تصریحات
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
کتاب "تصریحات" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی ایک جامع تحریری و تقریری رہنمائی پر مشتمل ہے جو خاص طور پر نوجوان طلبہ و طالبات کے بنیادی سوالات، شکوک اور عصری مسائل کے تناظر میں مرتب کی گئی ہے۔ اس کتاب کا بنیادی مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ اسلام صرف ایک مذہبی عقیدہ یا روحانی نظام نہیں بلکہ انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں—فردی، سماجی، سیاسی، اقتصادی اور تعلیمی—کا ایک مکمل اور جامع نظامِ حیات ہے۔ مولانا مودودی نے اس کتاب کے ذریعے نہ صرف باطل مگر غالب نظریات—جیسے لادینیت، سرمایہ داری، اشتراکیت، قومیت پرستی، فرقہ واریت اور مغربی تہذیب—کا مقابلہ کیا ہے بلکہ ایک ایسی نسل کی تربیت کا منصوبہ بھی پیش کیا ہے جو علم، ایمان اور عمل کے توازن پر استوار ہو کر اسلامی انقلاب کی قیادت کر سکے۔
کتاب کا آغاز تاریخی اور عالمی تناظر سے ہوتا ہے، جہاں مرتب بیسویں صدی کے سیاسی و فکری حالات—مغربی استعمار کا زوال، امریکی سامراج کا عروج، فسطائیت و اشتراکیت کی عروج و زوال، اور خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد مسلم دنیا کی اندرونی کمزوریوں—کا جائزہ لیتا ہے۔ اس تناظر میں وہ یہ واضح کرتا ہے کہ موجودہ دور میں اسلامیت اور لادینیت کے درمیان جو کشمکش چل رہی ہے، اس کی صحیح سمجھ کے لیے تاریخی ارتقاء اور مختلف ادوار کے رویوں کو ٹھیک ٹھیک سمجھنا ضروری ہے۔
کتاب کا بیشتر حصہ اسلامی جمعیت طلبہ و طالبات کے ساتھ 1950ء سے 1979ء تک، یعنی قریب تین دہائیوں پر محیط، مختلف نشستوں، تربیتی کیمپوں، اجتماعات اور انٹرویوز کی صورت میں ہونے والے سوال و جواب پر مشتمل ہے، جن میں پاکستان، ہندوستان، برطانیہ، امریکہ اور سعودی عرب کی طلبہ تنظیموں کے ساتھ ملاقاتیں شامل ہیں۔ ان نشستوں میں تعلیم، تحریکِ اسلامی کے طریقِ کار، جماعتِ اسلامی سے وابستگی، اور نوجوانوں کو درپیش فکری چیلنجز جیسے موضوعات بار بار زیرِ بحث آتے ہیں۔
کتاب کے وسط میں ایک الگ باب 'ادب میں اخلاقی اقدار' شامل ہے جو شعر، افسانہ، صحافت، خطابت اور ترجمے جیسی اصنافِ ادب کا جائزہ لے کر جائز و ناجائز ادب کے اسلامی معیار کی نشان دہی کرتا ہے۔ چونکہ کتاب کا بیشتر مواد وقتاً فوقتاً مختلف مواقع پر ہونے والی گفتگو پر مبنی ہے، اس لیے اس کا امتیاز کسی واحد مسلسل بحث میں نہیں بلکہ نوجوان نسل کی تربیت کے لیے مولانا کے دیرینہ، تسلسل بھرے تعلقِ خاطر میں مضمر ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
اسلامی جمعیت طلبہ، صوبہ پنجاب کے ایک ہفت روزہ تربیتی کیمپ کے اختتام پر۔۔۔۲۳، اگست ۱۹۷۲ء
--------
سوال: اسلامی تربیت کے تقاضے کیا ہیں؟ اس سلسلے میں کچھ ہدایات فرمائیے۔
جواب: یہ تو ایک تفصیل طلب سوال ہے تاہم اتنا سمجھ لیجئے کہ اسلام ہمیں جس منبع اور جس سرچشمے سے ملتا ہے اس کی طرف رجوع کرنا ہی اسلامی تربیت ہے۔ اسلام ہمیں سب سے پہلے جس سرچشمے سے ملتا ہے وہ قرآن مجید ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے ہماری ہدایت کے لئے بھیجا ہے۔ جتنا زیادہ ہم اس کو سمجھیں گے، جتنا زیادہ ہم اس کے معنیٰ کا فہم حاصل کریں گے، اتنا ہی زیادہ ہمارا ایمان بھی مضبوط ہو گا۔ ہمارے عقائد بھی درست ہوں گے۔ ہمارے اخلاق کی بھی اصلاح ہو گی اور ہمیں خوب کام کرنے کا طریقہ بھی آئے گا۔ اس کے بعد اسلام کا دوسرا اہم ترین سرچشمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پاک ہے۔ آپؐ کی سنت ہے، آپؐ کا طریق کار ہے اور آپؐ کے صحابہ کرامؓ کا طرزِ عمل ہے، یہ چیز ہے جو آپ کو ہدایت کی روشنی دے گی۔ اس کے مطالعے سے آپ کو معلوم ہو گا کہ مختلف حالات میں ایک مسلمان کا طرزِ عمل کیا ہونا چاہئے، مسلمان کی زندگی کیسی ہونی چاہئے۔ کیا چیزیں ہیں جن سے مسلمان بچے اور کیا چیزیں ہیں جن کو مسلمان اختیار کرے۔ کون سی خوبیاں ہیں جن کو مسلمان اپنے اندر نشوونما دے اور کون سی برائیاں ہیں جن سے اپنے آپ کو پاک کرے۔ اسلامی تربیت اگر مل سکتی ہے تو انہی دو ذرائع سے مل سکتی ہے۔ جتنا کچھ بھی آپ ان سے فائدہ اٹھا سکیں، فائدہ اٹھانے کی کوشش کیجئے۔
سوال: ۱۹۷۰ء کے عام انتخابات کے نتائج کے بعد کچھ لوگ تحریک اسلامی کے مستقبل سے مایوس نظر آتے ہیں۔ ان کی خواہش یہ ہے کہ جمہوریت کا طولانی راستہ طے کرنے کے بجائے کوئی ایسا شارٹ کٹ اختیار کیا جائے کہ ملک میں فوری طور پر اسلامی انقلاب برپا ہو جائے؟
جواب: شارٹ کٹ اگر کوئی اختیار کرنا چاہے تو وہ جماعت اسلامی کو چھوڑ کر کوئی اور جماعت بنائے اور اپنے شارٹ کٹ پر چل کر دیکھ لے۔ جماعت اسلامی نادانی کے ساتھ کوئی کام نہیں کر سکتی۔ جس راستے پر ہم چل رہے ہیں اس میں کوئی شارٹ کٹ نہیں ہے۔ یہ بہر حال ایک لمبا راستہ ہے، محنت طلب ہے، جان مار کے کام کرنے کا ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ ہم متوسط تعلیم یافتہ طبقے کے خیالات کو بدلنے میں بڑی حد تک کامیاب ہو چکے ہیں۔ اب ہمارے سامنے سب سے اہم مسئلہ عوام کے خیالات کی اصلاح ہے۔ جن کے اندر بڑے پیمانے پر جہالت پھیلی ہوئی ہے۔ اس مقصد کے لئے ہمیں اب پہلے سے زیادہ جان مار کے کوشش کرنا پڑے گی۔ گزشتہ عام انتخابات میں جو نتائج نکلے وہ اس وجہ سے نہیں نکلے کہ پڑھے لکھے تعلیم یافتہ لوگوں نے اپنا ووٹ غلط استعمال کیا۔ سبب ان نتائج کا یہ تھا کہ ان پڑھ اور نادان لوگوں نے اپنے ووٹ کا غلط استعمال کیا۔ (اس موقع پر ایک صاحب نے قطع کلامی کرتے ہوئے کہا کہ عوام میں کام کرنے کے لئے اب جماعت اسلامی کو عوامی جماعت اسلامی ہونا چاہئے ۔ اس پر مولانا محترم نے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے فرمایا) جتنی عوامی جماعت اسلامی ہے اتنی ہی رہے گی۔ اس سے زیادہ عوامی نہیں ہو سکتی۔ اگر آپ اسے عوامی جماعت اسلامی ہی بنانا چاہتے ہیں تو پھر اسے جماعت اسلامی کا نام دینے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ بہتر ہے کہ اسے مسلم لیگ کا نام دے دیجئے۔ یہ جماعت اسلامی کے نظم کا ہی نتیجہ ہے کہ اصلاح احوال کا کام ایک مؤثر طریقے سے ہو رہا ہے۔ اگر یہ نہ ہوتا، تو آپ اس جماعت میں بھی وہی گھسی پٹی بولیاں سنتے جو دوسری جماعتوں میں آپ سنا کرتے ہیں اور آپ کو ایک ہی جماعت کا نام لے کر لوگ طرح طرح کے راستوں پر چلتے ہوئے نظرآتے۔ آخر آپ نے مسلم لیگ کا حشر دیکھ لیا۔ اس میں سے عوامی لیگ نکلی۔ اس میں سے تین تین لیگیں بن گئیں۔ اس کے اندر سے ری پبلکن پارٹی اور نہ جانے کون کون سی پارٹیاں نکلیں۔ یہ سب اس کے عوامی پن ہی کا نتیجہ ہے۔ ہم جماعت اسلامی کو ہرگز اس طرح کی عوامی جماعت نہیں بنائیں گے۔ جماعت اسلامی جس مقصد کے لئے کام کر رہی ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ صرف وہ لوگ اس کے اندر کام کریں جو خوب سوچ سمجھ کر اسلام کو شعوری طور پر مانتے ہوں۔ اگر جماعت اسلامی کا دروازہ چوپٹ کھول دیا جائے تو اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ ہر شخص مسلمان کے نام سے اس کے اندر آ کھڑا ہو گا اور وہی کچھ کرے گا جو دوسرے مسلمان دنیا میں کر رہے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ جو شخص جماعت اسلامی میں شامل ہو وہ شعوری مسلمان ہو۔ سوچ سمجھ کر ایمان لایا ہو اور پھر اس کے بعد وہ کسی نظم کے تحت کام کرے۔ اس جماعت میں جس شخص کو بھی کام کرنا ہے اسے Personal Ambitions کو دل سے نکال دینا چاہئے ۔ آدمی کو اس کے لئے تیار ہونا چاہئے کہ وہ ذاتی مفاد، اپنی شخصیت کا کبر، یہ ساری چیزیں قربان کر دے اور اپنے مقصد کے لئے ایک نظم کے تحت کام کرے۔ نظم کو خراب کرنے والی کسی قسم کی حرکت درحقیقت اس جماعت میں گناہ ہے۔ اگر نظم اور ضبط کے ساتھ ہم کام کریں گے تو انشاء اللہ آخر کار حالات بدل جائیں گے۔ خواہ کتنی ہی خرابیاں پیدا ہو گئی ہوں۔
سوال: تحریک اسلامی کے کارکنوں کو شکایت ہے کہ جماعت اسلامی خود اعتمادی سے میدان میں کیوں نہیں آتی۔ وہ دوسری جماعتوں کے ساتھ اشتراک عمل کیوں کرتی ہے؟ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جدوجہد جماعت کے کارکن کرتے ہیں اور کریڈٹ دوسرے لے جاتے ہیں؟
جواب: لوگوں کو بلا شبہ یہ بات ناگوار گزرتی ہے اور گزرنی چاہئے کہ ہم سیاسی معاملات میں دوسری جماعتوں کے ساتھ سٹیج پر آتے ہیں اور مظاہروں میں شریک ہوتے ہیں۔ اس طرح کے معاملات میں یہ بات سمجھ لیجئے کہ بعض مسائل ایسے ہوتے ہیں جن میں دوسرے لوگوں کے ساتھ مل کر کام کرنا ناگزیر ہوتا ہے۔ جماعت اسلامی کا اپنا نصب العین ہے، اپنا طریق کار ہے۔ اس کے مطابق ہم اپنے ہی اجتماعات کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے، اگر کوئی مظاہرہ کرنا ہو گا تو خود ہی مظاہرہ کریں گے۔ لیکن ملک کے مختلف معاملات میں بعض اوقات آپ کو دوسری پارٹیوں سے بھی ملنا پڑے گا، ایسا نہیں ہے کہ ان معاملات میں اپنے آپکو ایک خول میں بند کر لیا جائے اور سب سے سے تعلقات کو ختم کر دیا جائے ، البتہ ہم پہلے بھی احتیاط برتتے رہے ہیں اور آئندہ بھی احتیاط برتیں گے کہ کوئی ایسی مشترکہ جدوجہد نہ کی جائے جو ہمارے مقصد کے خلاف نتائج پیدا کرے۔ لیکن ہم بہر حال انسان ہیں اور انسان سے بسا اوقات غلطی بھی ہو جاتی ہے۔ پہلے بھی ہماری احتیاط کے باوجود بعض اوقات غلط نتائج نکلے ہیں اور آئندہ بھی اس بات کا اندیشہ ہے کہ کہیں کوئی غلطی نہ ہو جائے۔ تاہم اپنی حد تک ہم پوری احتیاط سے کام کر رہے ہیں۔“
سوال: بعض لوگ آپ کو گالیاں دیتے ہیں اور آپ ہمیں جواب میں گالی دینے سے روکتے ہیں۔ ہم گالی نہ سہی، گھونسے سے تو جواب دے سکتے ہیں؟
جواب: (مولانا محترم نے اس دلچسپ سوال کے جواب میں متبسم ہو کر فرمایا) قرآن کریم میں ہدایت یہ ہے کہ <<جَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِّثْلُهَا>> تمہارے ساتھ جتنی برائی کی جائے اتنی ہی تم کر لو۔ آپ اس سے دس گنا برائی کرنا چاہتے ہیں...... نہیں!، گالی کے مقابلے میں مسلمان کا کام یہی ہے کہ وہ صبر سے کام لے۔ میں نے تو کچھ بھی گالیاں نہیں کھائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں مکہ کے لوگوں نے جو گستاخیاں کی تھیں ۔ ابو جہل نے ، یہود نے ، منافقین نے اور مشرکین عرب نے آپ کے ساتھ جو زیادتیاں کی تھیں۔ ان کے مقابلے میں بھی حضور نے صبر سے کام لیا۔ اسی صبر نے آپ کی اخلاقی برتری لوگوں پر ثابت کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں ہمیں بھی بہر حال صبر سے کام لینا چاہئے۔ یہی وہ چیز ہے جو ہمارے اور گالیاں دینے والوں کے درمیان فرق کو واضح کرتی ہے۔
سوال: آدھا ملک بین الاقوامی سازشوں اور اپنوں کی غداریوں سے گیا اور اب بچے کھچے ملک میں بھی بین الاقوامی سازشیں اپنا کام کر رہی ہیں، ان حالات میں نوجوانوں کو کیا کرنا چاہئے؟
جواب: اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیجئے کہ کسی ملک اور کسی قوم میں کوئی بین الاقوامی سازش اس وقت تک کارگر نہیں ہو سکتی جب تک کہ خود اس ملک اور اس قوم میں ایسے لوگ موجود نہ ہوں جو اس سازش کے آلۂ کار بنیں۔ اگر ایسے لوگ اندر نہیں ہیں تو باہر کی سازشوں سے کچھ نہیں بگڑ سکتا۔ ہمارے اندر جو غلطیاں اور خامیاں ہیں وہی دراصل موجب ہوئی ہیں اس بات کی کہ یہاں بین الاقوامی سازشیں بھی کارگر ہوں۔ اگر ہم کوشش کریں اپنی قوم کے خیالات کو درست کریں، اس کے طرزِ عمل کو بدلیں، اس کو اس قابل بنائیں کہ وہ اپنے رہنماؤں اور اپنے حکمرانوں کا صحیح انتخاب کر سکے تو اس صورت میں بین الاقوامی سازشیں کچھ نہیں کر سکیں گی۔ ہمیں اب اپنی ساری توجہ اس بات پر صرف کرنی چاہئے کہ اس ملک کے مسلمانوں کے اندر اور غیر مسلموں کے اندر بھی اپنے خیالات پھیلائیں۔ ایسا نہیں ہے کہ صرف مسلمان قوم تک محدود رہیں۔ پھر اس ملک میں جو جو بھی اسلام کو ماننے والے ہیں ان کے طرزِ انتخاب کو بدلنے کی کوشش کریں۔ اس کام میں جتنی بھی دیر لگے پروا نہیں، لیکن اصل کام کرنے کا یہی ہے۔
سوال: ہمارے مدارس عربیہ کے بعض اساتذہ کرام تحریک اسلامی سے وابستگی کو برا مانتے ہیں، بسا اوقات ان سے تکرار ہو جاتی ہے تو وہ بد دعائیں بھی دینے لگتے ہیں اور تحریک کا کام بسا اوقات اسباق میں مخل ہو جاتا ہے تو وہ ہم پر ناراض بھی ہوتے ہیں۔ ایسی صورت میں کیا ہم شرعاً ان کی مخالفت سے ماخوذ ہوں گے اور کیا ہم اس سے خلاصی پانے کے لئے ان کی رضا کو تحریک پر فوقیت دینے سے عند اللہ ماخوذ ہوں گے؟
جواب: آپ اس سوال کو تین حصوں میں تقسیم کر لیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ اگر تحریک کا کام آپ کے اسباق میں مخل ہوتا ہے تو اس صورت میں آپ کے استادوں کا آپ سے ناراض ہونا بالکل بجا ہے۔ اس لئے کہ کوئی استاد بھی یہ پسند نہیں کرتا ہے کہ اس کا شاگرد تعلیم کے معاملے میں کوتاہی دکھائے۔ آپ کا فرض یہ ہے کہ تحریک کا کام بھی کریں اور تعلیم کے سلسلے میں بھی اپنا فرض بحسن و خوبی پورا کریں اگر آپ تحریک کے کام سے اپنی تعلیم کو نقصان پہنچائیں گے تو ظاہر بات ہے کہ استاد آپ سے ناراض ہونے میں حق بجانب ہوں گے۔
سوال کا دوسرا حصہ یہ ہے کہ ”بات بات میں اساتذہ سے تکرار ہو جاتی ہے جس سے وہ بددعا ئیں دینے لگتے ہیں۔“ سوال یہ ہے کہ آپ ان سے تکرار کریں ہی کیوں؟ ایسا کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ اگر آپ کے کوئی استاد آپ سے یہ سمجھنا چاہیں کہ آپ کی تحریک کیا ہے تو آپ بتا دیجئے کہ آپ اور آپ کی تحریک کس مقصد کے لئے سرگرم عمل ہیں۔ اگر وہ اس کے خلاف کچھ کہیں تو اسے خاموشی سے سن لیجئے۔ اگر ان کی بات غلط فہمی پر مبنی ہو اور وہ اسے سمجھنا چاہتے ہوں تو آپ اصل حقائق سامنے لے آئیے۔ لیکن اگر وہ سمجھنے کی کوشش نہ کریں اور خواہ مخواہ آپ سے بگڑ کر آپ کو الٹی سیدھی سنانا شروع کر دیں تو صبر کے ساتھ سن لیجئے لیکن تکرار ہر گز نہ کیجئے۔ تکرار ایک اسلامی تحریک کا طریقہ نہیں ہے۔
تیسرا حصہ یہ ہے کہ بعض اساتذہ کرام ایسے ہیں جن کو یہ تحریک سرے سے ہی ناگوار ہے اور وہ اس کام کو ہی برا سمجھتے ہیں، تو میں آپ سے یہ کہوں گا کہ آپ ان سے بس تعلیم حاصل کریں۔ لیکن جو چیز آپ کے نزدیک حق ہے اور جس کے حق ہونے کو آپ نے اچھی طرح سمجھ لیا ہے اور جس کے حق ہونے پر آپ کا ضمیر مطمئن ہے اسے جاری رکھیں۔ آ پکو ایسے حضرات سے جھگڑنے کی ضرورت نہیں۔ آپ خاموشی کے ساتھ تعلیم حاصل کرتے رہیں۔ فی الحقیقت یہ آپ کا نہیں خود اس قسم کے اساتذہ کا مسئلہ ہے کہ وہ اپنے اس طرز عمل کے لئے اللہ تعالیٰ کے سامنے کیا جواب پیش کرتے ہیں۔
سوال: کیا موجودہ صورت حال میں آئینی ذرائع سے انقلاب لانا مشکل نہیں ہو گیا۔ کیونکہ جن لوگوں سے ہم کو سابقہ درپیش ہے وہ خود غیر آئینی ذرائع استعمال کر رہے ہیں؟
جواب: فرض کیجئے کہ بہت سے لوگ مل کر آپ کی صحت بگاڑنے میں لگ جائیں تو کیا آپ ان کی دیکھا دیکھی خود بھی اپنی صحت بگاڑنے کی کوشش میں لگ جائیں گے؟ بہت بُرا کیا گیا کہ غیر آئینی طریقوں سے کام لیا گیا ہے اور بہت برا کریں گے اگر ہم بھی ایسا ہی کریں گے۔ غیر آئینی طریقوں کو اختیار کرنے کی دو صورتیں ہوتی ہیں۔ ایک اعلانیہ اور دوسری خفیہ۔ آپ دیکھیں کہ دونوں صورتوں میں کیا نتائج سامنے آسکتے ہیں۔
اعلانیہ طور پر غیر آئینی طریقوں سے جو تغیر پیدا ہو گا وہ زیادہ برا ہو گا۔ اس طرح کی کوششوں سے پوری قوم کو قانون شکنی کی تربیت ملتی ہے اور پھر سو سال تک آپ اسے قانون کی اطاعت پر مجبور نہیں کر سکتے۔ ہندوستان میں تحریک آزادی کے دوران قانون شکنی کو ایک حربے کی حیثیت سے جو استعمال کیا گیا تھا، اس کے اثرات آپ دیکھ رہے ہیں آج پچیس سال بعد بھی لوگوں کو قانون کا پابند نہیں بنایا جا سکا۔'
اگر خفیہ طریقے سے غیر آئینی ذرائع کو اختیار کیا جائے تو نتائج اس سے بھی زیادہ خطرناک ہوں گے۔ خفیہ تنظیموں میں چند افراد مختار کل بن جاتے ہیں اور پھر ساری تنظیم یا تحریک ان ہی کی مرضی پر چلتی ہے۔ ان سے اختلاف رکھنے والوں کو فوراً ختم کر دیا جاتا ہے۔ ان کی پالیسی سے اظہارِ بے اطمینانی سخت ناگوار اور ناپسندیدہ قرار دیا جاتا ہے۔ اب آپ خود سوچیں کہ یہی چند افراد جب بر سر اقتدار آئیں گے تو کس قدر بدترین ڈکٹیٹر ثابت ہوں گے۔ اگر آپ ایک ڈکٹیٹر کو ہٹا کر دوسرے ڈکٹیٹر کو لے آئیں تو خلقِ خدا کے لئے اس میں خیر کا پہلو کون سا ہے؟
میرا مشورہ ہمیشہ یہی رہا ہے کہ خواہ آپ کو بھوکا رہنا پڑے، گولیاں کھانی پڑیں۔ مگر صبر کے ساتھ، تحمل کے ساتھ، کھلم کھلا اعلانیہ طور پر اپنی اصلاحی تحریک کو قانون، ضابطے اور اخلاقی حدود کے اندر چلاتے رہیے۔ خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا طریق کار بھی اعلانیہ اور کھلم کھلا تبلیغ کا طریقہ تھا۔ ہم نے ہمیشہ اسی طریقے کو اپنایا ہے۔ پہلے چند سال میں ہمارے اوپر مسلسل غیر قانونی حملے ہوتے رہے ہیں، مگر ہم نے کبھی کوئی غیر قانونی ذریعہ اختیار نہیں کیا۔ نتیجہ یہ ہے کہ خود انہی کا منہ کالا ہوا کہ جنہوں نے غیر قانونی، غیر اخلاقی، اور غیر انسانی طریقے روا رکھے مگر خدا کے فضل و کرم سے ہمارے اوپر کوئی دھبہ ثابت نہ کر سکے۔ اس چیز کا زبردست اخلاقی اثر مرتب ہوا۔ خود ان لوگوں کا پیمبر بھی اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ وہ غلط کام کر رہے ہیں۔ آپ سے میری درخواست یہ ہے کہ آپ اپنی اخلاقی ساکھ کو کبھی نقصان نہ پہنچنے دیں اور غیر آئینی طریقوں کے بارے میں سوچنے والوں کی قطعاً حوصلہ افزائی نہ کریں۔ حالات جیسے کچھ بھی ہیں، ہمیں ان حالات کو درست کرنا ہے اور غلط طریقوں سے حالات درست نہیں ہوتے بلکہ اور بگڑ جاتے ہیں۔