تصریحات
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
کتاب "تصریحات" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی ایک جامع تحریری و تقریری رہنمائی پر مشتمل ہے جو خاص طور پر نوجوان طلبہ و طالبات کے بنیادی سوالات، شکوک اور عصری مسائل کے تناظر میں مرتب کی گئی ہے۔ اس کتاب کا بنیادی مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ اسلام صرف ایک مذہبی عقیدہ یا روحانی نظام نہیں بلکہ انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں—فردی، سماجی، سیاسی، اقتصادی اور تعلیمی—کا ایک مکمل اور جامع نظامِ حیات ہے۔ مولانا مودودی نے اس کتاب کے ذریعے نہ صرف باطل مگر غالب نظریات—جیسے لادینیت، سرمایہ داری، اشتراکیت، قومیت پرستی، فرقہ واریت اور مغربی تہذیب—کا مقابلہ کیا ہے بلکہ ایک ایسی نسل کی تربیت کا منصوبہ بھی پیش کیا ہے جو علم، ایمان اور عمل کے توازن پر استوار ہو کر اسلامی انقلاب کی قیادت کر سکے۔
کتاب کا آغاز تاریخی اور عالمی تناظر سے ہوتا ہے، جہاں مرتب بیسویں صدی کے سیاسی و فکری حالات—مغربی استعمار کا زوال، امریکی سامراج کا عروج، فسطائیت و اشتراکیت کی عروج و زوال، اور خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد مسلم دنیا کی اندرونی کمزوریوں—کا جائزہ لیتا ہے۔ اس تناظر میں وہ یہ واضح کرتا ہے کہ موجودہ دور میں اسلامیت اور لادینیت کے درمیان جو کشمکش چل رہی ہے، اس کی صحیح سمجھ کے لیے تاریخی ارتقاء اور مختلف ادوار کے رویوں کو ٹھیک ٹھیک سمجھنا ضروری ہے۔
کتاب کا بیشتر حصہ اسلامی جمعیت طلبہ و طالبات کے ساتھ 1950ء سے 1979ء تک، یعنی قریب تین دہائیوں پر محیط، مختلف نشستوں، تربیتی کیمپوں، اجتماعات اور انٹرویوز کی صورت میں ہونے والے سوال و جواب پر مشتمل ہے، جن میں پاکستان، ہندوستان، برطانیہ، امریکہ اور سعودی عرب کی طلبہ تنظیموں کے ساتھ ملاقاتیں شامل ہیں۔ ان نشستوں میں تعلیم، تحریکِ اسلامی کے طریقِ کار، جماعتِ اسلامی سے وابستگی، اور نوجوانوں کو درپیش فکری چیلنجز جیسے موضوعات بار بار زیرِ بحث آتے ہیں۔
کتاب کے وسط میں ایک الگ باب 'ادب میں اخلاقی اقدار' شامل ہے جو شعر، افسانہ، صحافت، خطابت اور ترجمے جیسی اصنافِ ادب کا جائزہ لے کر جائز و ناجائز ادب کے اسلامی معیار کی نشان دہی کرتا ہے۔ چونکہ کتاب کا بیشتر مواد وقتاً فوقتاً مختلف مواقع پر ہونے والی گفتگو پر مبنی ہے، اس لیے اس کا امتیاز کسی واحد مسلسل بحث میں نہیں بلکہ نوجوان نسل کی تربیت کے لیے مولانا کے دیرینہ، تسلسل بھرے تعلقِ خاطر میں مضمر ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
مسلم سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (M.S.A) شمالی امریکہ و کینیڈا کے کا دیں سالانہ اجتماع کے لئے ایک سوال کے جواب میں یہ پیغام ڈاکٹر انیس احمد صاحب نے قلم بند کیا۔۔۔۔۔ مئی ۱۹۷۹ء
سوال: محترم مولانا! قرآن کریم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو داعی الی اللہ قرار دیتا ہے۔ آپ قرآن اور سیرت پاک کی روشنی میں ایک داعی حق کی کون کون سی اہم خصوصیات بیان فرمائیں گے؟
جواب: امریکہ اور کینیڈا میں جو اللہ کے بندے تحریک اسلامی کے لئے کام کر رہے ہیں ان سب کو میری طرف سے سلام پہنچا دیجئے۔ میں زیادہ دیر تک بات نہیں کر سکتا۔ اس لئے مختصر طور پر آپ کے سوال کا جواب دیتا ہوں۔ قرآن کریم میں ایک آیت ہے جس میں ایک داعی کی اہم خصوصیات کو اس طرح بیان فرمایا گیا ہے:
<<وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَا إِلَى اللَّهِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَّ قَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ>>
”یعنی اس شخص سے اچھی بات اور کس کی ہوگی جس نے اللہ کی طرف بلایا اور نیک عمل کیا اور کہا کہ میں مسلمان ہوں۔“
اس ارشاد کی پوری اہمیت سمجھنے کے لئے یہ چیز نگاہ میں رکھنی ضروری ہے کہ یہ بات مکہ معظمہ کے حالات میں کہی گئی۔ یہ وہ دور تھا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے پیروؤں پر شدید مظالم ڈھائے جا رہے تھے۔ ایسے عالم میں یہ بات کہنا اور اس بات کا اعلان کرنا کوئی آسان کام نہ تھا کہ میں مسلمان ہوں۔ ایسی بات کہنا گویا اپنے اوپر درندوں کو حملہ آور ہونے کی دعوت دینا تھا۔ ان حالات میں پہلی بات یہ فرمائی گئی کہ بہترین قول اس شخص کا ہے جو اللہ کی طرف بلائے۔ دوسرے الفاظ میں ایک داعی کی خصوصیت یہ ہے کہ اس کی دعوت اللہ کی طرف ہو، کوئی دنیاوی غرض اس کے سامنے نہ ہو، نہ وطنی، نہ قومی، نہ خاندانی اور نہ مادی۔ کوئی دوسرا مقصد اس کے پیش نظر نہ ہونا چاہئے۔ کوئی شخص خالص اللہ کی طرف دعوت دے رہا ہو تو قرآن مجید کی تعلیم کے مطابق ایسے داعی کی اوّلین خصوصیت یہ معلوم ہوتی ہے کہ اسے اللہ کی توحید کی طرف دعوت دینی چاہئے، اسے اس بات کی دعوت دینی چاہئے کہ خدا کے سوا کسی کی بندگی، کسی کی عبادت اور کسی کی پرستش نہ کی جائے۔ خدا کے سوا کسی کا خوف نہ ہو، خدا کے سوا کسی سے کوئی طمع نہ ہو، صرف خدا ہی کے احکام اور اس کے فرامین کی اطاعت اس کے پیش نظر ہو! اسی کے قانون کی پیروی مطلوب ہو۔ آدمی دنیا میں جو کام بھی کرے یہ سمجھتے ہوئے کرے کہ میں کس کا بندہ ہوں اور کس کے سامنے جا کر مجھے جوابدہی کرنی ہے۔ انسان کی تمام کوششیں اور ساری جدوجہد کا مرکز و محور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کی تعمیر اور اس کے ذریعے رضائے الٰہی کا حصول ہونا چاہئے۔
دوسری بات یہ فرمائی گئی ..... کہ داعی حق عَمِلَ صَالِحًا کی خوبی سے آراستہ ہو یعنی نیک عمل کرے۔ اس فرمان پر ذرا بھی غور کیا جائے تو پورا مفہوم واضح ہو جائے گا۔ کہ دعوت دینے والے کا اگر اپنا عمل درست نہ ہو تو پھر اس کی دعوت کا کچھ اثر نہیں ہوتا۔ ایک انسان جس چیز کی طرف دعوت دے اسے اس کا عملی مجسمہ ہونا چاہئے۔ اس کی اپنی زندگی میں خدا کی نافرمانی کا کوئی شائبہ تک نہ پایا جائے، اس کے اخلاق ایسے ہونے چاہئیں کہ کوئی شخص اس کے دامن پر ایک دھبہ تک نہ دکھا سکے۔ اس کے گردوپیش کا ماحول، اس کا معاشرہ، اس کے عزیز و اقارب، سب یہ جانتے ہوں کہ ہمارے درمیان یہ ایک نہایت بلند اور پاکیزہ کردار آدمی ہے۔
یہ تعلیم ہمیں قرآن پاک کے ساتھ سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی قدم قدم پر ملتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی حیات طیبہ شہادت دیتی ہے کہ جب وہ خدا کی طرف سے دعوت حق دینے کے لئے کھڑے ہوئے تو وہ معاشرہ جس میں آپؐ چالیس سال سے موجود تھے آپؐ کے عظیم الشان کردار کا شاہد تھا۔ اس معاشرے میں کوئی ایک فرد بھی ایسا نہ تھا جو آپؐ کی بلندی اخلاق کا قائل نہ ہو اور آپؐ کے ظاہر و باطن کی زندگی اور اس زندگی کی پاکیزگی کا معترف نہ ہو۔ جو آپؐ کے جس قدر قریب تھا وہ اتنا ہی آپؐ کا زیادہ معتقد تھا۔ جن افراد سے آپؐ کی زندگی کا کوئی پہلو چھپ نہیں سکتا تھا۔ انہوں نے سب سے پہلے آپؐ کی نبوت کا اقرار کیا۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا پندرہ سال سے آپؐ کی زوجیت میں تھیں اور وہ کوئی کمسن عورت نہیں تھیں بلکہ عمر میں ان سے بڑی تھیں۔ جس وقت آپؐ نے نبوت کا دعویٰ کیا اس وقت ان کی عمر پچپن سال تھی۔ ایک ایسی پختہ، سن رسیدہ اور دانشمند خاتون سے جس نے پندرہ سال سے اپنے شوہر کی زندگی کو قریب سے دیکھا ہو، شوہر کا کوئی عیب اس سے چھپ نہیں سکتا۔ دنیاوی اغراض کے لئے ایک بیوی اپنے شوہر کے ناجائز کاموں میں بھی شریک ہوسکتی ہے لیکن اس پر ایمان کسی صورت میں نہیں لاسکتی۔ عقیدہ بھی وہ یہ ماننے کے لئے کبھی تیار نہیں ہوسکتی کہ یہ شخص خدا کا رسول ہو سکتا ہے یا اسے ہونا چاہئے۔ لیکن حضرت خدیجہؓ آپؐ کی اس حد تک معتقد تھیں کہ جب آپؐ نے نبوت کی بشارت کا ماجرا بیان کیا تو انہوں نے ایک لمحے کا تامل کئے بغیر اسے تسلیم کر لیا۔
قریب سے دیکھنے والے دوسرے شخص زیدؓ بن حارث تھے جو غلام کی حیثیت سے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے میں آئے تھے تو پندرہ برس عمر تھی اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا آغاز ہوا تو حضرت زید رضی اللہ عنہ کی عمر تیس سال تھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پورے پندرہ سال انہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں رہ کر ہر طرح سے اور ہر پہلو سے آپ کی زندگی کو دیکھنے اور مشاہدہ کرنے کا موقع ملا۔ ان کی شہادت ایک خاص صورت میں سامنے آتی ہے۔ (واقعہ یہ تھا کہ وہ بچپن میں والدین سے بچھڑ گئے تھے اور خدا کی قدرت نے انہیں آنحضور تک پہنچا دیا۔ ) جب ان کے والدین اور ان کے چچا کو معلوم ہوا کہ ہمارا بیٹا فلاں جگہ غلامی کی زندگی بسر کر رہا ہے تو وہ مکہ معظمہ آئے۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے پہلے کا واقعہ ہے۔ انہوں نے آکر محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ:
”آپ کا بڑا احسان ہوگا ، اگر آپ ہمارے اس بیٹے کو آزاد فرما دیں۔“
آپ نے فرمایا کہ:
”میں لڑکے (زید) کو بلا لیتا ہوں، وہ آپ کے ساتھ جانا چاہے تو میں آپ کے ساتھ روانہ کر دوں گا اور اگر وہ میرے ساتھ رہنا چاہے تو میں ایسا آدمی نہیں ہوں کہ جو میرے ساتھ رہنا چاہے تو اسے زبردستی اپنے سے علیحدہ کر دوں۔“
آپ کی اس بات کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آپ نے بہت انصاف کی بات کی ہے۔ آپ زید کو طلب فرمائیے۔ جب حضرت زیدؓ ان کے سامنے آئے تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:
”ان لوگوں کو پہچانتے ہو؟“
حضرت زیدؓ نے کہا:
”جی ہاں! یہ میرے والد اور چچا ہیں۔“
آپ نے فرمایا کہ:
”یہ تمہیں واپس گھر لے جانے کے لئے آئے ہیں، تم جانا چاہو تو بڑی خوشی سے ان کے ساتھ جاسکتے ہو۔“
ان کے والد اور چچا نے بھی یہی کہا کہ ”ہم تمہیں لے جانا چاہتے ہیں۔“
حضرت زیدؓ بن حارث نے کہا کہ:
”میں نے ان میں (حضور کی طرف اشارہ) ایسی خوبیاں دیکھی ہیں کہ جن کے بعد انہیں چھوڑ کر میں اپنے باپ اور چچا اور رشتہ داروں کے پاس جانا نہیں چاہتا۔“
یہ تھی آپ کے اخلاق کے بارے آپ کے خادم کی گواہی۔ ایک خادم احسان مند ہو سکتا ہے لیکن اتنا متاثر اور گرویدہ نہیں ہو سکتا کہ اپنے مخدوم پر ایمان لے آئے۔ ایمان لانے کے لئے ضروری ہے کہ اس میں کردار کی ایسی بلندی اور اخلاق کی ایسی پاکیزگی دیکھی ہو کہ جس کے بعد اسے یہ ماننے میں ذرا تامل نہ ہو کہ میرا مخدوم نبی ہے۔ یہ بات بھی پیش نظر رکھیے کہ حضرت زید بن حارث کسی معمولی قابلیت کے آدمی نہیں تھے۔ مدینہ طیبہ میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت قائم ہوئی تو انہیں بکثرت فوجی مہمات میں لشکر مجاہدین پر سالار بنایا گیا۔ یہ گواہی ایسی قابلیت کے انسان کی گواہی تھی۔
پھر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے جنہیں نبوت سے پہلے بیس سال تک ایک گہرے دوست کی حیثیت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے کا موقع ملا، ان کی نشست و برخاست آپ کے ساتھ تھی اور مکہ معظمہ میں سب سے زیادہ جن دو آدمیوں کی دوستی تھی ان میں سے ایک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور دوسرے حضرت ابوبکر صدیق۔ ایک دوست اپنے دوست کو پسند کر سکتا ہے، اس سے اپنے دل کی بات کہہ سکتا ہے، لیکن کبھی اتنا معتقد نہیں ہو سکتا کہ اس کو نبی مان لے۔ حضرت صدیق کا بلا تامل آپ کو نبی مان لینا ظاہر کرتا ہے کہ بیس سال کی اس طویل مدت کے دوران میں انہوں نے آپ کو اخلاق کی پاکیزگی اور کردار کی بلندی کا مجسم نمونہ پایا۔ جب ہی تو انہوں نے یہ تسلیم کیا اور اس بات کا اعلان کیا کہ اتنے بلند کردار کا آدمی یقیناً نبی ہو سکتا ہے اور اس کو نبی ہونا چاہئے۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا نام میں نے پہلے اس لئے نہیں لیا کہ اس وقت وہ دس سال کے تھے۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر ہی میں پرورش پائی تھی۔ لیکن دس سال کا بچہ بھی جس کے گھر میں ہو، جس کے پاس رہتا ہو، اس کے ہر پہلو سے اچھی طرح واقف ہوتا ہے۔ خصوصاً اتنا ذہین انسان جیسا کہ حضرت علیؓ اپنی خصوصیات کی بنا پر آگے چل کر ثابت ہوئے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بچپن میں بھی یقیناً اتنی ذہانت رکھتے تھے کہ جس کی بنیاد پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ ایک ذہین بچے کا اس بات کو مان لینا اس کے بغیر نہیں ہو سکتا تھا کہ وہ آپ کی شفقت، آپ کے انتہائی پاکیزہ اور بلند اخلاق و کردار سے واقف تھا۔
اس لئے ”عمل صالح“ کے سلسلہ میں ان اعلیٰ مثالوں سے معلوم ہوا کہ انسان جس چیز کو پیش کر رہا ہو اس کی زندگی ٹھیک ٹھیک اس دعوت کے مطابق بسر ہو رہی ہو۔ وہ اتنے پاکیزہ اخلاق اور بلند کردار کا مالک ہو کہ جب وہ اللہ کے راستے کی طرف بلانے کے لئے اٹھے تو اس کی بات میں وزن ہو اور اس کے قول میں اثر ہو۔ اس کا عمل شہادت دے اور لوگ تسلیم کریں کہ یہ واقعی اپنے قول میں سچا ہے۔ قطع نظر اس سے کہ لوگ اسی چیز کو مانیں یا نہ مانیں۔۔۔۔۔ لیکن یہ تو ان کو ماننا پڑے گا کہ یہ آدمی اپنے قول میں سچا ہے، جو کچھ کہہ رہا ہے وہ اس بناء پر کہہ رہا ہے کہ وہ اس نظریے، اس اصول اور اس دعوت کا قائل ہے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بدترین دشمن ابو جہل نے ایک مرتبہ خود کہا ”کہ اے محمد! ہم تم کو جھوٹا نہیں کہتے بلکہ اس پیغام کو جو تم لائے ہو جھوٹا کہتے ہیں ۔“ یعنی آپ کا بدترین دشمن بھی آپ کی صداقت کا قائل تھا۔ پس ایک داعی کی دوسری بڑی خصوصیت اس کے قول و عمل کی یہ صداقت ہے، یہ بلندی کردار ہے اور یہ پاکیزگی اخلاق ہے۔
تیسری خصوصیت یہ بیان فرمائی گئی: <<وَقَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ>> (یعنی وہ کہتا ہے کہ میں مسلمانوں میں سے ہوں)۔ اسے سمجھنے کے لئے مکہ معظمہ کا وہ ماحول پیش نظر رکھنا چاہئے جس کو میں شروع میں بیان کر چکا ہوں۔ یہ وہ دور تھا کہ جب کسی فرد کا اٹھ کر یہ اعلان کرنا کہ میں مسلمان ہوں، کوئی معمولی بات نہیں تھی، بلکہ درندوں کو اپنے اوپر حملہ آور ہونے کی دعوت دینا تھا۔ تو داعی حق کی یہ خصوصیت سامنے آتی ہے کہ وہ نہ صرف اللہ کی طرف دعوت دینے والا ہو، نہ صرف پاکیزہ عمل رکھنے والا ہو، بلکہ وہ بدترین دشمنوں اور انتہائی ناسازگار حالات میں بھی اپنے مسلمان ہونے سے انکار نہ کرے۔ اپنے مسلمان ہونے کو چھپائے نہیں۔ اپنے مسلمان ہونے کا اعلان اور اقرار کرنے میں وہ نہ شرمائے، نہ جھجکے اور نہ ڈرے۔ بلکہ کھلم کھلا یہ کہے کہ ”ہاں میں مسلمان ہوں۔ جو کچھ، جس کا جی چاہے کرلے‘‘ دوسرے الفاظ میں داعی حق کی تیسری بڑی اور اہم خصوصیت یہ ہونی چاہئے کہ وہ نہایت جری آدمی ہو، نہایت بہادر آدمی ہو۔۔۔۔۔۔ کسی بزدل آدمی کا کام نہیں ہے کہ وہ خدا کے راستے کی طرف دعوت دے۔ جو ذرا سی چوٹ لگنے پر بلبلے کی طرح بیٹھ جانے والا ہو۔ ایسا انسان کبھی خدا کے راستے کی طرف نہیں بلا سکتا۔ خدا کے راستے کی طرف دعوت جو شخص دے سکتا ہے وہ، وہ ہے جو سخت سے سخت دشمنی کے ماحول میں، مخالفت کے ماحول میں، خطرات کے ماحول میں اسلام کا علم لے کر اٹھ کھڑا ہو اور اس بات کی پروا نہ کرے کہ اس کے نتائج کیا ہوں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی ذات، اس شجاعت کا ایک مکمل اور عملی نمونہ تھی۔ مکہ معظمہ میں کھلم کھلا آپؐ نے دعوت اسلام پیش کی، شہادت حق کا فریضہ انجام دیا اور ان لوگوں کے درمیان یہ کام جاری رکھا جو آپ کے خون کے پیاسے ہو گئے تھے اور جنہوں نے آپؐ کو اور آپؐ کے صحابہؓ کو ظلم و تشدد کا نشانہ بنانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی تھی۔ آپؐ مسلسل تیرہ سال تک اس ماحول کی تمام تر تاریکیوں، سختیوں اور مصیبتوں کے درمیان اپنی دعوت پیش کرتے چلے گئے۔ پھر مدینہ طیبہ پہنچنے کے بعد جو حالات پیش آئے جن خطرناک اور بڑی بڑی لڑائیوں سے سابقہ پیش آیا ان میں بھی آپؐ کا قدم کبھی پیچھے نہیں ہٹا۔ غزوۂ حنین کے موقع پر جب کہ مسلمانوں کو تقریباً شکست ہو چکی تھی، رسول اللہ نہ صرف اپنے مقام پر موجود رہے بلکہ میدان جنگ میں برابر آگے، دشمن کی صفوں کی طرف بڑھتے چلے گئے اور اس بات کو چھپایا بھی نہیں کہ ”میں کون ہوں؟“ آپؐ فرما رہے تھے۔
<<أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبْ>>
<<أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ>>
”میں نبی ہوں، جھوٹا نہیں ہوں ۔۔۔۔ میں ابن عبدالمطلب ہوں۔“ یہ اعلان آپؐ اس جنگ میں ایسے حالات کے دوران میں کر رہے تھے، جب آپؐ دشمنوں کے نرغے میں تھے اور ساتھ صرف دو تین ساتھی رہ گئے تھے۔ اس وقت بھی یہ کہا کہ ”ہاں! میں نبی ہوں“ اس سے ظاہر ہوا کہ ایک داعی حق کو اتنا شجاع اور اتنا بہادر ہونا چاہئے جو اللہ کی راہ کی دعوت دینے کے لئے کھڑا ہو۔ اگر داعی میں ہمت، شجاعت، استقامت اور بہادری کا جوہر نہ ہو تو وہ اس راہ میں کھڑا ہو نہیں سکتا، اور اگر کھڑا ہو بھی جائے تو اپنی بزدلی کی وجہ سے الٹا اس مشن کو نقصان پہنچانے کا سبب بن جاتا ہے۔
یہ وہ چند باتیں تھیں جو میں نے آپ کے سامنے بیان کی ہیں۔ اگر ان پر غور کیا جائے تو یہ بجائے خود دعوت الی اللہ کا مکمل پروگرام ہے جس کے مطابق ہر جگہ، ہر ماحول میں کام لیا جا سکتا ہے۔
<<وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ>>