تصریحات
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
کتاب "تصریحات" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی ایک جامع تحریری و تقریری رہنمائی پر مشتمل ہے جو خاص طور پر نوجوان طلبہ و طالبات کے بنیادی سوالات، شکوک اور عصری مسائل کے تناظر میں مرتب کی گئی ہے۔ اس کتاب کا بنیادی مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ اسلام صرف ایک مذہبی عقیدہ یا روحانی نظام نہیں بلکہ انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں—فردی، سماجی، سیاسی، اقتصادی اور تعلیمی—کا ایک مکمل اور جامع نظامِ حیات ہے۔ مولانا مودودی نے اس کتاب کے ذریعے نہ صرف باطل مگر غالب نظریات—جیسے لادینیت، سرمایہ داری، اشتراکیت، قومیت پرستی، فرقہ واریت اور مغربی تہذیب—کا مقابلہ کیا ہے بلکہ ایک ایسی نسل کی تربیت کا منصوبہ بھی پیش کیا ہے جو علم، ایمان اور عمل کے توازن پر استوار ہو کر اسلامی انقلاب کی قیادت کر سکے۔
کتاب کا آغاز تاریخی اور عالمی تناظر سے ہوتا ہے، جہاں مرتب بیسویں صدی کے سیاسی و فکری حالات—مغربی استعمار کا زوال، امریکی سامراج کا عروج، فسطائیت و اشتراکیت کی عروج و زوال، اور خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد مسلم دنیا کی اندرونی کمزوریوں—کا جائزہ لیتا ہے۔ اس تناظر میں وہ یہ واضح کرتا ہے کہ موجودہ دور میں اسلامیت اور لادینیت کے درمیان جو کشمکش چل رہی ہے، اس کی صحیح سمجھ کے لیے تاریخی ارتقاء اور مختلف ادوار کے رویوں کو ٹھیک ٹھیک سمجھنا ضروری ہے۔
کتاب کا بیشتر حصہ اسلامی جمعیت طلبہ و طالبات کے ساتھ 1950ء سے 1979ء تک، یعنی قریب تین دہائیوں پر محیط، مختلف نشستوں، تربیتی کیمپوں، اجتماعات اور انٹرویوز کی صورت میں ہونے والے سوال و جواب پر مشتمل ہے، جن میں پاکستان، ہندوستان، برطانیہ، امریکہ اور سعودی عرب کی طلبہ تنظیموں کے ساتھ ملاقاتیں شامل ہیں۔ ان نشستوں میں تعلیم، تحریکِ اسلامی کے طریقِ کار، جماعتِ اسلامی سے وابستگی، اور نوجوانوں کو درپیش فکری چیلنجز جیسے موضوعات بار بار زیرِ بحث آتے ہیں۔
کتاب کے وسط میں ایک الگ باب 'ادب میں اخلاقی اقدار' شامل ہے جو شعر، افسانہ، صحافت، خطابت اور ترجمے جیسی اصنافِ ادب کا جائزہ لے کر جائز و ناجائز ادب کے اسلامی معیار کی نشان دہی کرتا ہے۔ چونکہ کتاب کا بیشتر مواد وقتاً فوقتاً مختلف مواقع پر ہونے والی گفتگو پر مبنی ہے، اس لیے اس کا امتیاز کسی واحد مسلسل بحث میں نہیں بلکہ نوجوان نسل کی تربیت کے لیے مولانا کے دیرینہ، تسلسل بھرے تعلقِ خاطر میں مضمر ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
اسلامی جمعیت طلبہ، صوبہ پنجاب کے ارکان و منتخب کارکنان کا چھ روزہ تربیتی کیمپ (جامع مسجد، نیو کیمپس پنجاب یونیورسٹی) میں منعقد ہوا۔ اجتماع کے آخری روز کارکنان ملاقات کے لئے سید مودودیؒ کے ہاں گئے۔۔۔۔۔ ۱۳ جولائی ۱۹۷۶ء
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
<<الْحَمْدُ لِلَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ وَالصَّلوٰةُ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ أَجْمَعِينَ>>
عزیزو! میرے لئے بڑی خوشی کی بات ہے کہ آپ لوگ اپنی اور اپنے ساتھیوں کی تربیت کے لئے وقتاً فوقتاً تربیت گاہوں کا اہتمام کرتے رہتے ہیں، اور ان میں پوری کوشش کرتے ہیں کہ شریک ہونے والوں کے اندر اسلامی روح پیدا کی جائے اور اسلام سے واقفیت کا زیادہ سے زیادہ انتظام کیا جائے۔ میں نے آپ کی اس تربیت گاہ کا پروگرام دیکھا ہے اور مجھے بڑا اطمینان ہوا ہے کہ بہت سوچ سمجھ کر صحیح پروگرام بنایا گیا ہے۔ مجھ سے یہ چاہا گیا تھا کہ آخری روز میں آپ کے سامنے تقریر کروں، مگر میں نے اس کو زیادہ پسند کیا کہ جو اہم سوالات آپ لوگوں کے ذہن میں ہیں وہ آپ بتائیں تاکہ میں ان پر کچھ روشنی ڈال سکوں۔ بعض اوقات تقریر کرنے والے کو کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ سننے والوں کے لئے اصل اہمیت کن سوالات کی ہے۔ جب آپ اپنے سوالات بتاتے ہیں۔ تب آپ کی اصل ضرورت کا علم ہوتا ہے۔ بہر حال آپ کے ہر ایک سوال کا جواب ان شاء اللہ تفصیل کے ساتھ دوں گا۔
سوال: ............ ”ہمارا احساس ہے کہ تنظیم کو جب تک محدود حلقے کی حمایت حاصل ہوتی ہے اس وقت تک تو مقصد کا شعور اور اس کے لئے کام کی تڑپ زیادہ ہوتی ہے، لیکن جوں جوں دعوت کا دائرہ پھیلتا جاتا ہے، کمزوریاں اور خامیاں بھی زیادہ پیدا ہوتی ہیں اور نتیجہ رفتار کار میں کمی آ جاتی ہے۔ اس صورت حال کا کیا علاج ہے؟
جواب: اصل بات یہ ہے کہ کوئی تحریک بھی جب شروع ہوتی ہے تو وہ مخلص ترین لوگوں کے ذریعے شروع ہوتی ہے، وہ ایسے لوگوں کے ہاتھوں سے شروع ہوتی ہے جو ماحول کے اندر اصلاح کا بہت گہرا جذبہ رکھتے ہیں اور جن میں اس کی ہمت ہوتی ہے کہ موجودہ خرابیوں کے مقابلے میں اٹھ سکیں۔ اس طرح کے لوگ جب کسی تحریک کو لے کر چلتے ہیں اس وقت فی الواقع یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک جاندار، مستحکم اور مضبوط طاقت فراہم ہو گئی ہے لیکن جب اس تحریک کو رفتہ رفتہ کامیابی حاصل ہوتی جاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔ کامیابی اس معنیٰ میں کہ لوگوں کی توجہ اس طرف زیادہ ہوتی ہے، اس کی طرف لوگوں کا رجوع بڑھتا ہے اور اس کے حامیوں کی تعداد بڑھتی ہے تو اس مرحلے پر ایک مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے۔
اس مسئلے کو آپ یوں سمجھیں کہ تحریکوں میں ایک چیز ہوتی ہے۔ Extension اور دوسری چیز Consolidation اگر ان دونوں چیزوں کے درمیان توازن باقی نہ رہے تو نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ توسیع زیادہ تیز رفتار سے ہوتی جاتی ہے جبکہ اسے مستحکم بنانے کے کام میں کمی آتی جاتی ہے۔ اس معاملے میں یہ اچھی طرح سمجھ لیجئے کہ یہ ایک فطری بات ہے، جتنا آپ کا کام بڑھے گا آپ کی استحمامی قوت کی نسبت توسیع کا کام زیادہ ہوگا۔ مثال کے طور پر آپ دیکھئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ابتدائی تیرہ سال میں چند سو آدمی آپ کے ساتھ آئے۔ اس کے بعد چار پانچ سال کی مدت میں زیادہ سے زیادہ چند ہزار آدمی دائرہ اسلام میں داخل ہوئے، لیکن جس وقت مکہ فتح ہوا اور حنین میں کفر و شرک کی زبردست قوت کو شکست دے دی گئی تو جیسا کہ قرآن مجید میں آتا ہے <<يَدْخُلُوْنَ فِيْ دِيْنِ اللهِ اَفْوَاجًا>> لوگ فوج در فوج آ کر اللہ کے دین میں داخل ہوتے چلے گئے۔ اب یہ لوگ جو فوج در فوج آئے تھے تو سارے کے ۔۔۔۔۔۔ سارے دین کو اس طرح پوری طرح سمجھ کر اور دینی اخلاق کو اچھی طرح جذب کر کے
نہیں آئے تھے۔ جس طرح ان سے پہلے کے لوگ آئے تھے بلکہ ایک ابھرتی ہوئی طاقت کے تحت دیکھتے ہی دیکھتے جو اتنی عظیم الشان کامیابی ہوئی تھی اس سے سارا عرب متاثر ہو گیا تھا کہ اب اس طاقت کے مقابلے میں ہمارا ٹھہرنا ممکن نہیں ہے اور اب سوائے اس کے کوئی چارہ نہیں کہ ہم اپنے آپ کو اس کے سپرد کر دیں۔۔۔۔۔ تو ایک بڑی کثیر تعداد ان میں ایسی تھی جو دین کو پوری طرح سمجھ کر نہیں آئی تھی اور نہ دینی اخلاق کو اپنے اندر جذب کر سکی تھی۔ دین کی روح ان کے اندر اچھی طرح پیدا نہیں ہو سکی تھی۔ اس کا نتیجہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد یک لخت ارتداد کا دور شروع ہو گیا ..... اب دیکھئے کہ وہ کیا چیز تھی جس نے اس ارتداد کے طوفان کو پھیر دیا اور عرب کو پھر اسلام پر مضبوطی کے ساتھ جما دیا۔ وہ یہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو Nucleus چھوڑ گئے تھے وہ اتنا زبردست تھا کہ اس نے اتنے بڑے ارتداد کو کچل کے رکھ دیا۔ اس سے آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اگر Extension (توسیع) زیادہ بڑے پیمانے پر ہو جائے تو گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ Consolidation (استحکام) اگر پوری طرح سے نہ ہو سکے تو اس سے بھی گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ اصل چیز یہ ہے کہ تحریک کا نیوکلیس اتنا مضبوط ہو کہ وہ اپنے گرد ایک بڑا ہالہ جمع کرلے اور یہ ہالہ ہمیشہ اس کے ساتھ رہے اور اگر وہ اس سے بٹے تو وہ نیوکلیس اور طاقتوں کو کھینچ کر اپنے ساتھ ملا لے۔ آپ اس نیوکلیس کو مضبوط بنانے کی فکر کرتے رہیں۔ یہ آپ کی جو تنظیمی کوششیں ہیں جو تربیت گا ہیں آپ منعقد کر رہے ہیں، یہ سب نیوکلیس کو مضبوط بنانے والی چیزیں ہیں۔ ان تربیت گاہوں کو جاری رکھیں اور کوشش کریں کہ نئے آنے والے لوگ دین کو سمجھیں اور ان کے اندر اتنا عزم پیدا ہو جائے کہ جس چیز کو وہ حق سمجھتے ہیں اسے سر بلند کرنے کے لئے آگے بڑھیں۔ نیوکلیس کو آپ جتنا مضبوط کریں گے اتنی ہی آپ کے لئے Extension سے پیدا ہونے والی پیچیدگی کم ہوگی۔ توسیع کتنی بھی ہوتی چلی جائے گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ توسیع کو روکنے کی بھی ضرورت نہیں۔ توسیع ہونے دیجئے، لیکن یہ کلمیں مضبوط بناتے چلے جائیے۔ یہ چیز انشاء اللہ آپ کو اس پریشانی سے نکال دے گی کہ رفتار کارست ہوتی جا رہی ہے یا کمزوریاں پیدا ہو رہی ہیں۔ آپ کی تربیت گاہیں جتنی اعلیٰ پیمانے پر ہوں گی جتنے اچھے آدمی تربیت دینے والے ہوں گے اتنا ہی زیادہ آپ کے لئے مفید ہو گا اور اللہ نے چاہا تو آپ یہ محسوس نہیں کریں گے کہ توسیع کی وجہ سے کمزوری پیدا ہو رہی ہے۔ بلکہ آپ کو احساس ہو گا کہ توسیع کی وجہ سے آپ کی طاقت میں اضافہ ہو رہا ہے۔
سوال: دوسرا سوال یہ ہے کہ ”نوجوان نسل میں ذہنی و فکری انقلاب برپا کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی زندگی سے نفاق کے خاتمے اور عملی انقلاب پیدا کرنے کے ذرائع کیا ہیں؟“
جواب: یہ ایک بڑا نازک سوال ہے اور اس سوال کی ایک بڑی گہری تاریخ ہے۔ ’ دور تک اس تاریخ کا سلسلہ چلا گیا ہے۔ ایک مدت دراز سے مسلمانوں کا یہ حال رہا ہے کہ وہ ایمان اور عمل کے تعلق کو ایک دوسرے سے منقطع کرتے رہے ہیں۔ عام طور پر لوگوں کا خیال یہ تھا کہ ایک آدمی ایمان رکھتا ہے، لیکن نماز نہیں پڑھتا تو کیا حرج ہے؟ اور اگر ایمان رکھتا ہے، روزہ نہیں رکھتا تو کیا ہوا؟ پھر آگے چل کر یہ حالت بھی آگئی کہ ایمان تو دل میں ہے ہی، پھر شراب پی لیں تو کیا حرج ہے؟ ...... اس طرح ماننے کی حد تک تو اسلام کو مانتے رہے، لیکن ماننے کے بعد ہر کام کرنے کے لئے اپنے آپ کو آزاد سمجھتے رہے، حتی کہ رشوت کو خدا کا فضل کہنے لگے۔ شادی وغیرہ کے سلسلے میں پوچھا جاتا کہ لڑکے کی تنخواہ کیا ہے؟ جواب ملتا اڑھائی سو روپے، پوچھتے ”اللہ کا فضل کتنا ہوتا ہے؟“ ..... تو اس طرح ہمارے ہاں ایک مدت دراز سے یہ تخیل پیدا ہونا شروع ہو گیا کہ مان لینا کافی ہے۔ اللہ کو مان لیا، رسول کو مان لیا۔ قرآن کو نہ صرف مانا بلکہ سر پر عزت کے ساتھ رکھا اور پھر گھر میں سب سے اونچی جگہ پر رکھ دیا۔ اس کے بعد جب کبھی ضرورت پیش آتی تو مرنے کے وقت ”یسین“ پڑھ کر سنا دی۔ مر گیا تو ”ختم“ کرا دیا۔ اس نوعیت کے چند کام کر کے باقی تمام معاملات میں اپنے آپ کو آزاد سمجھتے تھے۔ یہ Traditions رہی ہیں، جنہوں نے ہمارے ہاں قول اور عمل کے تضاد کو جنم دیا ہے۔
اب آپ کا سابقہ اس صورت حال سے ہے۔ اس لئے اس کا مقابلہ آپ کو بڑے صبر کے ساتھ کرنا ہوگا اور اس کی صورت یہ ہے کہ پڑھ لکھے کے اور سوچ سمجھ کر جو لوگ آپ کی اس دعوت میں شریک ہوں، اس کو میں نیوکلیئس کہتا ہوں، پہلے تو وہ انتہائی کوشش کریں کہ ان کی اپنی زندگی میں نفاق باقی نہ رہے۔ پوری طرح سے جائزہ لے کر دیکھیں کہ نفاق کہاں ہماری زندگی میں پایا جاتا ہے اور کس جگہ ہمارا فعل ہمارے قول کے خلاف ہے وہ پہلے اس تضاد کو ختم کریں۔ اس لئے کہ اگر خود آپ کی زندگی میں تضاد موجود ہو۔ آپ کا اپنا قول و فعل ایک دوسرے کے مطابق نہ ہو تو دوسرے لوگ آپ سے متاثر نہیں ہوں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اثر سب سے زیادہ جس چیز کی وجہ سے لوگوں پر ہوا تھا وہ یہ تھا کہ وہ دیکھتے تھے کہ جو قول ہے وہی عمل ہے۔ اس چیز نے دل جیت لئے۔ ہمیں اپنے سامنے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوۂ حسنہ ہی رکھنا ہے۔
آپ سب سے پہلے اپنے اندر وہی کریکٹر پیدا کرنے کی کوشش کریں جو کریکٹر اس کام کے لئے مقصود ہے۔ آپ ہر تضاد کو اپنے اندر سے نکال باہر کریں۔ پھر جب آپ لوگوں کو توجہ دلائیں گے کہ بھائی، مسلمان ہونے کے تقاضے یہ ہیں، آئیے! ہم ان چیزوں کو دور کریں جو ان تقاضوں کے خلاف ہیں۔ آپ ان کو بتائیے کہ ساری دنیا اس بات کو؛ مانتی ہے کہ Hypocrisy بدترین جرم ہے، دنیا کے تمام اخلاقیات نے اس جرم کو تسلیم کیا ہے۔ نفاق سے بڑھ کر کوئی ذلت کی بات ہو بھی نہیں سکتی، پھر آپ اپنے اندر نفاق کو کیوں پرورش کر رہے ہیں۔۔۔۔۔ آپ علانیہ یہ بات لوگوں کو سمجھائیے لیکن اس طرح سے نہیں کہ کسی کا دل دکھے، یا کسی کو محسوس ہو کہ آپ اس کو ذلیل کر رہے ہیں بلکہ اس طرح سے کہ اس کو محسوس ہو کہ آپ اس کے خیر خواہ ہیں۔ اس کی زندگی میں تضاد دیکھ کر آپ کا دل دکھتا ہے۔ اس لئے آپ محض اس کی بھلائی کی خاطر اور اسے برائی سے روکنے کی خاطر سمجھا رہے ہیں۔ آپ یہ کام فرداً فرداً کیجئے۔ ایک ایک فرد سے مل کر اسے سمجھائیے، بالکل اس انداز میں، جیسے نجی گفتگو ہوتی ہے۔ اجتماعی طور پر اگر آپ کھڑے ہو کر نفاق کی برائیاں بیان کریں گے تو لوگ یہ محسوس کریں گے کہ دیکھئے، یہ بات تو کر رہے ہیں عام الفاظ میں، لیکن جو نیتیں ہم پر کر رہے ہیں …… اس سے بجائے فائدہ ہونے کے فتنہ پیدا ہوگا۔ اس لئے ایک ایک فرد کو چاہئے کہ وہ ایک ایک دوست کو، ایک ایک ہم مکتب کو، ایک ایک ہم جماعت کو اور ایک ایک ساتھی کو یہ بات سمجھاتا جائے۔ اس کے ذہن میں اس بات کو واضح کرے کہ منافقت کتنی بری چیز ہے۔ یہ بات جب ذہن نشین ہو گی تو انشاء اللہ کچھ نہ کچھ لوگوں کی اصلاح ضرور ہو گی۔ یہ ضروری نہیں کہ آپ جتنے لوگوں کو سمجھائیں وہ سارے کے سارے مان لیں، لیکن یقین ہے کہ اگر یہ کام جاری رکھا جائے اور انفرادی طور پر نصیحت اور خیر خواہی کے انداز میں کیا جائے تو ذہن اس کو قبول کرتے چلے جائیں گے۔ کیونکہ منافقت میں مبتلا رہنا کسی کے لئے بھی کوئی پسندیدہ چیز نہیں ہو سکتی۔ جس وقت بھی آپ کسی کے اندر یہ احساس پیدا کریں گے کہ وہ اخلاقی حیثیت سے کہاں کھڑا ہے، اور کہیں وہ منافقت کا طرزِ عمل اختیار کر کے خدا اور رسول سے بے وفائی کا ارتکاب تو نہیں کر رہا ہے تو اس میں خود بخود اصلاح کے لئے ایک طلب پیدا ہونی شروع ہو جائے گی۔
سوال: تیسرا سوال یہ ہے کہ ”مغربی تہذیب کے بڑھتے ہوئے اثرات، جس کے عملی مظاہر بے حیائی، فحاشی اور عریانی کی صورت میں ہمارے معاشرے کو گھیرے ہوئے ہیں، ان سے بچنے اور خاص طور پر نوجوانوں کو بچانے کے لئے ہم کیا اقدامات کر سکتے ہیں؟“
جواب: دراصل جب گندے پانی کا ایک سیلاب چڑھ آ رہا ہو اور ایک پوری کی پوری قوم کو بہائے لئے چلا جا رہا ہو تو اس کے اندر بھی آپ تلاش کریں گے تو ایسے لوگ بہت سے مل جائیں گے جو پاکیزگی چاہتے ہوں۔ گے۔ وہ اس عفونت سے، اس تعفن سے اور اس گندگی سے جس کے اندر وہ پڑے بہہ رہے ہیں، متنفر ہیں مگر اس سے نکل بھی نہیں سکتے کہ سیلاب کی لپیٹ میں ہیں، جو انہیں بہائے چلا جا رہا ہے۔ لیکن اس معاملے کا ایک پہلو اور بھی ہے۔ وہ یہ کہ اس طرح کی برائی میں ایک لذت بھی ہوتی ہے۔ اس گندگی میں ایک چیز ہوتی ہے جس کو نفس چاہتا ہے کہ وہ ملے۔ وہ خود محسوس کرتا ہے کہ یہ گندی چیز مگر لذیذ ہے۔ تو اس طرح کی گندگی جب پھیل رہی ہو جو لوگوں کو لذیذ محسوس ہوتی ہو (باوجود اس کے کہ وہ اس کو گندگی سمجھتے ہوں) تو اس حالت میں ایک آدھ مرتبہ عریانی اور فحاشی کے خلاف ایک ہفتے کا پروگرام منانے سے کام نہیں بنتا۔ اس حالت میں مسلسل کام کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ چند روز کے کرنے کی بات نہیں ہے۔ سالہا سال سے ایک برائی ہمارے ہاں پھیلتی رہی ہے۔ پچھلی صدی کے وسط تک حالت یہ تھی کہ بڑے بڑے رؤسا اپنے بیٹوں کو رنڈیوں کے گھروں میں بٹھاتے تھے کہ وہاں وہ ”تہذیب“ اور ” آداب“ سیکھیں۔ ذرا غور کیجئے کہ شرفاء، معززین اور رؤسا اپنے بیٹوں کو رنڈیوں سے تہذیب سیکھنے کے لئے بھیجتے تھے۔ اسی زمانے سے یہ گندگی چلی آرہی ہے۔ پھر انگریزوں کے زمانے میں یہ برابر بڑھتی چلی گئی۔ پھر ہمارے حکمرانوں کے مختلف دور آئے۔ ان میں بھی اس کے اندر اضافہ ہوتا چلا گیا۔ پہلے ریڈیو آیا اس نے گندگی پھیلائی۔ اس کے بعد ٹرانزسٹر آیا تو وہ اس سب کچھ کو ایک ایک گاؤں تک لے گیا۔ اسی طرح ٹیلی ویژن آیا اس نے اور زیادہ لوگوں کو گمراہی میں اتار دیا اور اب مسلسل انہیں دلدل میں اتار رہا ہے۔۔۔۔ یہ وہ بلائے عام ہے جس میں لوگ مبتلا ہیں اور آپ کا کام اس بلائے عام کو روکنا ہے۔
حقیقت میں یہ بلائے عام اس وقت تک نہیں رکے گی جب تک کہ اقتدار صحیح ہاتھوں میں اور اسلام کے مخلص ماننے والوں کے ہاتھ میں نہیں آئے گا۔ جب تک زمام کار غلط ہاتھوں میں رہے گی اس وقت تک یہ سیلاب بند نہیں ہو گا۔ اس لئے آپ کو جو کچھ بھی کوشش کرنی ہے وہ یہ سمجھتے ہوئے کیجئے کہ ہم کو آخر کار نظام بدلنا ہے۔ ایک غلط نظام کی جگہ صحیح نظام آئے گا تو یہ خرابیاں خود بخود رُک جائیں گی۔ نظام حکومت میں جب تک کوئی ٹھوس اور حقیقی تبدیلی نہیں آتی اس وقت تک یہ سیلاب رک نہیں سکتا۔
جہاں تک آپ کا تعلق ہے آپ اپنا فرض ادا کرتے رہے۔ مسلسل جدو جہد کیجئے اور ایک ایک نوجوان کے دل میں اس بات کو بٹھائیے کہ یہ جو کچھ تم دیکھ رہے ہو کیا یہ الواقع اسے پسند بھی کرتے ہو؟ کیا اس بات کو پسند کرو گے کہ یہ منظر تمہاری ماؤں بہنوں کے اندر آئیں؟ کیا یہ پسند کرتے ہو کہ یہ بداخلاقیاں تمہارے اپنے گھر کے اندر گھس آئیں۔ جس چیز کو تم باہر دیکھ رہے ہو، اور بظاہر بڑی خوشنما معلوم ہو رہی ہے۔ اپنے گھر میں دیکھو گے تو تڑپ اٹھو گے۔ تن بدن میں آگ لگ جائے گی۔ دل کٹ جائے گا ...... لیکن یاد رکھو اگر ان چیزوں کی اسی طرح ہمت افزائی ہوتی رہی تو تمہارے گھر اس کے سیلاب سے بچ نہیں سکیں گے۔ اس کے بعد چاہے تم توبہ کرو، چاہے تم ماتم کرو، لیکن جو بلا آ رہی ہے وہ نہیں رک سکے گی۔ اس لئے ہمت کر کے اپنے آپ کو بھی اس سے بچاؤ اور اپنی قوم کو بھی اس سے بچانے کی فکر کرو ....... یہ ہے وہ بات جو آپ کو اس ملک کے ایک ایک نوجوان کو سمجھانی ہے۔
عریانی اور فحاشی کے خلاف جتنا بڑا مظاہرہ پچھلی مرتبہ آپ نے کیا ہے۔[اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان نے ۲۱ تا ۲۸ مئی ۱۹۷۶ء کو عریانی و فحاشی کے خلاف ہفتہ منایا تھا، اسی جانب اشارہ ہے۔] اس سے دس گنا زبردست مظاہرہ آئندہ ہونا چاہئے، اور اس سے پچاس گنا بڑا مظاہرہ ہونا چاہئے۔ یہاں تک کہ آپ آہستہ آہستہ نوجوانوں کے اندر یہ احساس پیدا کر دیں کہ فحاشی اور عریانی کے اس سیلاب کی صورت میں یہ ان کی اور ان کی آئندہ نسلوں کی تباہی کا سامان ہو رہا ہے، یہ کوئی لذت کا سامان نہیں، تباہی کے اسباب ہیں جو ہمارے لئے فراہم کئے جا رہے ہیں۔ اب رنگین ٹیلی ویژن آنے والا ہے، جس پر اور زیادہ لوگ ٹوٹیں گے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ جتنی برائی اس ملک میں پھیلتی جائے گی اتنا ہی اس ملک کے اخلاق کی جڑیں کھوکھلی ہوتی چلی جائیں گی۔ اور اخلاق کی جڑیں جب کسی قوم کی کھوکھلی ہو جاتی ہیں تو وہ کبھی آزاد اور خود مختار نہیں رہ سکتی۔
ان حالات میں ہمارا اور آپ کا کام یہ ہے کہ ہم ہر برائی کو جو طوفان کی طرح اٹھ رہی ہے، سینہ سپر ہو کر روکیں، پھر بھی وہ نہ رکے تو اس پر ہماری کوئی ذمہ داری نہیں۔ ہماری ذمہ داری روکنے کی کوشش کرنا ہے۔ روکنے کی کوشش میں آپ لاٹھیاں کھائیے۔ آنسو گیس کے حملے برداشت کیجئے، ہر طرح کی تکلیفیں اٹھائیے۔ کوئی پروا نہ کیجئے، جو کچھ بھی پیش آئے اس کو برداشت کیجئے ۔ آپ ہمت کے ساتھ کھڑے ہوں گے تو آپ دیکھیں گے کہ ایک مرتبہ اگر آپ کے ساتھ دس ہزار آدمی کھڑے ہوتے ہیں تو دوسری مرتبہ ایک لاکھ کھڑے ہوں گے۔ برائی کو روکنے کے لئے بھلائی کی آواز اٹھائی جائے تو بکثرت بندگانِ خدا ایسے ہیں جو آپ کا ساتھ دینے کے لئے تیار ہوں گے، انشاء اللہ۔
عزیزو!
آپ کے تینوں سوالات کا جواب میں نے دے دیا ہے اور میرا خیال ہے کہ میں تقریباً آدھ گھنٹہ بول چکا ہوں۔ اب تھک گیا ہوں۔ اس لئے دعا پر اپنی بات ختم کرتا ہوں۔
یا اللہ! ہماری اس قوم میں صالح نوجوانوں کی تعداد بڑھا اور ان کو اخلاص کے ساتھ اپنے دین کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرما۔ ان کے اندر دین کا صحیح علم اور اس پر عمل کرنے کا جذبہ پیدا کر۔ ان کے لئے بندگانِ خدا کے دل کھول دے۔ لوگوں کو ان کی طرف رجوع کرنے کی توفیق عطا فرما اور ان کو اتنی کامیابی عطا فرما کہ آئندہ اس ملک میں نظامِ حکومت کی باگ نیک اور صالح لوگوں کے ہاتھ میں آ جائے۔ یا اللہ! اس ملک کا مستقبل خراب نہ ہو۔ اس ملک کی آئندہ نسلیں خراب ہوئیں تو لا محالہ اس کا مستقبل خراب ہوگا۔ یا اللہ! اس کو خرابی سے بچانے کے لئے یہاں صالح لوگوں کو اتنا طاقت ور بنا کہ وہ صحیح نظام کو قائم کریں۔
<<وَصَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَى خَيْرِ خَلْقِهِ مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِهِ وَاَصْحَابِهِ اَجْمَعِيْنَo>>