مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

تصریحات

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

کتاب "تصریحات" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی ایک جامع تحریری و تقریری رہنمائی پر مشتمل ہے جو خاص طور پر نوجوان طلبہ و طالبات کے بنیادی سوالات، شکوک اور عصری مسائل کے تناظر میں مرتب کی گئی ہے۔ اس کتاب کا بنیادی مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ اسلام صرف ایک مذہبی عقیدہ یا روحانی نظام نہیں بلکہ انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں—فردی، سماجی، سیاسی، اقتصادی اور تعلیمی—کا ایک مکمل اور جامع نظامِ حیات ہے۔ مولانا مودودی نے اس کتاب کے ذریعے نہ صرف باطل مگر غالب نظریات—جیسے لادینیت، سرمایہ داری، اشتراکیت، قومیت پرستی، فرقہ واریت اور مغربی تہذیب—کا مقابلہ کیا ہے بلکہ ایک ایسی نسل کی تربیت کا منصوبہ بھی پیش کیا ہے جو علم، ایمان اور عمل کے توازن پر استوار ہو کر اسلامی انقلاب کی قیادت کر سکے۔

کتاب کا آغاز تاریخی اور عالمی تناظر سے ہوتا ہے، جہاں مرتب بیسویں صدی کے سیاسی و فکری حالات—مغربی استعمار کا زوال، امریکی سامراج کا عروج، فسطائیت و اشتراکیت کی عروج و زوال، اور خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد مسلم دنیا کی اندرونی کمزوریوں—کا جائزہ لیتا ہے۔ اس تناظر میں وہ یہ واضح کرتا ہے کہ موجودہ دور میں اسلامیت اور لادینیت کے درمیان جو کشمکش چل رہی ہے، اس کی صحیح سمجھ کے لیے تاریخی ارتقاء اور مختلف ادوار کے رویوں کو ٹھیک ٹھیک سمجھنا ضروری ہے۔

کتاب کا بیشتر حصہ اسلامی جمعیت طلبہ و طالبات کے ساتھ 1950ء سے 1979ء تک، یعنی قریب تین دہائیوں پر محیط، مختلف نشستوں، تربیتی کیمپوں، اجتماعات اور انٹرویوز کی صورت میں ہونے والے سوال و جواب پر مشتمل ہے، جن میں پاکستان، ہندوستان، برطانیہ، امریکہ اور سعودی عرب کی طلبہ تنظیموں کے ساتھ ملاقاتیں شامل ہیں۔ ان نشستوں میں تعلیم، تحریکِ اسلامی کے طریقِ کار، جماعتِ اسلامی سے وابستگی، اور نوجوانوں کو درپیش فکری چیلنجز جیسے موضوعات بار بار زیرِ بحث آتے ہیں۔

کتاب کے وسط میں ایک الگ باب 'ادب میں اخلاقی اقدار' شامل ہے جو شعر، افسانہ، صحافت، خطابت اور ترجمے جیسی اصنافِ ادب کا جائزہ لے کر جائز و ناجائز ادب کے اسلامی معیار کی نشان دہی کرتا ہے۔ چونکہ کتاب کا بیشتر مواد وقتاً فوقتاً مختلف مواقع پر ہونے والی گفتگو پر مبنی ہے، اس لیے اس کا امتیاز کسی واحد مسلسل بحث میں نہیں بلکہ نوجوان نسل کی تربیت کے لیے مولانا کے دیرینہ، تسلسل بھرے تعلقِ خاطر میں مضمر ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

کراچی یونیورسٹی سٹوڈنٹس یونین کے سالانہ مجلہ ”الجامعہ“ کی مجلس ادارت کا سید مودودی سے انٹرویو۔۔۔ جنوری ۱۹۷۷ء

الجامعہ: مولانا! چونکہ آپ بنیادی طور پر دینی رہنما ہیں، اس لئے پہلا سوال یہی پوچھنے کو جی چاہتا ہے کہ آپ کا ذہن مذہب کی طرف کیسے راغب ہوا؟

مولانا: جب مجھ میں کچھ شعور پیدا ہوا تو میں نے محسوس کیا کہ میں اس لئے مسلمان ہوں کہ مسلمان گھرانے میں پیدا ہوا ہوں، لیکن یہ بات کسی دین کے حق ہونے کی دلیل نہیں ہے۔ کیونکہ اگر میں عیسائی گھرانے میں پیدا ہوتا تو عیسائی ہوتا۔ اس وجہ سے میں نے اسلام کو سمجھنے کی کوشش کے ساتھ دوسرے مذاہب کا مطالعہ بھی کیا۔ جب میرا پوری طرح اطمینان ہو گیا کہ دراصل دین حق اسلام ہی ہے تو میں نے پورے شعور کے ساتھ اسلام قبول کیا۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو میں صرف دین آبائی کی وجہ سے ہی نہیں بلکہ اپنی تحقیق کی وجہ سے بھی مسلمان ہوں۔ اسی لئے میں نے خود کو نو مسلم بھی لکھا ہے۔

سوال: پوری دنیا میں ایک انقلابی تبدیلی آ رہی ہے اور نوجوان بوڑھی اور پرانی قیادت سے بغاوت کر رہے ہیں، لیکن ہمارے یہاں معاملہ مختلف ہے۔ نوجوان اپنے بزرگوں ہی کی قیادت کو پسند کرتے ہیں۔ کیوں؟

جواب: اصل میں دنیا میں جہاں نوجوان اس طرح بغاوت کر رہے ہیں۔ ان کی رفتار، گفتار اور کردار ہر چیز سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس وقت بھی بگاڑ پیدا کر رہے ہیں اور آئندہ بھی بگاڑ پیدا کریں گے۔ صرف یہ بات کہ نوجوان ایسا چاہتے ہیں، اس امر کی دلیل نہیں ہے کہ جو کچھ وہ چاہتے ہیں وہ صحیح بھی ہے۔ جو نوجوان صحیح العقل ہوں گے وہ اس بات کو مدنظر رکھیں گے کہ اجتماعی معاملات کو چلانے کے لئے صرف اچھے مقاصد ہی کافی نہیں ہوتے بلکہ تجربہ کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ اس وجہ سے آپ دیکھیں گے کہ جو قومیں ترقی کر رہی ہیں، ان کے معاملات کی باگیں کن رسیدہ اور تجربہ کار لوگوں کے ہاتھ میں ہیں۔ جہاں نوعمر لوگ کسی سازش یا کسی بغاوت کے ذریعے سے اپنے ملک کے معاملات پر قابض ہو گئے ہیں۔ وہاں ان کی ناتجربہ کاری اور ناپختگی اپنے برے اثرات دکھا رہی ہے۔

سوال: مولانا! ایک طبقے کا خیال ہے کہ چونکہ ہمارا ملک پس ماندہ ہے اس لئے اس کے نوجوانوں کو اپنی تعلیم پر زیادہ سے زیادہ توجہ دینی چاہئے۔ جبکہ سیاستدان نوجوانوں کو اپنی قوت بنانے کے لئے کوشاں ہیں۔ آپ کے نزدیک دونوں میں سے کون سا نقطۂ نظر درست ہے؟

جواب: یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ طلبہ کو اپنی تعلیم پر توجہ دینے، علم حاصل کرنے اور اپنی قابلیت کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ لیکن یہ بات صحیح نہیں ہے کہ جن نوجوانوں کو آگے چل کر خود ملک کا انتظام سنبھالنا اور چلانا ہے وہ اس بات سے آنکھیں بند کر لیں کہ ان کے حق میں کانٹے بوئے جا رہے ہیں، جنہیں آخر کار انہیں ہی چننا ہو گا۔ اگر وہ دیکھ رہے ہوں کہ جن لوگوں کے ہاتھ میں موجودہ نظام ہے وہ ان کے حق میں کانٹے بونے کا سامان کر رہے ہیں تو بڑے بے حس اور بے عقل ہوں گے اگر وہ اس طرح کے لوگوں کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش نہ کریں۔ اس معاملے میں دو چیزیں ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ کسی سیاسی پارٹی کا طلبہ کو اپنا آلہ کار بنانا اور طلبہ کا ان کے ہاتھ میں آلہ کار بننا، یہ سراسر غلط ہو گا۔ آخر نو جوان طلبہ جو اپنے علم کی تکمیل کا ایک حد تک راستہ طے کر چکے ہیں اور جن میں معاملات کو سمجھنے کے لئے شعور پیدا ہو چکا ہے، وہ کسی کا آلہ کار بننے سے پہلے اس بات کو ضرور دیکھیں گے اور نہیں دیکھیں گے تو غلطی کریں گے کہ وہ جس جماعت کا ساتھ دے رہے ہیں اس کا پروگرام کیا ہے؟ اس کا کردار کیا ہے؟ وہ ملک کی فی الواقع بھلائی کے لئے کام کر رہی ہے یا اس کو بگاڑنے کے لئے سرگرم ہے۔

سوال: اکثر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ تمام تعلیمی اداروں میں قیادت کی باگ ڈور اسلامی ذہن رکھنے والے نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے۔ اس کے باوجود وہاں مذہبی نقطۂ نگاہ سے کوئی مثبت تبدیلی نہیں آتی۔ کیوں؟

جواب: بات یہ ہے کہ لوگوں کے اخلاق کو بگاڑنے کا کام جتنے وسیع پیمانے پر ہو رہا ہے اس کے اثرات لامحالہ کچھ نہ کچھ تو عام نوجوانوں پر بھی پڑتے ہیں اور یہ سلسلہ ایک مدت دراز سے چل رہا ہے۔ صرف یہ بات کہ ان تعلیمی اداروں کے انتخابات میں اسلامی ذہن رکھنے والے طلبہ کو کامیابی حاصل ہو جانا بجائے خود کافی نہیں۔ بلکہ ان کی قیادت کو سنبھالنے والوں کو بڑے پیمانے پر طلبہ کے اصلاح حال کی کوشش بھی کرنی چاہئے۔

الجامعہ: ایک مسئلہ یہ ہے کہ جمعیت کا کام کرتے ہوئے ایسے افراد سے بھی واسطہ پڑتا ہے جو اسلام سے محض عقیدتاً اور جذباتی لگاؤ رکھتے ہیں اور عملاً شعائر اسلام کی پابندی نہیں کرتے؟ جبکہ حقوق العباد کے معاملات ان کے بہتر ہوتے ہیں۔ اس کی کیا وجہ ہے؟

جواب: اس کی دو وجہ ہیں یا تو یہ کہ وہ علم کے بغیر اسلام کا ساتھ دے رہے ہیں، جذباتی وابستگی ایسے ہی لوگوں میں پائی جاتی ہے۔ یا اس لئے کہ وہ مسلم گھرانوں میں پیدا ہوئے ہیں۔ اس قسم کی وابستگی اسلام کے لئے اتنا عشق پیدا کر سکتی ہے کہ اس کی خاطر انسان جان دے دے، لیکن اسلام کے احکام کی پابندی کرتے ہوئے ساری زندگی گزار دینا یہ ممکن نہیں ہوتا۔ یا پھر دوسری وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ ایک آدمی کو شعور بھی ہے، اسلام کو سمجھتا بھی ہے، لیکن اس کی سیرت میں ایسی کمزوری موجود ہوتی ہے کہ ایک چیز کو فرض جاننے کے باوجود اسے ادا نہیں کر پاتا۔ ایک چیز کو حرام جاننے اور ماننے کے با وجود اس کا ارتکاب کرتا ہے، ان دونوں میں سے جو صورت بھی ہو اس میں یہ ناممکن نہیں ہے کہ آدمی حقوق العباد ادا کرنے میں پوری طرح راست باز ہو۔ اس لئے کہ مضبوط سیرت و کردار کا پیدا ہونا صرف خدا اور آخرت پر یقین ہی کے نتیجے میں ممکن ہے۔ جو شخص خدا اور آخرت پر یقین نہیں رکھتا وہ بعض چیزوں میں حقوق العباد ادا کرے گا اور بعض چیزوں میں حقوق العباد کو پامال کرے گا۔ جہاں کہیں بھی وہ محسوس کرے گا کہ حقوق العباد ادا کرنے میں اسے نقصان سے سابقہ پیش آئے گا وہاں اس کی اخلاقی قوت جواب دے جائے گی۔ ایسی حالت میں حقوق العباد وہی ادا کر سکتا ہے جو اپنے آپ کو خدا کے سامنے جوابدہ سمجھتا ہو اور یقین رکھتا ہو کہ یہاں کسی کا حق مار کر میں دنیا کی گرفت سے بچ جاؤں گا، تب بھی یہ عقیدہ اسے ایسا کرنے سے باز رکھے گا کہ مرنے کے بعد اسے خدا کے سامنے حاضر ہونا ہے۔ بعض لوگ اس معاملے میں بعض مغربی قوموں کی مثال پیش کرتے ہیں کہ ان کے ہاں معاملات میں بڑی ایمانداری پائی جاتی ہے، لیکن وہ یہ نہیں سوچتے کہ اگر واقعی وہ ایسے لوگ ہیں تو وہ قومی حیثیت سے دنیا کی دوسری قوموں کے حقوق کیوں مارتے ہیں ..... اور ستم کیوں ڈھاتے ہیں؟ فرداً فرداً جس قوم کے لوگ ایماندار ہوں، مجموعی طور پر وہ ایک قوم بننے کے بعد بے ایمان کیوں ہو جاتے ہیں؟ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے کیریکٹر کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔

سوال: تعلیمی اداروں میں بے شمار طلبہ اسلام کا کام کرتے ہیں مگر آگے چل کر جب عملی زندگی میں داخل ہوتے ہیں تو ان مقاصد کے لئے کام نہیں کرتے جن کے لئے وہ تحریک اسلامی میں شامل ہوئے تھے؟

جواب: یہ بات نہیں، بلکہ بات یہ ہے کہ طلبہ کی بہت بڑی تعداد ایسی ہوتی ہے جو طالب علمی کے زمانے میں بڑے بلند مقاصد رکھتی ہے اور اچھے ارادے اپنے دلوں میں پرورش کرتی ہے۔ لیکن جب ان کو تعلیم سے فارغ ہو کر اس سوال سے سابقہ پیش آتا ہے کہ انہیں عملی دنیا میں قدم رکھنا ہے اور اپنے مستقبل کو خود ہی تعمیر کرنا ہے تو اس وقت وہ اپنی اس خیالی دنیا سے نکلنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، جس کے اندر وہ اپنے زمانہ طالب علمی میں زندگی بسر کر رہے ہوتے ہیں۔ اس وجہ سے یہ ممکن نہیں کہ جتنے طلبہ اسلامی ذہن رکھتے ہیں، وہ سارے کے سارے آگے چل کر تحریک اسلامی کے کارکن بن جائیں ان میں سے ایک قلیل تعداد ہی ایسا کر پاتی ہے۔ لیکن یہ سمجھ لینا صحیح نہیں ہے کہ عملی زندگی میں قدم رکھنے کے بعد ملازمت یا تجارت یا کسی اور کام میں جو لوگ لگ گئے ہیں ان کے دماغ سے وہ خیالات بھی نکل گئے ہیں جو زمانہ طالب علمی میں وہ رکھتے تھے، مجھے بکثرت ایسے لوگوں کو دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے جو پہلے طلبہ کی جمعیت میں تھے اور بعد میں کسی شعبہ زندگی سے وابستہ ہو گئے۔ میں نے کم ہی ایسے اشخاص کو پایا ہے کہ جن کے خیالات بالکل بدل گئے ہوں۔ چونکہ ان کے ساتھ رابطہ رکھنے کی کوششیں نہیں کی جا رہی ہیں۔ اس لئے یہی گمان پیدا ہو گیا ہے کہ وہ سب لوگ دنیا میں کھو گئے اور اب ان کے خیالات میں ان کے سابق عقائد و افکار کی جھلک باقی نہیں رہی۔ اگر اپنے سابق رفقاء کے ساتھ آپ لوگ اپنے روابط رکھنے کی کوشش کریں تو معلوم ہوگا کہ ان کی عظیم اکثریت آپ ہی کے خیالات سے مطابقت رکھتی ہے اور اپنے دائرہ کار میں ان ہی خیالات کے مطابق کام کر رہی ہیں۔

سوال: مولانا! نوجوانوں کا فکری مستقبل آخر کیا ہوگا؟ ہم اسلام کے لئے کام کرنے والے نوجوانوں کو کون سی اقتصادی ضمانت دیں؟ کیا آپ کے ذہن میں ایسا کوئی نقشہ موجود ہے؟

جواب: اقتصادی ضمانت کوئی بھی ایسی حالت میں نہیں دے سکتا، جب تک اسے اقتصادی نظام پر گرفت حاصل نہ ہو۔ بلکہ جنہیں گرفت حاصل ہے وہ بھی تمام نوجوانوں کو کوئی اقتصادی ضمانت نہیں دے سکتے۔ حقیقت میں صحیح عقیدہ وہی ہے جو کسی اقتصادی نظام کا محتاج نہ ہو اور جو اس یقین پر مبنی ہو کہ ہم جس چیز کو حق سمجھتے ہیں وہی حق ہے اور ہمیں اسی کی پیروی کرنی چاہئے خواہ وہ ہمارے لئے تابناک مستقبل کی ضمانت دیتا ہو یا نہ دیتا ہو۔ جو شخص بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا ہو وہ تحریک اسلامی کے لئے کام نہیں کر سکتا۔ اس کے لئے یقین شرط اول ہے۔

سوال: اسلام اپنی مکمل حالت میں عملاً صرف پندرہ برس کے عرصے تک کی خلافت راشدہ تک نافذ العمل رہا۔ اکثر ذہنوں میں یہ سوال گونجتا ہے کہ کیا ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کی آمد، کائنات کی تخلیق سے لے کر اب تک کے سارے کام صرف اسی پندرہ سال کے مختصر عرصے کی خلافت راشدہ کے لئے سر انجام دیئے گئے تھے اور جس کے آئندہ بھی نافذ ہونے کی کوئی ضمانت نہیں۔

جواب: اصل میں یہ انتہائی محدود نقطۂ نظر ہے۔ اس معاملے پر غور کرنے اور دیکھنے کی بات یہ ہے کہ دنیا میں جو کچھ اخلاقی حسن و قبح کے تصورات پائے جاتے ہیں اور انفرادی اور اجتماعی زندگی کے لئے جو صالح اصول نوعِ انسانی کو ملے ہیں، وہ آخر کہاں سے آئے ہیں؟ ان سب کا پہنچنے کا ذریعہ محض انبیاء ہیں۔ یہ تو بہت بڑی بات، ہے کہ کسی نبی کی تعلیم باہتمام کسی معاشرے میں روبہ عمل لائی جائے اور ایک مثالی معاشرہ وجود میں آئے۔ لیکن جہاں ایسا نہ ہو وہاں یہ سمجھنا کہ انبیاء کی کوششیں بیکار گئیں، غلط ہے۔ دنیا میں جتنا فساد پایا جاتا ہے، وہ انبیاء کی تعلیمات سے انحراف کی وجہ سے ہے۔ اور دنیا میں جتنی تعلیم و تہذیب بھی پائی جاتی ہے وہ ہم تک انبیاء ہی کے ذریعے پہنچی ہے۔

سوال: بعض مفکرین کا خیال ہے کہ آنے والا زمانہ عقائد و نظریات کا زمانہ نہیں ہے بلکہ انسان کے تنظیمی مسائل اتنے بڑھ جائیں گے اور معاشرتی اداروں کی اہمیت اتنی بڑھ جائے گی کہ مختلف نظریات رکھنے والے لوگ ٹھوس حقائق کی بنیاد پر ایک حل پر متفق ہو جائیں گے۔ آپ کی کیا رائے ہے؟

جواب: یہ خیالی دعویٰ ہے۔ اس کے لئے کوئی ثبوت نہیں ہے۔ (مولانا نے بہت ہی اطمینان سے کہا) جن لوگوں نے یہ خیال ظاہر کیا ہے۔ ان کا یہ ذاتی نقطۂ نظر ہے۔ ضروری نہیں کہ حقیقت بھی اس کے مطابق ہو۔ اس میں سب سے پہلی بات تو یہی غلط ہے کہ عقائد و افکار کا دور گزر گیا ہے۔ جب تک انسان کے سر میں دماغ ہے اور دماغ میں سوچنے کی قوت موجود ہے اس وقت تک یہ ممکن ہی نہیں۔ اور پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ حل کیا ہوگا ؟ جس پر سب متفق ہو جائیں گے۔ آیا یہ ان کا نظریہ ہے یا وہ کوئی واقعہ بیان کر رہے ہیں۔ بنیادی بات یہ ہے کہ انسان، جب تک انسان ہے، اس وقت تک یہ ممکن نہیں کہ خیالات و افکار میں کامل یکسانی پیدا ہو جائے اور لوگوں میں اختلاف خیال باقی نہ رہے۔ جس وقت ایسی صورت پیدا ہو گی اس وقت انسان کے بجائے کوئی اور مخلوق کام کرنا شروع کر دے گی۔

سوال: آپ نے اپنی کتاب ”تجدید و احیائے دین“ میں ابتداء سے لے کر شاہ اسمعیل تک کی اسلامی تحریکوں کا جائزہ لیا ہے اور ان کی ناکامی کے اسباب بیان کئے ہیں۔ اگر آپ کے نزدیک کامیابی کا معیار رضائے الٰہی کا حصول ہے تو آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے رضائے الٰہی نہیں حاصل کی؟

جواب: کامیابی اور ناکامی کا لفظ ہم مختلف معنوں میں استعمال کرتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ کوئی گروہ جس مقصد کے لئے کام کر رہا ہے وہ اس میں کامیاب ہو جائے۔ کامیابی کا یہ ایک مفہوم ہے۔ کامیابی کے دوسرے معنی یہ ہیں کہ خدا کی طرف سے جو ذمہ داری سونپی گئی ہو، اس کو پوری کرنے میں ہم کوتاہی نہ برتیں۔ اس طرح سے جو گروہ بھی رضائے الٰہی کو پیش نظر رکھ کر اپنے معاشرے اور ماحول کو اسلام کے مطابق تبدیل کرنے کے لئے اٹھتا ہے اس کی یہ خواہش ضرور ہوتی ہے اور فطرتاً ہونی چاہئے کہ جس اصلاح کے لئے وہ کوشش کر رہا ہے وہ عملاً رونما ہو جائے۔ اس غرض کے لئے یہ ضرور دیکھنا ہوتا ہے کہ جو تدابیر اختیار کی گئی ہیں ان میں کوئی ایسی خامی تو نہیں جو اصلاح کے مقصد کو پورا کرنے میں مانع ہے۔ اس لئے ہم تاریخ کا مطالعہ کر کے یہ کوشش کرتے ہیں کہ پچھلی تحریکوں میں اگر تدابیر کے لحاظ سے کوئی خامی نظر آئے تو اس سے بچیں۔

الجامعہ: کیا اسلامی انقلاب صرف جمہوری راستوں سے ہی لانا چاہئے؟ جبکہ دوسری ایسی نظریاتی تحریکیں ایسی موجود ہیں جنہوں نے قوت اور ہتھیار کو بھی انقلاب لانے کا ذریعہ بنایا؟

مولانا: جو بات ہم یقین سے سمجھتے ہیں وہ یہ ہے کہ کسی مصنوعی ذریعے سے اگر کوئی ایسا انقلاب برپا کر دیا جائے جس کے لئے معاشرہ ذہنی و اخلاقی حیثیت سے تیار نہ ہو، تو وہ انقلاب کبھی پائیدار نہیں ہو سکتا، اور معاشرے کو تیار کرنا ایک محنت طلب کام ہے۔ ایک اچھی خاصی مدت لوگوں کو اس حق کا قائل کرنے پر صرف کرنی پڑتی ہے، جس حق کو ہم قائم کرنا چاہتے ہیں۔ جب معاشرے کو ایک حد تک تیار کر لیا جائے اس کے بعد انقلاب برپا کرنے کے لئے ہر وہ تدبیر کی جا سکتی ہے جو جائز بھی ہو اور ان حالات میں کارگر بھی ہو جن میں ہم کام کر رہے ہیں۔ اپنے وقت اور اپنے ملک کے حالات کو نظر انداز کر کے کوئی سکیم نہیں بنائی جا سکتی، اور اگر بنائی جائے تو یہ ناکامی پر منتج ہوگی۔

(یہ انٹرویو محمود احمد فاروقی اور طاہر مسعود نے لیا تھا۔)