مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

تصریحات

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

کتاب "تصریحات" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی ایک جامع تحریری و تقریری رہنمائی پر مشتمل ہے جو خاص طور پر نوجوان طلبہ و طالبات کے بنیادی سوالات، شکوک اور عصری مسائل کے تناظر میں مرتب کی گئی ہے۔ اس کتاب کا بنیادی مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ اسلام صرف ایک مذہبی عقیدہ یا روحانی نظام نہیں بلکہ انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں—فردی، سماجی، سیاسی، اقتصادی اور تعلیمی—کا ایک مکمل اور جامع نظامِ حیات ہے۔ مولانا مودودی نے اس کتاب کے ذریعے نہ صرف باطل مگر غالب نظریات—جیسے لادینیت، سرمایہ داری، اشتراکیت، قومیت پرستی، فرقہ واریت اور مغربی تہذیب—کا مقابلہ کیا ہے بلکہ ایک ایسی نسل کی تربیت کا منصوبہ بھی پیش کیا ہے جو علم، ایمان اور عمل کے توازن پر استوار ہو کر اسلامی انقلاب کی قیادت کر سکے۔

کتاب کا آغاز تاریخی اور عالمی تناظر سے ہوتا ہے، جہاں مرتب بیسویں صدی کے سیاسی و فکری حالات—مغربی استعمار کا زوال، امریکی سامراج کا عروج، فسطائیت و اشتراکیت کی عروج و زوال، اور خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد مسلم دنیا کی اندرونی کمزوریوں—کا جائزہ لیتا ہے۔ اس تناظر میں وہ یہ واضح کرتا ہے کہ موجودہ دور میں اسلامیت اور لادینیت کے درمیان جو کشمکش چل رہی ہے، اس کی صحیح سمجھ کے لیے تاریخی ارتقاء اور مختلف ادوار کے رویوں کو ٹھیک ٹھیک سمجھنا ضروری ہے۔

کتاب کا بیشتر حصہ اسلامی جمعیت طلبہ و طالبات کے ساتھ 1950ء سے 1979ء تک، یعنی قریب تین دہائیوں پر محیط، مختلف نشستوں، تربیتی کیمپوں، اجتماعات اور انٹرویوز کی صورت میں ہونے والے سوال و جواب پر مشتمل ہے، جن میں پاکستان، ہندوستان، برطانیہ، امریکہ اور سعودی عرب کی طلبہ تنظیموں کے ساتھ ملاقاتیں شامل ہیں۔ ان نشستوں میں تعلیم، تحریکِ اسلامی کے طریقِ کار، جماعتِ اسلامی سے وابستگی، اور نوجوانوں کو درپیش فکری چیلنجز جیسے موضوعات بار بار زیرِ بحث آتے ہیں۔

کتاب کے وسط میں ایک الگ باب 'ادب میں اخلاقی اقدار' شامل ہے جو شعر، افسانہ، صحافت، خطابت اور ترجمے جیسی اصنافِ ادب کا جائزہ لے کر جائز و ناجائز ادب کے اسلامی معیار کی نشان دہی کرتا ہے۔ چونکہ کتاب کا بیشتر مواد وقتاً فوقتاً مختلف مواقع پر ہونے والی گفتگو پر مبنی ہے، اس لیے اس کا امتیاز کسی واحد مسلسل بحث میں نہیں بلکہ نوجوان نسل کی تربیت کے لیے مولانا کے دیرینہ، تسلسل بھرے تعلقِ خاطر میں مضمر ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

'Student's Voice' 'کراچی' کے لئے ایک انٹرویو _______ ۷ نومبر ۱۹۵۷ء

سوال: بین الاقوامی سیاسی مسائل پر گفتگو کرنے سے پہلے کیا آپ یہ بتانا پسند فرمائیں گے کہ آپ کو سب سے زیادہ کس کتاب نے متاثر کیا؟

مولانا مودودی: میں نے بے شمار کتابوں کا مطالعہ کیا ہے۔ ہر قسم اور موضوع کی کتابیں، لیکن جس کتاب نے فی الواقع مجھے متاثر کیا وہ قرآن ہے۔ اور صرف قرآن۔

سوال: لیکن یہ تو اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب ہے میں گوشت پوست کے انسانوں کی لکھی ہوئی کتابوں کے بارے میں جاننا چاہتا ہوں؟

مولانا مودودی: تو میں کہوں گا کہ اگر چہ میں نے لا تعداد کتابوں سے استفادہ کیا ہے تا ہم کوئی ایسی کتاب نہیں ہے جس کے بارے میں یہ کہہ سکوں کہ اس نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔

سوال: کیا آپ کا خیال ہے کہ تیسری جنگ ہمارے دروازوں پر دستک دے رہی ہے یا آپ اس رائے سے اتفاق کرتے ہیں کہ جدید ایٹمی ہتھیاروں نے اب جنگ کو ناممکن بنا دیا ہے؟

مولانا مودودی: ہمیں ایک متناقض صورتِ حال درپیش ہے۔ جنگ ناممکن ہوتی جا رہی ہے۔ اس کا سبب وہ نئی تکنیک اور ایک دوسرے کا خوف ہے جس سے فضا معمور ہے۔ دونوں طاقتیں ایک دوسرے سے خوفزدہ ہیں اور چونکہ ان کی اصل قوت کے بارے میں ٹھیک ٹھیک کچھ پتہ نہیں۔ اس لئے فوری جنگ بھڑک اٹھنے کا خطرہ بھی نظر نہیں آتا۔ یہ مسلح امن کی حالت ہے، لیکن یہی حالت جنگ سے دو چار کر سکتی ہے۔ اسی خوف کی وجہ سے ہر ملک اپنے آپ کو اسلحہ سے اندھا دھند لیس کر رہا ہے اور جنگ کی تیاریاں زوروں پر ہیں۔ اور جب جنگ کی تیاری ہو رہی ہو تو کسی بھی چھوٹے سے حادثے پر جنگ چھڑ سکتی ہے۔ اگر فریقین طاقت ور ہوں تو جنگ کسی بین الاقوامی شوشے سے نہیں چھڑتی بلکہ اکثر غیر ارادی یا پہلے سے سوچے سمجھے ہوئے واقعے کا نتیجہ ہوتی ہے۔

سوال: لیکن مولانا، کیا دوسری عالمی جنگ کی تاریخ آپ کے اس نظریے کو تقویت پہنچاتی ہے؟ کیا حقیقت نہیں کہ جرمنی نے پولینڈ پر ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت حملہ کیا تھا؟ اور یہی جنگ کا سبب بن گیا؟

مولانا مودودیؒ: جی ہاں _______ میرا مطالعہ کہتا ہے کہ جرمنی ان علاقوں کو محض دھمکی سے اپنے ساتھ ملانا چاہتا تھا۔ اس حکمت عملی کی بدولت اُس نے کئی چھوٹے ملکوں پر قبضہ کر لیا۔ اُس نے ہنگری کو بھی انہی چالوں سے ہڑپ کیا۔ پھر اُس نے سوچا پولینڈ پر بھی اسی طرح قبضہ کیا جا سکتا ہے، لیکن یہاں اُس کا اندازہ غلط نکلا اور انگلستان نے عام جنگ کا اعلان کر دیا۔ جب جرمنی پولینڈ پر حملہ کرنے چلا تھا تو اس کا یہ خیال نہ تھا کہ دوسری جنگ شروع کر رہا ہے، لیکن عملاً ہو ا یہی ________ اور یہی میں کہنا چاہتا ہوں۔

سوال: آپ کے خیال میں کون سا ملک اگلی جنگ کا میدان بنے گا؟

مولانا مودودیؒ: سائنسی تکنیک ہمیں ایسے مقام پر لے آئی ہے کہ پوری دنیا یا کم سے کم اس کا ایک چوتھائی حصہ جنگ کا میدان بن سکتا ہے، لیکن میرے خیال میں پہلی گولی غالباً جرمنی کی بدنصیب سر زمین میں چلے گی، پھر جنگ بڑی تیزی کے ساتھ دوسرے ملکوں میں پھیل سکتی ہے اور مجھے ڈر ہے کہ شرق اوسط کے خطے میں سب سے زیادہ تباہی آئے گی۔ اگلی جنگ کئی محاذوں پر لڑی جائے گی۔ مغربی یورپ، شرق اوسط اور مشرق بعید جنگ کے تین اہم میدان ہوں گے۔

سوال: آپ شرق اوسط کو اتنی زیادہ اہمیت کیوں دے رہے ہیں؟

مولانا مودودی: میرا احساس ہے کہ اگلی جنگ میں امریکہ شرقِ اوسط کے اڈوں سے سوویت یونین کے مرکزی علاقوں پر حملہ کرے گا۔ اس حملے کے ممکنہ اڈے ترکی و ایران میں ہو سکتے ہیں۔ امریکہ روسی شرق بعید اور یورپی روس کے تعلقات کو بھی تباہ کر سکتا ہے اور یہ بھی خاصا امکان ہے کہ اس سے پہلے کہ یہ مقامات جارحیت کا محاذ بنیں، روس امریکی منصوبے کو ناکام کرنے کے لئے ان پر حملہ کر دے۔ بہر حال شرقِ اوسط پر جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں۔

سوال: حالیہ سر براہی کانفرنس کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ کیا یہ امن کے سلسلے میں کوئی حقیقی کام کر سکے گی؟

مولانا مودودی: میرے خیال میں یہ تباہی کی طرف لے جا رہی ہے۔ یہ تہذیب موت کے ہولناک رقص میں مصروف ہے۔ یہ تباہ ہو کر رہے گی۔ لیکن اس کے بعد کیا ہو گا۔ اس کے متعلق پیشین گوئی کرنا مشکل ہے۔ ممکن ہے اس کی راکھ سے نئی تہذیب اُٹھ کھڑی ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ یورپ پھر Dark-ages میں جا پڑے ایک لمبے عرصے کے لئے۔

سوال: کیا نئی تہذیب یورپی افق سے نمودار ہوگی؟

مولانا مودودی: تاریخ بڑی ہی یقینی مثال ظاہر کرتی ہے۔ قدرت کا ایک متعین قانون ہے سنت اللہ۔ یہ سنت اللہ بتاتی ہے کہ خدا قوموں کو موقع دیتا ہے، لیکن جب وہ اس موقع سے غلط کام لیتی ہیں اور خدا کی زمین کو بُرائی اور مکر کی سر زمین بنا دیتی ہیں۔ جب ظلم و ستم، جرم اور انکارِ خداوندی کا چلن عام ہو جاتا ہے اور جب بُرائی کو رد کرنے کے مواقع ختم ہو جاتے ہیں تو انھیں سزا دینے کے لئے عذاب کا کوڑا برس پڑتا ہے، اُن کی تہذیب خاک میں ملا دی جاتی ہے اور پھر اسے کوئی مہلت نہیں دی جاتی۔

سوال: کیا یورپ کے لئے ممکن نہیں کہ وہ مذہب کو اپنا لے اور اُسے زندگی کی نئی بنیاد بنا لے؟

مولانا مودودی: کیوں نہیں، لیکن اس کے امکانات بہت کم نظر آتے ہیں۔ مغرب زوال آنے سے پہلے اپنے طور اطوار ٹھیک کر سکتا ہے لیکن یہ ایک موہوم امید ہے۔ مادی خوشحالی اور تعیش کی زندگی نے اُسے ایسا اندھا کر دیا ہے کہ مذہبی احیاء کی توقع مشکل ہی سے کی جا سکتی ہے۔