تھے۔
(اس ضروری پس منظر کے بعد مولانا نے جہاد کشمیر کے سلسلے میں اپنی گرفتاری کی روداد بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ) ۳۰ اکتوبر ۱۹۴۸ء کو مجھے گرفتار کیا گیا۔ گرفتاری عمل میں آنے سے پہلے نواب ممدوٹ (وزیر اعلیٰ پنجاب) اور خواجہ شہاب الدین اس ضمن میں مجھ سے بات کر چکے تھے اور میں دونوں کو حقیقت بتا چکا تھا کہ جو کچھ کہا گیا یہ سب جھوٹ ہے اور اگر واقعی کسی کے پاس ایسا کوئی فتویٰ ہے تو مجھے لا کر دکھایئے! میں نے ان حضرات سے کہا کہ اگر میں نے تخلیے میں محض اس شخص کے اطمینان کے لئے بات کی تھی تو اس سے پاکستان کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا تھا۔ لیکن اگر اس کی اشاعت سے کوئی نقصان پہنچا ہے تو اس کی ذمہ داری مجھ پر عائد نہیں ہوتی۔ جو بات میں نے کہی تھی وہ حکومت کی موافقت میں تھی۔ ان تمام حقائق کے باوجود گرفتاری عمل میں آئی۔ اس قید کی پہلی میعاد چھ ماہ تھی لیکن بعد میں مزید تین مرتبہ اس میعاد میں چھ چھ ماہ کا اور اضافہ کیا گیا۔
(زنداں کی مصروفیات کے سلسلے میں مولانا نے فرمایا کہ) میں نے وہاں لکھنے پڑھنے کا خاصا کام کیا۔ مسئلہ ملکیت زمین، تفہیم القرآن کی پہلی جلد اور دوسری جلد کو سورۂ یوسف تک نظر ثانی کر کے طباعت کے لئے تیار کر لیا۔ تفہیم کا مقدمہ لکھا۔ حدیث کی کتاب ابو داؤد کا Index بھی میں نے زنداں ہی میں تیار کیا تھا۔ علاوہ ازیں کتاب سود اور اسلام اور جدید معاشی نظریات کو بھی میں نے وہیں مکمل کیا تھا، خدا کا شکر ہے کہ وہاں میرا وقت ضائع نہیں گیا۔
(میرے ایک سوال کے جواب میں مولانا نے کہا کہ) زنداں میں اب تک نہ تو کوئی میرے ساتھ سیاسی دباؤ کی بات کر سکا ہے اور نہ انشاء اللہ آئندہ کسی بھی موقع پر کر سکے گا۔ قید کے دوران میں جیل کے عملے اور پولیس نے میرے ساتھ نہایت احترام کا برتاؤ کیا۔ بلکہ تمام جیل کے عملے سے میرے تعلقات اتنے اچھے تھے کہ وہاں سے رہا ہونے کے بعد بھی وہ اب تک مجھ سے اسی احترام اور عزت سے ملتے ہیں۔
(مولانا نے فرمایا کہ) اس نظر بندی کے دوران مجھے کتابیں وغیرہ ملنے میں تقریباً ڈیڑھ مہینہ لگا۔ اجازت ملنے کے بعد مجھے اپنی ضرورت کی کتابیں اپنے بھائی (سید ابو الخیر مودودی) اور دیگر رفقاء کی مدد سے مل جaya کرتی تھیں۔ جیل میں مجھے اور جماعت کے دیگر چند صاحبان کو بالکل الگ تھلگ رکھا گیا تھا اور کسی کو ہمارے احاطے میں آنے کی اجازت نہیں تھی اور نہ ہم خود کہیں اور جاتے تھے۔ نظر بندی کے دوران دوسرے قیدیوں کو بھی ہم سے ملنے کی بالکل اجازت نہیں تھی۔
(اسی قید کا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے مولانا نے فرمایا کہ ) زنداں میں صفائی کے لئے جو جمعدار مقرر تھا وہ یہاں کا ایک پرانا سکھ قیدی تھا۔ وہ جب بھی ہمارے ہاں صفائی وغیرہ کرنے آتا‘ میاں صاحب (میاں طفیل محمد صاحب) اس سے خاصی دیر باتیں کرتے اور بالآخر ایک دن میاں صاحب نے اس سکھ جمعدار کو مسلمان کر لیا۔ لیکن ادھر وہ غریب سکھ سے مسلمان ہوا اور ادھر ایک دن جیل کے وارڈن نے اسے ہمارے ساتھ نماز پڑھتا دیکھ کر اس کا تبادلہ کر دیا۔
(2)
(اپنی پہلی گرفتاری کے واقعات بتانے کے بعد دوسری نشست میں مولانا نے ۱۹۵۴ء کی قید کی تفصیل اور اس کا پس منظر بتاتے ہوئے فرمایا کہ) ”۱۹۵۴ء میں میری جو گرفتاری ہوئی اس کے متعلق لوگوں میں یہ غلط فہمی ہے کہ میری وہ گرفتاری قادیانی مسئلے کے سلسلے میں ہوئی تھی حالانکہ حقیقتاً ایسا نہیں ہے۔ یہ قید بھی اسلامی دستور کی جدوجہد ہی کی ایک سزا تھی جس کے لئے پہلا بہانہ ملتے ہی اس سے فائدہ اٹھایا گیا۔ بلکہ زیادہ صحیح یہ ہے کہ اسلامی دستور کی جدوجہد کو زک پہنچانے کے لئے یہ ایک بہت بڑی سازش تھی۔ یہ سازش اس لئے کی گئی تھی کہ اس سرزمین سے اسلام اور جمہوریت دونوں کو رخصت کر دیا جائے۔“
(مولانا نے مزید فرمایا) ”یہ قصہ شروع ہوتا ہے اس طرح کہ قرار داد مقاصد پاس کرنے کے بعد سے دستور بنانے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔ جو دستوری سفارشات پیش کی گئیں وہ سراسر غیر جمہوری اور غیر اسلامی تھیں۔ لہٰذا پورے ملک میں بیک آواز ان کی مخالفت ہوئی اور لیاقت علی خان مرحوم ان سفارشات کو واپس لینے پر مجبور ہو گئے۔ اس کے بعد دستور کے محاذ پر یکا یک خاموشی طاری ہو گئی۔ آخر کار مئی ۱۹۵۲ء کے آغاز میں میں نے اور جماعت اسلامی نے باقاعدہ طور پر حکومت سے یہ مطالبہ کیا کہ ۱۹۵۲ء کے ختم ہونے سے پہلے پہلے ملک کو دستور دیا جائے اور اس دستور میں آٹھ نکات لازماً شامل ہوں۔“
(مولانا نے شیلف سے ایک کتاب اٹھائے ہوئے کہا) ”وہ آٹھ نکات یہ تھے:
۱- ملک کا قانون اسلامی شریعت کے مطابق ہوگا۔
۲- کوئی ایسی قانون سازی نہیں کی جائے گی جو قانونِ شریعت کے خلاف ہو۔
۳- تمام ایسے قوانین کو منسوخ کیا جائے گا جو شریعت کے احکام یا اصولوں سے متصادم ہوں۔
۴- حکومت کے لئے لازم ہوگا کہ وہ ان برائیوں کو مٹائے جنہیں اسلام مٹانا چاہتا ہے اور ان بھلائیوں کو فروغ دے جنہیں اسلام فروغ دینا چاہتا ہے۔ اس کو عملی جامہ پہنانے کے لئے وہ بھر پور اور مخلصانہ کوشش کرے گی۔
۵- لوگوں کی شہری آزادیوں کو ان کا جرم کھلی عدالتوں میں ثابت کئے بغیر اور انہیں صفائی کا موقع دیئے بغیر سلب نہیں کیا جائے گا۔
۶- لوگوں کو حق ہوگا کہ انتظامیہ یا مقننہ اگر اپنے حدود اختیارات سے تجاوز کریں تو ملک کی عدالتوں سے قانونی چارہ جوئی کرسکیں۔
۷- عدلیہ انتظامیہ کی مداخلت سے آزاد ہوگی۔
۸- حکومت اس بات کی ضامن ہوگی کہ ملک میں کوئی شخص بنیادی ضروریات زندگی یعنی غذا، لباس، مکان اور علاج سے محروم نہ رہے۔“
(مولانا نے کتاب واپس شیلف میں رکھتے ہوئے فرمایا) ”مئی ۱۹۵۲ء کے آغاز میں ہم نے اسلامی دستور کے لئے تحریک شروع کی اور مئی ۱۹۵۲ء کے آخر میں احرار نے قادیانی مسئلہ چھیڑ دیا جس سے اس حد تک ہنگامہ ہوا کہ جولائی ۱۹۵۲ء میں ملتان میں فائرنگ ہوگئی۔ یہ صورت حال دیکھ کر جماعت اسلامی نے جولائی میں عوام سے اپیل کی کہ اس وقت دستور سازی کا مسئلہ درپیش ہے اس لئے کوئی ایسا قضیہ نہیں کھڑا ہونا چاہئے جس کے سبب ملک دستور سے محروم رہ جائے۔ ہمیں ساری توجہ اسلامی دستور بنوانے پر صرف کرنی چاہئے۔ آخر جب اسلامی دستور بنتا تو قادیانی مسئلہ آپ سے آپ حل ہو جاتا۔ یہ بات ہم نے اتنے بڑے پیمانے پر سمجھائی کہ اگست سے دسمبر ۱۹۵۳ء تک اس مسئلے پر ہنگامے سُست پڑ گئے اور دستوری مہم تیزی سے آگے بڑھتی رہی، یہاں تک کہ دسمبر ۱۹۵۴ء میں خواجہ ناظم الدین [لیاقت علی خان کے بعد خواجہ ناظم الدین، وزیر اعظم پاکستان مقرر ہوئے، ان کی پیش کردہ یہ رپورٹ، دستور سازی کے لئے سفارشات پر مشتمل تھی۔ (مزید دیکھئے ”قرارداد مقاصد سے اسلامی قانون تک“ از ڈاکٹر حفیظ الرحمان صدیقی، کراچی اور ”چراغ راہ“ اسلامی قانون نمبر مرتبہ، پروفیسر خورشید احمد) ] نے بیک پٹیل کمیٹی رپورٹ پیش کر دی جس پر ہمارے ایک ”دانشور“ طبقے میں ہیجان برپا ہو گیا اور روزنامہ ڈان کراچی میں نمایاں طور پر ایک مضمون لکھا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ ملاؤں کے آگے حکومت نے گھٹنے ٹیک دیئے ہیں۔ ”ملاؤں“ کے آگے گھٹنے ٹیک دینے پر ہیجان اس حد تک تھا کہ اسی زمانے میں خواجہ ناظم الدین نے مجھے ایک مخفی ذریعے سے پیغام بھجوایا کہ اس وقت سخت احتیاط سے کام لیجئے ساری بیورو کریسی تلملا رہی ہے اور موقع کی تلاش میں ہے کہ دستوری بساط الٹ دی جائے۔“
(سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے مولانا نے کہا) ”۱۱ جنوری ۱۹۵۴ء کو انہی علماء کی ایک مجلس بھی منعقد ہوئی جنہوں نے ۱۹۵۱ء میں اسلامی دستور کے ۲۲ متفقہ اصول مرتب کئے تھے۔ اس کمیٹی نے خواجہ ناظم الدین کی رپورٹ کا تفصیلی جائزہ لیا اور اس میں چند اصلاحات اور ترمیمات تجویز کیں جن میں ایک بات یہ بھی تھی کہ قادیانی مسئلہ کو آئینی طور پر حل کر دیا جائے۔ اس کی ایک صورت بھی تجویز کر دی گئی۔ اسی زمانے میں پندرہ، سترہ جنوری کو اَحْرار اور جمیعت علماء پاکستان نے بھی علماء کا ایک کنونشن بلایا، جس کا مقصد قادیانی مسئلے کے متعلق تحریک چلانا تھا۔ میں بھی اس اجلاس میں شریک تھا۔ میں نے اس کنونشن کی سبجیکٹ کمیٹی کو اس بات پر مطمئن کر دیا کہ اس وقت قادیانی مسئلے پر الگ کوئی تحریک چلانے کی ضرورت نہیں ہے۔ خواجہ ناظم الدین کی دستوری رپورٹ آ گئی ہے۔ علماء نے اس میں اصلاحات تجویز کر دی ہیں جن میں قادیانی مسئلے کا حل بھی شامل ہے اب اس موقع پر الگ تحریک چلانے سے دستور سازی کا کام خطرے میں پڑ جائے گا اور اس سے ملک کو نقصان پہنچے گا۔
لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ۱۷ جنوری کو جب کنونشن کا کھلا اجلاس ہوا تو اس میں اکثریت نے میری بات کو رد کر دیا اور اصرار کیا کہ قادیانی مسئلے پر الگ تحریک چلائی جائے گی۔ اس پر میں نے دوسری تجویز پیش کی کہ اچھا ایک مرکزی مجلس بنا دی جائے جس کی رہنمائی میں یہ تحریک چلے اور کسی شخص کو بذات خود کوئی تحریک اٹھانے کا حق نہ ہو۔ میری یہ بات مان لی گئی اور مرکزی مجلس عمل تشکیل دے دی گئی۔ جس کا ایک رکن میں بھی تھا۔ ۲۶ فروری تک اس مجلس عمل کا کوئی اجلاس نہیں ہوا لیکن اس دوران میں ۲۳ جنوری کو چند اصحاب خواجہ ناظم الدین سے ملے اور انہیں ایک مہینے کا الٹی میٹم دے دیا کہ قادیانی مسئلے کے متعلق یا تو ہمارے مطالبات تسلیم کئے جائیں ورنہ اس سلسلے میں راست اقدام کیا جائے گا۔
(مولانا سے ان حضرات کے بارے میں جاننا چاہا تو مولانا نے بتایا) ”یہ حضرات کسی کے نمائندے نہیں تھے کیونکہ مرکزی مجلس عمل نے انہیں مقرر نہیں کیا تھا بلکہ مجلس کو ان کے بارے میں یہ علم تک نہ تھا کہ ان میں سے کوئی خواجہ ناظم الدین کے پاس جا رہا ہے۔ چنانچہ میں نے ان حضرات کی اس حرکت کا فوری نوٹس لیا اور مطالبہ کیا کہ مرکزی مجلس عمل کا اجلاس بلایا جائے اور وہ اس بے ضابطہ کارروائی کو روکے۔ میرے اس مطالبے پر ۲۷ فروری کا دن اجلاس کے لئے مقرر کر دیا گیا، لیکن اس تاریخ کو کوئی اجلاس نہیں کیا گیا۔ میں نے پھر مطالبہ کیا تو کراچی میں ۲۶ فروری کو مرکزی مجلس عمل کی میٹنگ بلانا تجویز کیا گیا لیکن میٹنگ کرنے کی بجائے اس روز مرکزی مجلس عمل توڑنے کا اعلان کر دیا گیا اور ایک نئی ڈائرکٹ ایکشن کمیٹی بنا دی گئی۔“
(مولانا سے پوچھا) ”اس اچانک اور غیر متوقع تبدیلی کے بعد آپ نے یا جماعت اسلامی نے سب سے پہلا ضروری قدم کیا اٹھایا؟“
میرے سوال کا جواب دیتے ہوئے مولانا نے فرمایا ”جماعت اسلامی نے فوراً یہ اعلان کر دیا کہ ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ہم اس ڈائریکٹ ایکشن میں کوئی حصہ نہیں لیں گے۔ ۲۷ فروری سے ڈائریکٹ ایکشن شروع کر دیا گیا اور ۵ مارچ تک ہنگامے اپنی پوری شدت سے ہوتے رہے۔ میں نے اس دوران دو بیانات دیئے۔ جن میں حکومت کو توجہ دلائی کہ اس مسئلے کو حکمت سے حل کرنا چاہئے۔ طاقت سے ایسے مسائل حل نہیں ہوا کرتے۔ اسی زمانے میں میں نے ”قادیانی مسئلہ“ نامی ایک پمفلٹ لکھا جو پانچ مارچ کو شائع ہوا۔ اس میں اصل مسئلے پر تفصیلی بحث کی گئی تھی۔ پانچ مارچ ہی کو جب لاہور میں ہنگامے اپنی شدت کو پہنچے ہوئے تھے، تین بجے گورنمنٹ ہاؤس میں گورنر چندریگر صاحب نے ایک کانفرنس بلائی جس میں میں بھی مدعو تھا۔ اس کانفرنس میں چندریگر صاحب نے یہ تجویز پیش کی کہ سب شرکاء کانفرنس عوام سے امن کی اپیل کریں۔ (واضح رہے کہ اس کانفرنس میں شہر کے تمام معززین کو بلایا گیا تھا) میں نے اس بات پر کہا کہ آپ بیورو کریٹ نہیں ہیں بلکہ عوامی آدمی ہیں۔ آپ خود عوامی تحریکیں چلاتے رہے ہیں۔ لہٰذا آپ سے زیادہ اور کون اس بات کو سمجھ سکتا ہے کہ جس مسئلے پر عوام میں ہیجان برپا ہو اور نوبت کشت و خون تک پہنچ جائے اس میں جب تک عوام کو یہ اطمینان نہ دلایا جائے کہ ان کے مطالبات پر واقعی بات چیت کی جائے گی اس وقت تک محض امن کی اپیل کرنا لا حاصل ہوتا ہے۔ ابراہیم چندریگر صاحب نے میری اس بات سے اتفاق کیا اور کہا کہ آپ باقاعدہ ایک تجویز لکھ کر پیش کریں۔ چنانچہ وہیں ایک کونے میں بیٹھ کر میں نے ایک تجویز لکھی جس کا خلاصہ یہ تھا کہ وزیراعظم صاحب عوام کو یہ اطمینان دلائیں کہ آپ کے مطالبات پر بات چیت کی جائے گی۔ آپ امن و سکون سے رہیں۔ چندریگر صاحب نے اس تجویز کو پسند کرنے کے بعد مجھ سے کہا کہ آپ ہی وہ بیان بھی لکھیں جو وزیراعظم کی طرف سے نشر ہونا چاہئے۔ چنانچہ اسی وقت میں نے ان کی طرف سے ایک بیان مرتب کیا اور اسی وقت ایک کمیٹی مقرر ہوئی تاکہ میرے مسودے پر غور و خوض کر کے اس کو آخری شکل دی جائے۔ اس کمیٹی میں میرے علاوہ خلیفہ شجاع الدین صاحب، علامہ علاؤ الدین صاحب، اور خود چندریگر صاحب شامل تھے۔ کچھ ترمیمات کے ساتھ وہ مسودہ آخری طور پر منظور کر لیا گیا۔ چندر یگر صاحب نے مجھ سے کہا کہ میں ابھی اسے وزیر اعظم تک پہنچاتا ہوں اور آج ہی ان کی طرف سے ریڈیو پر اعلان ہو جائے گا۔ واپس گھر آکر میں نے ریڈیو کھولا! تو اس بیان کے بجائے وزیراعظم کی طرف سے صرف امن کی اپیل کی گئی تھی۔ بہر حال ان واقعات سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ پانچ مارچ تک حکومت پنجاب اور مرکزی حکومت دونوں اس بات پر پوری طرح مطمئن تھیں کہ میرا اور جماعت اسلامی کا ان فسادات میں کوئی ہاتھ نہیں۔“
(مولانا نے اپنی دوسری قید کے اہم ترین پس منظر کی نقاب کشائی کرتے ہوئے مزید بتایا) ” چھ مارچ ۱۹۵۳ء کو لاہور میں یکا یک مارشل لاء نافذ کر دیا گیا۔ لیکن میرا پمفلٹ قادیانی مسئلہ مارشل لاء کے زمانے میں بھی نہ صرف شائع ہوتا رہا بلکہ کھلے بندوں فروخت بھی ہوتا رہا اور اردو انگریزی دونوں میں ترویج پاتا رہا ...... ۲۷ اور ۲۸ مارچ کی درمیانی شب کو یکا یک رات کے تین بجے میرے مکان پر فوج اور پولیس نے دھاوا بول دیا۔ مجھے گرفتار کر لیا گیا۔ جماعت کے تمام حسابات اور ریکارڈ پر قبضہ کر لیا گیا۔“ مجھے اپنی گرفتاری کے بعد معلوم ہوا کہ میرے ساتھ جماعت کے دیگر بارہ ذمہ دار افراد بھی گرفتار کئے گئے ہیں۔
( آپ کو یا جماعت کے دیگر بارہ افراد کو حکومت نے کس الزام میں گرفتار کیا؟)
مولانا نے جواب دیتے ہوئے کہا ”گرفتاری کے وقت ہمیں ہمارا کوئی جرم نہیں بتایا گیا بلکہ اس گرفتاری کے بعد یہ سوچنا شروع کیا گیا کہ ہمیں کس مقدمے میں پھانسا جائے۔ گرفتاری کے بعد مجھے اور جماعت کے دیگر اصحاب کو لاہور کے قلعے میں رکھا گیا۔ ان اصحاب میں جماعت کے ناظم مالیات بھی تھے۔ جماعت کے ناظم مالیات اور دوسرے جتنے لوگ قلعے میں رکھے گئے تھے ان سے وہاں یہ پوچھ گچھ ہوتی رہی کہ جماعت کے مالی وسائل کیا ہیں اور جماعت کی طرف سے مختلف امور پر خرچ ہونے والا روپیہ کہاں سے آتا ہے؟ اس کے جواب میں ہمارے ناظم مالیات نے جماعت کے حسابات کے رجسٹروں سے پوری طرح ثابت کر دیا کہ جماعت کے حسابات بالکل صاف ہیں۔ ایک ایک چیز جہاں سے آتی ہے اور جس کام پر خرچ ہوتی ہے درج ہے۔ ان کی رسیدیں اور واؤچر بھی موجود ہیں۔ اسی بناء پر میاں انور علی صاحب کو منیر انکوائری کمیٹی کے سامنے یہ تسلیم کرنا پڑا کہ ہم نے جماعت کے حسابات کی پوری تحقیق کر لی ہے ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا جس سے یہ معلوم ہو کہ جماعت کو کوئی بیرونی امداد ملتی ہے۔“
(اس قید کے دوران دیگر پوچھ گچھ کے علاوہ آپ پر مزید کیا سیاسی دباؤ ڈالا گیا؟) مولانا نے فرمایا: ”جہاں تک میرا تعلق ہے قلعے میں کسی کو میرے سامنے یہ سوال کرنے کی جرأت نہیں ہوئی کہ کیا جماعت کو کوئی بیرونی امداد ملتی ہے؟ مجھ سے وہاں صرف ڈائریکٹ ایکشن کے بارے میں سوال کئے گئے۔ میں نے جواب میں جب اس کی ابتداء سے انتہا تک پوری تاریخ بیان کر دی تو سی آئی ڈی کا وہ افسر جو مجھ سے سوال کر رہا تھا اس نے خود میرے سامنے یہ اعتراف کیا کہ جو کچھ آپ نے بیان کیا ہے ہماری معلومات اس سے ایک حرف بھی زائد یا کم نہیں ہیں۔ اس کے بعد تقریباً ایک مہینے سے زیادہ مدت اس فکر میں صرف کی گئی کہ اب ہم پر کیا مقدمہ بنایا جائے۔ اس دوران میں ہم قلعے ہی میں رہے۔ تین مئی کو یکا یک غلام محمد صاحب لاہور پہنچے اور پانچ مئی کو فوجی عدالت میں میرے خلاف دو الزامات کے تحت مقدمہ چلایا گیا۔ ایک یہ کہ میں نے ۲۴ فروری سے ۵ مارچ تک اخبارات میں ایسے بیان دیئے جو باغیانہ تھے اور دوسرے یہ کہ میں نے پانچ مارچ کو پمفلٹ قادیانی مسئلہ شائع کیا۔ اب قانونی پیچیدگی یہ تھی کہ مارشل لاء ۶ مارچ کو لگا اور یہ دونوں الزامات ان واقعات سے متعلق تھے جو چھ مارچ سے پہلے پیش آئے تھے۔ غلام محمد نے اس پیچیدگی کو رفع کرنے کے لئے ۹ مئی کو ایک اور آرڈیننس جاری کیا جس میں مارشل لاء کی عدالتوں کو مارشل لاء سے پہلے کے کیسوں پر بھی فیصلے کرنے کے اختیارات دیئے گئے۔“
--------
(نماز عشاء کا وقت ہو چکا تھا اور جماعت کے مرکز میں احباب نماز کے لئے مولانا کا انتظار کر رہے تھے۔ نماز سے فارغ ہو کر مولانا کچھ دیر بعد دوبارہ اپنے کتب خانے میں آگئے۔ سلسلہ کلام شروع کرتے ہوئے فرمایا) ...... ۸ مئی کی شام کو آخر کار وہ لمحہ آ پہنچا جس کا مجھے انتظار تھا۔ مجھے جیل میں یہ اطلاع دی گئی کہ تمہارے لئے ”سزائے موت“ تجویز کی گئی ہے۔
(مولانا کی زبانی ”سزائے موت“ کا سن کر میں ایک لمحے کے لئے رکا۔ مولانا مکرر رہے تھے۔ اسی اثناء میں چائے آگئی۔ مولانا نے مجھے چائے پینے کے لئے کہا۔ اپنی پیالی اٹھائی۔ ہماری گفتگو ایک بار پھر شروع ہو چکی تھی۔ مولانا فرما رہے تھے)
”اس سلسلے میں دو تین چیزیں خاص طور پر قابلِ توجہ ہیں۔ ہماری گرفتاری کے چند روز بعد ہی خواجہ ناظم الدین کو برطرف کر دیا گیا۔ گویا بیورو کریسی نے اقتدار بالکل اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ اور آئین سے متعلق ”بیسک پرنسپلز کمیٹی“ رپورٹ بہت گہرے گڑھے میں دفن کر دی گئی۔ یہی وہ چیز تھی جس کا ہمیں خطرہ تھا اور جس کی وجہ سے ہم ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے تھے کہ دستور سازی سے پہلے کوئی ہنگامہ کھڑا نہ ہو۔ یہی وہ بات تھی جس کی خواجہ ناظم الدین صاحب نے مجھے بہت پہلے اطلاع دے دی تھی کہ اس کا خطرہ درپیش ہے۔“
(اس مرحلے پر مولانا نے ایک واقعہ سناتے ہوئے فرمایا) ”چند سال بعد ایک روز جب میں باہر سے اپنے گھر آیا تو برآمدے میں سزائے موت سنانے والی اسی عدالت کے ایک ممبر کو بیٹھے ہوئے دیکھا۔ میں انہیں دیکھتے ہی پہچان گیا۔ میں نے استفسار کیا کہ آپ یہاں کیسے؟ تو وہ بولے میں ملازمت سے محروم ہو گیا ہوں۔ آپ مجھے ملازمت دلوانے میں مدد کریں۔ چنانچہ جو کچھ مجھ سے ہو سکا میں نے کیا اور اپنی طرف سے اشارۂ بھی ایسی کوئی بات نہیں کہی کہ آپ ہی ہیں جو مجھے سزائے موت دینے والوں میں شامل تھے۔ لیکن خود انہوں نے اپنی شرمندگی رفع کرنے کی غرض سے کہا کہ مولانا خدا کی قسم وہ فیصلہ میرا نہیں تھا بلکہ ہمیں جو آرڈر دیئے گئے تھے ان کی تعمیل ہمیں کرنی تھی۔“
(مارشل لاء کے اس فیصلے کا عوام میں کیا ردّعمل ہوا؟ میں نے ایک اور سوال کرتے ہوئے مولانا سے تفصیل چاہی۔ مولانا نے بتایا) کہ اس پر اندرون ملک سمیت تمام دنیا میں مظاہرے ہوئے۔ جب اتنے بڑے پیمانے پر حکومت کے اس فیصلے کو زیادتی قرار دیا گیا تو حکومت نے سزائے موت کو ۱۲ سال قید بامشقت میں تبدیل کر دیا اور میرے لئے سی کلاس تجویز کی۔ سزا کے فیصلے میں اس تبدیلی کے بعد جب مجھے سزائے موت کی کوٹھڑی سے نکالا گیا تو جیل کے حکام نے مجھ سے کہا کہ آپ کے لئے ”سی“ کلاس تجویز کی گئی ہے۔ آپ کلاس تبدیل کرنے کے لئے درخواست دیں تو ہم فوراً اوپر بھیج دیتے ہیں۔ میں نے ان سے کہا۔ ”آپ کے ہاں اگر کوئی ”ڈی“ کلاس ہو تو آپ مجھے اس میں بھیج دیں مگر ان لوگوں سے میں کوئی درخواست نہیں کروں گا۔“
بہر حال مجھے نہیں معلوم کہ بعد میں کس طرح کلاس تبدیل ہوئی ..... میری قید بامشقت تھی اور مشقت میرے لئے سوت کاٹنے کی تجویز کی گئی تھی مگر جب میں سوت کاٹتے بیٹھا تو ہر طرف سے قیدی دوڑ پڑے کہ ہم آپ کو یہ مشقت نہیں کرنے دیں گے ، آپ کے بدلے ہم مشقت کریں گے۔ چنانچہ اس کے بعد سے جب تک میں قید رہا میرے سامنے لفظ مشقت کبھی نہیں آیا ..... ۲۵ مہینے گزرے تھے کہ انہی غلام محمد کی ایک دوسری ”دانش مندی“ نے میری اس عمر قید کو بھی ختم کر دیا۔ وہ دانش مندی یہ تھی کہ انہوں نے دستور ساز اسمبلی کو توڑ دیا۔ مولوی تمیز الدین صاحب نے اس کے خلاف عدالت سے چارہ جوئی کی اور سندھ چیف کورٹ کے فل بنچ نے تمیز الدین صاحب کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ پھر معاملہ جسٹس منیر کی عدالت میں آیا اور جسٹس منیر نے غلام محمد کو بادشاہ کا مرتبہ دیکر اس بات کا مختار بنا دیا کہ وہ اس دستور ساز اسمبلی کو توڑ سکتے ہیں جسے حکومت برطانیہ کی جانب سے اقتدار منتقل کیا گیا تھا۔ قائد اعظم مرحوم کے زمانے سے یہ بات طے تھی کہ دستور ساز اسمبلی جب مجلس قانون ساز کی حیثیت سے کام کرے گی تو اس کے پاس کئے ہوئے قوانین پر گورنر جنرل کے دستخط ہونا ضروری ہیں۔ لیکن آئین ساز مجلس ہونے کی حیثیت سے جو قوانین بھی بنائے جائیں گے ان پر گورنر جنرل کے دستخط ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ صرف صدر مجلس آئین ساز کے دستخط سے وہ آئین قرار پائے گا۔ لیکن جسٹس منیر ان تمام قوانین کو غیر قانونی قرار دے بیٹھے جو قیام پاکستان سے دستور ساز اسمبلی کے توڑے جانے تک اس طرح نافذ ہوئے تھے۔ انہی میں ایک وہ قانون بھی تھا جس کی رو سے مارشل لاء اٹھنے کے بعد بھی فوجی عدالتوں کے فیصلے برقرار رہتے تھے۔ چنانچہ اس طرح میری وہ قید بھی آپ سے آپ خلاف قانون قرار پا گئی جو غلام محمد صاحب ہی کی بدولت دی گئی تھی۔“
(بعض دوسری تفصیلات بتاتے ہوئے مولانا نے فرمایا) ”میری اس قید کی کل مدت پچیس ماہ تھی۔ سزا ملنے کے چند روز بعد مجھے میانوالی منتقل کر دیا گیا۔ پھر منیر انکوائری کمیٹی بٹھائی گئی تو اس نے مجھے لاہور سنٹرل جیل منتقل کرا لیا۔ اس کے بعد جب کمیٹی کا کام ختم ہو گیا تو مجھے ڈسٹرکٹ جیل ملتان منتقل کر دیا گیا۔“
(میرے ایک اور سوال کے جواب میں مولانا نے بتایا کہ ) ”اس زمانے میں خاصی طویل مدت تک یہ جھگڑا چلتا رہا کہ مجھے قید خانے میں پڑھنے کے لئے کتابیں فراہم کی جائیں تاکہ میں اپنی تصانیف کا سلسلہ جاری رکھ سکوں۔ لیکن میری اس بات کا جواب اسمبلی میں یہ دیا گیا کہ ہم نے اس شخص کو اس لئے قید نہیں کیا کہ وہ جیل میں بیٹھ کر تحریک اسلامی کا لٹریچر تیار کرے۔ یہ ملک فیروز خان نون کی صوبائی وزارت کا زمانہ تھا۔ آخر کار بمشکل یہ طے ہوا کہ مجھے وہ کتابیں دی جا سکتی ہیں جو تفسیر لکھنے کے لئے درکار تھیں۔ چنانچہ ڈسٹرکٹ جیل ملتان میں، میں نے تفسیر کا کام شروع کر دیا اور سورہ حج سے سورہ فرقان تک کی تفسیر وہیں مکمل کی۔“
(مولانا نے کہا) کہ لاہور کے شاہی قلعہ کے بارے میں عجیب عجیب باتیں مشہور ہیں۔ ظاہر ہے جس شخص کو قید کے لئے یہاں لایا جاتا ہے وہ قلعے کی سیر نہیں کر سکتا بلکہ اسے اس کے کمرے یا کوٹھڑی تک پہنچا دیا جاتا ہے۔ یہاں قیام کے دوران میں میرے پاس پوچھ گچھ کے لئے سی آئی ڈی کے آدمی آئے لیکن کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ان میں سے کوئی بھی اجازت لئے بغیر میرے پاس آیا ہو۔ میرے ساتھ ان کا رویہ نہایت احترام کا تھا۔ انٹیروگیشن کے علاوہ سی آئی ڈی والے اور انتظامیہ کے دیگر افراد میرے پاس بیٹھ کر دوسری باتیں بھی کرتے تھے۔ انہی دنوں ایک آفیسر جن کا انتقال ہو چکا ہے، ایک روز وہ مجھ سے باتیں کرتے کرتے یکایک کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے کہ اب میں جاتا ہوں، مجھے ڈر ہے اگر میں نے آپ سے مزید باتیں کیں تو میرے خیالات اتنے بدل جائیں گے کہ مجھے یہ نوکری چھوڑنی پڑ جائے گی۔ یہاں ایک اور بات قابل ذکر ہے کہ جب تک میری ”کلاس“ تبدیل نہیں ہوئی جیل کے عملے نے مجھے ہسپتال بھیج دیا۔ قلعے میں مجھے بالائی منزل کے جنوبی حصے میں رکھا گیا تھا اور چہل قدمی کے لئے صحن میں لے جاتے تھے۔ روشنی انہوں نے میرے اختیار میں دے رکھی تھی کہ جب چاہوں جلاؤں اور جب چاہوں بند کروں۔ علاوہ ازیں میرے گھر سے جب بھی کھانا بھیجا جاتا وہ مجھے پہنچ جاتا تھا۔
(کیا آپ یہ ارشاد فرمائیں گے کہ سزائے موت کا حکم صادر ہونے کے بعد پھانسی کی کوٹھڑی میں آپ کو کتنے دن رکھا گیا؟ وہاں آپ پر کیا بیتی؟ کوٹھڑی کس طرح تھی؟ اس کے قریب کچھ اور قیدی بھی محبوس تھے یا فقط آپ ہی کو رکھا گیا تھا؟) مولانا نے مسکراتے ہوئے فرمایا ”میں پھانسی کی کوٹھڑی میں تقریباً تین دن رہا۔ یہ جگہ بہت محفوظ تھی۔ دیواریں لوہے کی طرح مضبوط تھیں۔ ایک روشندان تھا۔ جس میں مضبوط سلاخیں تھیں۔ اس کوٹھڑی کے اطراف و جوانب لوہے کا احاطہ بھی تھا۔ جس پر ہر وقت پہرہ ہوتا تھا۔ اس کوٹھڑی میں میں عموماً یا تو تلاوت کرتا تھا یا اصول فقہ کی ایک کتاب پڑھتا تھا جو میرے پاس تھی۔ یہاں رات کو ہر طرف سے دعاؤں اور ذکر الٰہی کی آوازیں آیا کرتی تھیں۔ مقید اکثر قیدی رو رو کر خدا سے دعائیں کرتے۔ آہ وزاری کی وہ کیفیت انتہائی مؤثر ہوتی تھی۔“
( اور پھر اس نشست کی گفتگو کو سمیٹتے ہوئے مولانا نے کہا) ”میری قید کے یہ واقعات فقط میری ذات سے متعلق نہیں ہیں بلکہ سچ پوچھیے تو یہ واقعات پاکستان کی تاریخ میں ایک اہم ترین موڑ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جب پاکستان میں بیورو کریسی کو پروان چڑھنے کا موقع ملا اور جمہوریت اور اسلامی قدروں کو روندنے کا کام کیا گیا۔“
۔۔۔۔۔۔۔۔
(3)
(تیسری گرفتاری ۶ جنوری ۱۹۶۴ء کو عمل میں آئی۔ اس گرفتاری کا پس منظر خاصا طویل ہے۔ مولانا نے فرمایا) ”۱۹۵۸ء میں مارشل لاء لگا تو جماعت اسلامی بھی منجملہ دوسری تمام جماعتوں کے ممنوع قرار پائی۔ جماعت چونکہ ملکی قانون کی پابند ہے۔ اس لئے اس نے اپنا تمام کام سمیٹ لیا، لیکن آمریت نے خود بھی اس کے کام کو برباد کرنے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔۔۔۔۔ اس کے رفقا ہی کام تک ختم کر دیئے گئے۔ حکومت نے اس کے شفا خانے بند کر ڈالے۔ دوائیں اٹھالیں۔ انفرادی طور پر البتہ وہ کام جاری رہے جو کام جماعت اپنی اجتماعی حیثیت سے تنظیم کے ساتھ کیا کرتی تھی۔ اس کے افراد اپنے طور پر الگ الگ کام کرتے رہے۔ آمریت کو یہ بھی کب گوارا ہو سکتا تھا، چنانچہ اس نے دباؤ ڈالنے کی کوشش کی ۔۔۔۔ اس سلسلے میں سی آئی ڈی کے ایک افسر مجھ سے ملے۔ انہوں نے صاف صاف تو نہیں کہا کہ میں کس لئے آیا ہوں لیکن وہ مجھے احساس دلانے آئے تھے کہ یہ بات حکومت کے علم میں ہے کہ میں اور جماعت کے دوسرے افراد انفرادی حیثیت سے اپنے کام کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ میں نے کہا یہ بات آپ نوٹ کر لیجئے اور اپنی اوپر کی اتھارٹیز کو بھی بتا دیجئے کہ آپ کا قانونی طور پر کسی جماعت کو ممنوع قرار دینا دوسری جماعتوں کو تو ختم کر سکتا ہے لیکن اسلامی تحریک کو ختم نہیں کر سکتا۔ یہاں تو ہر شخص اپنے کچھ سوچے سمجھے نظریات، اصول اور مقاصد رکھتا ہے جن کی جڑیں اس کے دل و دماغ میں پیوست ہیں اور دنیا کا کوئی قانون دل و دماغ میں جمی ہوئی جڑوں کو نہیں اکھاڑ سکتا۔ ہم چونکہ قانون کے پابند ہیں اس لئے تنظیم کے ساتھ تو کام نہیں کریں گے لیکن اپنے خیالات کو ہم کہاں لے جائیں۔ وہ ہمارے اندر موجود ہیں۔ ہم جس سے بھی بات کریں گے اپنے خیالات کا اظہار کریں گے۔ اور جس وقت بھی آپ کا مارشل لاء اٹھے گا چاہے دس برس بعد اٹھے اس کے فوراً بعد جماعت اسلامی اٹھ کھڑی ہوگی اور ویسی ہی فعال ہو جائے گی جیسی مارشل لاء سے قبل تھی۔“
(مولانا نے گفتگو جاری رکھتے ہوئے فرمایا) ”تجدید بے اثر ثابت ہوئی تو حکومت نے ترغیب و تحریص سے کام لینا چاہا اور مجھ کو رام کرنے کی کوششیں کی گئیں، (میں نے پوچھا ”وہ کیسے؟“ مولانا نے فرمایا) ایوب خاں صاحب نے خواہش کر کے خود مجھے ملاقات کی دعوت بھیجی۔ اس ملاقات میں مجھ سے کہا کہ میں آپ کی قدر کرتا ہوں، آپ کی کتابوں سے میں نے بہت استفادہ کیا ہے، میں چاہتا ہوں کہ آپ پالیٹکس کے گندے کھیل کو چھوڑ کر خالص دینی خدمت میں لگ جائیں جس قدر بھی میرے بس میں ہوگا میں آپ کی خدمت کروں گا ...... یہ ساری چیز اس ملاقات میں بڑی تفصیل سے انہوں نے کہی۔ میں نے ان سے کہا یہ ٹھیک ہے پالیٹکس ہمارے ملک میں گندا کھیل بن گیا لیکن کیا آپ کا خیال ہے کہ پالیٹکس کو یہاں گندا ہی رہنا چاہئے اور اسے پاک نہیں کرنا چاہئے؟
(اس کا کوئی جواب ان سے بن پڑا؟ میں نے دریافت کیا)
(مولانا نے جواب دیا) ”ان کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ کہیں کہ اس کو پاک کیا جائے“۔ پھر ایوب خاں صاحب کو بتایا کہ ہم پالیٹکس کو پاک کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔ ”آپ (ایوب خاں) کوئی مثال نہیں دے سکتے کہ میں نے یا میری جماعت نے پالیٹکس کو گندا کیا ہو۔“
(اسی پس منظر میں ایک اور واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے مولانا نے بتایا) کہ کچھ عرصہ بعد جب مرکزی سیکرٹریٹ کراچی سے راولپنڈی منتقل ہو رہا تھا اور وہاں عارضی عمارتوں میں کام ہو رہا تھا، عارضی دارالحکومت میں ایک کلب "I do not agree club" کے دلچسپ نام سے قائم ہوا۔ (مولانا نے اس کا ترجمہ یوں کیا: میں نہ مانوں کلب)۔ اس میں انہیں Islam Today (اسلام عصر حاضر میں) کے عنوان پر تقریر کی دعوت دی گئی اور ایوب خاں صاحب نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ یہ تقریر سننے کو وہ بہ نفس نفیس تشریف لائیں گے۔ وقت آیا تو وہ خود تو نہ آسکے البتہ ایک ٹیپ ریکارڈر اس ہدایت کے ساتھ بھجوا دیا کہ اسے ٹیپ کر لیا جائے۔“)
چونکہ مجھے احساس تھا کہ ایوب خاں صاحب خود بھی یہ تقریر سنیں گے، لہذا میں نے بڑی وضاحت سے سمجھانے کی کوشش کی کہ مسلمان ملک مشرق سے مغرب تک جس کمزوری میں مبتلا ہیں اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ قوم جو کچھ چاہتی ہے حکمران وہ ہرگز نہیں چاہتے۔ دوسری طرف حکمران جو کچھ چاہتے ہیں قوم وہ ہرگز نہیں چاہتی۔ یہ داخلی تصادم تمام مسلمان ملکوں میں برپا ہے اور ہماری قومی طاقت کے استحکام میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ترقی وہاں ہوتی ہے جہاں قوم اور حکومت کے مقاصد میں ہم آہنگی ہو اور دونوں پورے باہمی تعاون سے کام لیں۔ اس کے برعکس جہاں ہر وقت یہ تصادم چلتا رہے وہاں ترقی نہیں ہو سکتی۔ بد قسمتی سے یہ داخلی تصادم تمام مسلمان ملکوں میں عیاں ہے۔“
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(اب مولانا نے سلسلۂ ملاقات کا دوسرا حصہ بیان کرتے ہوئے فرمایا) ”میرے اور ایوب خاں صاحب کے درمیان تصادم کی کوئی شکل اس مرحلے تک پیدا نہیں ہوئی تھی۔ تصادم کا آغاز اس وقت ہوا جب Muslim Family Laws Ordinance کے نام سے عائلی قوانین نافذ ہوئے۔ میں نے اپنے درس قرآن میں اس آرڈینینس پر تنقید کرتے ہوئے وضاحت سے بتایا کہ اس میں کیا کیا غلطیاں ہیں۔ یہ مغربی نظریات سے متاثر و مرعوب ہو کر اسلام کے اس قرآنی نظام کو مسخ کرنے کی کوشش ہے جسے انگریز نے اپنے زمانے میں آگ لگانے کی پوری کوشش کی تھی۔ اس تنقید پر لاہور ڈویژن کے کمشنر نے مجھے بلا بھیجا اور کہا کہ یہ مارشل لاء کی خلاف ورزی ہے اور حکومت اس پر ایکشن لے سکتی ہے۔۔۔۔۔ میں نے ان سے کہا کہ خدا تعالیٰ کے احکام کی خلاف ورزی ملکی قوانین کی خلاف ورزی سے زیادہ سخت چیز ہے۔ حکومت اگر کوئی ایکشن لینا چاہے تو مجھے اس کی پروا نہیں۔“ اس کے بعد علماء کا ایک اجتماع ہوا۔ جس میں عائلی قوانین پر تفصیلی تنقید کی گئی۔
(آپ بھی اس اجتماع میں شامل تھے میں نے پوچھا)
انہوں نے فرمایا ”وہ تنقید لکھی ہوئی ہی میری تھی اور علماء نے اسے Approve کیا تھا۔ حکومت کو اس تنقید سے اتنی پریشانی ہوئی کہ اخبارات کو احکام دے دیئے گئے کہ اس قسم کی کوئی تنقید شائع نہ کی جائے۔ یہ تنقید چونکہ اخبارات میں شائع نہ ہو سکی تھی اس لئے اسے ہم نے انگریزی اور اردو پمفلٹوں کی شکل میں شائع کیا۔ یہ پمفلٹ بھی ضبط کر لئے گئے اور جماعت کے موجودہ امیر میاں طفیل محمد صاحب کو جو ان کے ناشر تھے، گرفتار کر لیا گیا۔ بعد میں یہ پمفلٹ کئی سو علماء کے دستخطوں کے ساتھ دوبارہ شائع ہوا۔ جن علماء کے دستخط اس پر ثبت تھے ان میں مشرقی و مغربی پاکستان کے علماء شامل تھے۔
(تصادم کی دوسری صورت اس وقت ہوئی جب ایوب خاں صاحب نے کانسٹی ٹیوشن کمیشن مقرر کیا اور اس کا سوالنامہ لوگوں کا رد عمل جاننے کے لئے شائع کیا گیا۔ اس سوالنامہ کا جواب میں نے بھی لکھا اور ملک کے سابق وزیر اعظم چودھری محمد علی صاحب نے بھی جو جواب میں نے لکھا اسے علماء کی ایک میٹنگ نے باقاعدہ منظور کیا۔ اس کی اشاعت پر فوجی ہیڈ کوارٹر نے مجھے، چودھری محمد علی صاحب، مولانا داؤد غزنوی مرحوم اور دوسرے اصحاب کو بلا کر باز پرس کی۔ ہم نے کہا یا تو یہ سوالنامہ شائع نہیں کرنا چاہئے تھا، یا اگر رائے عامہ معلوم کرنے کے لئے سوالنامہ شائع کیا جاتا ہے تو یہ بات اس کی اشاعت میں ہی مضمر ہے کہ اس کا جواب دیا جائے۔ ان حالات میں جواب دینا آخر کس قانون کی خلاف ورزی ہے؟
اس کے بعد پنجاب یونیورسٹی لاہور کے طلبہ کی طرف سے یونیورسٹی ہال میں ایک پبلک مذاکرہ کا اعلان ہوا۔ مقررین میں میرے علاوہ اور بھی کئی حضرات مدعو تھے لیکن جب ہم وقت مقررہ پر یونیورسٹی ہال پہنچے تو دیکھا کہ ہال پولیس کے پہرے میں ہے اور حاضرین ایک بہت بڑی تعداد میں باہر کھڑے ہیں۔ ہمیں واپس آنا پڑا اور باز پرس کی گئی کہ گئے ہی کیوں تھے۔ میں نے کہا کہ جب مذاکرے کی بندش کا اعلان ہی نہیں تھا تو پھر وہاں جانا کیسے جرم ٹھہرا؟
تیسری صورت مارشل لاء کے زمانے میں تصادم کی اس طرح پیدا ہوئی کہ خود حکومت کی طرف سے ایک مجلس مذاکرہ منعقد کرنے کا فیصلہ ہوا جس میں خاندانی منصوبہ بندی پر بحث تھی۔ اس میں شرکت کی دعوت مجھے اس درخواست کے ساتھ دی گئی کہ جو مقالہ پڑھنا چاہتے ہو اس کی ایک نقل پہلے بھیج دو۔ طرفہ تماشا یہ ہوا کہ جب میرا مقالہ وہاں پہنچا تو مجلس مذاکرہ ہی منسوخ کر دی گئی۔ ...... یہ مقالہ بعد میں ترجمان القرآن میں بھی شائع ہوا اور الگ پمفلٹ کی شکل میں بھی۔“
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پونے چار سال بعد جب اپنی مرضی کا آئین نافذ کر کے ایوب خاں صاحب نے مارشل لاء اٹھایا تو مولانا نے اعلان کیا کہ چوبیس گھنٹے کے اندر اندر جماعت اسلامی کے دفاتر از سر نو قائم کر دیئے جائیں اور جماعت من حیث الجماعت کام کرنا شروع کر دے۔ چنانچہ ٹھیک چوبیس گھنٹے کے اندر اندر دفاتر قائم ہو گئے۔ جماعت اسلامی نے اسی وقت سے فوراً کام کرنا شروع کر دیا حالانکہ دوسری جماعتیں یہ سوچ رہی تھیں اور مدتوں سوچتی رہیں کہ اپنے کو بحال بھی کریں یا نہیں۔
مولانا نے فرمایا: ”اس کے بعد ہم نے ۱۹۶۲ء کے آئین کا تجزیہ کیا۔ سب سے پہلے میں نے ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن لاہور کی دعوت پر وہاں ایک مفصل تقریر اس موضوع پر کی۔ پھر دوسرے مقامات پر بھی تقریریں کیں۔“
(اس دور کی تاریخ بیان کرتے ہوئے مولانا نے کہا) ”انہی ایام میں مشرقی پاکستان کے سیاسی لیڈروں نے نیشنل ڈیموکریٹک فرنٹ (NDF) بنا کر کہا ہم ۱۹۶۲ء کا آئین رد کرتے ہیں۔ انتخابات نئے سرے سے ہوں اور بنیادی جمہوریت کے بجائے بالغ رائے دہی کے اصول پر ہوں۔ اس کے ساتھ نیا آئین بھی بنے ...... یہ لیڈر جب یہ مطالبہ لے کر مغربی پاکستان آئے تو یہاں کے دوسرے سیاسی رہنماؤں کے ساتھ میں بھی ان مجالس میں شریک ہوا۔ جن میں اس مسئلہ پر تبادلہ خیال ہوا۔ میں بڑی مشکل سے ان لوگوں کو سمجھانے میں کامیاب ہوا کہ اس مرحلے پر ۱۹۶۲ء کے آئین کو رد کرنے کے بجائے اس میں ایسی ترمیمات کرنا بہتر ہے جن سے وہ جمہوری نوعیت کا ہو جائے۔ اس غرض کے لئے میں نے اس آئین میں ترمیمات کا خاکہ مرتب کر کے پیش کیا کہ یہ ترمیمات ہو جائیں تو آپ مطمئن ہو سکتے ہیں کہ یہ جمہوری نوعیت کا ہے۔ خدا تعالیٰ کا شکر ہے کہ میرے سمجھانے سے بات ان کی سمجھ میں آگئی اور پھر انہی خطوط پر ترمیم دستور کا بل اسمبلی میں پیش کیا گیا۔
اس مرحلے پر یہ حیرت زدہ کرنے والا منظر دیکھا گیا کہ ان تعمیری کوششوں پر حکومت برافروختہ ہوگئی اور سرکاری پروپیگنڈا مشینری نے اپنی توپوں کا رخ مولانا اور جماعت کی طرف کر دیا۔
مولانا نے بتایا: ”اس دوران میں جماعت اسلامی نے اپنا آل پاکستان اجتماع لاہور میں کرنے کا اعلان کیا (اکتوبر ۱۹۶۴ء) یہ اعلان گویا ایک شتابہ تھا جو حکومت کے میگزین کو لگ گیا۔ مرکزی وزیر اور دوسرے اصحاب کے بیان جماعت کے اور میرے خلاف آنے لگے۔ اجتماع کے لئے جس جس جگہ کی ہم نے درخواست کی اسے رد کیا گیا۔ بالآخر بھاٹی گیٹ اور یکسالی گیٹ کے درمیان پارک کی شکل میں جو پٹی ہے وہاں اجتماع کی اجازت ملی لیکن عین وقت پر ایک لاؤڈ سپیکر آرڈینینس نافذ کر دیا گیا جس کی وجہ سے ہم لاؤڈ سپیکر کے استعمال کے حق سے محروم ہو گئے۔ باہر سے جماعت کے جو لوگ آئے والے تھے اور جنہوں نے ریل کی بوگیاں اپنے لئے ریزرو کرائی تھیں ان کی بکنگ عین وقت پر منسوخ کر دی گئی۔ ان تمام کوششوں کے باوجود اجتماع کے دن دس ہزار نمائندے ہمارے کیمپوں میں مقیم تھے اور بغیر لاؤڈ سپیکر کے جلسہ عام میں کم سے کم اندازے کے مطابق کوئی چالیس ہزار افراد تھے۔“
ایک تو سرکلر روڈ پر ٹریفک کا شور دوسرے اس تنگ پٹی پر بیٹھے ہوئے سامعین کا دور تک پھیلے ہونا، انہی اسباب کی بنا پر آواز سب لوگوں تک پہنچانا لاؤڈ سپیکر وں کے طویل سلسلے کے بغیر ناممکن نظر آتا تھا۔ ان حالات میں لاؤڈ سپیکر آرڈینینس نافذ کرنے والے سمجھے کہ جماعت کے بانی و قائد کی آواز دب جائے گی لیکن مکبر الصوت آلات کی عدم موجودگی میں انسانی مکبر حرکت میں لائے گئے۔ مولانا نے لاؤڈ سپیکر کا بدل فوراً تلاش کر لیا۔ یہ بدل نماز با جماعت میں آخری مقتدیوں تک مکبروں یعنی تکبیر اونچی آواز سے کہنے والوں کے طرز پر ایک پورے سلسلے کا تقرر تھا۔ مولانا کو اس اجتماع میں جو تقریر کرنی تھی اسے انہوں نے لکھ لیا۔ اس کی متعدد نقلیں کرالی گئیں۔ پھر جلسہ گاہ میں جگہ جگہ منبروں پر جماعت کے افراد کھڑے ہو گئے۔ جیسے سربراہ جماعت اپنی تقریر پڑھتے گئے منبروں پر کھڑے لوگ بآواز بلند اسے اپنی اپنی جگہ پڑھ کر سناتے گئے...... لاؤڈ سپیکر آرڈینس ششدر رہ گیا۔
لیکن ابھی ظلم کا ایک اور حصہ باقی تھا۔
تقریر کا یہ سلسلہ جاری تھا کہ اجتماع پر غنڈوں کے ذریعے حملہ کرا دیا گیا۔ خیموں کی طنابیں کاٹی جانے لگیں۔ سالانہ اجتماع کے سٹال لوٹے جانے لگے۔ شراب پئے ہوئے غنڈوں نے پستول نکال کر گولیاں چلانی شروع کر دیں۔ خود سٹیج کی طرف رخ کر کے جہاں مولانا کھڑے تھے فائر کیا گیا۔ باہر سٹالوں پر توڑ پھوڑ سے قرآن شریف کے نسخے بھی ان لوگوں کے ہاتھوں توہین سے محفوظ نہ رہ سکے۔ اندر اجتماع گاہ میں جماعت کے افراد نے کمال ضبط و تحمل کا مظاہرہ کیا۔ غنڈوں نے جب دیکھا کہ جلسے والے مشتعل نہیں ہوئے تو انہوں نے فائر کر کے جماعت کے ایک کارکن اللہ بخش صاحب کو جو اپنی بیوی اور بچی سمیت گوجرے سے آئے ہوئے تھے، گولی کا نشانہ بنا کر شہید کر دیا۔ اللہ بخش شہید کی بیوی اور بچی عورتوں کے پنڈال میں بیٹھی تھیں جہاں ان غنڈوں نے بوٹلیں پھینکیں کہ چوٹیں تو عورتیں بھی زخمی ہوں اور افراتفری بھی پھیلے۔ لیکن وہاں بھی صبر و تحمل کا ایک ہی مظاہرہ تھا۔ ایک چیخ بھی سنائی نہیں دی۔ اس وقت بھی نہیں جب اللہ بخش کی بیوی کو اطلاع ملی کہ ان کا شوہر قتل ہو گیا۔ نہیں، اس وقت بھی نہیں جب شہید کی میت ان کے حوالے ہوئی اور وہ اپنا بستر باندھ کر اپنے سرتاج کو لے کر واپس چلیں جس کے سہارے یہاں تک آئی تھیں۔ دوسری عورتوں نے بھی جن کا کلیجہ ماں بیٹی کی اس بے کسی پر پھٹا جا رہا تھا صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔ آنکھوں سے آنسو ضرور چھلکے۔ فریاد عرش پر ضرور گئی۔ لیکن خاموش فریاد، چیخوں اور آہ و بکا کے ساتھ نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مولانا نے کہا: ”لاؤڈ سپیکر کے بغیر مجمع کو کنٹرول کرنا ممکن نہ تھا لیکن اللہ تعالیٰ کا فضل تھا کہ جماعت کو برسوں سے جو تربیت دی گئی وہ کام آئی اور تمام اشتعال انگیزیوں کے باوجود غنڈوں کی کسی بات کا جواب نہ دیا گیا۔ آخر وہ اپنا سامنہ لے کر رہ گئے ۔ “
(ساری صورت حال کا تجزیہ کرتے ہوئے مولانا نے کہا) ”حکومت اوّل تو یہ توقع رکھتی تھی کہ میری طرف جب فائر کیا جائے گا تو میں اور جماعت کے دوسرے کارکن سٹیج کے نیچے دبک جائیں گے لیکن اس کے کارندوں کو حیرانی ہوئی کہ میں اسی طرح کھڑا رہا اور تقریر کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ حکومت یہ بھی توقع رکھتی تھی کہ جماعت کے لوگ مشتعل ہو کر غنڈوں سے لڑ پڑیں گے۔ اس نے تیاری کر رکھی تھی کہ ادھر لڑائی چھڑے ادھر پولیس اپنے اسلحہ کے ساتھ اجتماع پر حملہ آور ہو جائے اور اسے خلاف قانون قرار دینے کا بہانہ مل جائے ...... پولیس کے مسلح دستے اس غرض کے لئے تیار تھے۔“
(اس ضمن میں مولانا نے امیر محمد خان نواب کالا باغ گورنر کا بھی ذکر کیا جن کا بھیانک انجام بعد میں دیدۂ بینا کے لئے سامان عبرت بنا۔ ان کی رائی سے وفاداری اور رعایا پر سخت گیری اس زمانے میں ضرب المثل بنی ہوئی تھی۔ مولانا نے کہا) ”گورنر صاحب نے کہا تھا جماعت سے ہم وہ سلوک کریں گے جو ناصر نے اخوان کے ساتھ کیا تھا۔ اپنے اسی ارشاد کے مطابق انہوں نے تمام تیاریاں کی تھیں لیکن خدا کے فضل سے جماعت کے صبر اور ڈسپلن نے ان کی ساری سکیم کو ناکام کر دیا۔“
(مولانا نے بتایا) ”مجھ سے پوچھا گیا کہ آپ اس واقعے کے متعلق کسی قانونی کارروائی یا عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں، میں نے کہا ”میرا کوئی مطالبہ نہیں۔ یہ مقدمہ خدائے ذوالجلال کے ہاں دائر ہو چکا ہے۔ وہیں کارروائی ہوگی، وہیں فیصلہ ہو گا۔““
(سرکار نے اس اجتماع کو ناکام بنانے کی تدبیر کی تھی جو الٹی پڑ گئی، مولانا نے فرمایا:) ”ہمارا اجتماع تین روز کا تھا۔ لاؤڈ سپیکر کے بغیر تقریریں نہیں ہو سکتی تھیں، میں نے کارکنوں سے کہا کہ تین تین چار چار کی ٹولیوں میں بٹ کر شہر میں پھیل جائیں اور تحریک کا پیغام پہنچائیں۔ یہ پروگرام بہت کامیاب رہا۔ کارکن شہر کے گوشے گوشے میں پہنچے۔ ہمارے اجتماع کو تباہ کرنے کے لئے جو کچھ کیا گیا، اس کی وجہ سے جماعت کے ساتھ ہمدردی کا جذبہ عام ہو چکا تھا۔ ان حالات میں کارکنوں کی خوب پذیرائی ہوئی اور کوئی پانچ ہزار مزید متفقین بنے۔ یہ کامیابی ہم عام حالات میں ہرگز حاصل نہیں کر سکتے تھے۔
(مولانا نے فرمایا) ”اس سکیم میں حکومت کو جو ناکامی ہوئی، اس نے اسے آتش زیر پا کر دیا اور اسے اندازہ ہو گیا کہ اس کا سابقہ بڑے بے ڈھب لوگوں سے پڑا ہے۔“
دوسری طرف خود مولانا اور ان کے ساتھیوں کو بھی اس کا اندازہ ہو گیا کہ حکومت اور بیورو کریسی کا غصہ اسلامی نظام کے لئے کام کرنے والوں کے خلاف کس حد تک بھڑک چکا ہے اور جلد ہی کسی شدید شکل میں سامنے آنے والا ہے۔
(”اس تاثر نے جماعت کے فکر و عمل میں کوئی تبدیلی تو پیدا نہیں کی۔“ میں نے مولانا سے پوچھا)
”ہرگز نہیں۔ ہم نے اپنا کام جاری رکھا اور سالانہ اجتماع کے بعد بلاتاخیر یہ مہم شروع کر دی کہ ایوب خاں صاحب کے دستور میں کم از کم دو ضروری ترمیمات کی جائیں۔ ایک یہ کہ بنیادی حقوق کو بلا شرط و استثنا عدالتوں کے ذریعہ قابل حصول بنایا جائے۔ دوسرے یہ کہ باشندگان پاکستان کو بالغ رائے دہی کے اصول پر براہ راست اپنے نمائندے منتخب کرنے کا حق دیا جائے۔
ہم نے خود ریاست کے نام کا سوال بھی اٹھایا۔ ہمارا مطالبہ تھا کہ ریاست کا نام صرف جمہوریۂ پاکستان کی بجائے اسلامی جمہوریۂ پاکستان ہو۔
ریاست کے نام کے بارے میں ہم سے کہا گیا ”نام میں کیا رکھا ہے؟ ہم نے کہا اگر نام میں کچھ نہیں رکھا تو ایک مسلمان بچے کا نام اسلامی کیوں رکھا جاتا ہے؟ پھر جہاں تک اداروں (Institutions) کا تعلق ہے نام کسی ادارے کا تعارف اس حیثیت سے کراتا ہے کہ اس کا مسلک کیا ہے۔ خود جمہوریہ کا لفظ ریاست کے نام میں اس لئے ہے کہ واضح کر دیا جائے کہ اس کا نظام حکومت ملوکیت پر مبنی نہیں، یہاں بادشاہی نہیں بلکہ جمہوریت ہے۔ اس ضمن میں روس کی مثال دیتے ہوئے میں نے کہا اس ملک نے اپنے ملک کا اظہار اپنے پورے نام یونین آف سوویت سوشلسٹ ریپبلکس (U.S.S.R) کے ذریعے کیا ہے اگر ہماری مملکت اسلامی ہے تو اس کا نام اسلامی جمہوریہ ہونا چاہئے ...... ہم نے معترضین کے جواب میں مزید کہا ”خصوصیت سے یہ تبدیلی کہ پہلے اس کا نام اسلامی جمہوریہ تھا اور اب اسلامی کا لفظ نکال دیا گیا۔ دنیا میں اس امر کا اعلان کرنے کے مترادف ہے کہ اب یہ ملک اسلامی نہیں رہا۔ اس وضاحت کی روشنی میں یہ ترمیم دستور میں اور بھی ضروری ہو جاتی ہے کہ ملک کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہو۔“
--------
(مولانا نے فرمایا) ”ہم نے دلائل کے ساتھ اپنے مطالبات ان کے سامنے رکھے۔ مطالبات پر دستخطوں کی مہم چلائی، جن پر مشتمل نو میل لمبا ایک محضر نامہ اسمبلی کے اجلاس ڈھا کہ میں باقاعدہ پیش کر دیا گیا۔ جماعت کی مہم بالآخر کامیابی سے ہم کنار ہوئی۔ سابق وزیر قانون شیخ خورشید احمد مرحوم کی مساعی بھی اس باب میں ہمیشہ قدر سے یاد رکھی جائیں گی۔
(مولانا نے سلسلہ بیان جاری رکھتے ہوئے بتایا کہ) اسی زمانے میں مجھے رابطہ عالم اسلامی کے اجلاس میں شرکت کے لئے مکہ جانا تھا۔ حکومت نے روکنے کی بہت کوشش کی مگر میں نے اجلاس میں شرکت کی۔ وہاں مسلم ممالک کے جتنے بھی نمائندے آئے تھے انہیں یقین تھا کہ مجھے واپس پہنچتے ہی گرفتار کر لیا جائے گا۔ اکثر نے اصرار کیا کہ میں واپس نہ جاؤں لیکن میرا جواب بڑا مختصر سا تھا۔ ”کیا اپنی جماعت کو میدان کارزار میں چھوڑ کر یہاں رہ جاؤں؟“
رابطہ عالم اسلامی کے اجلاس سے واپسی تک بنیادی حقوق کا بل پاس ہو چکا تھا۔ لیکن صدر صاحب نے اس پر دستخط روک رکھے تھے۔ میری واپسی کے بعد چھ جنوری ۱۹۶۴ء کو مجھے اور پوری مجلس شوریٰ کو یکا یک گرفتار کر لیا گیا۔ ساتھ ہی جماعت اسلامی کو کریمنل لا (امنڈمنٹ) ایکٹ ۱۹۰۸ء کے تحت مشرقی اور مغربی پاکستان دونوں صوبوں میں خلاف قانون قرار دیدیا گیا۔ دونوں صوبوں میں بیک وقت کارروائی ہوئی۔ جہاں تک بنیادی حقوق کا تعلق ہے صدر نے اس کے نو دن بعد پندرہ جنوری کو متعلقہ بل پر دستخط کئے تاکہ جماعت کی مساعی سے عوام کے جو بنیادی حقوق بحال ہوئے تھے ان کا کوئی ثمرہ خود جماعت کو نہ مل سکے (اس مرحلے پر سیاسی نفسیات کے ایک اہم نکتے کا ذکر کرتے ہوئے مولانا نے فرمایا) ”ڈکٹیٹروں میں جو اخلاقی بہادری پائی جاتی ہے، ان کی خصوصیات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جب وہ کسی شخص کا منہ پوری طرح بند کر لیتے ہیں تب وہ اس پر الزامات کی بوچھاڑ کر دیتے ہیں تاکہ جواب نہ دے سکے۔ وہ پہلوانوں کی اس انوکھی قسم سے تعلق رکھتے ہیں جو مخالف کے ہاتھ پاؤں بندھوانے کے بعد کشتی لڑنے کا چیلنج دیتے ہیں۔“
(مولانا نے بتایا کہ) میں کچھ دن کے ساتھ ہوا۔ گرفتاری کے بعد ہم ڈسٹرکٹ جیل لاہور پہنچے اور صبح کا اخبار دیکھا تو ایک لمبا چوڑا الزام نامہ جو جھوٹ کا پلندہ تھا۔ میرے اور رفقاء کے خلاف تمام اخباروں میں شائع کرایا گیا تھا (مولانا فرمانے لگے) ”اس الزام نامہ کو پڑھ کر بے اختیار میرے منہ سے نکلا شاباش۔“
(تیسری مرتبہ کی اس قید کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے مولانا نے کہا) ”اس کے کچھ مدت بعد ہمیں ازروئے قاعدہ اس بورڈ کے سامنے پیش کیا گیا جو انصاف پسندی کے مظاہرے کی خاطر نظر بندوں کے معاملات پر نظر ثانی کرنے کے لئے قائم کیا گیا تھا۔ یہ بورڈ جن دو ارکان پر مشتمل تھا ان دو میں سے ایک شہزادہ عالمگیر ہوم سیکرٹری تھے جن کے دستخطوں سے نظر بندی کے احکام صادر ہوئے تھے اور دوسرے مسٹر جسٹس محمود صاحب تھے جو ۱۹۵۲ء میں مارشل لاء عدالت کے سامنے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل کی حیثیت سے میرے خلاف پیش ہوئے تھے اور جنہوں نے میرے لئے سزائے موت کا مطالبہ کیا تھا۔
نظر ثانی بورڈ کی ..... سماعت خفیہ کمرے میں تھی۔ مولانا اور ان کے رفقاء اچھی طرح سمجھتے تھے کہ اس بورڈ کے سامنے کچھ کہنا تضیع وقت ہے۔ تاہم انہوں نے چونکہ دیکھا کہ ان پر الزامات وہی ہیں جن سے اخبارات پُر تھے۔ لہٰذا انہوں نے چاہا کہ ان کا پورا پورا جواب ریکارڈ پر آجائے۔ یہی وجہ تھی کہ مولانا اور ان کے رفقاء نے ایک ایک نکتے کا جواب دیا۔ جماعت کے ہر نظربند کو الگ الگ چارج شیٹ ملی تھی۔ اس لئے جواب بھی الگ الگ دیئے گئے۔ نتیجہ انہیں پہلے سے معلوم تھا۔ نظر بندی کی توثیق کر دی گئی۔
جماعت اسلامی کے سامنے بنیادی مسئلہ اس وقت یہ تھا کہ پہلے اسے خلافِ قانون قرار دینے کے حکم کو چیلنج کیا جائے اور نظر بندی کے معاملے کو مؤخر رکھا جائے۔ چنانچہ ڈھا کہ اور مغربی پاکستان ہائی کورٹ دونوں میں جماعت کے خلاف حکم امتناعی کو چیلنج کیا گیا۔ ڈھاکہ ہائی کورٹ نے جماعت کے حق میں فیصلہ کیا اور حکم امتناعی کو خلافِ قانون قرار دیا۔ اس کے برعکس مغربی پاکستان ہائی کورٹ نے حکومت کے حق میں فیصلہ دیا اور حکم امتناعی کو برقرار رکھا۔ چنانچہ سپریم کورٹ میں حکومت بھی اپیل لے کر گئی اور جماعت بھی۔
مولانا نے فرمایا: ”مقدمے کی پیروی سو کے قریب شہرت یافتہ وکلاء کر رہے تھے۔ اس پیشے کے ارکان نے قانون کی بالا دستی کو برقرار رکھنے کے لئے اس موقع پر اپنا فرض انجام دینے میں جس عظیم جذبے کا اظہار کیا وہ پاکستان کی تاریخ میں اس سے پہلے کبھی ظاہر نہیں ہوا۔“
(اور سپریم کورٹ؟ میں نے پوچھا) :
مولانا نے فرمایا ”سپریم کورٹ نے بھی یہ ثابت کر دیا کہ انتظامیہ کی زیادتیوں سے لوگوں کے حقوق کی حفاظت کرنے کا جو فرض اس پر عائد ہوتا ہے‘ اسے ادا کرنے میں وہ بے لاگ ہے“ کہ سپریم کورٹ کے پانچوں ججوں نے فیصلے تو الگ الگ لکھے تھے لیکن مجبور یہی تھا کہ جماعت کے خلاف حکم امتناعی خلاف قانون ہے۔ اس سلسلے میں ایک نکتے کی وضاحت کی ..... (انہوں نے کہا) جس جج نے قدرے مختلف فیصلہ لکھا، اس نے بھی کہہ دیا کہ عدالت اس معاملے میں دخل دے سکتی ہے۔
(مولانا نے فرمایا) ”یہ فیصلہ ہمارے قانون کی تاریخ میں بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ فی الحقیقت اسے تاریخ ساز فیصلہ کہا جا سکتا ہے۔“
جماعت کی اپیل منظور ہوگئی تو اس نے اپنے نظر بند زعماء کے متعلق مغربی پاکستان ہائی کورٹ میں ہیبیئس کارپس درخواست پیش کی۔ اس درخواست کی سماعت فل بنچ نے کی اور فیصلہ دیا کہ نظر بندی بھی بالکل خلاف قانون ہے۔
(مولانا نے کہا) ”جماعت اسلامی ہماری رہائی سے قبل ہی سپریم کورٹ کا حکم نافذ ہونے کے چوبیس گھنٹے کے اندر اندر ایک بار پھر کھڑی ہو گئی تھی اور اپنا کام شروع کر چکی تھی۔ اس کے چند روز بعد ہم بھی رہا ہو کر آگئے اور ۲۳، اکتوبر کو ٹھیک اسی تاریخ کو جب ایک برس ادھر ۱۹۶۳ء میں جماعت کے جلسے پر حملہ کیا گیا تھا میں نے موچی دروازے کے جلسے میں ایک مفصل تقریر کی جس میں ایوب خاں صاحب اور دورِ آمریت کو پوری تفصیل کے ساتھ ایک چارج شیٹ دیا۔“
___________
جیل کے دنوں کی مصروفیات کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ ان کے رفقاء اگر چہ بیشتر مختلف جیلوں میں تھے تاہم ان میں سے بعض کچھ وقت کے لئے ان کے ساتھ لاہور جیل میں رہے۔ نعیم صدیقی صاحب اور مولانا نصر اللہ خاں عزیز ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے اسی جیل میں مولانا کے ساتھ کچھ وقت گزارا۔ آخر میں جب ہیبیئس کارپس درخواست دی گئی تو درخواست کے زعماء کو بھی ڈسٹرکٹ جیل لاہور منتقل کر دیا گیا ..... ”جب سب لوگ یکجا ہو گئے تو ایک وقت درس قرآن و حدیث کا رکھا گیا۔ اس کے علاوہ ہر ایک کی اپنی مصروفیت بھی تھی۔ پروفیسر خورشید احمد صاحب نے مولانا معین الدین صاحب سے اصول فقہ انہی دنوں پڑھی۔ میں نے تفہیم القرآن کی چالیس سے لے کر چھیا لیس تک سورتوں کی تفسیر بھی جیل ہی میں رقم کی۔“
(”سپریم کورٹ کے جس تاریخ ساز فیصلے کا ذکر آپ نے فرمایا ہے اس کے علاوہ اس اسارت سے متعلق کوئی اور بات؟“ میں نے پوچھا۔)
مولانا نے کہا: ”ہاں پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم واقعہ ان دنوں رُو پذیر ہوا۔ ابھی ہم نظر بند ہی تھے کہ کمبائنڈ اپوزیشن پارٹیز (کوپ) کے نام سے حزب اختلاف کی جماعتوں کا اتحاد عمل میں آیا، جس نے محترمہ فاطمہ جناح کو اپنی طرف سے صدارتی امیدوار نامزد کر دیا۔ اس زمانے میں کئی روز تک میں جیل میں اس مسئلے پر غور کرتا رہا کہ جماعت کو اس معاملے میں کیا رویہ اختیار کرنا چاہئے ۔ شرعی مسئلہ مجھے معلوم تھا کہ اسلامی ریاست کا سربراہ مرد ہونا چاہئے۔ لیکن جن مخصوص حالات میں محترمہ فاطمہ جناح کو امیدوار نامزد کیا گیا تھا وہ بھی پیش نظر تھے۔ میں غور کرتا رہا کہ ہم اس فیصلے کو قبول کریں اور COP کی متفقہ امیدوار کا ساتھ دیں یا اس سے اختلاف کریں جس کا فائدہ لامحالہ آمریت کو پہنچے گا یا پھر بالکل خاموشی اختیار کر لیں جس کا اس حالت میں جماعت کے لئے کوئی امکان نہیں، جب کہ وہ ملک کی ایک اہم جماعت ہے اور صدارت جیسے اہم مسئلہ پر وہ خاموش رہنا چاہے بھی تو نہیں رہ سکتی۔ جیل میں اس مسئلے پر غور و خوض کرتے کرتے یکا یک میرے دل میں خیال آیا کہ خدا تعالیٰ کے یہاں باز پرس ہوئی تو عورت کی سربراہی کی حمایت کرنے کی جوابدہی تو میں شاید کر سکوں گا لیکن اپنے ملک کو آمریت کے عذاب میں مبتلا رکھنے کی ذمہ داری لے کر میرے لئے خدا تعالیٰ کے سامنے جوابدہی کرنے کی صورت کوئی نہ ہوگی۔ اس کے بعد میں قطعی طور پر اس نتیجے پر پہنچ گیا، اور ہیبیئس کارپس درخواست کی سماعت کے موقع پر جب عدالت گیا اور جماعت کے ارکان نے مجھ سے پوچھا کہ اس سلسلے میں آپ کی رائے کیا ہے؟ تو میں نے کہا کہ میں اس بات سے پوری طرح مطمئن ہوں کہ ہم محترمہ فاطمہ جناح کا ساتھ دے سکتے ہیں۔ ہمیں ان کا ساتھ دینا چاہئے۔ اس پر جتنے اعتراضات ہوں گے جیل سے باہر آ کر ان کا جواب میں خود دے لوں گا۔ آپ لوگ بلا تامل COP کا ساتھ دیں۔“
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(4)
”مولانا! اس کے بعد چوتھی اسارت کی رُوداد؟“ میں نے عرض کیا۔
(مولانا مودودیؒ نے فرمایا) کہ ان کی چوتھی نظر بندی بڑے دلچسپ حالات میں ہوئی۔ حکومت نے ایک رویت ہلال کمیٹی بنا رکھی تھی، اور اس بات کو ممنوع قرار دے دیا تھا کہ اس کے سوا کوئی اور رویت ہلال کا اعلان کرے۔ لیکن جنوری ۱۹۶۷ء میں یکا یک ایک عجیب صورت حال پیدا ہوئی۔ گیارہ جنوری کو مغربی اور مشرقی پاکستان اور بھارت میں کسی جگہ چاند نہ دیکھا گیا۔ اس لئے لوگ ترادُدّح کی تیاری کر رہے تھے۔ روزنامہ جنگ کے اسی تاریخ کے شمارے میں ایک ہیئت دان اور ایم ای ایس ماڑی پور کے اسٹنٹ کمانڈر سید محمد رضوی صاحب نے بھی علم ہیئت کی رُو سے حساب لگا کر لکھا تھا کہ چاند بارہ جنوری کو جمعرات کے روز شام کے وقت نظر آئے گا اور عید تیرہ جنوری کو ہو گی۔ اس کی تائید کرتے ہوئے بعد میں نوائے وقت کے ۲۱ جنوری کے شمارے میں رصد گاہ پنجاب یونیورسٹی کے جناب حماد رضوی نے ایک مضمون لکھا جس میں انہوں نے پوری تفصیل سے حساب بنا کر اپنی یہ حتمی رائے ظاہر کی تھی کہ گیارہ جنوری یعنی بدھ کو چاند کا نظر آنا ناممکنات میں سے تھا۔ لیکن ۱۱ جنوری کو اچانک پونے آٹھ بجے کی خبروں میں ریڈیو سے یہ اعلان سنایا گیا کہ چاند نظر آ گیا ہے اور عید جمعرات کو ہو گی۔
(اس عجیب اعلان کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے مولانا نے کہا) ”اس اعلان میں اس امر کا کوئی ذکر نہیں تھا کہ وہ بندہ خدا کب نظر آیا اور کس تیز نظر آدمی نے اس کو دیکھا۔ کسی شہادت کا بھی اس میں ذکر نہیں تھا جس کی بناء پر یہ فیصلہ کیا گیا ہو۔ اس چیز نے سارے ملک میں کھلبلی مچا دی۔ اس لئے کہ رویت ہلال اور اس کے ثبوت کے بغیر رمضان کا ایک فرض روزہ چھوڑنا اور رمضان کی ایک تاریخ کو عید منانا، اور اس میں کھانا پینا کوئی سیاسی مسئلہ نہیں تھا، بلکہ بڑی نزاکت رکھنے والا شرعی معاملہ تھا۔ شریعت کا حکم یہ ہے کہ عید ہو اور اس میں روزہ رکھا جائے تو گناہ ہے۔ عید کا دن نہ ہو اور رمضان کا ہو اور اس میں روزہ چھوڑ کر عید منائی جائے تو بھی گناہ ہے۔ اتفاق یہ بھی تھا کہ مغربی اور مشرقی پاکستان اور بھارت کے اکثر حصوں میں مطلع بالکل صاف تھا۔ شریعت کی رو سے اگر مطلع صاف ہو تو عوام کے ایک جم غفیر کو چاند دیکھنا چاہئے۔ صرف اس صورت میں ایک دو آدمیوں کی شہادت پر مانا جا سکتا ہے جب کہ مطلع صاف نہ ہو۔ اس صورت میں امکان ہوتا ہے کہ تھوڑی دیر کے لئے آسمان کا چاند والا حصہ کھل جائے اور چند آدمی اسے دیکھ لیں۔“
معاملہ کی نزاکت کے پیش نظر رویت ہلال کے بارے میں جگہ جگہ سے لوگوں نے مولانا مودودی کو فون کرنے شروع کر دیئے۔ دوسری جگہ کے علماء کو بھی انہوں نے فون کئے۔ ہر جگہ سے یہی اطلاع آ رہی تھی کہ مطلع صاف تھا اور چاند کسی نے نہیں دیکھا۔ مولانا خود نصف شب تک فون پر موجود رہے اور اطلاعات آتی رہیں۔ مرکز جماعت میں بھی دوسرے مقامات سے اطلاعات حاصل کی جاتی رہیں۔ آخر کار مغربی اور مشرقی پاکستان کے علماء نے جن میں شیعہ علماء بھی شامل تھے، بالاتفاق یہ فیصلہ کر دیا کہ جمعرات کو عید نہیں منائی جائے گی۔ اس فیصلے سے جماعت اسلامی کے بانی نے بھی اتفاق کیا۔
مولانا نے فرمایا: ادھر علماء کا یہ متفقہ فتویٰ، ادھر حکومت کی طرف سے بعد میں یہ اطلاع کہ مالاکنڈ کے پولیٹیکل ایجنٹ نے مردان اور پشاور کے ڈپٹی کمشنروں نے اور کوہاٹ کے تین آدمیوں نے چاند دیکھنے کی شہادت دی تھی، جس کی بنا پر رویت ہلال کا اعلان ہوا۔ ظاہر ہے یہ بات کسی کو مطمئن نہیں کر سکتی تھی۔ صرف اس وجہ سے نہیں کہ شرعی نقطۂ نگاہ سے یہ شہادتیں قابل قبول نہیں تھیں، بلکہ اس وجہ سے بھی کہ ۱۹۵۵ء سے ۱۹۶۷ء تک بارہ سال میں صرف دو تین مواقع ایسے آئے تھے جب کہ شمالی کوہستانی اور سرحدی علاقوں کے ساتھ باقی پورے برصغیر میں عید، بشمول بھارت ایک دن ہوئی، ورنہ ہمیشہ ان کی عید ایک دن پہلے ہوتی رہی۔
( میں نے جاننا چاہا حکومت نے جمعہ کی بجائے جمعرات کو عید منانے کا فیصلہ کس بناء پر کیا؟ .......... مولانا میرے اس سوال پر مسکرا دیئے۔ فرمایا ) ”فیصلہ اس بنا پر کیا گیا تھا کہ صدر ایوب صاحب کو بعض حضرات نے یقین دلایا کہ ایک دن میں دو خطبے راج پر بھاری ہوتے ہیں۔ اوّل تو یہ حیرت کی بات ہے کہ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص جسے اپنی روشن خیالی پر ناز ہو، ان توہمات کی پیروی کرے۔ اس پر مستزاد یہ کہ کسی میں کوئی ذرا سی دینی حس بھی موجود ہو تو یہ ذمہ داری وہ اپنے سر نہیں لے سکتا کہ پوری قوم سے رمضان کا ایک فرض روزہ چھڑوا کر رمضان کے روزِ عید کرا دے۔ رائج پر بھاری ہونا اس کے مقابلے میں کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ رائج آئی جانی چیز ہے اور آخر وہ گیا۔ لیکن اس کو بچانے کے لئے جو تدبیر کی گئی اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دو کی بجائے تین خطبے عید پر ہوئے ایک جمعرات کو دو جمعہ کو۔
(عرض کیا: ”راج بچانے والوں کے سوا روزے کے دن عید کی نماز پڑھنے پڑھانے والے کون لوگ تھے؟ …… مولانا نے بتایا) ”حکومت کی انتہائی کوشش تھی کہ جمعرات کو عید کی نماز ہو۔ بعض علماء ایسے تھے جو خود روزے سے تھے مگر انہوں نے عید کی نماز ڈر کر پڑھائی۔ پڑھنے والوں میں بہت سے ایسے سرکاری افسر بھی تھے جنہوں نے محض اپنی ملازمت برقرار رکھنے کی خاطر روزے سے ہونے کے باوجود عید کی نماز پڑھی۔ کسی کو یقین ہی نہیں تھا کہ عید ہے۔“
(اس سارے سلسلے میں اگرچہ ملک بھر کے علماء اور عام مسلمان شریک تھے تاہم غصہ ایک بار پھر صرف مجھ پر اتارا گیا اور نیشنل پریس ٹرسٹ کے اخبارات نے اپنی توپوں کے دہانے کھول دیئے۔ ان اخبارات نے مطالبہ کیا کہ بانی جماعت اسلامی سزا کا مستحق ہے۔ سرکاری طور پر اخبارات میں جو باتیں کہی گئیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ جب مالاکنڈ، مردان اور کوہاٹ میں ”چاند“ دیکھا گیا تو کیا وہاں کے لوگ مسلمان نہیں؟ مدعا یہ تھا کہ سرحد کے لوگوں کو ہمارے خلاف بھڑکایا جائے۔ (مولانا نے ارشاد فرمایا) جس زور شور سے میرے خلاف الزامات کی بوچھاڑ ہو رہی تھی اس سے میں نے سمجھ لیا کہ اب مجھے گرفتار کرنے کے لئے زمین ہموار کی جا رہی ہے۔ چنانچہ ۲۹ جنوری ۱۹۶۷ء کو رات کے تین بجے میرے دفتر کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا اور میں فوراً سمجھ گیا کہ میرا اندازہ صحیح تھا۔ وہ اصحاب اپنے وقت پر تشریف لے آئے تھے۔ چنانچہ میں نکلا اور ان سے کہا میں تیار ہوں۔ وہ مجھے لاہور سے بنوں لے گئے۔ تقریباً سارا دن سفر میں گزرا۔ مغرب سے کچھ دیر پہلے موٹر وہاں پہنچی۔ ایک بنگلہ مجھے نظر بند رکھنے کے لئے مخصوص کیا گیا تھا۔ بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ چار علماء کو بھی گرفتار کیا گیا ہے اور انہیں مختلف مقامات پر رکھا گیا ہے۔ میری یہ چوتھی گرفتاری ڈیفنس آف پاکستان رولز کے تحت ہوئی۔ گویا چاند کے نظر آنے یا نہ آنے کے مسئلے سے ملک کے دفاع کو خطرہ لاحق ہو گیا تھا۔“
(اس مرحلے پر مولانا نے یہ دلچسپ بات بتائی) ”گرفتاری کے جو احکامات جاری کئے گئے ان میں سب کے نام کے ساتھ ”مسٹر“ کا لفظ لکھا ہوا تھا۔ میری تو خیر ہے کہ نہ علماء میں شامل ہوں نہ اس بات کو کوئی اہمیت دیتا ہوں کہ نام کے ساتھ مسٹر لکھا جاتا یا مولانا، لیکن دوسرے جن حضرات کو اس خطاب سے نوازا گیا، وہ ظاہر کرتا تھا کہ گرفتاری کے احکام کس غصے کی حالت میں جاری ہوئے۔ ۲۶ فروری ۱۹۶۷ء کو حکومت کی طرف سے ایک ”وضاحتی بیان“ جاری ہوا جس میں الزام لگایا گیا کہ ان لوگوں نے مذہبی معاملے میں تشدد سے کام لیا، مسجدوں کے دروازوں پر قفل ڈال دیئے اور جب لوگ عید کی نماز پڑھنے گئے تو انہیں واپس بھیج دیا۔“
(مولانا نے فرمایا) ”اس میں لطیفہ یہ ہے کہ دوسرے حضرات کے پاس مسجدیں ضرور ہوں گی لیکن میرے پاس کہاں۔ میں تو ہمیشہ جامعہ اشرفیہ جا کر عید پڑھتا ہوں اور میں نے کسی شخص کو جمعرات کی عید پڑھنے سے نہیں روکا۔“
(میں نے عرض کیا ”یہ تشدد کا الزام بھی جناب پر خوب تھا۔ تشدد کا ارتکاب تو خود حکومت نے کیا جس نے زبردستی لوگوں کا روزہ تڑوانے کی کوشش کی۔“ مولانا نے کہا) بنوں مجھے غالباً اس غرض کے لئے بھیجا گیا کہ سرحد کے لوگوں کو میرے خلاف خوب تیز تیز پراپیگنڈا کر کے بھڑکایا جائے۔ اسی وجہ سے پیچھے جماعت کے لوگوں کو پریشانی بھی تھی۔ لیکن وہاں پولیس سپرنٹنڈنٹ سے لے کر نیچے کے اس عملہ تک جو مجھ پر متعین تھا۔ ہر ایک نے میرے ساتھ نہایت محبت اور احترام کا برتاؤ کیا۔ ایک نوجوان سپاہی جو میری خدمت کے لئے مقرر کیا گیا، اس نے میرا اتنا خیال رکھا کہ کوئی ذاتی ملازم نہ رکھ سکتا۔ جاڑے کے زمانے میں فجر کی نماز کے لئے وہ میرے اٹھنے سے پہلے ہی پانی گرم کر دیا کرتا اور سلغچی اور لوٹا لا کر میرے سامنے رکھ دیتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ پٹھانوں کو میرے خلاف بھڑکانے میں حکومت قطعاً ناکام ہو گئی۔ پٹھانوں نے اسی طرح مجھے اپنا بھائی سمجھا جس طرح وہ کسی پٹھان کو سمجھتے۔“
(میں نے دریافت کیا ”حکومت نے آپ کو علمی مشاغل جاری رکھنے کے لئے کتابیں منگوانے کی اجازت میں تو بخل سے کام نہیں لیا؟“ فرمایا) ”یہ جھگڑا اس نظر بندی کے دوران میں بھی پیش آیا۔ مجھے اپنا کام جاری رکھنے کے لئے کتابوں کی ضرورت تھی اور حکومت تھی کہ کتابیں دینے کو تیار نہ تھی۔ چوبیس روز تک صرف قرآن کریم پڑھا اور پنسل سے حاشیہ پر کئی نوٹ بھی لکھے۔“
(عرض کیا: ”ایک مکمل کتاب کے طور پر متعدد بار قرآن کریم کی تلاوت کا تاثر بتانا پسند فرمائیں گے؟“ …… فرمایا) ”یوں مسلسل پڑھنے سے جو تاثر ہوتا ہے وہ روز کے تھوڑا تھوڑا پڑھنے سے مختلف ہے۔ اللہ کے پورے کلام کے مطالب یکبارگی ذہن و دماغ میں آتے ہیں۔ مختلف مقامات پر بیان کی ہوئی باتوں کا باہمی رشتہ عیاں ہو جاتا ہے اور آخری الہامی کتاب ایک مکمل حیثیت سے سامنے آتی ہے۔“
(مولانا نے بتایا) کہ چوبیس دن کے بعد کچھ کتابیں منگوانے کی اجازت ملی لیکن وہ اس غرض کے لئے کافی نہ تھیں کہ ان کی مدد سے تفسیر قرآن رقم ہو سکتی۔ البتہ ان کے میسر آنے پر میں نے تفہیم القرآن کی جلد سوم پر مفصل نظر ثانی کی اور اس میں بہت کچھ اضافے کر لئے۔
(سلسلۂ بیان جاری رکھتے ہوئے مولانا فرمانے لگے) ”دوسری جلد پر نظر ثانی کا کام شروع کیا ہی تھا کہ لاہور ہائیکورٹ میں ہیبیس کارپس درخواست داخل کر دی گئی اور ہائی کورٹ نے مجھے طلب کر لیا۔ ۱۵ مارچ ۱۹۶۷ء کو شام کے وقت ہم بنوں سے لاہور کے لئے روانہ ہوئے۔ روانگی کے ساتھ ہی سخت بارش شروع ہو گئی۔ یوں لگتا تھا جیسے میاں والی اور سرگودھا کے درمیان سڑکیں نہیں بلکہ نہریں تھیں جن کے اندر گاڑی چل رہی تھی۔ جگہ جگہ راستے میں ٹرک پھنسے ہوئے تھے۔ پولیس نے بار بار بڑی مشکل سے ہماری گاڑی کے لئے راستہ بنوایا۔ میانوالی سے خوشاب کو توالی کو فون کر دیا گیا تھا کہ ہم لوگ آرہے ہیں۔ ریسٹ ہاؤس میں کھانے کا انتظام کر دیا جائے ۔ لیکن خوشاب پہنچے تو ریسٹ ہاؤس خالی تھا اور تھانے کے دروازے بند تھے۔ ساتھ آنے والی پولیس نے تھانے کے دروازے کھٹکھٹائے مگر صدائے برخاست۔ آخر کار سرگودھا پہنچے جہاں رات کے ایک بجے ہوٹل میں کھانا کھایا اور پھر چل پڑے۔“
(مولانا نے قید کے اس سفر کی روداد سناتے ہوئے کہا) ”۱۲ مارچ کی صبح کو ہم لاہور پہنچے۔ چونکہ مجھے لانے والی پولیس سرحد کی تھی اس لئے اسے معلوم نہ تھا کہ بورسٹل جیل کہاں ہے۔ لہٰذا میں ہی اسے رہنمائی کر کے اپنے قید خانے میں لے گیا۔ وہاں اترا ہی تھا کہ رہائی کے احکام آگئے اور پولیس نے خود اپنی گاڑی میں مجھے وہاں پہنچا دیا جہاں سے ۲۹ جنوری کو لے کر گئی تھی۔“
ظہر کی جماعت کا وقت ہو رہا تھا۔ مولانا یہ روداد سنانے کے بعد وضو کے لئے اٹھے اور فرمایا: ”ابھی تک تو یہ چوتھی گرفتاری ہی آخری گرفتاری ہے۔“
(بہ شکریہ ہفت روزہ "پیمان" کراچی: 19 مارچ، 12 اپریل، 23 اپریل، 30 اپریل 1973ء)